تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی-
باوثوق زرائع کے مطابق تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بڑوں کے اہم رابطے ہوئے جس میں دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے پر تجاویز دی گئی تاکہ یہ مل کر حکومت وقت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنا سکیں۔
جمعیت کی طرف سے اہم شرط یہ تھی کہ مولانا کے بھائی عطاالرحمان صاحب کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بنایا جائے تحریک انصاف کے وفد نے جب کہا کہ آپ کے پاس اتنی سیٹس نہیں کہ آپ یہ ڈیمانڈ کر سکیں تو جمعیت کے وفد نے کہا کہ آپ نے پنجاب میں ق لیگ کی دس سیٹیں ہونے کے باوجود پرویز الہی صاحب پر جب اعتماد کیا تو پھر ہم پر کیوں نہیں۔
دوسری اہم پیشکش مولانا فضل الرحمان کو جوائنٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی،دونوں وفود اس بات پر متفق نظر آئے کے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایک کمزور انتخاب ثابت ہوئے، ان کی نہ اسمبلی میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ میدان میں کچھ خاطر خواہ کام کر سکے، تحریک انصاف انہیں اپنی مدد کے لیے لے کر آئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سہارے سانس لے رہیں ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھا خاصا اثر ہے، اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو طاقت دوگنا ہو گی۔
مولانا کی تجاویز کو جب تحریک انصاف کے حلقوں میں علیحدہ جانچہ گیا تو علیمہ خانم گروپ کے ممبران نے وزارت اعلی اور اپوزیشن لیڈر والی تجاویز پر سخت تشویش ظاہر کی، ان کے مطابق یہ اپنے ہاتھ کٹانے کے برابر ہے، اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کو جمعیت ہائجیک کر لے گی، دوسری طرف بیرسٹر گوہر گروپ اور انفرادی طور پر سہیل آفریدی مولانا کی تجاویز پرلبیک کہتے نظر آئے۔
اب تو یہ وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن یہ رابطے سیاست میں ایک ہلچل پھیلانے کا پیش خیمہ ہے-
