Baaghi TV

Tag: پی سی بی

  • ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ایشیا کپ اور افغانستان سیریز کے لیے 18 رکنی قومی اسکوڈ کا اعلان کر دیا گیا ،چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اے سی سی ایشیا کپ کے لیے 17 رکنی اور افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے 18 رکنی پاکستانی کرکٹ اسکواڈ کا اعلان کیا۔

    قومی سلیکشن کمیٹی میں انضمام الحق کے علاوہ ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر اور ہیڈ کوچ گرانٹ بریڈ برن شامل ہیں نے کپتان بابراعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد ٹیم کو حتمی شکل دی

    ایشیا کپ کے لیے سترہ رکنی پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اوپنرز عبداللہ شفیق ، فخرزمان اور امام الحق۔مڈل آرڈر میں بابراعظم ( کپتان ) ، سلمان علی آغا ، افتخار احمد ، طیب طاہر ، وکٹ کیپرز محمد رضوان اور محمد حارث ،اسپنرز شاداب خان ( نائب کپتان )،محمد نواز اور اسامہ میر۔پیس آل راؤنڈر فہیم اشرف اور پیسرز میں حارث رؤف ،محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    افغانستان کے خلاف سیریز کا اٹھارہ رکنی اسکواڈ یہ ہے۔ اوپنرز عبداللہ شفیق ، فخرزمان اور امام الحق۔مڈل آرڈر میں بابراعظم ( کپتان ) ، سلمان علی آغا ، افتخار احمد ، طیب طاہر اورسعود شکیل، وکٹ کیپرز محمد رضوان اور محمد حارث ،اسپنرز شاداب خان ( نائب کپتان )،محمد نواز اور اسامہ میر۔پیس آل راؤنڈر فہیم اشرف اور پیسرز میں حارث رؤف ،محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    سلیکٹرز نے اس سال اپریل مئی میں نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے والے اسکواڈ سے دو تبدیلیاں کی ہیں۔ طیب طاہر اور فہیم اشرف کو شان مسعود اور احسان اللہ کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے ان کے علاوہ سعود شکیل کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے،فہیم اشرف دو سال بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں ۔ فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر کی حیثیت سے ان کی موجودگی سے ٹیم میں مزید توازن ہوگا۔ وہ آخری بار جولائی 2021ء میں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں کھیلے تھے

    طیب طاہر کو دوسری مرتبہ ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں اس سال جنوری میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ طیب طاہر پاکستان کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے۔انہوں نے حال ہی میں اے سی سی ایمرجنگ کپ میں انڈیا کے خلاف128 رنز کی جیت میں سنچری کے ذریعے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

     

  • چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کی سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز سے ملاقات

    چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کی سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز سے ملاقات

    چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کی سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز سے ملاقات ہوئی ہے، ذکاءاشرف اور سرفراز نواز کےدرمیان ملاقات نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہوئی،ملاقات میں سابق کپتان مصباح الحق، محمد حفیظ نے بھی شریک تھے چئیر مین پی سی بی ذکاءاشرف نے سرفراز نواز کی پنشن بحالی کا معاملہ حل کردیا،
    ،اور سرفراز نواز کو ملاقات کےبعد ادائیگیوں کا چیک پیش کیا،سرفراز نواز کے مطابق 2017 سے سرفراز نواز کی پنشن کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ پچھلے 6 سال کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی آیا ہوں، سرفراز نواز نے پنشن بحال کرنے پر ذکاء اشرف کا شکریہ ادا کیا ،انہوں نے کہا کہ چیئرمین صاحب سےملاقات کے بعد ایسے لگا کہ 6 سال جیسے 6 دن کے برابر تھے، دوسری جانب ذکاء اشرف نے کہا کہ سرفراز نواز جیسے کرکٹر کو اس حالت میں دیکھ کر افسوس ہوا ، سرفراز نواز کو ان کی پنشن جیسے حق سے محروم رکھنےپر دکھ ہوا، ذکا اشرف نے مزید کہا کہ پی سی بی کی سابقہ انتظامیہ کی طرف سےخزانے کو ذاتی بدلے کے طور پر استعمال کرنے پر مایوسی ہوئی، سرفراز نواز نے جس صورتحال کا سامنا کیا اس طرح کسی بھی کرکٹر نے نہیں کیا ہوگا، ذکا اشرف نے تمام سابق اور موجودہ کرکٹرز کو یقین دلایا کہ پی سی بی انہیں اپنا اثاثہ سمجھتا ہے، اور ان کا حق ادا کیا جائے گا،

  • موجودہ ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش ہے اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دینا چاہئے،ذکاء اشرف

    موجودہ ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش ہے اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دینا چاہئے،ذکاء اشرف

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے 2023 ورلڈ کپ تک موجودہ کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ذکاء اشرف نےاعتماد کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش ہے اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ایک مقامی میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران، انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم پرفارم کر رہی ہے اور ہمیں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہیے۔”
    انہوں نے مزید کہا کہ "فی الحال، ہمارا کوچنگ اسٹاف یا کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم نے اپنی ٹیکنیکل کمیٹی کے ساتھ پہلے ہی اس پر بات کی ہے۔ ہم انہیں وقت دیں گے کیونکہ ایشیا کپ اور ورلڈ کپ بالکل قریب ہے۔”ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کی قربت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ ذکاء اشرف نے دونوں ٹورنامنٹس میں قومی ٹیم کی کامیابی کے لیے اپنی خواہشات کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک مضبوط اسکواڈ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایشیا کپ اور ورلڈ کپ میں مضبوط مقابلہ کر سکے۔
    ذکاء اشرف کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ ہماری ٹیم ایشیا کپ اور ورلڈ کپ جیتے۔ اور پوری قوم کا سر فخر سے بلند کرے،

  • ایشیا کپ کے میچوں کا مکمل ٹائم ٹیبل سامنے آگیا،

    ایشیا کپ کے میچوں کا مکمل ٹائم ٹیبل سامنے آگیا،

    ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے پیر کو ایشیا کپ 2023 کے میچوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ علاقائی کرکٹ کے ایونٹ کی میزبانی اپنے ملک اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر کرے گا۔ جبکہ کچھ میچز بھارت میں کھیلے جائے گے،ایونٹ کے دوران فائنل سمیت تمام میچ دوپہر 2:30 بجے (PST) پر شروع ہوں گے جبکہ ٹاس دوپہر 2 بجے شروع ہونگے میزبان ٹیم ٹورنامنٹ کا پہلا میچ نیپال کے خلاف کھیلے گی جو اس بار اپنا پہلا ایشیا کپ کھیلے گا۔ یہ میچ 30 اگست کو ملتان میں کھیلا جائے گا۔ایشیا کپ 31 اگست سے 17 ستمبر تک کھیلا جائےگا جس میں پاکستان سمیت بھارت، سری لنکا، بنگلادیش، افغانستان اور نیپال کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ایشیا کپ کے 4 میچز پاکستان اور 9 سری لنکا میں ہوں گے، ایشین کرکٹ کونسل نے اعلان کر دیا ایشیاکپ کے تمام میچز پاکستانی وقت کے مطابق 2:30 بجے شروع ہوں گے۔ایشیاکپ میں میچز کا ٹاس 2 بجے ہوگا۔سپر 4 پلے آف کے میچز 6 سے 15 ستمبر تک ہوں گے اور 17 ستمبر کو ٹورنامنٹ کا فائنل کولمبو میں کھیلا جائےگا۔

  • اگلے سینٹرل کنٹریکٹ میں ریڈ اور وائٹ بال کیٹیگریز ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.  پی سی بی

    اگلے سینٹرل کنٹریکٹ میں ریڈ اور وائٹ بال کیٹیگریز ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. پی سی بی

    مجموعی طور پر 25 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیسٹ میچ فیس میں 50 فیصد اضافے کی تجویز ہے. پی سی بی

    پی سی بی کی جانب سے سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ روایتی انداز میں اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز میں ملیں گے، سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد بھی کم کر دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد 33 تھی، نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد 25 یا 26 رکھنے اور سینٹرل کنٹریکٹ کے معاوضوں میں 100 فیصد سے بھی زائد اضافے کی تجویز ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    تینوں فارمیٹس کی میچ فیس میں مجموعی طور پر 25 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیسٹ میچ فیس میں 50 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر اور سلیکشن کمیٹی کا اعلان کیا جائے گا، سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان سلیکشن کمیٹی کے اعلان اور چیئرمین منیجمنٹ کمیٹی ذکاء اشرف کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کیلئے انضمام الحق مضبوط امیدوار ہیں۔ واضح رہے کہ قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ 30 جون کو ختم ہو گئے تھے جس کے بعد اس میں ایک ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام خواتین کرکٹرز کے لیے کمیونیکیشن ورکشاپ کا اختتام

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام خواتین کرکٹرز کے لیے کمیونیکیشن ورکشاپ کا اختتام

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام خواتین کرکٹرز کے لیے کمیونیکیشن ورکشاپ اختتام کو پہنچا۔پی سی بی ترجمان کے مطابق قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقدہ اس ورکشاپ میں بائیس خواتین کرکٹرز نے شرکت کی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس ورکشاپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خواتین کرکٹرز کی کمیونیکیشن کی مہارت میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ ایک بہترین شخصیت کے طور پر خود کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ ورکشاپ کے انعقاد کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ یہ کھلاڑی دنیا بھر کے لوگوں کو کرکٹ کی سفیر کی حیثیت سے متاثر کرسکیں۔اس ورکشاپ میں کمیونیکیشن ماہرین اور پروفیشنل حضرات نے ان کھلاڑیوں کی رہنمائی کی اور رابطوں کے مختلف شعبوں سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے جن میں میڈیا انٹرویوز، سوشل میڈیا سے تعلق، عام لوگوں سے بات چیت اور کرائسس منیجمنٹ جیسے امور شامل تھے۔ورکشاپ کے شرکا کے لیے مختلف طرح کے سیشنز رکھے گئے تھے جن میں پریکٹیکل مشقیں بھی شامل تھیں جن کا مقصد ان کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور رابطوں کی مختلف صورتحال میں نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔

  • گلین میک گراتھ نے  پاکستان کی مضبوط کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بہترین چار ٹیموں میں جگہ دی

    گلین میک گراتھ نے پاکستان کی مضبوط کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بہترین چار ٹیموں میں جگہ دی

    آسٹریلیا کے سابق لیجنڈ فاسٹ بالر گلین میک گرا نے اس سال اکتوبر میں بھارت میں ہونے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے ٹاپ چار ٹیموں کا انکشاف کیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں، میک گرا نے ایلیٹ کوارٹیٹ میں آسٹریلیا کو شامل کرنے پر ایک حیرت انگیز بات کا اظہار کیا۔
    انہوں نے نشاندہی کی کہ ہوم ٹرف پر کھیلنے والے ہندوستان سے ایک مضبوط قوت ہونے کی امید ہے۔ میک گرا نے انگلینڈ کی شاندار کرکٹ فارم کی بھی تعریف کی اور پاکستان کی مضبوط کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بہترین چار ٹیموں میں جگہ دی۔ میک گرا کا کہنا تھا آپ کو حیرت نہیں ہوگی کہ میں آسٹریلیا کو ان چار ٹیمز میں ڈال رہا ہوں۔ ظاہر ہے، ہندوستان اپنی حالت میں کھیل رہا ہے۔ انگلینڈ بہت اچھی کرکٹ کھیل رہا ہے اور پاکستان بھی اچھا کھیل رہا ہے۔ لہذا، وہ بہترین چار ہیں،” آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 اکتوبر اور نومبر کے دوران بھارت میں ہونے والا ہے، جس میں کل 10 حصہ لینے والی ٹیمیں شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 5 اکتوبر سے ہوگا، فائنل میچ 19 نومبر کو شیڈول ہے۔

  • پی سی بی بین الاقوامی لیگز میں شرکت کے لیے قومی کھلاڑیوں کے معاوضے میں اضافے کے لئے تیار

    پی سی بی بین الاقوامی لیگز میں شرکت کے لیے قومی کھلاڑیوں کے معاوضے میں اضافے کے لئے تیار

    پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور کھیل کے لیے لگن کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے معاوضے میں نمایاں اضافہ فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔کرکٹ پاکستان کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ذکاء اشرف نے کرکٹرز کے لیے بورڈ کے خزانے کھولنے کے ارادے کا انکشاف کیا، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بورڈ کرکٹرز کی وجہ سے چلتا ہے۔کپتان بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی سمیت تینوں فارمیٹس کے ٹاپ کرکٹرز کو 4.5 ملین روپے ماہانہ ریٹینر شپ فیس کی پیشکش کی گئی ہے۔ یہ پچھلے معاہدے سے کافی اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں سرخ گیند کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 1.1 ملین روپے مل رہے تھے، اور سفید گیند کے کھلاڑیوں کو 0.95 ملین روپے مل رہے تھے۔
    پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مطالبات کو مدنظر رکھا ہے اور وہ دیگر کیٹیگریز میں بھی معاوضہ بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ بورڈ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کرکٹرز کو ان کی مہارتوں اور کوششوں کا بھرپور صلہ ملے، جس سے قومی ٹیم کے لیے کارکردگی اور لگن میں اضافہ ہو۔
    اس کے علاوہ پی سی بی کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل لیگز میں شرکت کے لیے مزید لچک بھی دے رہا ہے۔ اے کیٹیگری کے کرکٹرز کو سال میں ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی جب کہ بی کیٹیگری کے کرکٹرز سالانہ دو لیگز میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کیٹیگری سی کے کرکٹرز کو سال میں تین لیگز میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
    اگرچہ آئی سی سی یا پی سی بی کے معاہدوں سے ریونیو شیئرنگ کا مطالبہ قبول نہیں کیا گیا لیکن بورڈ کھلاڑیوں کو تین سال کے معاہدوں کی پیشکش کر کے استحکام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • ورلڈ کپ کے لیے کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت سے متعلق سیکیورٹی خدشات آئی سی سی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

    ورلڈ کپ کے لیے کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت سے متعلق سیکیورٹی خدشات آئی سی سی کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

    بین الصوبائی رابطہ کے وزیر احسان الرحمان مزاری نے کہا کہ پاکستان کو اس سال ہونے والے 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ .یہ فیصلہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی نے کیا تھا۔مزاری نے بتایا کہ "ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی ہمیں سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کرے۔”انہوں نے کہا کہ حکومت کو ورلڈ کپ کے کچھ مقامات کے حوالے سے بھی کچھ تحفظات ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ ان خدشات کو آئی سی سی کے سامنے جائزہ لینے کے لیے رکھے گا۔پاکستان اور بھارت نے پچھلی دہائی کے دوران غیر جانبدار مقامات پر صرف کثیر ٹیموں کے مقابلوں میں ایک دوسرے کو کھیلا ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان سیاسی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے دو طرفہ کرکٹ تعطل کا شکار ہے۔

  • وقار یونس نے آئندہ ورلڈ کپ میں دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان ٹیم کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے

    وقار یونس نے آئندہ ورلڈ کپ میں دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان ٹیم کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے

    پاکستان کے سابق کپتان وقار یونس نے پاکستان ورلڈ کپ اسکواڈ میں چار ایسے کھلاڑیوں کو بہترین قرار دیا ہے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ پاکستان کر کٹ میں واضح فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر کپتان بابر اعظم ہیں جو کسی بھی باؤلنگ اٹیک پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بابر کے ساتھ، شاہین شاہ آفریدی، امام الحق، اور فخر زمان نے میچ ونر کے طور پر وقار کی نظر پکڑی ہے۔
    کرکٹ پاکستان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وقار نے آئندہ ورلڈ کپ میں دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کے پاس میچ ونر ہیں جو اکیلے ہی کھیل کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ وقار یونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے حالیہ ماضی میں بہتر طریقے سے دباؤ کو سنبھالا ہے۔ میری رائے میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جہاں بھی کھیلتے ہیں، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں، اگر آپ کے عمل پر قابو پایا جاتا ہے اور آپ اپنی صلاحیتوں اور منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔ وقار یونس نے مزید کہا مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کوئی مسئلہ ہے، ہمارے پاس میچ ونر ہیں، ہمارے پاس ایسے افراد ہیں جو آپ کو اکیلے ہی میچ جیت سکتے ہیں، بشمول بابر، شاہین – فخر کمال کر سکتے ہیں، پھر یقیناً ہم میں نے امام کو شاندار اننگز کھیلتے ہوئے دیکھا ہے، لہذا مجموعی طور پر، پاکستان کے پاس یقینی طور پر تمام وسائل موجود ہیں، اب صرف چیزوں کو ایک ساتھ رکھنے اور دباؤ سے نمٹنے کا معاملہ ہے،