خیبرپختونخوا کے سابقہ وزیر برائے قانون حاجی فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ کو ایک مراسلہ کے ذریعے آگاہ کیا کہ جشن آزادی کے موقع پر اپنے بزرگوں، مشران اور ورکرز کے ہمراہ ریلی کا انعقاد کر رہا ہوں۔
فضل شکور خان نے مزید کہا کہ اس پر مسرت موقع پر ریلی کے ذریعے خوشی کا اظہار ہر پاکستانی کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ مذکورہ ریلی سے کسی کے جان، مال کاروبار اور مواصلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈی پی او چارسدہ سے ریلی منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے کی بھی گزارش کی ہے،
Tag: پی ٹی آئی
-

چارسدہ،پی ٹی آئی سابق وزیر فضل شکور کا 14 آگست کو ریلی کا اعلان
-

پی ٹی آئی حکومت نے جیل میں خود اے کلاس ختم کی تھی، فیاض الحسن
لاہور: استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں اے کلاس ڈیمانڈ غیر قانونی اور غیر منطقی ہے۔
باغی ٹی وی :سابق وزیر اور سابق پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں جیلوں میں اے کلاس ختم کردی گئی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے جیل قوانین تبدیل کرکے خود اے کلاس ختم کی تھی پنجاب جیل رولز کے مطابق اب عام کلاس اور بی کلاس ہوتی ہے، بی کلاس میں ٹی وی، بیڈ، ٹیبل، کرسی اور اخبار کی سہولت ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وکلا نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی، عمران خان نے وکلا سے میٹنگ میں کہا کہ مجھے باہر نکالو، جیل میں نہیں رہنا چاہتاجیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پرپھیلائی گئی مختلف ویڈیوز جعلی ہیں۔
وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم
یاد رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔
قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت
-

قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی پٹیشنر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےوکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ روز ملاقات کا آرڈر کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نےاستفسار کیا کہ انہوں نے ملاقات نہ کرانے کی کوئی وجہ بتائی؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، آرڈر لیٹ جاری ہوا تھا 6 بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے، اور ایف آئی اے نے کل ایک وکیل کو بلایا اور آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا، خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔
وکیل شیر افضل نے استدعا کی کہ لسٹ کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈرکردوں گا لیکن سیاسی اجتماع نہ بنائیے گا۔ جس پر وکیل شیر افضل نے یقین دہانی کرائی کہ سارے لوگ ایک دم نہیں جائیں گے، نوازشریف نے بھی اے کلاس سہولت لی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اے کلاس سہولت کے حقدار ہیں، لیکن انہیں 9×5 کے اٹک جیل سیل میں رکھا گیا ہے ، وہاں مچھر ہیں، حشرات الارض ہیں، بارش کا پانی بھی اندر گیا تھا۔
جج نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش کے نام پر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو تنگ کیا جائے، قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے، ہر کسی کے حقوق ہیں، وکیل سے ملاقات کرانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ اس کو سیاسی معاملہ اور وہاں پر رش نا بنائیں، ایک ایک، دو یا تین وکلاء مل کر چلے جائیں، اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں اس لیے قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی رکھا جاتا ہے، کیا اٹک اور دیگر جیل بھجوانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟-
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل رولز کے مطابق اے کلاس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں اے کلاس نہیں اس لیے وہاں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کو بیرک کے بجائے سیل میں رکھا گیا ہے، رات کو بارش کا پانی بھی اس کمرے میں گیا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہو سکتا ہے سیکیورٹی کے باعث بیرک میں نا رکھا گیا ہوچیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا گیا تھا مگر اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔
چیف جسٹس استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کے بجائے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھجوانے کا آرڈر کس نے کیا؟ ٹرائل کورٹ نے سزا دی مگر بطور قیدی حاصل حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صرف جیل میں اے کلاس کے حق سے محروم کرنے کے لیے اٹک جیل میں رکھا گیا، سابق وزیرِ اعظم کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دینے کا بھی آرڈر کیا جائے۔
عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ قیدی کی جیل منتقلی کا فیصلہ کون کرتا ہے، پرسوں تک پوچھ کر بتائیں۔وکیل شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ اس کیس کو پرسوں کے بجائے کل سماعت کے لیے رکھا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ طبیعت خرابی کے باعث شاید کل میں دستیاب نہیں ہوں گا عدالت نے کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔
-

جج ہمایوں دلاور کی لندن میں کانفرنس میں شرکت، پی ٹی آئی کا یونیورسٹی کے باہر احتجاج
لندن کی ہل یونیورسٹی میں ہیومن رائٹس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
باغی ٹی وی: توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو سزا سنانے والے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور جوڈیشل ٹریننگ کے لیےلندن میں موجود ہیں جہاں عمران خان کے حامی انہیں دیکھ کر اپنے غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں،فیصلہ سنانے کے بعد اسی شب ہمایوں دلاور لندن روانہ ہوئے تھے وہ ”ہیومن رائٹس اینڈ رول آف لا“پر 13 اگست تک لندن کی یونیورسٹی آف ہل میں ہونے والی جوڈیشل ٹریننگ کیلئے وہاں پہنچے ہیں۔
جج ہمایوں دلاور 5 سے 13 اگست تک جوڈیشل ٹریننگ میں شامل ہوں گے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ہل میں ہیومن رائٹس اور رول آف لاء پرجوڈیشل ٹریننگ جاری ہے،تاہم ہل یونیورسٹی میں ہیومن رائٹس کانفرنس کےدوران پی ٹی آئی کےکارکنوں نےیونیورسٹی کےباہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
PTI supporters protest outside Hull university where the judge who convicted imran khan is attending a training session. Hull Uni has said it will not expel Judge Humayun Dilawar and he will attend the full course. pic.twitter.com/QGCGDNoXqe
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) August 8, 2023
مظاہرے میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے حق میں نعرےلگائے،مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہمایوں دلاور کو واپس بھیجا جائے انہوں نے عمران خان کے خلاف غلط فیصلہ سُنایا۔رپورٹس کے مطابق صدرپی ٹی آئی یوکے عمران خلیل نے کانفرنس میں اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی شرکت روکنے کی پٹیشن جمع کر ادی یونیورسٹی آف ہل کا کہنا ہےکہ تربیت کےلیےججز کا انتخاب ان کے متعلقہ ہائی کورٹس کرتے ہیں،ججوں کے انتخاب میں یونیورسٹی کا کوئی کردار نہیں ہے، ہل یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں سزا سنانے والے جج کو یونیورسٹی سے نہیں نکالا گیا، وہ دیگر ججز کے ساتھ مکمل کورس میں شرکت کریں گے،یونیورسٹی آف ہَل میں 5 اگست سے 13 اگست تک ہونے والی اس 14ویں جوڈیشل ٹریننگ کا تمام خرچہ کامن ویلتھ سیکرٹریٹ لندن کی جانب سے اٹھایا جارہا ہے۔
ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ ہیل یونیورسٹی سے باہرنکلنےوالےجج ہمایوں دلاور کی حفاظت کیلئے پولیس اہلکار موجود ہیں،جہاں مشتعل مظاہرین جج کے انتظار میں کھڑے تھے-
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔
-

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو بھی ایف آئی اے نے طلب کر لیا
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو طلب کرلیا۔
باغی ٹی وی : ایف آئی اے نے خواجہ حارث کو طلبی کا نوٹس جاری کیا اور انہیں کل دوپہر2 بجے طلب کیا گیا ہے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر انکوائری شروع ہوئی ہے نوٹس کے مطابق پیش نہ ہونے کی صورت میں سمجھا جائےگا آپ کے پاس اپنے دفاع میں کہنےکو کچھ نہیں۔
واضح رہے کہ خواجہ حارث سے پہلے عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا کو بھی طلب کیا گیا تھا اور ان سے 8 گھنٹے تفتیش کی گئی نعیم پنجوتھا نے جج ہمایوں دلاور سےمنسوب جعلی سوشل میڈیا اسکرین شارٹ عدالت میں پیش کیے تھے اور ایف آئی اے کی انکوائری میں اسکرین شاٹ جعلی ثابت ہوئے تھے۔
آئی ایم ایف کی شرائط بڑی کڑی اور سخت ہیں،وزیراعظم
نعیم حیدر پنجھوتھا تفتیش کے لیے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز گئے تھے، آج ایف آئی اے نے انہیں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے جج ہمایوں دلاور کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق تحقیقات کے لیے بلایا تھا نعیم حیدر پنجھوتھا تفتیش کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے پاس گئے تھے جہاں 8 گھنٹے تک ان سے تفتیش کی گئی۔
یاد رہےکہ وکیل نعیم حیدر پنجھوتا چیئرمین پی ٹی آئی کے قانونی امور پر ترجمان بھی ہیں تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل مروت نے تصدیق کی تھی کہ نعیم حیدر پنجوتھا کو ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا ہے وکیل شیر افضل مروت کے مطابق نعیم پنجھوتا کے کلرک نے ان کی حراست کا بتایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ نعیم پنجھوتا کو باضابطہ گرفتار کیا گیاہےکہ نہیں، ایسے اقدامات سے وکلاء برادری متحد ہوگی۔
عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار
-

عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 5 سال کیلئے نا اہل قرار دے دیا-
باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹیآئی چئیرمین کی نااہلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو این اے 45 کُرم سے ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا لہٰذا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئین کےآرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل ہوگئے ہیں۔
عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں،وکلا
واضح رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔
عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار
-

بریڈ فورڈ قونصلیٹ میں قومی پرچم اتار کر پی ٹی آئی کا پرچم بلند کر دیا،ویڈٰیو
بریڈ فورڈ قونصلیٹ میں قومی پرچم اتار کر پی ٹی آئی کا پرچم بلند کر دیا گیا-
باغی ٹی وی: بریڈ فورڈ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران نامعلوم شخص نے قونصلیٹ آف پاکستان کی بلڈنگ سے پاکستانی جھنڈے کو اتار کر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے کے بعد پاکستان کے جھنڈے کو اپنی کار میں رکھ کر موقع سے فرار ہو گیا-
بریڈ فورڈ قونصلیٹ میں قومی پرچم اتار کر پی ٹی آئی کا پرچم بلند کر دیا گیا پی ٹی آئی افراد قومی پرچم کو زمین پر روندتے ہوئے اپنی کار میں رکھ کر فرار ۔ @PTIofficial @GovtofPakistan @CMShehbaz @MaryamNSharif pic.twitter.com/eSjzFNHj08
— Ayesha (@Ayesha701900053) August 8, 2023
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستانی کمیونٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں، اگر قو نصلیٹ کی انتظامیہ نےاس شخص کے خلاف جلد از جلد کارروائی نہ کی تو یہاں موجود پاکستانی کمیونٹی بھرپور احتجاج کرنے کیلئے تیار ہو چکی ہے-پاکستانی کمیونٹی کا کہناتھا اگر آج ہم نے اس شخص کے خلاف کارروائی نہ کی تو کل یہ کام ہمارے دشمن بھی کر سکتے ہیں، لہذٰا قونصل جنرل بریڈ فورڈ اور پاکستان ہائی کمیشن لندن اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے عوام کے سامنے لائیں۔
PTI کی صوبائی حکومت نے نے لاہور میں یوم آذادی کے موقع پہ سڑکوں پہ آویزاں قومی پرچم اتار کے اپنے پارٹی کے جھنڈے نصب کر دئیے۔
“کیا ہم کوئی غلام ہیں جو قومی پرچم لہرائیں؟” کپتان کی نئی منطق۔— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) August 13, 2022
قبل ازیں پی ٹی آئی نے لاہور کی سڑکوں پر لگے قومی پرچم اتار کر پارٹی پرچم لگا دیئے تھے،سوشل میڈیا پر جاری بیان میں احسن اقبال نے لکھا تھا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے لاہور میں یوم آزادی کی مناسبت سے سڑکوں پر آویزاں قومی پرچم اتار دیئے ہیں،پی ٹی آئی نے قومی پرچم اتار کر اپنی پارٹی کے جھنڈے لگا دیے ہیں، کیا ہم کوئی غلام ہیں جو قومی پرچم لہرائیں؟کپتان کی نئی منطق۔قومی پرچم آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اسکو ہٹا کر انتشاری پارٹی کا جھنڈا لہرانا صرف قومی پرچم کی توہین ہی نہیں بلکہ نظریہ آزادی پر حملہ ہے۔ #توہین_پرچم_نامنظور pic.twitter.com/uqGE34mOc6
— PMLN (@pmln_org) August 13, 2022
مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس کے ساتھ درج کیپشن میں لکھا تھا کہ قومی پرچم آزادی کی سب سے بڑی علامت ہے، اس کو ہٹا کر انتشاری پارٹی کا جھنڈا لہرانا صرف قومی پرچم کی توہین ہی نہیں بلکہ نظریہ آزادی پر حملہ ہے۔ -

عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل اور قانونی امور کے ترجمان نعیم حیدر پنجھوتہ کو حراست میں لے لیا۔
باغی ٹی وی:ذرائع ایف آئی اے کے مطابق نعیم حیدرپنجھوتھہ تفتیش کے لیے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز گئے تھے، آج ایف آئی اے نے انہیں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے جج ہمایوں دلاور کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق تحقیقات کے لیے بلایا تھا
تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل مروت نے تصدیق کی ہےکہ نعیم حیدر پنجوتھا کو ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا ہے وکیل شیر افضل مروت کے مطابق نعیم پنجھوتا کے کلرک نے ان کی حراست کا بتایا ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ نعیم پنجھوتا کو باضابطہ گرفتار کیا گیاہےکہ نہیں۔
جج ہمایوں دلاورکیخلاف جعلی فیس بک پوسٹ، ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کو طلب کرلیا
ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سیشن کورٹ کے جج دلاور ہمایوں کی متنازع فیس بک پوسٹس کے معاملے پر تحقیقات شروع میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ کو انکوائری کے لئے طلب کیا تھا-
-

جج ہمایوں دلاورکیخلاف جعلی فیس بک پوسٹ، ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کو طلب کرلیا
اسلام آباد: ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل ایڈووکیٹ نعیم حیدر پنجوتھہ کوسیشن جج ہمایوں دلاور کے خلاف جعلی فیس بک پوسٹ کرنے پر طلب کر لیا-
باغی ٹی وی :ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سیشن کورٹ کے جج دلاور ہمایوں کی متنازع فیس بک پوسٹس کے معاملے پر تحقیقات شروع کردیں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ کو ایف آئی اے نے چئیرمین پی ٹی آئی کو سزا سنانے والے جج ہمایوں سعید کے خلاف جعلی فیس بک پوسٹ کرنے پر انکوائری کے لئے طلب کر لیا –
ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم نے چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھا کو 8 اگست طلب کرتے ہوئے انہیں صبح 10 بجے جی 13 کے دفتر میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق پیش نہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ نعیم پنجوتھہ کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے یا بیان کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین قاسم کے ابو ہیں اور رہیں گے،شاہ محمود قریشی
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج ہمایوں دلاور کی متنازع فیس بک پوسٹس کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیاتھا، جس پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کردی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی۔
جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا
-

اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی،سینئیر صحافی
سینئر صحافی کامران خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ٹوئٹ انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کر چکے ہیں کہ بشری بی بی ان کی روحانی سرپرست تھیں۔یہ سب کچھ ایک روحانی حد میں رہتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا تاہم اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
By Imran Khan’s public admission, wife Bushra Bibi was his spiritual mentor. There wouldn't be any issues with this if it had stayed within the realm of his spiritual beliefs. While there were certainly other significant factors at play, irrefutable evidence suggests that Bushra… pic.twitter.com/jDBxj7Zjzl
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) August 6, 2023
کامران خان نے پانچ اہم سیاسی موڑ پر بشری بی بی کی مداخلت کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان کی سب غلطیوں کی ماں اہم سیاسی اور قومی اہمیت کے معاملات پر بشری بی بی کے توہم پرستانہ حساب کتاب سے راہنمائی اور اجازت لینا تھی بشریٰ بی بی کے صوفیانہ حسابات پر عمل کرتے ہوئے عمران خان نے یکطرفہ طور پر پنجاب اور کے پی کے حکومتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا
کامران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ پی ٹی آئی کے تقریباً ہر ایم این اے کی مخالفت کے باوجود، بی بی نے خان کو باز نہیں آنے دیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے زیادہ، بشریٰ بی بی چاہتی تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر برقرار رہیں اور بعد ازاں جنرل باجوہ کی جگہ آرمی چیف بنیں۔ اس پیش رفت نے خان کے COAS باجوہ اور ان کے کور کمانڈرز کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان
کامران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی عثمان بزدار کی سب سے بڑی حمایتی تھیں۔ انہوں نے کچھ صوفیانہ حسابات کی بنیاد پر خان کو قائل کیا کہ اقتدار میں ان کی بقا کا تعلق بزدار کے بطور وزیراعلیٰ رہنے سے ہے۔