Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سربراہ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ان پر دباؤ ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق بشیر میمن کا کہنا تھا کہ بار بار اُن پر دباؤ ڈالا گیا کہ ناصر جنجوعہ پر تشدد کرکے انھیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے پر مجبور کریں عمران خان کا اصرار تھا کہ بیان دلوانے کیلئے ہر قانونی اور غیرقانونی طریقہ استعمال کیا جائے، ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ناصر جنجوعہ کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ناصر جنجوعہ کے بے گناہ ہونے کا سن کر عمران خان بہت ناراض ہوئے-

    بشیر میمن نے حکمرانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ،سینیٹر روبینہ خالد

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اپریل کو بشیر میمن نے انکشاف کیا تھا کہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور شریف خاندان کیخلاف مقدمات بنانے کیلئے کہا تھا پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عثمان ڈار بھی خواجہ آصف کیخلاف کیس بنانے کیلئے گھر آئے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشیر میمن کو خواجہ آصف کو گھیرنے کیلئے نہیں کہا۔

    بشیر میمن نےکہا تھا کہ عمران خان نے شریف فیملی کیخلاف مقدمات بنانے کو کہا متعدد بار کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر مقدمات بناؤ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی مقدمہ بنانے کا کہا گیا تو میں نے صاف انکار کر دیا تھا مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، جہاں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر مجھے سابق وزیراعظم کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے مجھے احتیاط کے ساتھ نئے مقدمات بنانے کا کہا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عدالت نے بے قصور قرار دیا

    ان کا کہنا تھا کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر کے ساتھ بات چیت میں یہ عقدہ کھلا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس بنانے کی بات کر رہے تھے میں نے انہیں بتایا کہ ایف آئی اے ایسا کیس نہیں بناسکتی، جس کی وجہ سے سے ہم تینوں کے درمیان بات چیت کشیدہ ماحول میں ختم ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے لیگی نائب صدر مریم نواز سے متعلق غلیظ زبان استعمال کی تو وہ غصے میں آگئے،اعظم خان اپنے دفتر لے گئے اور مجھے اور خود کو واش روم میں بند کرلیا، وہ مجھےغصے پر قابو پانے کا کہتے رہے۔

    واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. …

    تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا تھا

    اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

    ان ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا تھا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

    بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی : درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے-

    عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا،ہم سے بھی جو بن پڑا ہم …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے

    انہوں نےکہا کہ عمران خان کےساتھ جتنے لوگ ہیں وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انارکی پھیل چکی ہےعمران خان جس سطح پر معاملات کو لے گئے ہیں اب یا وہ سیاست سے منفی ہوں گے یا ہم ہوجائیں گے، معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں، جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے تو پھر ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور رانا ثنا اللہ کے وجود کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رانا ثنا اللہ کے خلاف سارے مقدمات نیب کے تھے اور نیب کا سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں کسی پر مقدمات نہیں بنائے گئے مقدمات کی تعداد دیکھ لیں تو پتا لگ جاتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے، مجموعی طور تمام کیسز کے حوالے سے ہماری پٹیشن تیار ہوگئی ہے، صرف اسلام آباد کے 500 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی:عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کررہے ہیں چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست پراعتراض دور ہو گئے ہیں، آپ کو پہلے بھی بتایا کہ بائیو میٹرک تو کہیں سے بھی ہو سکتی ہے وکیل نے کہا کہ میں معزرت خواہ ہوں اگلی بار دیکھ لیں گے، 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی بائیو میٹرک کا ایشو ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا 60 سال والوں کے انگھوٹے کا نشان نہیں ہوتا، ابھی تو ہم نے بائیو میٹرک بہت آسان کردیا ہے وکیل نے کہا عمران خان نے17 مارچ حفاظتی ضمانت لاہورہائیکورٹ سےکرائی تھی، 18 مارچ یہاں آئے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت نہیں لے سکے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں ٹرائل کورٹ نہیں گئے؟ پہلے اس پرعدالت کی معاونت کریں، آخری سماعت پر کہا کہ ہم درخواست کے قابل سماعت ہونے کو دیکھ لیں گے، وکیل نےکہا کہ وہ ضمانت آج بھی گروانڈ پرموجود ہیں، درخواست گزار کی زندگی کی حفاظت ضروری ہے، ان پر ایک بار قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو لاء آرڈر کے حالات بناتے ہیں وہ آپ خود بنا رہے ہیں، اگر آپ عدالت پیشی پر 10 ہزار لوگوں کو لائیں گے تو لاء آرڈر کے حالات تو ہوں گےدوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کورٹ کو خود مخاطب کرنے کے لیے روسٹرم پر آ گئے، تاہم چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کو بات کرنے سے روک دیا اور ان کو واپس اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات ہیں جو جینوئن ہوں گے، ان پر ایک مرتبہ حملہ بھی ہوچکا ہے۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کو روسٹرم پر بلا لیا، اور جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے متعدد بار چیف کمشنرکو سیکیورٹی فراہم کرنے کا کہا ،ایڈووکیٹ جنرل نےعدالت کوبتایا کہ ٹرائل کورٹ کوایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس شفٹ کیا گیا، عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن ماحول کو یقینی بنائیں، یہ وہاں گاڑی سے نہیں اترے اور ان کے لوگوں نے وہاں گاڑیاں جلا دیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیکورٹی فراہم نہیں کرتے تو پھر وہ کیا کریں، ہمارے پاس آج ہی ایک پٹیشن آئی کل سنیں گے، جب انتظامیہ غیر ذمہ دارانہ ہو گی تو پھرکیا ہوگا، کسی شہری سے متعلق کیا انتظامیہ ایسا کوئی بیان دے سکتی ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں دو سابق وزرائے اعظم قتل ہو چکے ہیں، ایک وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے، آج میں نے 7 ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں، اور ہمیں جوڈیشل کمپلیکس داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

    چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ عمران خان بطور سابق وزیراعظم کس سیکیورٹی کےحقدار ہیں، وہ سیکیورٹی تو ساتھ ہی ہوتی ہوگی فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    چیف جسٹس نےاستفسارکیا کہ پٹیشنر اب اسلام آباد میں ہیں تو یہاں سیکیورٹی کس نے دینی ہے فواد چوہدری نے جواب دیا کہ یہاں سیکیورٹی وزارت داخلہ نے دینی ہے، اور وزیر داخلہ کا بیان تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہےچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے سلمان تاثیر کا واقعہ بھی ادھر ہوا ہے۔

    دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور فواد چودھری کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں نے بھی سیکیورٹی کے حوالے سے بات کی ہے۔ فواد چوہدری نے جواب دیا کہ نہیں، آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے فواد چودھری کو جواب دیا کہ آپ سے زیادہ جھوٹ کوئی نہیں بولتا۔

    عدالت نے فواد چوہدری اورایڈووکیٹ جنرل کو کراس ٹاک سے منع کردیا، اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں 6 اپریل تک ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس کو عمران خان کو 7 مقدمات میں گرفتار کرنے سے بھی روک دیا۔

    عمران خان نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہےاور مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے ہیں درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تھےعمران خان کے ساتھ اسلام آباد آنے والی گاڑیوں کو گولڑہ موڑپر روک لیا گیا اور ان کے ساتھ صرف 4 گاڑیوں کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی گئی جس میں جیمر والی گاڑی بھی شامل ہے-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت


    عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر داخلے کی اجازت مل گئی، پولیس نے ہائیکورٹ سائیڈ پر تمام گاڑیوں کو روک لیا۔

    اسلام آباد پولیس نے غلام سرور خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے پولیس نے عمران خان کی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ آنے والے ان کے فوٹو گرافر نعمان جی کو حراست میں لے لیاپولیس نے نعمان جی کے ہمراہ دیگر 3 کارکنان کو بھی قیدیوں والی گاڑی میں منتقل کردیا۔

    دوسری جانب عمران خان کی پیشی سے متعلق وفاقی پولیس نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں پولیس حکام کا کہنا ہےکہ ساڑھے 2500 اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس موقع پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم بھی موجود ہوگی سیکیورٹی پلان کو مخلتف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، آنسو گیس، ربرکی گولیاں، واٹرکینن اورقیدی وین کے حوالےسے پلان فائنل کرلیا گیا ہے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت کیلئےرجوع کریں گے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر اعتراضات عائد کردیے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی عبوری ضمانت کی 7 درخواستوں پراعتراضات عائد کیےکہ عمران خان نےبائیو میٹرک نہیں کرایا اورٹرائل کورٹ سے پہلےہائیکورٹ میں کیسے درخواست دائر ہوسکتی ہے؟-

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے دعوے غلط ثابت ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے خلاف تقریباً 100 مقدمات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہےتاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے (پنجاب) اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر درج مقدمات کی تعداد 37 ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 28 مقدمات اسلام آباد، 6 پنجاب اور ایک مقدمہ بلوچستان میں درج ہے جب کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت 2 مقدمات ایف آئی اے میں درج ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی دیگر لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی بھی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں، جن کے مطابق تحریک انصاف کی دیگرلیڈرشپ اورکارکنان کےخلاف 127 مقدمات درج ہیں جسمیں اسلام آباد میں پی ٹی آئی لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف 43 مقدمات درج ہیں جبکہ پنجاب میں 84 مقدمات درج ہیں۔

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے چئیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا دی-

    باغی ٹی وی: عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 7 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکا جائے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں کےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات متعلق درکوت پر سماعت ہوئی چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اور ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    لاہور:لیڈی ولنگڈن اسپتال کے ہاسٹل سے خاتون ڈاکٹر کی لاش برآمد،آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ

  • عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اس موقع پر وکلا کی جانب سے عدالت پہنچنے میں دشواری کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی اسی طرح آیا ہوں آپ کے پارٹی لیڈر آرہے ہیں، انہی کے لیے سیکیورٹی لگائی ہوئی ہے۔

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    وکیل فیصل فرید نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے گزشتہ روز کے بیان کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کی اور کہا کہ صورت حال یہ ہے یہاں پر ضمانت کرا کے نکلتے ہیں تو فیک ایف آئی آر میں اٹھا لیا جاتا ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے درخواست منظور کرنے کی استدعا کی جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کہ آپ نے درخواست کر رکھی ہے کہ غیرقانونی گرفتاری روکیں، آپ کی درخواست منظور کروں تو آپ کے کلائنٹ گرفتار ہوجائیں گے، کیا میں کہہ دوں غیرقانونی نہیں تو قانونی گرفتار کرلیں؟ اپنے کلائنٹ کے ساتھ یہ نہ کریں، میں صرف اس عدالت کے دائرہ اختیار تک احکامات دے سکتا ہوں۔

    فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی عدالت نے نوازشریف کی صحت کی ضمانت مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا کہ میں کسی ایسی چیز میں نہیں جانا چاہتا، بائی بک ہی چلتا ہوں۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک تفصیلات طلب کرلیں اور کل تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن،قیادت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پی ٹی آئی کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن،قیادت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    پشاور: پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ورکرز کی گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں،جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے عالمی برادری سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کے رہنماؤں نے دعوی کیا ہے کہ پشاور اور مانسہرہ سے گرفتاریاں کی گئی ہیں انصاف یوتھ ونگ کے مرکزی صدر مینا خان آفریدی کے مطابق پشاور میں رورل انصاف یوتھ ونگ صدر اظہر خان آصف زئی کو گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس گرفتاری کو چھپا رہی ہے۔

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    سابق وفاقی وزیر عمر ایوب نے بھی سوشل میڈیا پر سوشل میڈیا ورکر بلال کے گھر پر پولیس چھاپے سے تعلق بتایا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ بلال کی گرفتاری نہ ہونے پر ان کے والد اور چچا کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پر کئی مقدمات، رات گئے گرفتاریوں اور مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کے پیش نظر برطانیہ اور یورپ میں پارٹی کے نمائندگان سراپا احتجاج ہیں اور ارکان پارلیمنٹ کو خط لکھ رہے ہیں تاکہ پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو آگاہ کیا جاسکے۔

    برطانیہ اور یورپ میں پی ٹی آئی کے فوکل پرسن صاحبزادہ چیکو جہانگیر نے کہا کہ پی ٹی آئی عالمی برادری سے کوئی مطالبہ نہیں کررہی بلکہ یہ محض حکومت پاکستان سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے لندن میں پی ٹی آئی کے نمائندے اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملاقات کر کے انہیں بتائیں گے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے-

    پیمرا نے اسلام آباد کی حدود میں جلسوں اور ریلیوں کی کوریج پر پابندی عائد …

    لندن میں نواز شریف کے خلاف جارحانہ مہم کی قیادت کے لیے مشہور پی ٹی آئی کارکن شایان علی نے حامیوں پر زور دیا کہ وہ پارک لین میں نواز شریف کے فلیٹ کے باہر فاشزم کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوں وہ اپنے متعلقہ اراکین پارلیمنٹ کو خطوط بھیج کر انہیں پاکستان کی صورتحال سے آگاہ کریں۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کل (28 مارچ) کو ایک رپورٹ شروع کر رہی ہے جس میں 25 مئی سے اب تک پی ٹی آئی کے خلاف ہونے والی تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خلاصہ کیا گیا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں حکومت سیاسی بنیادوں پر جرائم اور دوران حراست تشدد میں ملوث ہے۔

    دریں اثنا پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفارت کاروں اور سفیروں سے ملاقات کی۔

    کارکنوں پرتشدد :پی ٹی آئی نےامریکی ،برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین اورانسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے
    سفارت کاروں کے ساتھ ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم اس پیش رفت سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ان سفارت کاروں کو پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن اور مخصوص واقعات کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

    جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’یورپی ممالک خاص طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے حامی ہیں، یہ واضح ہے کہ ان کی جانب سے کسی مداخلت کی توقع نہیں ہے، تاہم جو کچھ ہورہا اس پر وہ ہمارا نقطہ نظر جاننے کے خواہشمند ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے اور قاتلانہ حملوں کے حوالے سے انٹر-پارلیمینٹری یونین (آئی پی یو) سے رابطہ کرلیا۔

    پی ٹی آئی جلسے سے گریٹر پارک کو کتنا نقصان ہوا؟

    اسد قیصر نے آئی پی یو کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے پی ڈی ایم حکومت کو فاشسٹ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی پی یو اس صورتحال کا نوٹس لے گا اور پاکستانی عوام کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

  • پی ٹی آئی جلسے سے گریٹر پارک کو کتنا نقصان ہوا؟

    پی ٹی آئی جلسے سے گریٹر پارک کو کتنا نقصان ہوا؟

    پاکستان تحریک انصاف کے 25 مارچ کو ہونے والے جلسے کے باعث لاہور کے گریٹر اقبال پارک کو کم و بیش 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ایچ اے کی جانب سے پارک میں ہونے والے نقصانات کے لیے سروے شروع کر دیا گیا ہے پارک کے چھوٹے پودے تباہ ہو گئے ، گیٹوں پر لگے تالے بھی توڑ دیئے گئےاور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاہم حتمی رپورٹ کل تک آ جائے گی۔

    عمران خان کو لاؤنچ ہی عدم استحکام کیلئے کیا گیا ہے. مریم نواز شریف

    گریٹر اقبال پارک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر جاوید حامد کے مطابق پی ٹی آئی نے سابقہ جلسے میں 40 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا تھا جس کی رقم اب تک ادا نہیں کی گئی اور اب مزید نقصان ہوا ہے جس کی رپورٹ تیار کرکے پی ٹی آئی کی قیادت کو بھجوائیں گے۔

    شہریوں نے گریٹر اقبال پارک کے پودوں اور پارکس سے زیادہ مہنگائی اور معاشی صورتحال کو بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

  • عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    لاہور:سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام باد روانہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس میں بھی ممکنہ پیشی کا امکان ہےعمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت سمیت 7 مقدمات میں عبوری ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔


    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’آج عمران خان پر درج 7 مقدمات میں ہم ان کی عبوری ضمانت کروایں گے، پچھلی پیشی پر جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی صورت حال کے بر عکس ہم سیدھا ہائی کورٹ میں جا رہے ہیں تمام مقدمات میں کل ہی دائری ہو گی اور کل ہی عبوری ضمانت لیں گے۔


    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ عدالت پیشی سے متعلق کوئی اطلاع نہیں، اسلام آباد پولیس عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی سکیورٹی انتظامات کرےگی عدالت کے احاطے میں صرف متعلقہ اشخاص کو داخلے کی اجازت دی جائے گی، پہلےکی طرح طرزعمل اپنایا تو پولیس بلا تفریق قانونی طریقہ اپنائے گی قانون کی مکمل عملداری برابری کی سطح پر عمل میں لائی جائے گی۔