Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

    جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی عدالت میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے رہنما پی ٹی آئی فرخ حبیب کی ضمانت عدم پیروی کی بنیاد پر مسترد کی-

    پاکستان،سعودی عرب، امارات ،ترکیےاور دیگر ممالک کی ڈنمارک میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے …

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان شامل تفتیش ہوگئے ہیں؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ابھی تک ملزمان شامل تفتیش نہیں ہوئے، حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دی ہے،عدالت نے کہا کہ ابھی جے آئی ٹی بنی ہی نہیں آپ جا کر شامل تفتیش ہوں۔

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا …

    عدالت نے زبیر خان نیازی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اسلم اقبال اور دیگر کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا عدالت نے 3 شریک ملزمان کی عبوری ضمانت میں 7 مارچ تک توسیع کردی جبکہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اسد عمر کی حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف شادمان پولیس نے توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

  • زلمے خلیل زاد کے عمران خان کے حق میں بیانات ،امریکہ کا لاتعلقی کا اظہار

    زلمے خلیل زاد کے عمران خان کے حق میں بیانات ،امریکہ کا لاتعلقی کا اظہار

    واشنگٹن: امریکہ نے زلمے خلیل زاد کے عمران خان کے حق میں بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بیانات کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا-

    باغی ٹی وی:امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس کانفرنس میں افغانستان کے لیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق بیانات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ زلمےخلیل زاد کے بیانات کا امریکی خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور زلمے خلیل زاد کا بیان انتظامیہ کی نمائندگی نہیں کرتا، زلمے خلیل زاد عام شہری ہیں اور ان کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہے۔

    پی ٹی آئی پر آئندہ چند روز میں پابندی کے اشارے مل رہے ہیں،زلمے خلیل داد

    ترجمان نے کہا کہ تشدد، ہراسانی یا دھمکی کا سیاست میں عمل دخل نہیں، ہم سیاسی فریقین کو قانون کی عزت کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں عوام کو آئینی اور جمہوری طریقے سے رہنماؤں کے انتخاب کا حق ملنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی جانب سے پی ٹی آئی اور عمران خان کے حق میں متعدد بیانات دیئے گئے تھے –

    زلمے خلیل زاد نے پاکستانی سیاسی صورتحال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو تین بحرانوں کا سامنا ہے، یہ بحران سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے ہیں یہ سنجیدہ ، جرات مندانہ سوچ، اور حکمت عملی کا وقت ہے، سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالنا، پھانسی دینا، قتل کرنا غلط راستہ ہے۔

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ایسا لگتا ہے حکومت نے عمران خان کو ریاست کا دشمن نمبر ون بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے  عمران خان کی گرفتاری سے پاکستان کا سیاسی,  اقتصادی اور سلامتی بحران مزید گہرا ہو گا پہلے ہی کچھ ممالک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کو معطل کر دیا ہے  عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ بھی غیریقینی کا شکار ہے، مذکورہ اقدامات سے پاکستان کیلئے عالمی حمایت میں مزید کمی آئے گی سیاسی پولرائزیشن اور تشدد بڑھنے کا امکان ہے۔

    زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کخرابی کو روکنے کے لیے جون کے اوائل میں قومی انتخابات کے لیے ایک تاریخ مقرر کریں، جو پارٹی الیکشن جیتے گی اسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہو گا کہ کیا کرنا چاہیے، پاکستان میں الیکشن جلد کرا دیئے جائیں، اس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی احتجاج کیا تھا۔

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

  • زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ عمران خان بجلی کا بل ادا کریں تو ایک اور مقدمے سے بچ جائیں گے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان زمان پارک گھر کے بجلی کا بل ادا کریں اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اسٹاف کو زمان پارک گھر کو چیک کرنے دیں اگر عمران خان ایک اور مقدمے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کریں مقدمے سے بچ جائیں گے۔

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لیسکو نے زمان پارک میں تحریک انصاف کے کیمپوں میں بجلی کی مبینہ چوری پر نوٹس جاری کیا تھا لیسکو کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کے گھر کے باہر کیمپوں میں بجلی چوری ہورہی ہے، بجلی چوری کی نشاندہی سوشل میڈیا پر کی گئی ہے لیسکو نے جی او آر سب ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے زمان پارک کے اطراف میں کیمپس میں نصب فلڈ لائٹس میں بجلی چوری ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    لیسکو حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اسٹاف نے لیسکو عملے کو زمان پارک میں داخل نہیں ہونے دیا، زمان پارک میں قائم کیمپوں میں بجلی چوری کی جارہی ہے، لہٰذا لیسکو کے اسٹاف کو بجلی کی املاک تک جانے کی اجازت دی جائےاگر اسٹاف کو چیکنگ کی اجازت نہ دی تو لیسکو یکطرفہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سربراہ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ان پر دباؤ ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق بشیر میمن کا کہنا تھا کہ بار بار اُن پر دباؤ ڈالا گیا کہ ناصر جنجوعہ پر تشدد کرکے انھیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے پر مجبور کریں عمران خان کا اصرار تھا کہ بیان دلوانے کیلئے ہر قانونی اور غیرقانونی طریقہ استعمال کیا جائے، ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ناصر جنجوعہ کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ناصر جنجوعہ کے بے گناہ ہونے کا سن کر عمران خان بہت ناراض ہوئے-

    بشیر میمن نے حکمرانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ،سینیٹر روبینہ خالد

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اپریل کو بشیر میمن نے انکشاف کیا تھا کہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور شریف خاندان کیخلاف مقدمات بنانے کیلئے کہا تھا پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عثمان ڈار بھی خواجہ آصف کیخلاف کیس بنانے کیلئے گھر آئے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشیر میمن کو خواجہ آصف کو گھیرنے کیلئے نہیں کہا۔

    بشیر میمن نےکہا تھا کہ عمران خان نے شریف فیملی کیخلاف مقدمات بنانے کو کہا متعدد بار کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر مقدمات بناؤ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی مقدمہ بنانے کا کہا گیا تو میں نے صاف انکار کر دیا تھا مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، جہاں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر مجھے سابق وزیراعظم کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے مجھے احتیاط کے ساتھ نئے مقدمات بنانے کا کہا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عدالت نے بے قصور قرار دیا

    ان کا کہنا تھا کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر کے ساتھ بات چیت میں یہ عقدہ کھلا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس بنانے کی بات کر رہے تھے میں نے انہیں بتایا کہ ایف آئی اے ایسا کیس نہیں بناسکتی، جس کی وجہ سے سے ہم تینوں کے درمیان بات چیت کشیدہ ماحول میں ختم ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے لیگی نائب صدر مریم نواز سے متعلق غلیظ زبان استعمال کی تو وہ غصے میں آگئے،اعظم خان اپنے دفتر لے گئے اور مجھے اور خود کو واش روم میں بند کرلیا، وہ مجھےغصے پر قابو پانے کا کہتے رہے۔

    واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. …

    تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا تھا

    اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

    ان ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا تھا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

    بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی : درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے-

    عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا،ہم سے بھی جو بن پڑا ہم …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے

    انہوں نےکہا کہ عمران خان کےساتھ جتنے لوگ ہیں وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انارکی پھیل چکی ہےعمران خان جس سطح پر معاملات کو لے گئے ہیں اب یا وہ سیاست سے منفی ہوں گے یا ہم ہوجائیں گے، معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں، جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے تو پھر ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور رانا ثنا اللہ کے وجود کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رانا ثنا اللہ کے خلاف سارے مقدمات نیب کے تھے اور نیب کا سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں کسی پر مقدمات نہیں بنائے گئے مقدمات کی تعداد دیکھ لیں تو پتا لگ جاتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے، مجموعی طور تمام کیسز کے حوالے سے ہماری پٹیشن تیار ہوگئی ہے، صرف اسلام آباد کے 500 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی:عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کررہے ہیں چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست پراعتراض دور ہو گئے ہیں، آپ کو پہلے بھی بتایا کہ بائیو میٹرک تو کہیں سے بھی ہو سکتی ہے وکیل نے کہا کہ میں معزرت خواہ ہوں اگلی بار دیکھ لیں گے، 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی بائیو میٹرک کا ایشو ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا 60 سال والوں کے انگھوٹے کا نشان نہیں ہوتا، ابھی تو ہم نے بائیو میٹرک بہت آسان کردیا ہے وکیل نے کہا عمران خان نے17 مارچ حفاظتی ضمانت لاہورہائیکورٹ سےکرائی تھی، 18 مارچ یہاں آئے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت نہیں لے سکے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں ٹرائل کورٹ نہیں گئے؟ پہلے اس پرعدالت کی معاونت کریں، آخری سماعت پر کہا کہ ہم درخواست کے قابل سماعت ہونے کو دیکھ لیں گے، وکیل نےکہا کہ وہ ضمانت آج بھی گروانڈ پرموجود ہیں، درخواست گزار کی زندگی کی حفاظت ضروری ہے، ان پر ایک بار قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو لاء آرڈر کے حالات بناتے ہیں وہ آپ خود بنا رہے ہیں، اگر آپ عدالت پیشی پر 10 ہزار لوگوں کو لائیں گے تو لاء آرڈر کے حالات تو ہوں گےدوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کورٹ کو خود مخاطب کرنے کے لیے روسٹرم پر آ گئے، تاہم چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کو بات کرنے سے روک دیا اور ان کو واپس اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات ہیں جو جینوئن ہوں گے، ان پر ایک مرتبہ حملہ بھی ہوچکا ہے۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کو روسٹرم پر بلا لیا، اور جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے متعدد بار چیف کمشنرکو سیکیورٹی فراہم کرنے کا کہا ،ایڈووکیٹ جنرل نےعدالت کوبتایا کہ ٹرائل کورٹ کوایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس شفٹ کیا گیا، عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن ماحول کو یقینی بنائیں، یہ وہاں گاڑی سے نہیں اترے اور ان کے لوگوں نے وہاں گاڑیاں جلا دیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیکورٹی فراہم نہیں کرتے تو پھر وہ کیا کریں، ہمارے پاس آج ہی ایک پٹیشن آئی کل سنیں گے، جب انتظامیہ غیر ذمہ دارانہ ہو گی تو پھرکیا ہوگا، کسی شہری سے متعلق کیا انتظامیہ ایسا کوئی بیان دے سکتی ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں دو سابق وزرائے اعظم قتل ہو چکے ہیں، ایک وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے، آج میں نے 7 ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں، اور ہمیں جوڈیشل کمپلیکس داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

    چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ عمران خان بطور سابق وزیراعظم کس سیکیورٹی کےحقدار ہیں، وہ سیکیورٹی تو ساتھ ہی ہوتی ہوگی فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    چیف جسٹس نےاستفسارکیا کہ پٹیشنر اب اسلام آباد میں ہیں تو یہاں سیکیورٹی کس نے دینی ہے فواد چوہدری نے جواب دیا کہ یہاں سیکیورٹی وزارت داخلہ نے دینی ہے، اور وزیر داخلہ کا بیان تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہےچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے سلمان تاثیر کا واقعہ بھی ادھر ہوا ہے۔

    دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور فواد چودھری کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں نے بھی سیکیورٹی کے حوالے سے بات کی ہے۔ فواد چوہدری نے جواب دیا کہ نہیں، آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے فواد چودھری کو جواب دیا کہ آپ سے زیادہ جھوٹ کوئی نہیں بولتا۔

    عدالت نے فواد چوہدری اورایڈووکیٹ جنرل کو کراس ٹاک سے منع کردیا، اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں 6 اپریل تک ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس کو عمران خان کو 7 مقدمات میں گرفتار کرنے سے بھی روک دیا۔

    عمران خان نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہےاور مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے ہیں درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تھےعمران خان کے ساتھ اسلام آباد آنے والی گاڑیوں کو گولڑہ موڑپر روک لیا گیا اور ان کے ساتھ صرف 4 گاڑیوں کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی گئی جس میں جیمر والی گاڑی بھی شامل ہے-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت


    عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر داخلے کی اجازت مل گئی، پولیس نے ہائیکورٹ سائیڈ پر تمام گاڑیوں کو روک لیا۔

    اسلام آباد پولیس نے غلام سرور خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے پولیس نے عمران خان کی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ آنے والے ان کے فوٹو گرافر نعمان جی کو حراست میں لے لیاپولیس نے نعمان جی کے ہمراہ دیگر 3 کارکنان کو بھی قیدیوں والی گاڑی میں منتقل کردیا۔

    دوسری جانب عمران خان کی پیشی سے متعلق وفاقی پولیس نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں پولیس حکام کا کہنا ہےکہ ساڑھے 2500 اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس موقع پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم بھی موجود ہوگی سیکیورٹی پلان کو مخلتف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، آنسو گیس، ربرکی گولیاں، واٹرکینن اورقیدی وین کے حوالےسے پلان فائنل کرلیا گیا ہے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت کیلئےرجوع کریں گے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر اعتراضات عائد کردیے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی عبوری ضمانت کی 7 درخواستوں پراعتراضات عائد کیےکہ عمران خان نےبائیو میٹرک نہیں کرایا اورٹرائل کورٹ سے پہلےہائیکورٹ میں کیسے درخواست دائر ہوسکتی ہے؟-

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے دعوے غلط ثابت ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے خلاف تقریباً 100 مقدمات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہےتاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے (پنجاب) اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر درج مقدمات کی تعداد 37 ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 28 مقدمات اسلام آباد، 6 پنجاب اور ایک مقدمہ بلوچستان میں درج ہے جب کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت 2 مقدمات ایف آئی اے میں درج ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی دیگر لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی بھی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں، جن کے مطابق تحریک انصاف کی دیگرلیڈرشپ اورکارکنان کےخلاف 127 مقدمات درج ہیں جسمیں اسلام آباد میں پی ٹی آئی لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف 43 مقدمات درج ہیں جبکہ پنجاب میں 84 مقدمات درج ہیں۔

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے چئیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی-

    باغی ٹی وی: عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 7 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکا جائے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں کےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات متعلق درکوت پر سماعت ہوئی چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اور ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    لاہور:لیڈی ولنگڈن اسپتال کے ہاسٹل سے خاتون ڈاکٹر کی لاش برآمد،آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ

  • عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اس موقع پر وکلا کی جانب سے عدالت پہنچنے میں دشواری کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی اسی طرح آیا ہوں آپ کے پارٹی لیڈر آرہے ہیں، انہی کے لیے سیکیورٹی لگائی ہوئی ہے۔

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    وکیل فیصل فرید نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے گزشتہ روز کے بیان کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کی اور کہا کہ صورت حال یہ ہے یہاں پر ضمانت کرا کے نکلتے ہیں تو فیک ایف آئی آر میں اٹھا لیا جاتا ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے درخواست منظور کرنے کی استدعا کی جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کہ آپ نے درخواست کر رکھی ہے کہ غیرقانونی گرفتاری روکیں، آپ کی درخواست منظور کروں تو آپ کے کلائنٹ گرفتار ہوجائیں گے، کیا میں کہہ دوں غیرقانونی نہیں تو قانونی گرفتار کرلیں؟ اپنے کلائنٹ کے ساتھ یہ نہ کریں، میں صرف اس عدالت کے دائرہ اختیار تک احکامات دے سکتا ہوں۔

    فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی عدالت نے نوازشریف کی صحت کی ضمانت مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا کہ میں کسی ایسی چیز میں نہیں جانا چاہتا، بائی بک ہی چلتا ہوں۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک تفصیلات طلب کرلیں اور کل تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔