Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی عدلیہ مخالف تقاریر اور جلسہ رکوانے کے لیے دائر درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر درخواست پر سماعت کریں گے جبکہ شہری مرزا واحد رفیق کی جانب سے دائر درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت سیکیورٹی خدشات کے تحت عدالت سے رجوع کرتی رہی ہے، پی ٹی آئی اپنے مؤقف سے ہٹ کر لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے 8 ستمبر کے جلسے میں حکومت اور عدلیہ کے خلاف زبان استعمال کی گئی، پی ٹی آئی انتظامیہ کی منظوری کے بغیر جلسہ کرنا چاہ رہی ہے، جلسے میں عدلیہ مخالف تقاریر ہوسکتی ہیں، پی ٹی آئی آئین میں دی گئی رعایت کا غلط استعمال کررہی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست کا …

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کو عدلیہ مخالف تقاریر سے روکنے اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جلسہ کرنے سے روکنے کا حکم دے، بغیراجازت جلسہ کرنے پر پی ٹی آئی کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا جائے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ اور شیخ امتیاز محمود کی درخواست پر سماعت کریں گے، درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    ایرانی ہیکرز نےجو بائیڈن کو ٹرمپ کی انتخابی مہم سے چوری شدہ مواد بھیجا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے، تحریک انصاف نے لاہور میں جلسے کیلئے متعدد درخواستیں دیں، سیاسی بنیادوں پر پی ٹی آئی کو لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، ڈپٹی کمشنر لاہور کو 21 ستمبر کو مینار پاکستان پر جلسے کیلئے درخواست دی ہے، ڈی سی لاہور پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہیں دے رہے، جلسہ کرنا ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے کا حکم دے۔

  • پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ : عالیہ حمزہ  کی درخواست ضمانت پر سماعت  ملتوی

    پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ : عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ میں درخواست ضمانت پر سماعت 23اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، عالیہ حمزہ ایڈیشنل سیشن جج کے رو برو پیش ہوئیں،دوران سماعت وکیل عالیہ حمزہ نے کہاکہ تیاری کیلئے وقت درکار، حتمی دلائل کیلئے تاریخ دے دیں،اگلے ہفتے کی تاریخ رکھ دیں، درخواست ضمانت پر دلائل دیں گے،

    جج افضل مجوکہ نے سماعت 23اکتوبر تک ملتوی کردی اور ضمانت پر دلائل طلب کرلئے۔

    ایرانی ہیکرز نےجو بائیڈن کو ٹرمپ کی انتخابی مہم سے چوری شدہ مواد بھیجا

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت 3اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چودھری عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    جج افضل مجوکہ نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر حاضری کے انتظامات مکمل ہیں،خالد یوسف چودھری نے کہاکہ جزوی دلائل ہو چکے، حاضری لگ جائے تو تفصیلی دلائل دوں گا، ایڈیشنل سیشن جج نے کیس کی سماعت 3اکتوبر تک ملتوی کردی ۔

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر

  • پولیس تفتیش میں خامیاں ،پولیس نااہل  یا خود شریک ہے،عدالت

    پولیس تفتیش میں خامیاں ،پولیس نااہل یا خود شریک ہے،عدالت

    اسلام آباد سے لاپتہ فیضان عثمان کی بازیابی اور اغواء کاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کی تمام انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیوں کو فریق بنانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ آئی بی، ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرلز کو کیس میں فریق بنایا جائے، ایئر اور نیول انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل اور سی ٹی ڈی پنجاب کو بھی فریق بنایا جائے،چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی پارٹی بنایا جائے اور وہ اپنا بیان حلفی جمع کرائیں، بیان حلفی دیں کہ اُن کے دائرہ اختیار سے مسلسل جبری گمشدگیاں کیوں ہو رہی ہیں؟درخواست گزار فریقین کا ترمیم شدہ میمو جمع کرائیں اور نئے فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں، انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیاں رپورٹ دیں کہ کیا اُنکو معلومات ہیں کہ کس طرح فیضان کو جبری لاپتہ کیا گیا؟ اپنی انٹیلی جنس معلومات پر بتائیں کہ کیا وہ اغواء کاروں اور استعمال ہونے والی گاڑیوں کی شناخت کر سکتے ہیں،انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بتائیں کہ فیضان کو اغواء کے دوران رکھے گئے ٹھکانے کی شناخت کر سکتے ہیں؟ انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیاں خود یا متعلقہ وزارتوں کے ذریعے رپورٹس جمع کرائیں، آئی جی اسلام آباد بھی پی ٹی اے، آئی بی اور سی ٹی ڈی سے معلومات لے کر مجرموں کی شناخت کر کے رپورٹ جمع کرائیں، ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسیاں قومی سلامتی کی ناگزیر ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیںانٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی ڈیوٹی کی نوعیت کے مطابق خفیہ اور رازداری سے کام کرتی ہیں، ایجنسیوں کے کھلے عام شہریوں کے گھروں پر چھاپوں کا تاثر قومی سلامتی اور رول آف لاء کیلئے خطرہ ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کا شہریوں کو اغواء کرنے کا تاثر بھی قومی سلامتی اور رول آف لاء کیلئے خطرہ ہے، ان الزامات کو ایڈریس کرنے کا واحد راستہ شفاف تفتیش کر کے مجرموں کو سزا دینا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مغوی واپس آ گیا تو درخواست غیرموثر ہو گئی،یہ درخواست صرف بازیابی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت بھی دائر کی گئی ہے، عدالت کے پاس حکومت سمیت کسی اتھارٹی یا شخص کو آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے ڈائریکشن دینے کا اختیار ہے، درخواست گزار نے بھی اغواء کاروں کی شناخت، تفتیش اور کارروائی کی استدعا کر رکھی ہے، آئی جی نے جبری گمشدگی کی تفتیش اور اغواء کاروں کی شناخت کی بجائے عدالت کو پرانے اقدامات دوہرا کر گھمانے کی کوشش کی، آئی جی نے کہا کہ تمام ایجنسیوں سے زبانی پوچھا لیکن سب نے اس سنگین جرم سے انکار کیا، بادی النظر میں پولیس تفتیش میں خامیاں ہیں کیونکہ پولیس نااہل ہے یا خود شریک ہے، ضروری ہے کہ تمام متعلقہ انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ایجنسیوں کو فریق بنا کر رپورٹ طلب کی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی آئندہ سماعت 17 اکتوبر کو ہو گی،

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • تحریک انصاف نے 21 ستمبر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست دیدی

    تحریک انصاف نے 21 ستمبر جلسے کی اجازت کیلئے درخواست دیدی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے 21 ستمبر کو لاہور میں جلسے کی اجازت کیلئے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور کو درخواست جمع کروائی،درخواست کے متن میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف لاہور میں متعدد بار جلسے کی اجازت مانگ چکی ہے، اس دوران کئی جماعتوں اور تنظیموں نے لاہور میں جلسے کیے، جمعیت علماء اسلام نے بھی مینار پاکستان میں جلسہ کیا، پاکستان تحریک انصاف کو این او سی جاری نہیں کیا گیا، آپ کے افسران کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے، پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، پی ٹی آئی کو مینار پاکستان کے مقام پر جلسے کی اجازت دی جائے، 21 ستمبر کے جلسے کیلئے این او سی جاری کیا جائے۔

  • پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی ضمانت منظور

    پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی ضمانت منظور

    انسداد دِہشتگردی عدالت اسلام آباد ،پی ٹی آئی ایم این ایز کے خلاف تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے تمام مقدمات میں پی ٹی آئی ایم این ایز کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ،عدالت نے 30,30 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کیں،عدالت نے پی ٹی آئی کے تمام گرفتار ایم این ایز کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ،ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دِہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے کی

    دوران سماعت پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ ایم این اے احمد چٹھہ مقدمے میں نامزد ہیں، مقدمے میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کی سزا کم سے کم تین سال ہے، ضمانت منظور نہ کی جائے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ شیر افضل مروت، احمد چٹھہ و دیگر ایم این ایز سے کچھ برآمد ہوا ہے،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نہیں کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ،عدالت نے تمام مقدمات میں پی ٹی آئی کے گرفتار ایم این ایز کی 30، 30 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین اسمبلی میں شیر افضل مروت، شیخ وقاص، زین قریشی، احمد چٹھہ، عامر ڈوگر، یوسف خان، نعیم علی شاہ اور دیگر شامل ہیں،اراکین پر تھانہ سنگجانی، ترنول، نون اور تھانہ سنبل میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں

    ملیالم فلم انڈسٹری مالی ووڈ میں "می ٹو” کے چرچے،جنسی استحصال کے 17 واقعات رپورٹ

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے،بیرسٹر گوہر

    میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے-

    باغی ٹی وی: پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں مولانا نے اصولی مؤقف لیا ہے اور وہ اس پر قائم ہیں، یہ بہت اہم قانون سازی ہے، جسے اپنے بجائے قوم اور ملک کے لیے کرنا ہے، پہلے ہم اسے دیکھیں تو سہی، پہلے ڈرافٹ پڑھیں تو سہی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ججز کی ایکسٹینشن نہیں ہونی چاہیئے، عمریں نہیں بڑھنی چاہئیں، سپریم کورٹ کو آپ ٹچ نہ کریں ہم سمجھتے ہیں عدلیہ پر قدغن لگے گی، عدلیہ کمپرومائز ہو جائے گی، جج کو اس کی رائے کے بغیر ٹرانسفر کرنا غیرآئینی ہے۔

    اس موقع پر صحافی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے اراکین کو ووٹ نہ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں، جس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 2 ستمبر کو ہم نے اپنے تمام ارکان پارلیمنٹ کو ہدایات جاری کر دی تھیں، ہم نے اپنی ہدایات کی کاپی کی مکمل فائل اسپیکر آفس میں بھی جمع کرائی ہے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کردیا –

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین قومی اسمبلی کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کرنے سے برا تاثر جائے گا، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ کیا برا تاثر جائے گا؟ میں واضح آبزرویشن دے چکا ہوں، اگر ہم کوئی آرڈر کرتے ہیں تو ملزم جوڈیشل ہو جائیں گے؟ جسمانی ریمانڈ کا یہ آرڈر برقرار تو نہیں رہ سکتا لیکن اگر ہو گیا تو کیا ہو گا؟

    وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت کو زیادہ لمبا جسمانی ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، ٹرائل عدالت نے اپنے آرڈر میں ریمانڈ کی کوئی وجوہات بھی نہیں لکھیں،عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ اس جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کا کیسے دفاع کریں گے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آرز پڑھ کر سنائیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

    پی ٹی آئی ممبر شیخ وقاص اکرم، شعیب شاہین، زین قریشی، شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، اویس حیدر، احد چٹھہ، شیخ وقاص ، سید شاہ احد علی، نسیم علی شاہ اور یوسف خان کے جسمانی ریمانڈ کے سزا کالعدم قرار دی گئی جبکہ یوسف خان، زبیر خان، اویس حیدر، نسیم شاہ کے جسمانی ریمانڈ کا بھی فیصلہ معطل کردیا گیا ہے۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل ساڑھے 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردی جبکہ کل 10 بجے اسپیشل ڈویژن بینچ درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

    جبکہ پی ٹی آئی کے گرفتار رہنما جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل ہونے کے بعد جوڈیشل تصور ہوں گے، ہائیکورٹ کا 2 رکنی بینچ کل مزید دلائل سُن کر حتمی فیصلہ کرے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی شیخ وقاص، شعیب شاہین، زین قریشی اور شیر افضل مروت نے اپنے وکلا علی بخاری اور عادل عزیز قاضی کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • تحریک انصاف کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری

    تحریک انصاف کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 10 گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری پروڈکشن آرڈ میں کہا گیا ہے کہ پولیس گرفتار ممبران کو اجلاس شروع ہونے سے قبل سارجنٹ ایٹ آرمز کے پاس پہنچائے، اجلاس ختم ہونے کے بعد ارکان کو پولیس کی تحویل میں واپس دے دیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، احمد چٹھہ، زین قریشی، زبیر خان وقاص اکرم، اویس حیدر، احد علی شاہ، نسیم علی شاہ اور یوسف خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں۔اس سے قبل اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے 4 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی، کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی میں جوائنٹ سیکریٹری ارشد علی، رضوان اللّٰہ اور قائمقام سارجنٹ ایٹ آرمز راجہ فرحت عباس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کو جلد از جلد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اسپیکر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی 9 ستمبر کو پیش آنیوالے واقعے کے محرکات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی جائزہ لے گی پولیس اور سیکیورٹی ادارے کس کی اجازت سے پارلیمنٹ میں داخل ہوئے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی جائزہ لے گی پارلیمنٹ کی سیکیورٹی نے انہیں اندر آنے کی اجازت کیوں دی؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ان تمام محرکات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔

    واضح رہے کہ پیر کی رات اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار کیا تھا، جنہیں گزشتہ روز رہا کردیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ شیر افضل مروت اور شعیب شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    اسلام آباد جلسے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے

    اراکین پارلیمنٹ نے رات پارلیمنٹ میں‌گزارنے کی کوشش کی، سپیکر سے مدد مانگی تاہم پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس سے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا،اسلام آباد پولیس نے ایم این اے زین قریشی اور شیخ وقاص اکرم کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے گرفتار کیا،رکن قومی اسمبلی نسیم الرحمان، شاہ احد خٹک اور ‏سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا کو بھی گرفتار کرلیا گیا،جنوبی وزیر ستان سے ایم این اے محمد زبیر کو بھی گرفتار کیا گیا، بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت، شعیب شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا، زرتاج گل پارلیمنٹ سےفرار ہو گئی تھیں، جمشید دستی بھی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے،اسلام آباد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمر ایوب اور زرتاج گل کو بھی گرفتار کیا جائے گا،پولیس نے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا اور میریٹ کے مقام سے ریڈ زون مکمل سیل کردیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے علی محمد خان کو گرفتار نہیں کیا، علی محمد خان کا کہنا ہے کہ کل پاکستان میں جمہوریت کی بدترین رات تھی،آمریت میں بھی کبھی اس طرح پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہیں کیا گیا ،کل رات جمہوریت پر حملہ کیا گیا ،

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے گرفتاریاں نامناسب ہیں، 20 ستمبر تک انتظار کریں، 20 ستمبر تک دیکھیں بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے،

    علاوہ ازیں راولپنڈی میں پولیس کی جانب سے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت اور پی ٹی آئی کے رہنما شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کی رہائش گاہ دھمیال ہاؤس میں چھاپہ مار کر گھر کی تلاشی لی،اس موقع پر راجہ بشارت گھر پر موجود نہیں تھے،شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے پولیس نے رات گئے پشاور روڈ پر واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے چھاپے کے دوران پی ٹی آئی رہنما شہریار ریاض بھی اپنے گھر پر موجود نہیں تھے، شہریار ریاض اور راجہ بشارت کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے،دونوں پر این او سی کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے

    اسلام آباد پولیس نے جلسے کے موقع پر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کے واقعے پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تھانہ نون میں مقدمہ درج کیا ہے،درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 11 دفعات شامل کی گئی ہیں ،مقدمے میں شعیب شاہین اور عامر مغل سمیت 70 سے زائد رہنماؤں اورکارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے مرکزی قیادت کی ایما پر 26 نمبر چونگی کے قریب پولیس پر حملہ کیا، ڈنڈوں اور پتھروں سمیت راڈ سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے زخمی کیا گیا، سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے گئے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پولیس اہلکاروں سے سرکاری سامان چھینا گیا۔

    نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟مقدمہ درج
    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سنگجانی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 9 دفعات لگائی گئی ہیں،تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں نعیم حیدر پنجوتھا سمیت 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟ 9 مئی کو بھول جاؤ گے،نعیم حیدر پنجوتھا نے پولیس پر فائرنگ کی، اہلکاروں نے چھپ کر جان بچائی۔

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    دوسری جانب اسلام آباد جلسہ میں علی امین گنڈا پور کے خطاب اور بیانات پرپی ٹی آئی قیادت بھی ناراض اور تقسیم ہو چکی ہے، آج اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما معافیاں مانگتے رہے اور صحافیوں کو مناتے رہے، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، شبلی فراز نے بار بار معافیاں مانگیں،پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسے میں علی امین گنڈاپو رنے غیر ضروری گفتگو کی،پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہ لینے پر ارکان نے علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے،علی امین گنڈا پور نے اپنے خطاب بارے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، علی امین گنڈا پور کے خطاب کی وجہ سےپی ٹی آئی کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے رہنما پریشان ہیں.

    علاوہ ازیں عورت فاؤنڈیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا ہے،عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہےکہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کی زبان دھمکی آمیز تھی، انہوں نے اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا،علی امین گنڈاپور نے سائبرکرائمز ایکٹ کی خلاف ورزی کی، وزیراعلیٰ کے پی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

  • 20 ستمبر تک انتظار کریں، دیکھیں کہ آسمان کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے،شیخ رشید

    20 ستمبر تک انتظار کریں، دیکھیں کہ آسمان کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے،شیخ رشید

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے خلاف تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے کی درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جج یاسرمحمود چوہدری نے کی، اس موقع پر شیخ رشید اور صداقت عباسی اپنے وکلاء سردار مصروف اور سردار شہباز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل سردار مصروف نے کہا کہ مقدمے میں شریک ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا، ملزمان کو بری کیا جائے،بعدازاں عدالت نے عمران خان اور شیخ رشید کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ قبل ازیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر سے گرفتاریاں نامناسب ہیں، 20 ستمبر تک انتظار کریں، دیکھیں کہ آسمان کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔