Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نےمخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری تو کردیا ہے مگر اس فیصلے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی ججز کا ایک گروہ موجود ہے جو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور تازہ ترین ثبوت پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کا ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنا بھی ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے سے پوچھا تھا کہ اگر ہم یہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا جس میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

    اس کیس کا جب مختصر فیصلہ دیا گیا تھا تو اس وقت بھی قانونی حلقوں نے یہ بات بڑے واضح انداز میں کہی تھی کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں پی ٹی آئی کیلئے سہولت کاری نظر آرہی ہے۔ قانونی ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ جب اعلیٰ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کیلئے سہولت کاری کا کام شروع کردے تو پھر انصاف کا قتل ہوتا ہے اور اس تفصیلی فیصلہ میں ایسا نظر آیا ہے۔

    قانونی ماہرین نے اب تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی کہا کہ ہم نے پہلے بھی کا تھا کہ اور اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ کے سیاسی ججز نے آئین کو ری رائٹ کرکے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باتیں مفروضوں کی بنیاد پر نہیں کی جا رہی ہیں آئین کے مطابق نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ججز کی جانب سے سہولت کاری کی گئی ہے۔

    قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سہولت کاری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 66 اور سیکشن 104 میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا حکم قابل عمل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا ماضی میں خیال تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سابقہ قانون پر دیا جاتا ہے اور قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو فیصلہ قابل عمل نہیں ہوگا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق سلمان اکرم راجا کے مذکورہ بالا بیان کے بعد افسوس کی بات یہ ہے کہ جج بھی تاثر کے لحاظ سے’’ میرے جج، تیرے جج ‘‘بن کر ہی دکھا رہے ہیں۔ ججوں کو تو صرف اور صرف آئین اور قانون کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔

    قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اگر جج کا نام سن کریہ اندازہ ہو جائے کہ اُس کا فیصلہ کس سیاسی دھڑے کے حق میں اور کس سیاسی دھڑے کے خلاف ہوگا تو پھر یہ انصاف تو نہ ہوا۔ مگر جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے جو بات سلمان اکرم راجا نے کی ہے وہ تو اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے یعنی ایک اہم ترین کیس کا فیصلہ آنے سے قبل اس بینچ میں شامل جج یہ پوچھ رہا ہے کہ اگر ہم آپ کے حق میں فیصلہ دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر اس کیس میں پی ٹی آئی کی سہولت کاری کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔

    قانونی ماہرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں سلمان اکرم راجا نے جو بات ٹی وی چینل میں کی ہے کیا جسٹس اطہر من اللہ اس کی وضاحت کرینگے۔۔۔۔۔؟

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز کے حوالے سے تو سخت ریمارکس سامنے آئے ہیں کیا اب جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے سلمان اکرم راجا کے بیان پر وہ کچھ کہنا پسند کرینگے۔

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے کردار پر بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ نے چوتھی میٹنگ کرلی، پھر بھی فیصلہ نہیں کیا،مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہے، الیکشن کمیشن 38 ایم این ایز کا جلد اعلان کرے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے، جس آئینی ترمیم کے باعث عدلیہ پر قدغن لگے ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تاخیری حربوں کے باعث خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے، مطالبہ کرتے ہیں کہ 38 ایم این ایز کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں، آئینی ترمیم سے عدلیہ پر کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے، بانی کی ہدایت پر28 ستمبر کولیاقت باغ میں جلسہ کریں گے۔

    اس سے قبل انہوں نے علی امین گنڈا پور کے حوالے سے کہا تھا کہ وزیراعلی کے پی کے 15 دن میں بانی پی ٹی آئی کو رہا کریں گے، اب ہمیں امید ہے کہ جلد کیسز ختم ہوکر بانی پی ٹی آئی کو رہائی ملیں گی،ہم نے ہمشیہ جلسے کے لیے این او سی لی لیکن یہ شرائط ہی ایسے رکھتے ہیں کہ جلسہ نہ ہو یہ کوئی فلم شو نہیں کہ وقت دیا جاتا ہے لیکن ہم نے پھر بھی اپنا جلسہ وقت پر ختم کیا۔

    انکا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ کی قیادت جلسے میں پہنچی لیکن خیبرپختونخوا کی قیادت اسلئے نہ پہنچ سکی کہ راستے بند تھے، ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ سختیاں ختم ہونگی تو معاملات آگے بڑھیں گے، اگر مقبول ترین پارٹی کو سپیس نہیں دیں گے تو غیر سیاسی قوتوں کو فائدہ ہوگا،انھوں نے واضح کیا کہ پارٹی علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر جلسہ اپنے وسائل سے کیا، کبھی سرکاری ذرائع وسائل استعمال نہیں کئے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، انتخابی نشان نہ ملنے سے سیاسی جماعت کا الیکشن لڑنے کا آئینی حق متاثر نہیں ہوتاتفصیلی فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ایک بار پھر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا فیصلے میں سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق الیکشن رول 94 خلاف آئین قرار دے کر کالعدم کردیاعدالت نے قراردیا کہ الیکشن رول 94 خلاف آئین اور غیرمؤثر ہے، رول 94 الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 51 اور 106 کے منافی ہے۔

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا.

    70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا.مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں.جو ارکان جس جماعت سے وابستگی کا حلف نامہ دیتے ہیں انہیں اس جماعت کا تصور کیا جائے گا،یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کی ہی بنتی ہیں – الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بطور ایک آئینی ادارہ الیکشن کمیشن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو صاف شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ آئین صرف ایک حکومتی بلیوپرنٹ نہیں بلکہ عوام کی حاکمیت یقینی بنانے پر مبنی دستاویز ہے،آئین سیاسی جماعت بنانے اور عوام کی اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے،عوام کی نمائندگی ہی دراصل جمہوریت ہے،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا، آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا، پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، ،الیکشن میں بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے،انتخابی تنازعہ بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے،یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،پی ٹی آئی کیمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا،

    ستر صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز کا سپریم کورٹ کے 2 ججز کی اپنے بارہ جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس پر سخت تنقید
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دو ججز (جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے 3 اگست 2024 کے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نامناسب تنقید کی ،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کاُعمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے عین منافی تھا،اس طرح ساتھی ججز کے بارے میں رائے دینا سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، قانونی معاملات پر ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، جس انداز میں 2 ججز نے اکثریتی فیصلے کو غلط کہا، یہ نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے،

    الیکشن کمیشن 2024 کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ زیرِبحث سوال کہ جو درخواست میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف دیدیا گیا کا جواب دیا ہے،تفیصلی فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس آرٹیکل 199 میں وہ اختیار موجود نہیں جو سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کیلئے آرٹیکل 187 میں ہے. الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 218(3) میں اختیار تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، پشاور ہائیکورٹ اختیار نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کی درخواست نہ ہوتے ہوئے صاف شفاف انتخابات پر مکمل انصاف کا وہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی جو سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کر سکتے تھے، پشاور ہائیکورٹ جو کر سکتی تھی اور اس میں ناکام ہوئی وہ یہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ بیک کر سکتی تھی،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی، جسے اس کیس میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمارے سامنے ایک درخواست کے ساتھ آئی ہے،اسے اس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیا جا سکے۔عام سول مقدمات کے طریقہ کار کے مطابق، پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو باقاعدہ طور پر کیس میں فریق بنایا جاتا ہے،اس سے پہلے کہ اسے کسی قسم کا ریلیف دیا جائے۔ جیسا کہ اس فیصلے کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک عام سول کیس نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ترین نوعیت کا مقدمہ ہے، جہاں جمہوریت آئین کی ایک اہم خصوصیت اور عوام (ووٹرز) کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بنیادی حق کو محفوظ، دفاع کرنا ہے،تاکہ ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہو سکے۔ پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرنے اور پھر اسے ریلیف دینے کی رسمی کارروائی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے، جب عدالت کی توجہ عوام (ووٹرز) کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر ہو، جو آئین کے آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ضمانت شدہ ہے، اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حق چاہے وہ سنی اتحاد کونسل ہو یا پی ٹی آئی یا کوئی اور جماعت۔درحقیقت، خاص طور پر اس قسم کے مقدمات کے لیے، جہاں عوام کے حقوق شامل ہوں، نہ کہ صرف ان فریقوں کے جو عدالت کے سامنے ہیں، کسی بھی نظامِ انصاف میں طریقہ کار کا مناسب مقام لوگوں کو ان کے حقوق دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنا،88 جب عدالت اپنے عمومی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرتی ہے، تو یہ عدالت کسی بھی تکنیکی یا عملی قاعدے سے معذور نہیں ہوتی.

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 80میں سے 39ایم این ایز کو تحریک انصاف کا رکن ظاہر کیا، الیکشن کمیشن کو کہا وہ باقی 41ایم این ایز کے 15روز کے اندر دستخط شدہ بیان حلفی لیں، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، تمام آزاد ارکان پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو یہ آئین شکنی ہوگی. جو سیاسی جماعت ایک مرتبہ رجسٹر ہوجائے اسے ڈی لسٹ کرنے کا الیکشن کمشین کو اختیار نہیں،سپریم کورٹ کا انتخابی شفافیت کی نگرانی میں کردار جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،عدالت کا "مکمل انصاف” کرنے کا اختیار اس کے آئینی اختیارات میں ایک اہم ہتھیار ہے۔اس اختیار کے ذریعے عدالت جمہوریت کو زوال پذیر ہونے سے روکنے اور مؤثر طریقے سے عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔انتخابی انصاف سے انکار کرنا اور انتخابی شفافیت کو متاثر کرنا جمہوریت کی قانونی حیثیت کو کمزور کر دے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر کنول شوذب کی درخواست کو غیر ضروری قرار دے دیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کونسی سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کا انفرادی حق نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن 8 فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے،الیکشن کمیشن کیجانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نےبلے کے انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہارکیا،عدالت نے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیلئے بنائی گئی انتخابی رولز کی شق 94 بھی کالعدم قرار دے دی،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بلے کے نشان والے کیس میں پارٹی کے آئینی حقوق واضح کر دیئے جاتے تو ابہام پیدا ہی نہ ہوتا،الیکشن کمیشن نے بھی اپنے حکمنامہ میں پی ٹی آئی کے آئینی حقوق واضح نہیں کیے،عدالت اور الیکشن کمیشن کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ انتخابی شیڈیول جاری ہو چکا ہے،پارٹی کے اندرونی معاملے پر شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا،بلے کے نشان کا فیصلہ نظرثانی میں زیرالتوا ہے اس لئے اس پر رائے نہیں دے سکتے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن رولز کی شق 94 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں، انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود ہی نہ ہو، رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو، رول 94 کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 51(6) اور الیکشن ایکٹ کی شق 106 سے متصادم ہے، انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اضافی سزا ہے، واضح قانون کے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،آئین میں دیے گئے حقوق کو کم کرنے یا قدغن لگانے والے قوانین کا جائزہ تنگ نظری سے ہی لیا جا سکتا ہے،جمہوریت میں انفرادی یا اجتماعی حقوق میں کم سے کم مداخلت یقینی بنانی چاہیے، انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کی سزا انتخابی نشان واپس لینے سے زیادہ کچھ نہیں،انتخابی نشان واپس لئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت کے آئینی حقوق ختم ہوگئے،

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • یہ لوگ مودی سے تعلقات اور بھارتی انجینئرز کی وضاحت دیں،بیرسٹر محمد علی سیف

    یہ لوگ مودی سے تعلقات اور بھارتی انجینئرز کی وضاحت دیں،بیرسٹر محمد علی سیف

    پشاور: مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کی تعریف یہودی میڈیا نے کی ہے تو ان سے پوچھیں ، بانی وضاحت کیوں دیں-

    باغی ٹی وی: اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں شائع مضمون پر ردِعمل دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر یہودی میڈیا نے بانی پی ٹی آئی کی تعریف کی ہے تو بانی پی ٹی آئی کو اس کی وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پہلے ان لوگوں کو مودی سے تعلقات اور بھارتی انجینئرز کی وضاحت دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تعریف یہودی میڈیا نے کی ہے تو ان سے پوچھیں ، بانی وضاحت کیوں دیں، حکومت لاہور کے کامیاب جلسے سے توجہ ہٹانے کے لیے دور دور سے مواد ڈھونڈ کر لارہی ہے رانا ثنااللہ ،عطاتارڑ اور خواجہ آصف کو کسی نے خبر نہیں دی کہ علی امین نے اٹک کراس کیا، وزیراعلیٰ کے پی نے جعلی وفاقی حکومت کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں، وفاقی وزرا کو پی ٹی آئی کے خلاف پریس کانفرنسز کے لیے بٹھایا گیا۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اسرائیل مخالف بیان دینے کے باوجود اسرائیل سے بہتر تعلقات کے اشارے دیتے رہے، وہ اسرائیل کیلئے ہم خیال سیاستدان ہیں اور ان کی انتخابات میں کامیابی پاک اسرائیل تعلقات کا از سر نو جائزہ لینےکاموقع ہے۔

    امریکا کااسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار

  • لوگ سمجھ چکے کہ عمران خان پروجیکٹ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے، احسن اقبال

    لوگ سمجھ چکے کہ عمران خان پروجیکٹ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے، احسن اقبال

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یروسشلم پوسٹ سے پہلے ٹائمز آف اسرائیل اور دیگر میں بھی یہ آرٹیکل شائع ہو چکے ہیں ، لوگ سمجھ گئے ہیں بانی پی ٹی آئی پراجیکٹ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اسلامی ٹچ سے بنائے گئے تشخص سے اسرائیل ایجنڈا مسلط کرنے کی سازش کی گئی ، یقین ہوگیا زائنسٹ لابی بانی پی ٹی آئی پاکستان کو ہائی جیک کرنے کیلئے پال رہی ہے، ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنا پڑے گا ہماری محبت کا محور ریاست پاکستان ہے یا کچھ اور، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کو فروغ دیا ،مسلح افواج کیخلاف وہ مہم چلائی جو دشمن بھی نہیں چلا سکے، شہریوں اور ریاست کے تعلق کو ہدف بنا کر ریاست کمزور کرنے کا ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے، ایک طرف عمران خان کہتا ہے کہ مجھے امریکہ نے نکالا اور دوسری طرف انڈیا اور اسرائیل کی لابی اسکی حمایت میں مہم چلاتی ہے،مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ عمران خان اسرائیلی لابی کا ایجنڈا ہیں اور صیہونی لابی انہیں دوبارہ پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش میں ہے

    واضح رہے کہ آپریشن گولڈ سمتھ کے حق میں اسرائیل کے اندر سے گواہی آ گئی .اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کا اعتراف کہ عمران خان جب وزیراعظم کی کرسی پہ تھا تب پاکستان اسرائیل تعلقات ٹھیک کروا رہا تھا.باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے تہلکہ خیز انکشاف میں بتایا کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کے منصب پہ بیٹھ کر پاک اسرائیل تعلقات نارمل کروانے والا تھا،اس مقصد کے لیئے جب عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات بنا رہے تھے ٹھیک اسی وقت عمران خان نے بیانات دینا شروع کر دیئے تھے کہ پاکستان اب اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی بنائے گا.عمران خان وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے پاک اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس مقصد کے لیے جب عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے تھے، عین اسی وقت عمران خان نے یہ بیانات دینا شروع کر دیے کہ پاکستان اب اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی اختیار کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی لابی نے آپریشن گولڈ سمتھ شروع لانچ کیا تھا تاکہ ان کے بغل بچہ کو بچایا جا سکے.

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے اپنا چیلنج پورا کیا،بیرسٹر سیف

    علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے اپنا چیلنج پورا کیا،بیرسٹر سیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ ، جب گنڈاپور نے چیلنج پورا کیا تو جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ روکا گیا اور مینڈیٹ چوروں نے گنڈاپور کے پہنچنے سے قبل ہی جلسہ ختم کروا دیا۔

    باغی ٹی وی : بیرسٹر سیف نے کہا کہ خواجہ آصف اور عطا تارڑ اٹک پار کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے، وزیراعلی اٹک پار بھی گئے اور پورے لاہور اور پنجاب بھی گھومے ہیں، علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے پورا پنجاب اور لاہورگھوم کر اپنا چیلنج پورا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باجود وزیراعلیٰ کے پی جلسہ گاہ پہنچے، جب گنڈاپور نے چیلنج پورا کیا تو جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ روکا گیا اور مینڈیٹ چوروں نے گنڈاپور کے پہنچنے سے قبل ہی جلسہ ختم کروا دیا کل پورا پاکستان بانی پی ٹی آئی کے لیے نکلا تھا، عمران خان کی رہائی کو اب کوئی بھی نہیں روک سکتا۔

    اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسے کا مقرر وقت (6 بجے) ختم ہونے کے بعدعلی امین جلسہ پنڈال میں پہنچے تھے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنے قافلے کے ہمراہ لاہور کے حدود میں داخل ہوئے اور فیروزوالا پہنچ کر رکاوٹ کیلئے کھڑی گاڑی کو دیکھ کر طیش میں آ گئے، اپنی گن سے گاڑی کا شیشہ توڑا اور تمام رکاوٹیں عبور کرتے کاہنہ میں جلسہ گاہ پہنچ گئے۔

    وہاں موجود کارکن انہیں دیکھ کر جوش میں آ گئے، علی امین گاڑی سے باہر نکلے ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیا اور کارکنوں سے گفتگو بھی کی پھر روانہ ہوگئے۔

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

  • پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی اشتہاری قرار

    پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی اشتہاری قرار

    پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی کو تھانے پر حملے کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ٹیپو سلطان )تھانے پر حملے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان کو اشتہاری قرار دیدیا۔کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو ٹیپو سلطان تھانے پر حملے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان کو اشتہاری قرار دیدیا۔مقدمے میں شریک ملزم سابق رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان ضمانت پر ہیں۔استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل کی آمد پر ہنگامہ کیا۔ ملزمان نے ہنگامے کے دوران تھانے پر حملہ کیا تھا۔

    جعلی میڈیکل ویزوں پرپاکستان آنے والے 9 افغان شہری گرفتار

  • پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    پاکستان تحریک انصاف کا لاہور میں آج جلسہ ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کو کاہنہ میں جلسہ کی اجازت ملی،پنڈال خالی ہے، ابھی تک جلسہ گاہ میں چند شرکا پہنچے ہیں، پی ٹی آئی قیادت بھی ابھی تک جلسہ گاہ نہ پہنچ سکی،جلسہ کا وقت شروع ہو گیا، جلسہ شروع نہ ہو سکا

    پی ٹی آئی کو کاہنہ سبزی منڈی میں جلسے کی اجازت ملی،کرسیاں لگ گئی ہیں، رات گئے تک انتظامات کئے گئے تھے، منڈی کی طرف آنے والا راستہ بند کر دیا گیا تھا، پنڈال سج چکا ہے ،کینیٹنر کی بڑی تعداد موجود ہے، ڈی جے سسٹم بھی موجود ہے، کرسیان‌بھی لگائی گئی ہیں، ابھی کی صورتحال کے مطابق کرسیاں خالی ہیں،کارکنان آہستہ آہستہ آ رہے ہیں، خواتین بھی جلسہ گاہ پہنچ گئی ہیں، کارکنان کا کہنا ہے کہ رکاوٹوں کی وجہ سے پہنچنے میں مشکلات ہو رہی ہیں، چھ بجے تک جلسے کا وقت ہے عوام پہنچ جائے گی، حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، لیکن لوگ آئیں گے،جلسے کا تین بجے کا وقت تھا،پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف آج لاہور میں جلسہ کرے گی، لاہور میں کاہنہ میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ملی ہے،جلسے میں پی ٹی آئی کے ملک بھر سے کارکنان شریک ہوں گے،جلسے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ،کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ،سرکاری وسائل کا استعمال

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ،کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ،سرکاری وسائل کا استعمال

    تحریک انصاف آج لاہور میں جلسہ کرے گی، لاہور میں کاہنہ میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ملی ہے

    جلسے میں پی ٹی آئی کے ملک بھر سے کارکنان شریک ہوں گے،جلسے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے، پی ٹی آئی نے جلسے کی تیاریاں و انتظامات مکمل کر لئے ہیں،پنڈال میں ابتک 10 ہزار سے زائد کرسیاں لگ چکی ہیں، پنڈال میں لائٹیں، ڈی جے، ساؤنڈ سسٹم اور جنریٹر بھی پہنچا دیے گئے ہیں تاہم اسٹیج کیلئے لایا جانے والا کنٹینر رنگ روڈ کے انڈر پاس میں سےنہ گزرنے کے باعث تاحال پنڈال میں نہیں پہنچ سکا ہے،پنڈال میں کھانے پینے کی اشیار، پارٹی پرچموں اور ٹوپیوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں،

    پی ٹی آئی جلسہ،راستے کھلے رکھیں،قانون ہاتھ میں لیا تو قانون اپنا راستہ لے گا،وزیراعلیٰ پنجاب
    جلسہ گاہ کی طرف جانے والے تمام راستے کھلے ہیں، حکومت نے کوئی راستہ بند نہیں کیا اور کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی،وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کو تمام راستے کھلے رکھنے کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ تمام سڑکوں اور موٹر ویز اور رنگ روڈ کو مکمل طورپر کھلا رکھا جائے،سیاسی جماعت کو سیاسی جماعت کی طرح رویہ اپنانا پڑے گا،اگر قانون کو ہاتھ میں لیاگیا تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا،عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،ہمیں پتہ ہے عوام کے جان و مال کی ذمہ داری کیسے نبھانی ہے۔

    جلسہ گاہ کی طرف جانے والے فیروزپور روڈ پر کاہنہ مویشی منڈی جانے والے تمام راستے کھلے ہیں،فیروزپور روڈ سے کاہنہ کی طرف سڑک کے دونوں اطراف کنٹینرز کھڑے ہیں، تاہم لاہور قصور روڈ اور رنگ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے،جلسے کیلئے خواتین کارکنان آنا شروع ہوگئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسٹیج کے بغیر بھی جلسہ بریک تھرو والا ہوگا اور خواتین کارکن بھی گرمی کے باوجود جلسہ میں پھرپور شرکت کریں گی۔

    جلسے سے پی ٹی آئی قیادت خطاب کرے گی، تحریک انصاف کو کاہنہ مویشی منڈی میں جلسے کی مشروط اجازت دی گئی ہے، جلسے کے اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ منتظمین اسٹیج، خواتین اور مردوں کے انکلوژر کی سکیورٹی یقینی بنائیں گے اور بھگدڑ روکنے اور مناسب پارکنگ کا انتظام پرائیویٹ سکیورٹی اور رضاکاروں کے ذریعے یقینی بنانا جلسہ منتظمین کی ذمہ داری ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا 8 ستمبرکو اسلام آباد میں کی گئی تقریر پر معافی مانگیں گے،شہر سے باہر سے آنے والے جتھے روزمرہ کے معمولات میں خلل نہیں ڈالیں گے اور جلسےکے دوران ریاست یا اداروں کے خلاف نعرے اور بیانات نہیں دیئے جائیں گے، کوئی اشتہاری مجرم جلسےمیں شرکت یا سٹیج پر نظر نہیں آئے گا بصورت دیگر اشتہاری مجرم کی گرفتاری میں تعاون جلسہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی اور ناکامی کی صورت میں انتظامیہ پر معاونت کا مقدمہ درج ہوگا، جلسے میں کوئی افغان پرچم نہیں لہرایا جائے گا، جلسہ منتظمین فوکل پرسنز نامزد کریں گے، متعلقہ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایس پی ٹریفک پولیس سےفوکل پرسن رابطہ کریں گے،منتظمین ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ایس پی سکیورٹی لاہور سے تعاون کریں گے، ٹریفک پولیس جلسے کے لیے تفصیلی ٹریفک پلان اور ایڈوائزری جاری کرےگی،منتظمین ضلعی پولیس کےساتھ لاہور رنگ روڈ اور کاہنہ میں خاردار تار نصب کریں گے اور جلسہ گاہ کے گردبیرونی دیوار پر خاردار تار اور قنات نصب کریں گے،ہ کسی کو بھی زبردستی اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، کسی کو بھی ڈنڈے لے کر جلسے کے مقام پر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، اسلحے کی نمائش سختی سے منع ہوگی اور آتش بازی کا استعمال نہیں کیا جائے گا،اشتعال انگیزیا گستاخانہ نعرے لگانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت یا کسی ملک سے تعلق رکھنے والے فرد کا پتلا یا جھنڈا جلانے کی اجازت نہیں ہوگی،جلسے کے احاطے اور اردگرد کا سکیورٹی انتظام منتظمین کی ذمہ داری ہوگی، کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، مجموعی سکیورٹی صورتحال اور مختلف ذرائع سے موصول ہونے والے خطرے کی اطلاعات کے پیش نظر، منتظمین کو دوبارہ خبردار کیا جاتا ہے کہ شرکا اور عوام کی حفاظت کے لیے جلسہ گاہ کے اندر اور باہر تمام ضروری احتیاطی تدابیر کریں۔

    پنجاب حکومت اور پولیس نے بھی جلسہ کے حوالے سے حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت رات گئے راولپنڈی پولیس کو خصوصی ٹاسک سونپ دیے گئے ہیں،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران سے کہا گیا ہے کہ شہر ،کینٹ یا دیہی علاقے سے ریلی کی صورت میں جلسے میں شرکت کے لیے جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم انفرادی طور پر جانے والوں کونہیں روکا جائے گا، رات گئے پولیس نے الرٹ ظاہر کرنے کے لیے ضلع بھر میں تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کے گھروں پر ڈور ناکنگ بھی شروع کردی ڈور ناکنگ مہم میں پولیس تھانوں کی سطح پر تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کے گھروں پر جاکر ان کے متعلق دریافت کر رہی ہے تاہم اکثر رہنما و کارکن پہلے ہی انڈر گراؤنڈ ہونے میں کامیاب ہوگئے

    لاہور جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال
    علاوہ ازیں تحریک انصاف نے لاہور جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال شروع کر دیا ہے،لاہور جلسے کے لئے سرکاری گاڑیاں صوابی پہنچا دی گئی ہیں، پی ٹی آئی کے جلسے کیلئے ریسکیو، پی ڈی اے اور پی ایم ایس کی گاڑیاں اور دیگر سامان استعمال کیا جا رہا ہے، ابھی سے ریسکیو 1122 کی درجنوں گاڑیاں صوابی پہنچا دی گئی ہیں، گاڑیوں میں ایمبولینسیں، فائر بریگیڈ کی اسنارکلز بھی شامل ہیں جبکہ ان گاڑیوں کے ساتھ عملہ بھی موجود ہے، پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد کرینیں بھی صوابی پہنچائی گئی ہیں جو خیبر پختونخوا کے قافلے کے ساتھ لاہور آئیں گی

    پی ٹی آئی جلسہ، کارکنان ڈنڈے لے کر نکل آئے
    لاہور جلسے کے لیے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کارکنان آئیں گے، ڈی آئی خان سے کارکن ڈنڈوں کے ساتھ نکل آئے،تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پی ٹی آئی کارکنان نے ڈنڈے پکڑے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ جلسے میں شریک ہوں گے،لاہور انتظامیہ نے جلسے کی شرائط میں ڈنڈے لانے سے منع کر رکھا ہے اسکے باوجود کارکنان ڈنڈے لار ہے ہیں،مشیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کارکنوں نے لاٹھیاں ذاتی حفاظت اور راستہ صاف کرنے کے لیے اٹھا رکھی ہیں۔

    جلسے سے قبل تمام نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست
    لاہور کے جلسے سے قبل تمام نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،متفرق درخواست سابق ایم پی اے زنیب عمیر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی نظر بندیوں کے احکامات جاری ہوئےنظر بندیوں کے احکامات قانون اور آئین کے منافی ہیں عدالت فوری نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دے،نظر بند تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے ،

    لاہور جلسہ،شرکاء کی سکیورٹی کےلیے12ہزار سے زائد افسران واہلکار ڈیوٹی پر مامور
    لاہور پولیس نے کاہنہ جلسہ گاہ کے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ، چیکنگ جاری ہے، ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران کا کہنا ہے کہ امن و امان کا قیام اور شہریوں کا تحفظ لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، شرکاء کی سکیورٹی کےلیے12ہزار سے زائد افسران واہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں ، 15ایس پیز، 63ڈی ایس پیز،165 ایس ایچ اوز/انسپکٹرز سمیت1002 اَپر سب آرڈینیٹس تعینات ہیں،خواتین شرکاء کی چیکنگ کیلئے 324 لیڈیز اہلکار بھی ڈیوٹی پر مامور ہیں،ڈولفن سکواڈ کی ٹیمیں بھی جلسہ گاہ سے ملحقہ شہراؤں پر موثر گشت یقینی بنا رہی ہیں، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جلسہ گاہ اور اطراف مانیٹرنگ کی جا رہی ہے،موٹر سائیکل و گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے ایریا مختص کیا گیا ہے،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، شہری امن و امان برقرار رکھنے میں لاہور پولیس کا ساتھ دیں،

    نومئی کے اشتہاریوں کی گرفتاری کے لئے پولیس کا”خاص” انتظام
    9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتاریوں کے لئے پولیس نے شکنجہ تیار کر لیا،کاہنہ میں تحریک انصاف کے جلسے سےاشتہاریوں کی گرفتاریوں کا ٹاسک پولیس کو مل گیا ،تحریک انصاف کے جلسے کے اطراف میں فیس ڈیٹیکشن کیمرے نصب کر دئے گئے ،جلسے میں آنے والوں کی شناخت سے اشتہاریوں کی گرفتاری کی جائے گی ،سیف سٹی اتھارٹی کے دفتر میں فیس ڈیٹیکیٹ کرنے والی ٹیمیں تعینات ہیں ،جو اشتہاری یہاں موجود ہوا اسے فوری گرفتار کیا جائے گا ، جو ضمانت پر ہیں اگر انہوں نے کوئی شرانگیزی دوبارہ کی تو انہیں گرفتار کیا جائے گا، جلسہ گاہ کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ،9 مئی کی کیسز کی انویسٹی گیشن ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ،

  • لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    پاکستان تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اجلاس ہوا

    اجلاس کا انعقاد زوم میٹنگ پر کیا گیا، اجلاس میں لاہور تنظیم اور مرکزی قیادت شامل تھی،اجلاس میں جلسے کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے نہ کیا جا سکا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلسے کی اجازت ملنے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا،لاہور تنظیم کا کہنا تھا کہ جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، اجازت ملتے ہی سٹیج لگا دیا جائے،جلسے کی اجازت ملنے کے بعد کارکنان کی شمولیت کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کے پی کے قیادت ہر صورت جلسے میں شرکت کرے گی،

    تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے آن لائن اجلاس میں جلسے کی تیاریاں تیز کرنے کا کہہ دیا ،تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے تمام رہنماؤں ،ٹکٹ ہولڈر اور سرگرم کارکنان کو مزید اہم ہدایات جاری کر دیں ،لاہور کے ہر حلقے میں جلسے کے حوالے سے بھر پور کمپین میں مزید تیزی کی ہدایت کر دی گئی،پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ لاہور جلسے کے لیے عوام کو موبلائز کرنے کے لیے رہنما میدان میں نکلیں، آج شام تک عدالت کی حکم پر ڈی سی کی جانب سے فیصلے کے بعد مزید ہدایات فوری دی جائیں گی پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت آج شام لاہور جلسے کے حوالے سے مزید پیغام جاری کرے گی،ڈی سی لاہور کی جانب سے اجازت ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے مزید حکمت عملی کارکنان اور عوام کو دی جانے گی

    دوسری جانب نعیم حیدر پنجوتھہ وکلا کے ساتھ لاہور جلسہ گاہ پہنچ گئے، نعیم حیدر کا کہنا تھا کہ جلسہ کی تیاریاں شروع عوام تیار رہے، جلسہ گاہ کے اردگرد راستے بھی کلئیر ہیں اور تمام معاملات کنٹرول میں ہیں عوام ہر صورت جلسہ گاہ پہنچیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کا کل لاہور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ ہے، ابھی تک انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، لاہور ہائیکورٹ نے آج شام پانچ بجے تک انتظامیہ کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے.اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ اگر ڈی سی لاہور نے شام 5 بجے تک جلسے کی اجازت نہ دی تو پھر بھی ہم ہر صورت جلسہ کریں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ لاہور جلسہ ہر صورت ہو گا، وزرا 2 ہزار، ایم پی اے ایک ہزار، تنظیمی عہدیدار 500 اوریوسی عہدیداروں 100 کارکن لائے گا، سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کےلئے مشینری ساتھ جائے گی

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

    پی ٹی آئی جلسہ،مینار پاکستان کے گیٹوں کو تالے لگ گئے، شاہی قلعہ بھی بند
    پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کا معاملہ ،مینار پاکستان کو سیل کردیا گیا ،پولیس نے مینار پاکستان کے چھ گیٹس کو تالے لگا دیئے،پولیس ذرائع کے مطابق پی ایچ اے حکام کی جانب سے مینار پاکستان گیٹس کو بند کرنے کے احکامات ہیں، مینار پاکستان کے اندر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے،مینار پاکستان وزٹ کرنے والوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا جارہا،دوسری جانب شاہی قلعہ کو بھی دو روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے