Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ

    لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ

    مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی: حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی آئی کے بدتمیز اور بد تہذیب لوگ اس حد تک گر گئے ہیں کہ لندن میں میرے بیٹے کے سامنے مجھ پر حملہ کیا، مجھ پر بوتلیں پھینکیں اور گندی گالیاں بکیں –


    حنا پرویز نے کہا کہ بد تہذیب لوگ ایسی حرکات کر کے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں یا بدنام کر رہے ہیں؟،اللہ کا شکر ہے میرے لیڈر نواز شریف نے ہمیشہ صبر اور تہذیب کی تعلیم دی جسے ہم کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

    76 واں جشن آزادی:پاکستان میں غیرملکی سفیروں کا پیغام

    واقعہ پر سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ رویہ نہایت قابل مذمت ہے۔ پی ٹی آئی کے یہ فالوورز بیرون ملک قوم کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔ عمران نیازی نے ان لوگوں کے دماغوں میں نفرت بھر کے ان سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیت اور اخلاقیات چھین لی ہیں۔ جیسا لیڈر ویسے بد تہذیب فالوورز۔

    صحافی اجمل جامی کہتے ہیں کہ کیا سیاسی اختلاف کا جواب یہ حرکتیں ھیں۔۔؟ ہرگز نہیں! محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ کیساتھ پیش آیا یہ واقع ہر لحاظ سے قابل مذمت اور شرمناک ھے۔ یہ سیاست یا ملک کی خدمت نہیں بلکہ بد نامی ھے۔ خدارا اس طرح کے پاگل پن کی مذمت کیجئے۔۔ایسے واقعات کے حق میں دلائل دینے والے بھی اسی قدر جاہل اور بدتمیز ہیں جس قدر وہ لوگ جو اس میں عملی طور پر ملوث ہیں۔ رحم کیجئے پلیز۔۔! کیا یہ دین اسلام کی اقدار ہیں؟

    واضح رہے کہ ن لیگ کے رہنماؤں پر پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، گزشتہ برس نومبر میں رہنما مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کے ساتھ بھی پی ٹی آئی سپورٹرز نے ایسی بدتہذیبی کا برتاؤ کیا تھا ،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنے اور جھنڈے لیے کچھ لوگ وزیر اطلاعات کو ایک دوکان پر گھیرے ہوئے ہیں جہاں وہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ہراساں کرتے دکھائی دیئے، جہاں انہیں پی ٹی آئی کے حامی ان پر چیختے رہے اور طنز کر تے رہے اور اپنے موبائل فونز سے ان کی ویڈیو ریکارڈ کر تے رہے مریم اورنگزیب کو ’چور چور‘ پکارا-

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بعد ازاں مسجد نبوی میں بھی پی ٹی آئی کے حامیوں نے مسلم لیگ ن کے وفد پر ‘چور، چور’ اور ‘لوٹے’ کے نعرے لگائے اور بعض اراکین کو زودوکوب بھی کیا،کچھ مظاہرین کو وفاقی وزرا شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا جنہیں بعد میں محافظوں اور پولیس اہلکاروں نے بچایا اور وہاں سے لے گئے۔

    خیبر پختو نخوا میں مقامی صحافی کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ

  • چارسدہ،پی ٹی آئی کارکنان کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا جا رہا ہے

    چارسدہ،پی ٹی آئی کارکنان کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا جا رہا ہے

    چارسدہ جشن آزادی کی رات پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے،پولیس لے مطابق سرڈھیری سرکل سے 43 پی ٹی آئی کارکنان گرفتار کر لئے گئے ہے،
    اسکے علاوہ چارسدہ سٹی سرکل سے 25 کارکنان گرفتار کئے گئے، اس حوالے سے پی ٹی آئی قیادت نے موقف اپنایا ہے کہ کارکنان کو گاڑیوں پر پارٹی جھنڈا لگانے پر گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی مقامی قیادت نے الزام لگایا کہ آزادی کے دن ناجائر گرفتاری کھلی پولیس گردی ہے، 4 گھنٹے بعد گرفتار کارکنان کے خلاف ایف آئی ار درج کر لی گئی جبکہ پولیس زرائع کے مطابق گرفتار کارکنان پر دفعہ188 کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہے،

  • قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کا الزام

    قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کا الزام

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی: ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق ہمارے قائد عمران خان نے ہم سے کہا ہے کہ یوم آزادی بھرپور جوش و خروش سے منائیں دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستانی قوم اور پاکستان تحریک انصاف حب الوطنی کا نام ہے اور ہم امن، انصاف، خوشحالی اور حقیقی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 14 اگست کو بھرپور طریقے سے منانا ہے،آزادی کا دن ہے آزاد قوم کی طرح منانا ہے،جب تک ایک قوم آزاد نہیں ہوتی، دنیا کی تاریخ میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا، غلاموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، غلامی سے بہتر ہے موت-

    تحریک انصاف نے اپنے پیغام کے ساتھ ایک تصویر شئیر کی جس پر ایک سابق امریکی صدر براک اوباما کی اہلیہ مشل اوباما کا ایک جملہ درج ہے کہ جب وہ نیچے جائیں گے، تو ہم اوپرکی سمت میں چلے جائیں گے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے سابق امریکی خاتون اول کے جملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی حالیہ سیاست پرنافذ ہوتا کہ حکومتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کرادرکشی کا سہارا لے کر اہل خانہ کی توہین کررہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پی ٹی آئی کے مطابق انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع بنوں نے عمران خان کی ہدایت پر 14 اگست جشن آزادی جوش و جذبے کیساتھ منانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے اور اسکی آزادی کا جشن ہم بھرپور طریقے سے منائیں گے-

    پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک اور منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ قومی پرچم کو نذر آتش کرکے اس کا الزام پی ٹی آئی پرعائد کردیا جائے، اس کے ساتھ لکھا کہ ہمارا عزم ہے کہ یوم آزادی کو جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے۔

    واضح رہے کہ نو مئی کو چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد پارٹی کارکنان نے ملک میں بھرعوامی و سرکاری املاک کے ساتھ ہی حساس تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا تھا-

    وزیراعظم شہباز شریف کے لیےالوداعی گارڈ آف آنر کی تقریب ملتوی

  • پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پاکستان تحریک انصاف کی سابق ایم این اے منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں سابق رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات اور فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں۔ جو کچھ ہوا غلط تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، ہمیں تمام اداروں کا احترام کرنا چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ ایک محب وطن پاکستانی کی طرح مجھے اپنی فوج پر فخر ہے، کوئی ایسی چیز جس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے ، افسوسناک ہے،ایک پاکستانی کی حیثیت سے ریاست کی بقا ہمارا فرض ہے، میں خود کو تحریک انصاف سے الگ ہونے کا اعلان کرتی ہوں۔

    ذرائع کے مطابق منزہ حسن کا بیرون ملک سے واپسی پر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا بھی امکان ہے ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے لیےالوداعی گارڈ آف آنر کی تقریب ملتوی

    اغوا کیا گیا جنوبی وزیرستان کا مقامی کرکٹر قتل،لاش گھر کے قریب سے برآمد

  • شاہ محمود قریشی  پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی معاہدے کے تحت باہر ہیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کےپروگرام میں گفتگومیں راجہ ریاض نےکہا کہ اسحاق ڈار اور شاہد خاقان کےنام بطور نگران وزیرا عظم زیر غور ہی نہیں آئے، وزیراعظم سے طے ہوا تھا کہ جب تک نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہیں ہوتا، سامنےنہیں لایا جائےگا، میں نےجو وعدہ کیا تھا پورا کیا ہوسکتا ہےکہ معاشی ماہرین کے نام نگران کابینہ میں ہوں، نگران وزیر خزانہ کوئی نہ کوئی معاشی ماہر ہی ہوں گے، میرا خیال ہےکہ نگران وزیرخزانہ ٹیکنوکریٹ ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عام انتخابات فروری میں ہوں گے، الیکشن میں پی ٹی آئی ہوگی یا نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا،قریشی صاحب پی ٹی آئی کے لیےکام نہ کرنےکا معاہدہ کرکے باہر آئے ہیں، ان کا معاہدہ یہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے لیے کام نہیں کریں گے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ہیں کچھ کہنے سے پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔

    یوم آزادی، قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی

    دوسری جانب نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ پر بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے، دیکھنا ہو گا نگران وزیراعظم صاف شفاف انتخابات کرا پائیں گے نگران کابینہ کیسی کابینہ چنتے ہیں جو غیر جانبدار ہو انوار الحق کاکڑ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے آئے ہیں، نگران وزیراعظم سے توقعات وابستہ کرنا بری بات نہیں،انوار الحق آئینی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں تو جمہوری قدروں میں اضافہ ہوگا، نگران وزیراعظم کا آئینی کا م صاف شفاف الیکشن کرانا ہے۔

    مصر میں سکندر اعظم کا 2200 پرانا مجسمہ دریافت

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لے گی، ن لیگ الیکشن آگے لے جانا چاہتی ہے ، الیکشن کے بارے میں مطلع ابرآلود دکھائی دے رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کے فیصلے میں بہت سے نقائص موجود ہیں، اگر انوار الحق کاکڑ ماحول میں تبدیلی لاتے ہیں تو خوش آئند ہو گا۔

  • پشاور ہائیکورٹ میں سابق پی ٹی آئی سینٹر اورنگزیب خان کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق پی ٹی آئی سینٹر اورنگزیب خان کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سابق سینیٹر اورنگزیب خان سمیت 4 کارکنوں کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری سے روکنے کے متعلق کیسز کی سماعت ہوئی ہے،
    سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی، حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل دانیال اسد چمکنی پیش ہوئے۔ عدالت کو وکیل درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ میرا موکل 9 مئی کے واقعات کے دوران پاکستان میں موجود نہیں تھا اور اورنگزیب خان11 مئی سے 18 مئی تک دبئی میں تھا، وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ درخواست گزار کے پاسپورٹ سے بھی یہ واضح ہے کہ میرا موکل پاکستان میں نہیں تھا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیرون ملک ہونے کے باوجود 3 جولائی 2023 کو ڈی سی اوکزئی نے اس کے تین ایم پی او کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، عدالت کو اے اے جی کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ سینیٹر کے خلاف ایک کیس ہے، جس پر عدالت نے اورنگزیب خان سمیت دیگر 4 کارکنوں کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم کیا عدالت نے رکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی،

  • پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے آج ‘یومِ تشکّر و نجات’ منا نے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی جس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی،وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی صدر کے دستخط کرتے ہی قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی تاہم نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے-

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر پی ٹی آئی نے یوم نجات منانے کا اعلان کیا ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پی ڈی ایم کے تقریباً 16 ماہ پر محیط راج کےاختتام پرآج یومِ تشکر منائے گی پارٹی کےکور کمیٹی کےاجلاس میں پی ڈی ایم کی نااہل حکومت کی تباہی کا تفصیلی تجزیہ ، بدترین مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کور کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران کان کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالتی سماعت پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

  • پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ میتھیو ملر کا ردعمل آیا ہے،

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا جن باتوں کے بارے میں رپورٹ کی گئی وہ سو فیصد بھی درست نہیں جو باتیں رپورٹ کی گئیں کسی بھی طرح سے یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی جانب سے روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے انتخاب پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے اس مبینہ مراسلے سے یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ امریکی قیادت اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے (امریکی اہلکار) کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتا میں کسی کی نیت پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے میں پہلی بات یہ کہوں گا کہ کس طرح سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب نکالا جا سکتا ہے دوسری بات یہ ہےکہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں :

    کوہ سلیمان پرشدید بارشیں،کار ندی میں بہہ گئی، 4 افراد جاں بحق

    غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو جانا چاہیے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ قریب قریب یہی مطلب ہے،انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات بھی ثابت نہیں کرتیں کہ امریکا نے کسی پاکستانی رہنما کا انتخاب کیا یا نہیں۔ہم نے سابق وزیر اعظم پاکستان کےدورہ روس پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق وزیر اعظم پاکستان نے روس کے یوکرین پر حملے والے دن دورہ کیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اوچ شریف: دریائے چناب عبور کرتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

    واضح رہے کہ 16 ماہ پر محیط 13 جماعتی مخلوط حکومت ختم ہوگئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے 15 ویں قومی اسمبلی کی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ۔ صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر لاہور میں دستخط کیے۔

    قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نگران وزیر اعظم کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیےمشاورت کریں گے اور نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کیلئے 3 دن کاوقت ہوگا، آئین کے آرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا-

    تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گےپارلیمانی کمیٹی تین دن کےاندرنگران وزیراعظم کےنام کو فائنل کرےگی،پارلیمانی کمیٹی کےنگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پرمعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا،الیکشن کمیشن دیےگئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔

    13 جماعتی اتحادی حکومت 15 ماہ 28 روزقائم رہی،مدت مکمل ہونے سے تین روزپہلے توڑی گئی۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوتےہیں۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.