Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ایک سال کی قید مکمل

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ایک سال کی قید مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے اڈیالہ جیل میں ایک سال قید کی مکمل تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عمران خان کے اڈیالہ جیل میں 365 دنوں میں 180 سے زائد جیل ٹرائل سماعتیں ہوئیں،انہوں نے جماعت کے رہنماؤں اور اپنے وکلا سے کل 100 سے زائد ملاقاتیں کیں،عمران خان نے 365 دنوں میں ایک ہزار گھنٹے کورٹ کی سماعتوں میں گزارے۔

    جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی تحریک انصاف کو 365 دنوں میں صرف دانت میں درد کی شکایت ہوئی ایک سال کے دوران انہوں نے 180 سے زائد مرتبہ میڈیا سے گفتگو کی جب کہ ایک سال کے دوران عمران خان کو 3 مرتبہ ای کورٹس میں پیش کیا گیا، 365 دنوں میں بانی پی ٹی آئی کو 3 مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں پورے ایک سال کے دوران بانی پی ٹی آئی ایک مرتبہ بھی بشریٰ بی بی سے تنہائی میں ملاقات نہیں کرسکے،وہیں عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ایک برس میں 90 دن قید تنہائی میں گزارے جب کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ 365 دنوں میں کبھی بیمار نہیں ہوئے۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

  • توشہ خانہ ٹوکیس : بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ  مقرر

    توشہ خانہ ٹوکیس : بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائدکرنےکی تاریخ مقرر کردی،جبکہ عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے مزید وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کی ،سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواستوں پراڈیالہ جیل میں کی۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، وکلا صفائی نے ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواستوں پر اپنے دلائل مکمل کرلیے، پراسیکیوشن ٹیم کے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل نہ ہوسکے، پراسیکیوشن نے دلائل کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگ لیا۔

    وکلا صفائی کی جانب سے دلائل کے لیے پراسیکیوشن کو مزید وقت دینےکی مخالفت کی گئی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے درخواست کی کہ عدالت ضمانت کی درخواستوں پر آج ہی فیصلہ کرے، اگر کچھ نہیں ہونا تو عدالت ہماری ضمانت کی درخواستیں خارج کردے، سماعت کی آج کی تاریخ بھی پراسیکیوشن کی مرضی سے دی گئی تھی، اب کیا ہرکام پراسیکیوشن کی مرضی سے ہوگا۔

    اس موقع پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے بھی روسٹرم پر جا کر آج ہی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں، جو ہو رہا ہے یہ انصاف نہیں، الیکشن سے پہلے 5 دنوں میں 3 سزائیں سنادی گئیں، بشریٰ بی بی کا اس کیس سے کچھ لینا دینا نہیں پھر بھی جیل میں ہے، ہم 22 گھنٹے جیل کے دڑبے میں گزارتے ہیں، عدالت ضمانت کی درخواستوں پر آج ہی فیصلہ کرے۔

    عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے مزید وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی،اس کے علاوہ عدالت نے توشہ خانہ ٹوکیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ بھی مقررکردی،عدالت کے مطابق توشہ خانہ ٹوکیس میں 2 اکتوبرکو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی جائےگی۔

  • مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر  لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کے اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی ہماری درخواست ڈی سی لاہور کے پاس زیر التوا ہے۔

    عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ 30 ستمبر تک ڈی سی لاہور اس درخواست پر فیصلہ کریں، ڈی سی لاہور ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں،بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست پر ڈی سی لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

    درخواست میں پنجاب حکومت، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا، درخواست گزار کا موقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ 5 اکتوبر کو ہے، پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ مینار پاکستان پر شام 5 سے رات 10 بجے تک جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے، عدالت ضلعی حکومت 5 اکتوبر جلسے کی اجازت دینے کا حکم دے۔

  • اگلے چیف جسٹس کی تقرری کا اعلان کیا جائے ،عمران خان

    اگلے چیف جسٹس کی تقرری کا اعلان کیا جائے ،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں کل سے جو ہو رہا ہے سب کو پتہ چل گیا ہے یہ کیا کر رہے ہیں ،یہ سب گینگ آف تھری کو توسیع دینے کے لیے کیا جا رہا ہے ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیڑا غرق تو انہوں نے کر لیا اب سپریم کورٹ کو بھی تباہ کر رہے ہیں گینگ اف تھری کی توسیع کی وجہ سے سارا ملک داؤ پر لگا ہوا ہے، حکومت ساری عدلیہ کو تباہ کرنے پر لگی ہوئی ہےالیکشن فراڈ کو کور کرنے کے لیے ان کو اپنے ججز چاہیے ، آٹھ فروری کے انتخابات کو پوری دنیا نے فراڈ الیکشن کہاایک مرتبہ بھی قاضی فائز عیسی نے یہ نہیں کہا کہ ہماری خواتین اور کارکنان جو جیلوں میں ہیں ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اگلے چیف جسٹس کی تقرری کا اعلان کیا جائے ،جسٹس منصور علی شاہ کو مکمل بیک کرتے ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے جو کہا تھا اس پر چیف جسٹس نے کیا کیا، سپریم کورٹ اور معیشت سمیت پورا نظام ڈول رہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر کو پتہ ہے اس پر آرٹیکل سکس لگے گا اسی لیئے الیکشن فراڈ کو دبایا جارہا ہے ،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی میں جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو احتجاج کریں گے ، پی ٹی ائی کے ڈر سے سپریم کورٹ اور جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے، اس وقت یحییٰ خان پارٹ ٹو حکومت ہے، مشرقی پاکستان کے لوگ پاکستان کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، وہ لوگ حقوق چاہتے تھے، طاقت کا استعمال کر کے اُنہیں علیحدگی کی جانب دھکیل دیا گیا، یحییٰ خان نے اپنی طاقت کے لئے جیتی ہوئی جماعت کو اقتدار نہیں دیا، ہمیں کوئی بھی جلسہ نہیں کرنے دیا جا رہا، چیف جسٹس کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، گرمیوں کا جلسہ بھی کیا کبھی 6 بجے ختم ہوتا ہے، ساری قوم کو پتہ ہے کیا ہو رہا ہے، سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن کی تعریف چیف جسٹس کرتا ہے،تھرڈ ایمپائر سب کنٹرول کر رہا ہے، وہ اِن کی ٹیم کا کپتان ہے، اِن کا مقصد یہ ہے کہ فراڈ سامنے نہ آ جائے اور پی ٹی آئی اوپر نہ آ جائے، پی ٹی آئی کے ڈر سے سپریم کورٹ اور جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے، آئینی عدالت کا مقصد چیف جسٹس کی پاور کو ختم کرنا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی پاور کو ختم کر کے قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی کورٹ میں بٹھانا چاہتے ہیں، قاضی فائز عیسیٰ آئینی ترامیم کا بینفشری ہے، وہ انصاف ہونے نہیں دے رہا، اِس نے ہمارا انتخابی نشان تک لے لیا تھا

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

  • مجھے افغانستان نہیں جانے دیا جا رہا،اعظم سواتی

    مجھے افغانستان نہیں جانے دیا جا رہا،اعظم سواتی

    پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی افغانستان جانے کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست کی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    اعظم سواتی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی،اعظم سواتی عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ مجھے افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی،بلیو پاسپورٹ پر جانا چاہتا ہوں لیکن اسحاق داڑ کلاون بیٹھا ہے اسکی وجہ سے نہیں جاسکتا، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ عدالت میں ایسے الفاظ استعمال نہ کریں،اعظم سواتی نے عدالت سے معذرت کرلی،پشاور ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کا بلیو پاسپورٹ پر افغانستان سفر کی اجازت کے لیے کیس میں وزارت خارجہ سے جواب طلب کرلیا

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ عمران خان جیل سے نکلیں گے اور ملک سیاسی استحکام آئے گا، کرپٹ حکومت اور انکے ہینڈلرز نے قاضی فائز عیسی، عامر فاروق اور راجہ سکندر کا کندھا استعمال کرکے آزاد عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق پر چڑھائی کی اس کا مقابلہ کریں گے، غیر منتخب حکومت نے عدلیہ پر چڑھائی کی، فرسودہ اور انصاف کے منافی ترامیم پر ان کو شکست ہو گی، پشاور میں 3 اکتوبر کو وکلاء کنونشن ہو گا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

  • ُپی ٹی آئی رہنما کا میئر کراچی کو خط ،دو بڑے مسائل کی نشاندہی

    ُپی ٹی آئی رہنما کا میئر کراچی کو خط ،دو بڑے مسائل کی نشاندہی

    پی ٹی آئی سندھ کے رہنما نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو لکھے گئے ایک خط میں شہر کے دو اہم مسائل: کچرے کے بڑھتے ہوئے بحران اور بجلی کی شدید قلت کے حل کے لیے ایک کچرے سے بجلی گھر بنانے کی تجویز پیش کر دی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری محمد رضوان نیازی نے اپنے خط میں کراچی کے ناقص کچرا مینجمنٹ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔خط میں بتایا گیا کہ کبھی "روشنیوں کا شہر” کہلانے والا کراچی اب 2,50,000 ٹن سے زائد کچرے کے ڈھیر اور روزانہ 16,500 ٹن گھریلو کچرا پیدا ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ گھریلو کچرے کے علاقے صنعتی زون سے روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کی تعداد اس سے جدا ہے۔خط میں رضوان نیازی نے شہر کے انفراسٹرکچر کی خراب صورتحال، گٹروں کے ابلنے اور صحت عامہ کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اسی دوران، رضوان نیازی نے شہر کی بڑھتی ہوئی توانائی کی قلت کی طرف بھی اشارہ کیا، جس کے لیے روزانہ تقریباً 3,600 میگاواٹ بجلی درکار ہوتی ہے۔

    کے الیکٹرک کو ہائبرڈ منصوبےکیلئے کم ترین بولی موصول

    انہوں نے تجویز دی کہ کچرے سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس لگائے جائیں، جو کہ ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں۔ رضوان نیازی کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف کچرے کے مسئلے کا حل فراہم کرے گا بلکہ کراچی کی توانائی کی کمی کو بھی پورا کرے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بجلی 3 روپے فی یونٹ کی کم قیمت پر دستیاب ہوگی، جو کہ روایتی بجلی پیدا کرنے کے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ سستی اور مؤثر ہے۔رضوان نیازی نے میئر مرتضیٰ وہاب سے اس منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی شروع کرنے کی اپیل کی۔ ان کا ماننا ہے کہ کچرے سے بجلی گھر بنانے سے کراچی کو ایک صاف اور پائیدار شہر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور جس سے دوبارہ شہر کراچی کو "روشنیوں کے شہر” کا درجہ مل سکتا ہے۔ اس وقت کراچی میں موجودہ کچرہ مختلف بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔رضوان نیازی نے خط کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور ہر کراچی میں موجود کچرے سے بجلی گھر بنائیں جائیں اور عوام کو کراچی کے شہریوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے۔ #

  • اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کی تبدیلی،پی ٹی آئی نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کی تبدیلی،پی ٹی آئی نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد انتخابی ٹریبونل کے تبدیلی سے متعلق کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نےسماعت کی،درخواست گزاروں کے وکلا الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی کے وکلا نے جواب جمع کرانے کے لئے وقت مانگ لیا،ممبر کے پی نے کہا کہ وکیل تبدیل کر رہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے،وکیل انجم عقیل نے کہا کہ ہمیں درخواست جمع کرانے کے لئے وقت چاہئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئندہ تاریخ سے قبل جواب جمع کرائیں،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ دو ہفتے کا وقت دے دے دیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دو ہفتے نہیں دے سکتے،سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد سے مسلم لیگ نون کے تینوں ایم این ایز نے درخواستیں دائر کیں تھیں،شعیب شاہین ، عامر مغل اور علی بخاری نے ٹریبونل تبدیلی کے خلاف درخواستیں دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے،الیکشن کمیشن نے ریٹائر جج کو الیکشن ٹریبونل تعینات کردیا تھا،اسلام آبادہائیکورٹ نےجسٹس طارق محمود جہانگیری کو تبدیل کرنے کا الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دیاتھا،عدالت نےالیکشن کمیشن کو معاملہ واپس بھیجتے ہوئے دوبارہ سماعت کی ہدایت کی

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نےمخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری تو کردیا ہے مگر اس فیصلے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی ججز کا ایک گروہ موجود ہے جو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور تازہ ترین ثبوت پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کا ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنا بھی ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے سے پوچھا تھا کہ اگر ہم یہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا جس میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

    اس کیس کا جب مختصر فیصلہ دیا گیا تھا تو اس وقت بھی قانونی حلقوں نے یہ بات بڑے واضح انداز میں کہی تھی کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں پی ٹی آئی کیلئے سہولت کاری نظر آرہی ہے۔ قانونی ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ جب اعلیٰ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کیلئے سہولت کاری کا کام شروع کردے تو پھر انصاف کا قتل ہوتا ہے اور اس تفصیلی فیصلہ میں ایسا نظر آیا ہے۔

    قانونی ماہرین نے اب تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی کہا کہ ہم نے پہلے بھی کا تھا کہ اور اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ کے سیاسی ججز نے آئین کو ری رائٹ کرکے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باتیں مفروضوں کی بنیاد پر نہیں کی جا رہی ہیں آئین کے مطابق نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ججز کی جانب سے سہولت کاری کی گئی ہے۔

    قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سہولت کاری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 66 اور سیکشن 104 میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا حکم قابل عمل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا ماضی میں خیال تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سابقہ قانون پر دیا جاتا ہے اور قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو فیصلہ قابل عمل نہیں ہوگا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق سلمان اکرم راجا کے مذکورہ بالا بیان کے بعد افسوس کی بات یہ ہے کہ جج بھی تاثر کے لحاظ سے’’ میرے جج، تیرے جج ‘‘بن کر ہی دکھا رہے ہیں۔ ججوں کو تو صرف اور صرف آئین اور قانون کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔

    قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اگر جج کا نام سن کریہ اندازہ ہو جائے کہ اُس کا فیصلہ کس سیاسی دھڑے کے حق میں اور کس سیاسی دھڑے کے خلاف ہوگا تو پھر یہ انصاف تو نہ ہوا۔ مگر جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے جو بات سلمان اکرم راجا نے کی ہے وہ تو اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے یعنی ایک اہم ترین کیس کا فیصلہ آنے سے قبل اس بینچ میں شامل جج یہ پوچھ رہا ہے کہ اگر ہم آپ کے حق میں فیصلہ دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر اس کیس میں پی ٹی آئی کی سہولت کاری کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔

    قانونی ماہرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں سلمان اکرم راجا نے جو بات ٹی وی چینل میں کی ہے کیا جسٹس اطہر من اللہ اس کی وضاحت کرینگے۔۔۔۔۔؟

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز کے حوالے سے تو سخت ریمارکس سامنے آئے ہیں کیا اب جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے سلمان اکرم راجا کے بیان پر وہ کچھ کہنا پسند کرینگے۔

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے کردار پر بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ نے چوتھی میٹنگ کرلی، پھر بھی فیصلہ نہیں کیا،مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہے، الیکشن کمیشن 38 ایم این ایز کا جلد اعلان کرے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا ہے، جس آئینی ترمیم کے باعث عدلیہ پر قدغن لگے ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تاخیری حربوں کے باعث خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے، مطالبہ کرتے ہیں کہ 38 ایم این ایز کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں، آئینی ترمیم سے عدلیہ پر کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے، بانی کی ہدایت پر28 ستمبر کولیاقت باغ میں جلسہ کریں گے۔

    اس سے قبل انہوں نے علی امین گنڈا پور کے حوالے سے کہا تھا کہ وزیراعلی کے پی کے 15 دن میں بانی پی ٹی آئی کو رہا کریں گے، اب ہمیں امید ہے کہ جلد کیسز ختم ہوکر بانی پی ٹی آئی کو رہائی ملیں گی،ہم نے ہمشیہ جلسے کے لیے این او سی لی لیکن یہ شرائط ہی ایسے رکھتے ہیں کہ جلسہ نہ ہو یہ کوئی فلم شو نہیں کہ وقت دیا جاتا ہے لیکن ہم نے پھر بھی اپنا جلسہ وقت پر ختم کیا۔

    انکا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ کی قیادت جلسے میں پہنچی لیکن خیبرپختونخوا کی قیادت اسلئے نہ پہنچ سکی کہ راستے بند تھے، ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ سختیاں ختم ہونگی تو معاملات آگے بڑھیں گے، اگر مقبول ترین پارٹی کو سپیس نہیں دیں گے تو غیر سیاسی قوتوں کو فائدہ ہوگا،انھوں نے واضح کیا کہ پارٹی علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر جلسہ اپنے وسائل سے کیا، کبھی سرکاری ذرائع وسائل استعمال نہیں کئے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، انتخابی نشان نہ ملنے سے سیاسی جماعت کا الیکشن لڑنے کا آئینی حق متاثر نہیں ہوتاتفصیلی فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ایک بار پھر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا فیصلے میں سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق الیکشن رول 94 خلاف آئین قرار دے کر کالعدم کردیاعدالت نے قراردیا کہ الیکشن رول 94 خلاف آئین اور غیرمؤثر ہے، رول 94 الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 51 اور 106 کے منافی ہے۔

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا.

    70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا.مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں.جو ارکان جس جماعت سے وابستگی کا حلف نامہ دیتے ہیں انہیں اس جماعت کا تصور کیا جائے گا،یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کی ہی بنتی ہیں – الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بطور ایک آئینی ادارہ الیکشن کمیشن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو صاف شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ آئین صرف ایک حکومتی بلیوپرنٹ نہیں بلکہ عوام کی حاکمیت یقینی بنانے پر مبنی دستاویز ہے،آئین سیاسی جماعت بنانے اور عوام کی اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے،عوام کی نمائندگی ہی دراصل جمہوریت ہے،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا، آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا، پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، ،الیکشن میں بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے،انتخابی تنازعہ بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے،یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،پی ٹی آئی کیمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا،

    ستر صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز کا سپریم کورٹ کے 2 ججز کی اپنے بارہ جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس پر سخت تنقید
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دو ججز (جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے 3 اگست 2024 کے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نامناسب تنقید کی ،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کاُعمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے عین منافی تھا،اس طرح ساتھی ججز کے بارے میں رائے دینا سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، قانونی معاملات پر ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، جس انداز میں 2 ججز نے اکثریتی فیصلے کو غلط کہا، یہ نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے،

    الیکشن کمیشن 2024 کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ زیرِبحث سوال کہ جو درخواست میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف دیدیا گیا کا جواب دیا ہے،تفیصلی فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس آرٹیکل 199 میں وہ اختیار موجود نہیں جو سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کیلئے آرٹیکل 187 میں ہے. الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 218(3) میں اختیار تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، پشاور ہائیکورٹ اختیار نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کی درخواست نہ ہوتے ہوئے صاف شفاف انتخابات پر مکمل انصاف کا وہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی جو سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کر سکتے تھے، پشاور ہائیکورٹ جو کر سکتی تھی اور اس میں ناکام ہوئی وہ یہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ بیک کر سکتی تھی،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی، جسے اس کیس میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمارے سامنے ایک درخواست کے ساتھ آئی ہے،اسے اس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیا جا سکے۔عام سول مقدمات کے طریقہ کار کے مطابق، پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو باقاعدہ طور پر کیس میں فریق بنایا جاتا ہے،اس سے پہلے کہ اسے کسی قسم کا ریلیف دیا جائے۔ جیسا کہ اس فیصلے کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک عام سول کیس نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ترین نوعیت کا مقدمہ ہے، جہاں جمہوریت آئین کی ایک اہم خصوصیت اور عوام (ووٹرز) کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بنیادی حق کو محفوظ، دفاع کرنا ہے،تاکہ ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہو سکے۔ پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرنے اور پھر اسے ریلیف دینے کی رسمی کارروائی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے، جب عدالت کی توجہ عوام (ووٹرز) کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر ہو، جو آئین کے آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ضمانت شدہ ہے، اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حق چاہے وہ سنی اتحاد کونسل ہو یا پی ٹی آئی یا کوئی اور جماعت۔درحقیقت، خاص طور پر اس قسم کے مقدمات کے لیے، جہاں عوام کے حقوق شامل ہوں، نہ کہ صرف ان فریقوں کے جو عدالت کے سامنے ہیں، کسی بھی نظامِ انصاف میں طریقہ کار کا مناسب مقام لوگوں کو ان کے حقوق دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنا،88 جب عدالت اپنے عمومی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرتی ہے، تو یہ عدالت کسی بھی تکنیکی یا عملی قاعدے سے معذور نہیں ہوتی.

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 80میں سے 39ایم این ایز کو تحریک انصاف کا رکن ظاہر کیا، الیکشن کمیشن کو کہا وہ باقی 41ایم این ایز کے 15روز کے اندر دستخط شدہ بیان حلفی لیں، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، تمام آزاد ارکان پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو یہ آئین شکنی ہوگی. جو سیاسی جماعت ایک مرتبہ رجسٹر ہوجائے اسے ڈی لسٹ کرنے کا الیکشن کمشین کو اختیار نہیں،سپریم کورٹ کا انتخابی شفافیت کی نگرانی میں کردار جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،عدالت کا "مکمل انصاف” کرنے کا اختیار اس کے آئینی اختیارات میں ایک اہم ہتھیار ہے۔اس اختیار کے ذریعے عدالت جمہوریت کو زوال پذیر ہونے سے روکنے اور مؤثر طریقے سے عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔انتخابی انصاف سے انکار کرنا اور انتخابی شفافیت کو متاثر کرنا جمہوریت کی قانونی حیثیت کو کمزور کر دے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر کنول شوذب کی درخواست کو غیر ضروری قرار دے دیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کونسی سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کا انفرادی حق نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن 8 فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے،الیکشن کمیشن کیجانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نےبلے کے انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہارکیا،عدالت نے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیلئے بنائی گئی انتخابی رولز کی شق 94 بھی کالعدم قرار دے دی،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بلے کے نشان والے کیس میں پارٹی کے آئینی حقوق واضح کر دیئے جاتے تو ابہام پیدا ہی نہ ہوتا،الیکشن کمیشن نے بھی اپنے حکمنامہ میں پی ٹی آئی کے آئینی حقوق واضح نہیں کیے،عدالت اور الیکشن کمیشن کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ انتخابی شیڈیول جاری ہو چکا ہے،پارٹی کے اندرونی معاملے پر شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا،بلے کے نشان کا فیصلہ نظرثانی میں زیرالتوا ہے اس لئے اس پر رائے نہیں دے سکتے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن رولز کی شق 94 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں، انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود ہی نہ ہو، رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو، رول 94 کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 51(6) اور الیکشن ایکٹ کی شق 106 سے متصادم ہے، انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اضافی سزا ہے، واضح قانون کے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،آئین میں دیے گئے حقوق کو کم کرنے یا قدغن لگانے والے قوانین کا جائزہ تنگ نظری سے ہی لیا جا سکتا ہے،جمہوریت میں انفرادی یا اجتماعی حقوق میں کم سے کم مداخلت یقینی بنانی چاہیے، انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کی سزا انتخابی نشان واپس لینے سے زیادہ کچھ نہیں،انتخابی نشان واپس لئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت کے آئینی حقوق ختم ہوگئے،

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان