Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بلدیاتی الیکشن کی مہم شروع کرنی چاہیے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی صوبائی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ آئین سے متصادم قانون سازی کرے، پوری ہمت کے ساتھ پبلک میں جانا چاہیے،ان کے عزائم کو شکست دینے کیلئے عوام میں جانا ضروری ہے، سیاست خواہشات کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ،ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے، آئین کے اندر رہتے ہوئے ملکی نظام چلانا ہے،گزشتہ 4سال سے ملک پیچھے کی طرف جارہا ہے،فیصلہ اتحادیوں نے کرنا ہے ہم توخیرخواہی کا پیغام ہی دے سکتے ہیں،کارنرمیٹنگزہوں گی،ریلی نہیں نکال رہے،الیکشن کمیشن کےاحکامات پرعمل کریں گے،

    https://twitter.com/munirshah83/status/1489570758993268736

    ایم کیو ایم رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ 22اگست کو ایم کیو ایم پاکستان نے بہت سوچ سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کیا ملک کے خلاف جو بھی بات کرے گا ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے، ہم کسی کی بھی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں، ہم جمہوریت کو بچانے کیلئے اس حکومت میں شامل ہوئے تھے،آنے والے الیکشن میں کارکردگی بنیاد پر فیصلہ ہوگا،حکومت میں ہمارا شیئر صرف ایک وزیر کا ہے، ہم اتنا ہی بوجھ اٹھائیں گے جتنا حکومت میں ہمارا شیئر ہے، مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ان کے پاس آئے تھے، ہم ماضی میں بھی حکومتوں کا حصہ رہے، وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے ہم نےمظاہرہ کیا،ہم صرف کراچی کی نہیں پورے سندھ کی بات کررہے تھے، کالے قانون کے خلاف احتجاج کیا تو سندھ حکومت نے لاٹھی چارج کیا،ایم کیوایم نے سندھ حکومت کے کالے قانون کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے،مظاہرے میں ہمارے ایک ساتھی کی شہادت بھی ہوئی،

    قبل ازین مولانا فضل الرحمان کی ایم کیو ایم کے وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی،ایم کیو ایم کے وفد میں عامر خان، وسیم اختر سمیت دیگر شامل تھے جے یوآئی کے مولانا اسعد محمود، سینیٹر کامران مرتضی ملاقات میں موجود تھے ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال پر مشاورت کی گئی.

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    زرداری نے کہا تھا پی ٹی آئی کا جنم خیبر پختونخوا سے ہوا،وہیں دفن ہو گی

    نہیں دیکھیں گے کہ کس کا بھائی ڈی ایس پی ہے یا اے سی،چیف الیکشن کمشنر برہم

    خواتین کو پولنگ سٹیشنز سے اغواء کرنا انتہائی سنگین واقعہ ہے،چیف الیکشن کمشنر برہم

    پی ٹی آئی کے ساتھ کے پی میں جو ہوا وہ پورے ملک میں ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    چمن ضرورجائیں گے،موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ،مولانا فضل الرحمان

    ناجائز حکمران کا انجام بھی اشرف غنی جیسا ہو گا،مولانا فضل الرحمان

  • پیپلزپارٹی کو جھٹکا:پی پی جنرل سیکرٹری ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل

    پیپلزپارٹی کو جھٹکا:پی پی جنرل سیکرٹری ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل

    پشاور: پیپلزپارٹی کو جھٹکا:پی پی جنرل سیکرٹری ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے شانگلہ میں پیپلزپارٹی کی وکٹیں گرا دیں۔ ضلع شانگلہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری فواد علی نور ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محممود خان نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی کیپ اور مفلر پہنائے۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں جواد علی نور، نثار کاکا، شاہد کاکا، انیس خان اور دیگر بھی شامل ہیں۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا قافلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی پی ٹی آئی میں شمولیت موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی ہے، قوم کی امیدیں عمران خان اور پی ٹی آئی سے جڑی ہیں۔

     

  • عوامی احتجاج رنگ لے آیا :بلدیاتی ایکٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم

    عوامی احتجاج رنگ لے آیا :بلدیاتی ایکٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم

    کراچی:عوامی احتجاج رنگ لے آیا :بلدیاتی ایکٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم ،اطلاعات کے مطابق سندھ کابینہ نے بلدیاتی ایکٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم کر دی۔ کابینہ نے بنڈل اور بڈوآئی لینڈ کو محفوظ جنگلات قرار دے دیا جبکہ سب رجسٹرار کو پاکستان اسٹیل کی اراضی منتقل کرنے سے روک دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں حکومت نے بلدیاتی ایکٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے لوکل گورنمنٹ قانون کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت پر کابینہ کو بریفنگ دی۔ ناصر شاہ نے جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی اور دیگر جماعتوں سے بات چیت کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا۔

    اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں سے متفقہ نکات پر مکمل عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ناصر شاہ کی جو بات چیت ہوئی ہے، اس کو لاگو کریں گے۔ کابینہ نے بنڈل اور بڈوآئی لینڈ کو محفوظ جنگلات قرار دے دیا جبکہ سب رجسٹرار کو پاکستان اسٹیل کی اراضی منتقل کرنے سے روک دیا۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ سندھ حکومت کی جانب سے اسٹیل ملز کو دی گئی اراضی فروخت نہیں کی جاسکتی۔

    کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت 2200 روپے مقرر اور 1 اعشاریہ 4 ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دے دی۔ سندھ کابینہ نے گندم خریدنے کیلئے 4 ہزار 450 ملین روپے فنڈز کی خریداری کے لیے منظوری بھی دی۔ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا محکمہ جیل میں گریڈ 5 سے گریڈ 15 کی 2 ہزار 113 آسامیاں خالی ہیں۔ کابینہ نے بھرتی کے لیے تھرڈ پارٹی اوپن بڈنگ کی منظوری دے دی۔

    سندھ کابینہ نے کوآپریٹو مارکیٹ اور وکٹوریہ مارکیٹ کے متاثرین کو معاوضہ دینے کی منظوری دے دی۔ مارکیٹس میں 14 نومبر 2021 کو آگ لگی تھی، سندھ کابینہ نے 91 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی منظوری دی۔

  • پی ٹی آئی سینیٹر فدا محمد خان کےصاحبزادے احتشام الحق پرمولانا فضل الرحمن کا جادوچل گیا

    پی ٹی آئی سینیٹر فدا محمد خان کےصاحبزادے احتشام الحق پرمولانا فضل الرحمن کا جادوچل گیا

    ملاکنڈ:پی ٹی آئی سینیٹر فدا محمد خان کےصاحبزادے احتشام الحق پرمولانا فضل الرحمن کا جادوچل گیا،اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف کو بڑادھچکہ، پی ٹی آئی کے سینیٹر فدا محمد خان کے فرزند مولانا فضل الرحمن کو پیارے ہوگئے، انجنیئر احتشام الحق نے جے یو آئی میں با ضابطہ شمولیت کااعلان کردیا ہے۔

    ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سینیٹرفدامحمد خان کے فرزند انجنیئراحتشام الحق اپنے سینکڑوں ساتھیوں و خاندان سمیت حکمران جماعت سے مستعفی ہو کر جمیعت علما اسلام میں باضابطہ طور پر شامل ہوگئے ہیں۔

    اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں جے یوآئی کے صوبائی امیر سینیٹرمولاناعطاالرحمٰن نے شمولیت اختیارکرنے والوں کو ٹوپیاں پہنائیں ۔

    سینیٹرمولانا عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ جے یو آئی حادثاتی طور پر بننے والی جماعت نہیں بلکہ ایک با اثرتحریک ہے ، بلدیاتی الیکشن میں عوام نے ثابت کیا کہ پی ٹی آئی عوامی مقبولیت کھوچکی ہے، عوام نے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کی جڑیں کاٹ دیں۔ 27 مارچ کو صوبہ بھر سے حکمران جماعت کاصفایا ہوگا۔

    مولانا عطا الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو لانے والے آج شرمندہ ہیں، یہ لوگ نہ گھر چلاسکتے ہیں اور نہ ملک ، حکومت نے صرف ایک کام کرکے نوجوانوں کو بے راہ کیا۔

    سینیٹرمولاناعطا الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اقرار کرے کہ ہم ملک چلانے کے اہل نہیں ، جمیعت علما اسلام آج بھی اپنے بیانیہ پرکھڑی ہے۔

  • پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج

    کراچی:پی ٹی آئی ، ایم کیوایم جماعت اسلامی کےبعد اے این پی کا سندھ حکومت کے خلاف احتجاج ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاج میں ایک اور پارٹی نے کودنے کا فیصلہ کر لیا۔ اے این پی نے احتجاجی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی سمیت سندھ کی بڑی جماعتوں نے احتجاجی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، 20 روز سے زائد عرصے سے جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنا دیا ہوا ہے، گزشتہ روز ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جس کے باعث پولیس نے لاٹھی چارج کیا ، اس کی زد میں آ کر ایک ایم کیو ایم کا کارکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

    دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اے این پی نے کراچی میں احتجاجی سیاست، رابطہ عوامی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، پیپلزپارٹی کی ہم خیال عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سندھ کے ترمیمی بلدیاتی قانون کی مخالفت کردی۔

    اے این پی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، پی پی رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی قانون کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔اے این پی رہنما بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے میں آج شریک ہونگے۔

  • کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے:    احمد جواد

    کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے: احمد جواد

    لاہور:کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق کارکن و رہنما اس وقت سخت غُصے میں آگئے ہیں اور انہوں نے پارٹی میں کرپٹ لوگوں کی موجودگی پرسوالات اٹھائے ہیں‌، ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے

    احمد جواد کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں اکثرلوگ جانتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کو پنجاب اورسیز انگلینڈ کا وائس چیرمین بنایا گیا جس پر انگلینڈ میں کرپشن کے الزام لگے، احمد جواد کہتے ہیں کہ اس تعیناتی کے خلاف پارٹی ورکرز نے سوشل میڈیا پر شور کیا تو اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    پارٹی سے نکالے جانے والےاحمد جواد مزید کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اسی شخص یعنی طارق محمود الحسن کو پنجاب اورسیز کمیشن کا چیرمین بنا دیا گیا وہاں اس پر پیسے لینے کے الزام لگے میری فیس بک بھری ھے یورپ کے ورکروں نے سوشل میڈیا پر شور ڈالا تو اس کو ترقی دے کا وزیر اعظم پاکستان کا اورسیز کے لیے خصوصی مشیر لگا دیا گیا

    احمد جواد اس حوالے سے کہتےہیں کہ اس شخص کا نام طارق محمود الحسن ھے ،

    احمد جواد کہتے ہیں‌ پارٹی میں جس پرانگلی اٹھائی جاتی ہے اس کو عہدے سے نواز دیا جاتا ہےاورطارق محمود الحسن بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو کرپشن بھی کرتے ہیں اور پاتے ہیں مقام

    احمد جواد کہتے ہیں کہ جب طارق محمود الحسن کو پہلی بار پنجاب اوورسیز انگلینڈ کا وائس چیئرمین بنایا گیا تو اس وقت بھی کارکنان نے احتجاج کیا تھا اور اب وہ مشیر وزیراعظم بن گئے اور پھراحتجاج ہوا لیکن اس احتجاج کی پرواہ تک نہ کی گئی

  • شوکت خانم اسپتال کے عطیات کی رقوم پی ٹی آئی پارٹی فنڈ کا حصہ:حقیقت یا افسانہ:تفصیلات آگئیں‌

    شوکت خانم اسپتال کے عطیات کی رقوم پی ٹی آئی پارٹی فنڈ کا حصہ:حقیقت یا افسانہ:تفصیلات آگئیں‌

    لاہور:شوکت خانم اسپتال کے عطیات کی رقوم پی ٹی آئی پارٹی فنڈ کا حصہ:حقیقت یا افسانہ:تفصیلات آگئیں‌،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے مخالف اس وقت پی ٹی آئی کے فنڈز میں غیرقانونی فارن فنڈنگ ثابت کرنے کےلیے کوشاں ہیں ، اس حوالے سے ایک معروف میڈیا گروپ نے فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کو فنڈز دینے والوں کا پیچھا کیا اوراس لمبی باگ دوڑ میں صرف 40 افراد نے جواب دیا ،

    معروف میڈیا گروپ کا جن سے رابطہ ہوا ان 40 افراد کی فہرست میں شامل 34.5 فیصد ڈونرز نے کہا کہ انہوں نے رقم شوکت خانم اسپتال کے لیے دی تھی،عطیات دینے والوں میں سے بعض افراد کو حیرت ہوئی کہ ان کے عطیات کی رقوم کو سیاسی مقاصد میں کیوں استعمال کیا گیا۔

    دی نیوز میں فخر درانی کی شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیرملکی فنڈنگ کیس کے حوالے سے اسپتال کو عطیہ دینے والے اس بات سے لاعلم تھے کہ عطیات پی ٹی آئی کو منتقل ہوئے، بعض ڈونرز نے سوال کیا ہے کہ عطیات شوکت خانم کے لئے دیئے، پارٹی فنڈز کے طور پر کیوں استعمال کیا؟ جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پارٹی ریکارڈ سے حقائق کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ عطیات کس مقصد کے لئے دیئے گئے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو پیش کی گئی ان افراد کی فہرست جنہوں نے پارٹی کو عطیات فراہم کیے تھے کی صداقت مشکوک ہو گئی ہے کیوں کہ ان میں سے بعض نے استفسار کیا ہے کہ ان کے عطیات ، سیاسی مقاصد کے لیے کیوں استعمال کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق فراہم کردہ فہرست میں شامل افراد نے 4 لاکھ 60 ہزار ڈالرز پارٹی فنڈز میں دیئے۔ تاہم، ان میں سے تقریباً 35 فیصد افراد نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو عطیات نہیں دیئے تھے بلکہ ان کے عطیات شوکت خانم اسپتال کے لیے تھے۔ جب کہ صرف 27 فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی فنڈز کے لیے عطیات دیئے تھے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے سابق رکن اکبر ایس بابر کی پٹیشن پر پی ٹی آئی کی غیرملکی فنڈنگ کیس میں سماعت کررہی ہے۔ پی ٹی آئی نے پارٹی کے بینک اکاؤنٹس اور غیرملکی کمپنیوں کی فہرست کے ساتھ 1414 عطیات فراہم کرنے والوں کے نام بھی جمع کیے ہیں جنہوں نے 2013 میں پارٹی فنڈز کے لیے 467320 ڈالرز عطیہ کیے۔

    دی نیوز نے اس حوالے سے دو ہفتے طویل تحقیقات کی ہیں تاکہ فہرست میں شامل پارٹی کو فنڈز دینے والے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ اس مقصد کے لیے 80 ڈونرز کو سیمپل کے طور پر منتخب کیا گیا۔

    دی نیوز نے 40 افراد سے رابطہ کیا جنہوں نے 1 ہزار ڈالرز یا اس سے زائد کے عطیات دیئے تھے جب کہ 40 ایسے افراد کو منتخب کیا گیا جنہوں نے 500 ڈالرز یا زائد کے عطیات دیئے تھے۔

    ان 80 عطیات دینے والوں میں 29 نے دی نیوز کے سوالات کے جوابات دیئے۔ صرف 8 افراد (27.5 فیصد) نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے عطیات دیئے تھے کیوں کہ ان کا ماننا تھا کہ عمران خان تبدیلی لاسکتے ہیں۔

    10 افراد نے (34.5 فیصد) نے کہا کہ انہوں نے رقم شوکت خانم اسپتال کے لیے دی تھی کیوں کہ وہ باقاعدگی سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جب کہ 7 افراد (24 فیصد) کا کہنا تھا کہ انہیں یاد نہیں ہے۔ جب کہ باقی ماندہ 4 افراد (13.7 فیصد) نے جواب دینے سے انکار کردیا۔

    شوکت خانم اسپتال کے لیے عطیات دینے والوں میں سے بعض افراد کو حیرت ہوئی کہ ان کے عطیات کی رقوم کو سیاسی مقاصد میں کیوں استعمال کیا گیا۔ 2017 میں پی ٹی آئی نے امریکا میں رکن سازی کی مہم شروع کی تھی اور امریکا میں پارٹی ورکرز کو ممبر شپ کارڈز بھجوائے تھے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ شوکت خانم کےعطیات سیاسی مقاصد میں استعمال کیے گئے ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ڈونر ایل ڈی سی پر دستخط کرتا ہے تو چیک میں واضح لکھا ہوتا ہے کہ وہ رقم کس مقصد کے لیے دی جارہی ہے۔ جنہوں نے 1 ہزار ڈالرز یا زائد رقوم دی ہے وہ بذریقہ چیکس دی گئی ہے۔ اس کی تصدیق چیکس سے ہوسکتی ہے۔

    وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس نمائندے نے عطیات فراہم کرنے والوں کے نام فراہم کیے تو وہ ریکارڈ سے تصدیق کرسکتے ہیں کہ انہوں نے رقوم اسپتال کے لیے دیں یا پارٹی فنڈز کے لیے دیں

  • قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرتا،وزیراعظم

    قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرتا،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرتا طاقت ور کو قانون کے نیچے لانا سب سے بڑا جہاد ہے۔

    باغی ٹی وی : فوجداری قوانین میں اصلاحات کی تقریب میں وزیراعظم نے فروغ نسیم کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ طاقت ور قانون سے بالاتر خود کوسمجھنے لگا، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نظام طاقت ور طبقے نے نظرانداز کیا ہے۔ تعلیم ، قانون ،علاج اور ہر شعبے میں امیر غریب کے لیے 2 قانون آئےپاکستان میں عدالتی نظام آہستہ آہستہ کمزورہوتاگیا، جیل غریب لوگوں سے بھرےہوئے ہیں –

    انہوں نے کہا کہ غریب کے لیے قانون ہوتا ہے لیکن طاقت ور خود کو قانون کے نیچے نہیں لاتا تھا طاقت ور کو چوری کی سزا نہیں ملتی اور غریب پس جاتا ہے اب ہمارا انقلابی قدم قانون میں اصلاحات اور عمل کی طرف ہوگا، فلاحی ریاست کی طرف ہم بڑا قدم اٹھاچکے ہیں رسول ﷺ نے اسلامی فلاحی ریاست میں بہترین اصول رکھے تھے-

    وزیراعظم نے کہا کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا، ریکوڈک کیس میں پاکستا ن کو جرمانہ ہوا اور معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا، سیاحتی شعبے میں بیرون ملک قانون پرعمل داری ہے وہاں کوئی قبضہ گروپ نہیں، پاکستان میں قدرتی خوبصورتی ہے مگر قانون پر عمل داری نہیں پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام کمزوراورنجی تعلیمی نظام بہترہوا اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں ،ان کی ترسیلات پر ملک چل رہا ہے،اوورسیز پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگران کو اعتماد نہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں قانون کی حکمرانی و بالادستی ہے، وہاں کسی چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے نہیں جاتے، سوئٹزرلینڈ میں کوئی قبضہ مافیا نہیں اور کوئی لندن جاکر فلیٹ نہیں خریدتا، اس لیے وہاں اللہ کی برکت ہے، مدینہ کی ریاست کی باتیں آج تک جمعے کے خطبوں میں سنتے رہے ہیں اور عملی زندگی میں کوئی تعلق نہیں رہا، حالانکہ اللہ نے حکم دیا کہ نبیؐ کے رستے پر چلے، یہ ہماری بہتری کے لیے ہے، اس وقت سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ کسی طرح طاقت ور کو قانون کے نیچے لے آئیں-

    انہوں نے کہا کہ جب کرکٹ میں تھا تو 6 سال غیر جانب دار امپائر کےلیے مہم چلائی، کرکٹ کے دوران میں نے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بات کی اورمجھ پر تنقید کی گئی، ہم نے قانونی اصلاحات سےمتعلق اپناکام کردیا اب عدلیہ کا کام اس پرعمل کرانا ہے ای وی ایم سے انتخابات اور نتائج میں شفافیت لاناچاہتےہیں-

    وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا تو خوشحالی نہیں آئے گی، غریب جب اسپتال جاتا ہے اور حکمران اسے فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ دعا دیتا ہے خواتین کو جائیداد میں حصہ دینا قانون میں لازمی قراردیا ہے، خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کا قانون اسلام نے دیا تھا-

  • بلاول بھٹو پتہ چل گیا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے: خرم شیر زمان

    بلاول بھٹو پتہ چل گیا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے: خرم شیر زمان

    کراچی:پیپلز پارٹی کو آج کے عوامی ردعمل کے بعد احساس ہوچکا ہوگا کہ عوام کتنی ان سے کتنی نفرت کرتی ہے:،اطلاعات کے مطابق خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ کا کام زرداری کیلئے مال اکھٹا کرنا ہے، آج کا واقعہ پیپلز پارٹی کی گھبراہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جو ہوا وہ پوری قیادت کیلئے شرمناک بات ہے ، پیپلزپارٹی اپنی ناکامیوں کو چھپانہ چاہتی ہے، پورے پاکستان نے دیکھا ہے کہ رکن اسمبلی اور خواتین پر لاٹھیاں ماری گئی۔

    خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ رکن اسمبلی صداقت حسین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بلاول اگر زرا بھی شرم ہے تو صوبے کے لوگوں کو دیکھو، مراد علی شاہ کا کام زرداری کیلئے مال اکھٹا کرنا ہے، آج کا واقعہ پیپلز پارٹی کی گھبراہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت سے پی ڈی ایم کی تحریک ناکام ہوئی، سندھ کابینہ میں بیٹھے لوگ زرداری کیلئے تماشہ لگاتے ہیں، ہم ایم کیو ایم کے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے۔

  • پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اوراپنے ہی ساتھیوں پرالزام تراشیاں:احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم

    پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اوراپنے ہی ساتھیوں پرالزام تراشیاں:احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم

    اسلام آباد: پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کی پارٹی رکنیت ختم کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری اطلاعات احمد جواد کی پارٹی قیادت پر بے بنیاد الزام تراشی پر پی ٹی آئی قائمہ کمیٹی نظم و احتساب نے پارٹی رکنیت ختم کردی۔

    احمد جواد کو 12 اور 19 جنوری کو اظہار وجوہ کے نوٹسز دیے گئے تھے، انہوں نے صفائی پیش کرنے کے بجائے الزامات کی نئی فہرست بھجوائی۔

     

     

    قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کی 2 رکنی ذیلی کمیٹی نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، شواہد اور احمد جواد کے تحریری جواب پر بنیادی رکنیت کے خاتمے کا متفقہ فیصلہ سنایا گیا۔

    احمد جواد نے گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد درباریوں کے گھیرے میں آگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس بہت سے جوکر موجود ہیں، جوکر پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھا کر مسلط کیے گئے، ان جوکروں کا پی ٹی آئی کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں شروع سے تحریک انصاف کے ساتھ تھا اور اپنی تنخواہ سے پارٹی اخراجات کرتا تھا، میں نے ایک نظریے کے تحت پی ٹی آئی کو جوائن کیا تھا، وہ نظریہ اب نہیں رہا۔