Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • 46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا ایک اور یوٹرن: "امریکی مداخلت نامنظور” سے "امریکی عدم مداخلت نامنظور” تک کا حیرت انگیز سفر ،طے کر لیا

    امریکی کانگریس کے 46 اراکین نےعمران خان کی حمایت میں ایک اور خط لکھ دیا،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، اس سے قبل 60 اراکین جو بائیڈن انتظامیہ کو خط لکھ چکے ہیں جن میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن اراکین دونوں شامل ہیں۔تحریک انصاف کے چند امریکی حمایتیوں نے ایک بار پھر قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ حال ہی میں 46 امریکی کانگریس اراکین نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے، جو مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ خط میں تحریک انصاف کے لیے امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی گئی ہے، لیکن پاکستان کے اصل مسائل، جیسے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم، دہشت گردی، یا معاشی مدد کی ضرورت کا کوئی ذکر نہیں۔اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ حمایتی واقعی بااثر ہیں یا کہانی کچھ اور ہے؟

    خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات، خاص طور پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تحریک انصاف نے "غلامی نامنظور” کے نعرے کے ساتھ امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کی تھی۔خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور سفیر کے کردار پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، اور ان کے رویے میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    ماضی میں عمران خان اور تحریک انصاف نے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا تھا۔ لیکن اب یہی جماعت امریکی مداخلت کی کھل کر درخواست کر رہی ہے، جس سے ان کے بیانیے کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنی تھی، تو کشمیری عوام کے حق میں کبھی کوئی خط کیوں نہیں لکھوایا گیا؟کیا تحریک انصاف کے حمایتی صرف اپنی جماعت کے مفاد میں امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟کیا تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی واضح مثال نہیں؟

    تحریک انصاف کے حمایتیوں کی یہ پالیسی ان کے اپنے بیانیے سے متصادم ہے۔ "غلامی نامنظور” اور "امریکی مداخلت نامنظور” کے نعروں سے شروع ہونے والا سفر اب "امریکی عدم مداخلت نامنظور” کے مطالبے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف تحریک انصاف کی پالیسیوں کی غیر مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر آمنہ امان کہتی ہیں کہ امریکی کانگریس کے 46 اراکین کا صدر بائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے خط لکھنا غیر ملکی مداخلت کی دعوت دینا ہے۔ اس کے پیچھے صیہونی اور بھارتی لابی کی مشترکہ کوشش واضح طور پر جھلکتی ہے۔ ان میں سے اکثر اراکین جیسا کے بریڈشرمن اسرائیلی لابی اے آئی پی اے سی اور ہاؤس انڈیا کاکس کے ساتھ وابستہ ہیں، جو امریکہ کے اندر مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ذریعے ایک ایسے رہنما کو اقتدار میں واپس لانے کے خواہاں ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کر سکے۔ ان کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لابیز پاکستانی خودمختاری کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی اور جغرافیائی عزائم کو تقویت دینا چاہتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ہاؤس انڈیا کاکس کا چیئرمین روکھنہ عمران خان کا قریبی دوست ہے جو اس کی رہائی کے لیے کافی سرگرم ہے

    https://twitter.com/Amna__Aman/status/1857760712531062893

    امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے ، اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ہے،ارکان کانگریس سےبائیڈن کو خط کس نے لکھوایا اور کیا مقصد ہے سب جانتےہیں ، کیاامریکی ارکان کانگریس نےفلسطین اورکشمیرکی صورتحال پرکبھی خط لکھا؟ امریکا میں لابسٹ کو ہائر کیاگیاہےتاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئےدباؤڈالاجائے، پاکستان میں پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کروڑوں امریکا میں لابسٹ پرخرچ ہورہےہیں، عالمی لابسٹ کو ہائرکیا جارہا ہےتاکہ پاکستان کے اندرونی معاملےمیں مداخلت کریں،پی ٹی آئی کاایک ہی ایجنڈاہےکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بانی کو رہا کرائیں، عدم اعتماد کےوقت پی ٹی آئی کہتی تھی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم غلام نہیں ، پی ٹی آئی نے امریکا پرہی اپنی حکومت گرانے کی سازش کاالزام لگایا تھا اور آج پی ٹی آئی لابسٹ کےذریعے اُس ہی امریکی حکومت کوخط لکھوا رہی ہے، امریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے، گولڈ اسمتھ فیملی اسرائیل کی لابسٹ ہے،بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اثاثہ ہے، اسرائیلی جریدوں میں آرٹیکلز ہیں کہ پاکستان میں بانی ہی اسرائیل کو سوٹ کرتا ہے، خط وہ لکھوا رہے ہیں جن کا ایجنڈا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، ڈاکٹر اسرار نے 20، 25سال پہلے ہی بانی پی ٹی آئی سےمتعلق بتا دیاتھا۔ اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے بانی کو رہا کرانے کی کوشش ہورہی ہے، بانی اپنے دور میں سیاسی مخالفین کےخلاف نیب کو استعمال کرتےتھے،اس وقت خط کہاں تھے؟ اگریہ پاکستانی لابسٹ ہوتے تو کیا کشمیرکیلئے کبھی خط نہیں لکھواتے؟ پی ٹی آئی بانی کی رہائی کےون پوائنٹ ایجنڈےکیلئے ہر حد تک جائے گی، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اسٹرٹیجک اثاثہ ہے، بانی کی رہائی کیلئےپی ٹی آئی کی طرف سے حیران کن چیزیں ابھی مزیدسامنےآئیں گی۔

    امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے،شیری رحمان
    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے ،ارکان کانگریس کا بائیڈن کو خط حقیقی آزادی کے بیانیے کے تابوت میں ایک اور کیل ہے، کسی بھی دوسرے ملک کے سیاسی و قانونی معاملات میں مداخلت عالمی اصولوں کے خلاف ہے،امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو جائز سمجھنا خطرناک مثال قائم کرتا ہے،پی ٹی آئی کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں امریکی مداخلت پر بیانیہ بناکرسیاست کرتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے خود اسی طرح کی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔صدر آصف علی زرداری نے 12 سال جیل میں گزارے، انہوں نے کبھی بیرونی لابی فرمز کو ایسی درخواستیں لکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا، ملکی سیاسی جماعتیں مسائل، قانونی جدوجہد کے لیے ملکی اداروں پر ہی اعتماد رکھتی ہیں۔

  • شیخ رشید  نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

    شیخ رشید نے 24 نومبر کو احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے 24 نومبرکو پی ٹی آئی کے احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ 24نومبر سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ فوج کے خلاف کبھی بات نہیں کی اور خواہش ہے کہ تعلقات بہتر ہوں، لیکن اس بارے میں کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات میں کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ اگر وہ گناہگار ہیں تو انہیں سزا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ فوج کو ان کی ضرورت نہیں ہے، 24 نومبر کو پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی عقیقے کی دعوت بھی دے تو شہباز شریف وہاں چلے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ 24 نومبر کو بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جسکے بارے گزشتہ روز بشری بی بی نے رہنماوں کے ساتھ اجلاس بھی کیا.

    جی ایچ کیو حملہ کیس ، عمران خان پر فرد جرم تیسری بار ٹل گئی

    آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف جارحانہ آغاز

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

  • مسرت جمشید چیمہ ضمانت پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا

    مسرت جمشید چیمہ ضمانت پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا

    پانچ اکتوبر کے مقدمات میں گرفتار ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنماء مسرت جمشید چیمہ کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے پر کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور وکلاء کی بڑی تعداد نے مسرت جمشید چیمہ کا رہائی کے موقع پر پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔اس موقع پر کارکنوں نے بانی چیئرمین عمران خان اور مسرت جمشید چیمہ کے حق میں نعرے بھی لگائے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے استقبال کیلئے جمع ہونے والوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین صرف اپنی قوم کے لئے گزشتہ کئی مہینوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔جبر ، تشدد اور جیلیں ہمیں جدوجہد سے پیچھے سے نہیں ہٹا سکتیں۔ہمارے حوصلے بلند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور ساری قوم اس کے لئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں وکلاء کی شکر گزار ہوں جو ہر پیشی پر عدالتوں میں موجود ہوتے ہیں اور آج بھی میرے استقبال کے لئے یہاں آئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ24نومبر کو احتجاج صرف تحریک انصاف کیلئے نہیں ملک میں انصاف کیلئے کیا جائیگا، ایک جماعت کے لوگوں کے باہر نکلنے سے کچھ نہیں ہوگا سب کو نکلنا ہوگا، 8 فروری کو مینڈیٹ ملا تھا 24 نومبر کو چھینا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے،پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے 24 نومبر کو زیادہ سے زیادہ لوگ احتجاج میں شامل ہوں۔نوجوان، طلباء، تاجر اور سول سوسائٹی باہر نکلے۔ قانون کی عمل داری ضروری ہے۔ اگر ایک بیوی اپنے خاوند کیلئے احتجاج کرے تو یہ سیاست تو نہیں ہے۔ بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں سیاست نہیں ہوتی۔24نومبر کوہونے والے احتجاج میں صوبائی وسائل استعمال نہیں ہوں گے۔

    اے پی سی کے سلسلہ میں جے یو آئی کے رابطے جاری

    پیرو : چین کے تعاون سے تیار پہلی بندرگاہ کا افتتاح ہو گیا

    رکشہ ڈرائیور کی دلیری،فرار ہونے والے ڈاکو کو پکڑلیا

    پاور کمپنیوں کیخلاف انکوائری،نامور کاروباری شخص کو ایئر پورٹ پر روک لیا گیا

  • بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    عمران خان کی تحریک انصاف پر کس کا قبضہ ہو گا ؟ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان میں جنگ چھڑ گئی،

    موروثی سیاست کے خلاف کام کرنے والے عمران خان نے تصدیق کر دی کہ بشریٰ بی بی پارٹی رہنماؤں کو میرا پیغام پہنچائیں گی،بشریٰ بی بی پشاور میں مقیم ہیں، اور انہوں نے مشاورت اجلاس میں علیمہ خان کے قریبی افراد کو مدعو نہیں کیا،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے آپسی اختلافات جو کئی ماہ سے چل رہے تھے شدت اختیار کر چکے ہیں، علیمہ خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال کا اعلان کیا جو بشریٰ بی بی کو نہ بھایا ، بشریٰ بی بی نے علیمہ خان کے احتجاج کی کال کے بعد پارٹی رہنماؤں کو پشاور بلا لیا لیکن علیمہ خان کے قریب رہنے والے افراد کو نظر انداز کیا گیاہے.

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی اور ان کی بہن علیمہ خان کے درمیان پارٹی پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں خواتین کی سیاسی اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی میں بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندرونی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔پارٹی کی مرکزی قیادت اس وقت پریشان ہے کہ کس کا ساتھ دیا جائے ایک طرف عمران خان کی بہن تو دوسری طرف بیوی ہے،بیرسٹر گوہر سے لے کراسد قیصر،عمر ایوب سب پریشان ہیں کہ اس صورتحال میں کیا فیصلہ کیا جائے،ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات حالیہ مہینوں میں بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے اندر ایک طاقتور گروپ تشکیل پا چکا ہے۔ بشریٰ بی بی کو عمران خان کی سیاسی مشیر کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ علیمہ خان کی سیاسی سرگرمیاں بھی کئی اہم فیصلوں میں نظر آتی ہیں،علیمہ خان نے گزشتہ دنوں بھی احتجاج کو لیڈ کیا تھا جب پارٹی رہنما نہیں نکلے تھے اور علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا تھا،

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان دونوں خواتین کی سیاسی سرگرمیاں ایک نئی نوعیت کی سیاسی چپقلش کا باعث بن رہی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ عمران خان کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے جبکہ علیمہ خان نے ہمیشہ اپنی سیاسی طاقت کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، دونوں خواتین کے اختلافات نے تحریک انصاف میں دراڑیں ڈال دی ہیں، اس تمام صورتحال کے باوجود، عمران خان نے اپنے اہل خانہ کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے لئے کسی بھی عوامی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ اختلافات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر قیادت کی جنگ بھی جاری رہ سکتی ہے، جو عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • بشریٰ میرا پیغام پہنچائیں گی،عمران خان کی تصدیق

    بشریٰ میرا پیغام پہنچائیں گی،عمران خان کی تصدیق

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی مشاورت میں شامل ہونے کی تصدیق کر دی

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی پارٹی مشاو رت میں شمولیت کے حوالہ سے عمران خان کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سیاست میں حصہ نہیں لے رہیں اور نہ ہی سیاست میں حصہ لیں گی تاہم عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی تو کسی نے تو ان کا پیغام پہنچانا ہے،بشریٰ بی بی پارٹی رہنماؤں کو پیغام دیں گی

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو رہا چکی ہیں اور آج کل پشاور میں مقیم ہیں نے گزشتہ روز پشاور سے ملک بھر کی تنظیم کو احکامات جاری کیے تھے، بشریٰ بی بی نے آج شام پارٹی رہنماؤں کو پشاور میں ملاقات کے لیے بلایا ہے،پنجاب کے اراکین اسمبلی کو بھی پشاور بلایا گیا ہے تاہم بشریٰ بی بی نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے قریب رہنے والے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے نہیں بلایا، بشریٰ بی بی نے علیمہ خان کے قریبی سیاسی رہنماوں کو آج پارٹی مشاورت میں شرکت کےلئے بھی دعوت نہیں دی،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ اگر بیوی اپنے خاوند کے لیے احتجاج میں شرکت کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست میں آ گئی ہے اگر بہن اپنے بھائی کے لیے احتجاج میں شرکت کرتی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست میں آ گئی ہیں ۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے جاری پیغام میں عمران خان نے کہا ہے کہ ایک سال مجھے اور میری اہلیہ کو جیل میں رکھنے کے بعد ہائی کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں مس ٹرائل ہوا اور اس دوران انصاف کے تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ یہ اعتراف ریاست پر قابض مافیا کی جانب سے نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا اعتراف اور ہمارے نظام انصاف پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس اعتراف کے بعد میں چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اور تفتیشی افسران اور متعلقہ ججز کے استعفوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔ قابض مافیا کی ایما پر ملک کے مقبول ترین لیڈر کے مِس ٹرائل پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہونی چاہیے۔مجھے 5 جھوٹے کیسز میں ایسے ہی مضحکہ خیز انداز میں سزائیں دلوائی گئیں اور مزید 2 جھوٹے ٹرائل اسی سپیڈ سے چلائے جا رہے ہیں تاکہ مجھے حقیقی آزادی کی تحریک سے پیچھے ہٹا سکیں لیکن میں اپنے خون کے آخری قطرے تک پاکستانیوں کی حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا،26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا ہے، اور اب ان کی حیثیت سرکاری محکموں سے زیادہ نہیں رہی۔ عدلیہ کی طاقت کو سلب کر لینے سے ملک میں انصاف کا نظام جو پہلے ہی مخدوش تھا، بالکل ٹھپ ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے جمہوریت خطرے میں ہے، ملک میں جمہوریت ہے کہاں؟ جمہوریت کا مطلب تو آزادی، قانون کی حاکمیت اور انصاف کی آزادانہ فراہمی ہوتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کا قتل کر دیا گیا ہے۔
    ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہےاسی لیے پاکستانی قوم کو کال دے رہا ہوں کہ یہی وقت ہے، 24 نومبر کو نہ صرف خود نکلیں بلکہ ہر فرد ذمہ داری لے کر لوگوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے کی تحریک چلائے۔ اس تحریک سے حقیقی آزادی کا خواب پورا ہو گا ورنہ زندگی بھر کی غلامی قوم کا مقدر بن جائے گی۔

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ملک میں فتنہ پھیلانے کے بجائے سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہیے،فیصل  کریم کنڈی

    ملک میں فتنہ پھیلانے کے بجائے سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہیے،فیصل کریم کنڈی

    پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال نہیں بلکہ مس کال ہے۔

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی احتجاج سے نہیں بلکہ عدالتوں سے رہا ہوں گے خیبر پختونخوا کو بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور چلا رہے ہیں، بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھی عدالتوں سے رہا ہوئی ہیں، ملک میں فتنہ پھیلانے کے بجائے ملک کا سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہیے، اب پھر یہ لوگ احتجاج سے دو گھنٹوں کیلئے غائب ہو جائیں گے اور پی ٹی آئی قیادت پھر کہیں چائے پینے چلی جائے گی۔

    گورنر کے پی نے کہا کہ صوبے کی مشینری اور پولیس کو وفاق کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، کس قانون اور آئین کے تحت یہ کام کیے جا رہے ہیں؟آج خیبر پختونخوا کے ڈاکٹرز اور اساتذہ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، اساتذہ کو کہا جا رہا ہے احتجاج میں شرکت کرنے پر تنخواہ دی جائےگی، ضلعی انتظامیہ و پولیس کو وفاق پر دھاوا بولنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہےپنجاب سےعوام نے احتجاج میں شرکت نہیں کی، کسی ایک خاص صوبے کو انتشارکیلئے استعمال نہ کیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں نکلنا ہے،24 نومبر کو احتجاج ہو گا جس کے لئے سب نکلیں،علیمہ خان نے اعلان کیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے تائید کی، بانی پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے-

    سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کےبانی اپنے حواس کھو بیٹھے ہیںَ 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ،یہ دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی اور خاتمے کے لئے بھی دو تہائی اکثریت چاہئے ہو گی، آئین بحال ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں، 8 فروری کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوئے تھے، تمام حکومتیں کام کر رہی ہیں، قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ عمران کا اپنی رہائی کا مطالبہ ہے، عمران سیاسی قیدی نہیں بلکہ توشہ خانہ،9مئی کے مقدمات میں قید ہے، دراصل 24 نومبر کا احتجاج عمران خان کی جانب سے نومئی کا واقعہ دوبارہ دہرانے کی ہی ایک کڑی ہےحکومت کو اس احتجاج کے حوالہ سے کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہئے.

  • ہمارا احتجاج  یک روزہ ، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے،شیر افضل خان مروت

    ہمارا احتجاج یک روزہ ، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے،شیر افضل خان مروت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئیر رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ اب احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پہلی دفعہ ہم نے حتمی احتجاج کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے اس بات سے انکار کیا کہ پی ٹی آئی کی حالیہ تحریکوں میں سے کوئی تحریک ناکام ہوئی، ’البتہ آخری جو ڈی چوک کا دھرنا تھا وہ دو دن جاری رہ سکا اور اب اس احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پہلی دفعہ ہم نے حتمی احتجاج کا اعلان کیا ہے،’جب تک نتائج حاصل نہیں ہوتے، یہ یک روزہ بھی ہوسکتا ہے، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے، کیونکہ اس دفعہ ہم تہیہ کرکے نکلیں گے کہ کسی بھی صورت میں ہم اس وقت تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے جب تک خان کی رہائی ممکن نہیں ہوتی-

    شیر افضل مروت نے کہا کہ احتجاج کے مقاصد کی تعداد کا باقاعدہ اعلان ابھی نہیں ہوا ہے، میں تو گزشتہ دوماہ سے ایک ہی نکتے پر مہم چلا رہا ہوں کہ ہمیں فی الوقت عمران خان کی رہائی درکار ہے کوشش کریں گے کہ ہم اس احتجاج کو فی الوقت خان کی رہائی تک محدود رکھیں ، جب خان باہر آجائیں گے تو پھر جو بھی سیاسی یا ملکی مفاد کیلئے مقاصد ہوں گے وہ ہم ان کی قیادت میں ان کی ہدایات کے مطابق احتجاج کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس بار اگر بالفرض پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کیلئے نہیں نکلتے ہیں تو ہمیں کیا فرق پڑے گا؟ ہم تو ایوانوں میں بھی ہیں، خان بلاتنازعہ لیڈر بھی ہے، اس کے بعد پاکستانیوں کی تقدیر میں کیا آئے گا؟ کیا پاکستان کے بعد معیشت کیلئے کوئی روڈ میپ ہے؟ کیا زرداری اور نواز پر قوم کا اعتماد ہے؟

  • پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کو اب کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کاکہنا تھا کہ لوگ عمران خان کی کال کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہے ہیں، سوائے ایک صوبے کے جہاں ان کی حکومت ہے اور وزیر اعلی خود لوگوں کو لاتا ہے ،26ویں آئینی ترمیم کے بعد کچھ چیزیں پی ٹی آئی کو اچھی نہیں لگیں، پوری دنیا میں رونا رو رہی ہے، کیا یہ وہی عمران خان نہیں تھے جنہوں نے 2018 کے جعلی انتخابات میں جعلی مینڈیٹ لینے کے بعد خود ایکسٹینشن نہیں دی تھی، جب عمران کا اقتدار جا رہا تھا اور انکو نظر آ رہا تھا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو رہی تو کیا عمران خان نے باجوہ کو نہیں کہا تھا کہ لائف ٹائم کی ایکسٹینشن دینے کوتیار ہوں، لوگ اب عمران خان کی کال پر نہیں نکل رہے، ایک صوبے میں جہاں انکی حکومت ہے وہاں سے وزیراعلی گاڑیاں بھر کر لاتے ہیں، کراچی میں جلسے جلوسوں پر کوئی سختیاں نہیں کی گئیں پھر بھی لوگ نہیں نکلتے، عمران خان کی کال کو اب لوگوں نے سیریس لینا بند کر دیا ہے، ہر مہینے اس طرح کی کال دے کر کیا ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کرنا چاہ رہے ہیں، جب ملک میں معیشت بہتر ہو رہی ہے اس موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو دوبارہ انارکی کی کوشش ناکام ہو گی، لندن میں قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اور پھر کل خواجہ آصف کے ساتھ بدتمیزی کی گئی یہ کون سی سیاست ہے،

    پریمیم نمبر پلیٹوں کی دوسری نیلامی یکم دسمبر کو ہوگی،شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کراچی اور حیدرآباد میں بڑا کریک ڈاؤن کرنے جارہے ہیں،کوئی بھی نان رجسٹرڈ گاڑی اب سڑکوں پر نہیں آسکے گی کراچی سے انٹر سٹی اور غیر قانونی بس اڈوں کا خاتمہ کر دیا کراچی میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کیا جارہا ہے،پریمیم نمبر پلیٹوں کی دوسری نیلامی یکم دسمبر کو ہوگی ،پریمیئم نمبر پلیٹوں کی آن لائن نیلامی سے 7 کروڑ روپے حاصل ہوئے،پریمم نمبر پلیٹوں سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کی ہاؤسنگ اسکیم کو دی جاتی ہے،سندھ حکومت کے منصوبوں کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے،

  • 24 نومبر احتجاج کی کال،بشریٰ بی بی متحرک،اراکین پنجاب اسمبلی کو بلا لیا

    24 نومبر احتجاج کی کال،بشریٰ بی بی متحرک،اراکین پنجاب اسمبلی کو بلا لیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی کال پر 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کو کل پشاور طلب کرلیا گیا

    تحریک انصاف کے چوبیس نومبر کے احتجاج کے حوالے سے مشاورت ہوگی،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کا اہم پیغام بھی اراکین اسمبلی کو پہنچائیں گی،وزیر اعلیٰ کے پی کے سے بھی احتجاج کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی، بشریٰ بی بی اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات بھی دیں گی، پنجاب کے اراکین اسمبلی کو پشاور پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے

    دوسری جانب چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کال پر پوری دنیا میں احتجاج نظر آئے گا، احتجاج میں سب لوگ شریک ہوں گے،یہ عمران خان کا حکم ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں نکلنا ہے،24 نومبر کو احتجاج ہو گا جس کے لئے سب نکلیں،

    علاوہ ازیں حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاج کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے،پتہ چل گیا کہ فیض حمید بھی پکڑے گئے، اسکے بعد سارا تکیہ منصور علی شاہ پر آ گیا، لیکن 26 ویں ترمیم کے بعد انکی امیدوں پر پانی پھر گیا، پی ٹی آئی کا میڈیا، سوشل میڈیا چلانے والے لوگ ٹرمپ کارڈ چلا رہے ہیں لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونےوالا

    دوسری جانب پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی ذات کی خاطر جیل میں قید نہیں ہے، عمران خان قوم کے بچوں کے مستبقل کے لئے جیل میں قید ہے۔ 24 نومبر کو کپتان نے کال دے دی ہے۔ پوری قوم نے 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچنا ہے۔ عالم اسلام کے عظیم لیڈر عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالب علموں، مزدوروں، لیڈرز، ورکرز، ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ ہمیں عمران خان سمیت دیگر سیاسی قائدین کو جھوٹے کیسز سے آزادی دلوانی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کےلئے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کی بحالی کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے، فارم 47 کی ناجائز حکومت کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پہنچنا ہے۔ ہم پر امن لوگ ہیں ہم نے اپنا آئینی اور قانونی حق ادا کرنا ہے۔ سندھ کے ہر شہر سے ورکرز اسلام آباد پہنچیں۔

    تحریک انصاف نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال دی، علیمہ خان نے اعلان کیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے تائید کی، بانی پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کےبانی اپنے حواس کھو بیٹھے ہیںَ 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ،یہ دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی اور خاتمے کے لئے بھی دو تہائی اکثریت چاہئے ہو گی، آئین بحال ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں،آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوئے تھے، تمام حکومتیں کام کر رہی ہیں، قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ عمران کا اپنی رہائی کا مطالبہ ہے، عمران سیاسی قیدی نہیں بلکہ توشہ خانہ،نومئی کے مقدمات میں قید ہے، دراصل 24 نومبر کا احتجاج عمران خان کی جانب سے نومئی کا واقعہ دوبارہ دہرانے کی ہی ایک کڑی ہے.حکومت کو اس احتجاج کے حوالہ سے کسی قسم کی نرمی نہیں دکھانی چاہئے.

  • عمران،بشریٰ کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں،مولانا فضل الرحمان

    عمران،بشریٰ کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ کسی سیاستدان کو قید کرنے کے حق میں نہیں، عمران خان کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی کمزوری میں سیاستدانوں کا بڑا کردار ہے ، ہمیشہ آئین اور جمہوریت پر شب خون مارا گیا، برطانیہ کی ذمے داری ہے کہ خواجہ آصف کے ساتھ پیش آئے واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کرے،مہمانوں کو تحفظ دینا برطانوی حکومت کا کام ہے، خواجہ آصف کے ساتھ جو لندن میں واقعہ پیش آیا اسکی مذمت کرتا ہوں ،امریکی سیاست میں مداخلت کرتےہیں نہ انہیں مداخلت کی اجازت دیتےہیں،امر یکا میں ری پبلکن کی حکومت ہو یا ڈیموکریٹس کی، دنیا کے لیے ان کی پالیسی ایک ہے ،پاکستان میں نئے قانون کی وجہ سے ہمارے شہریوں کی عزت نہیں کی جا سکتی،بشریٰ کی رہائی میں بھی کوئی کردار نہیں تھا، نواز شریف سے میری کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہے،

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی