Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پاکستان تحریک انصاف کی سابق ایم این اے منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں سابق رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات اور فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی بھرپور مذمت کرتی ہوں۔ جو کچھ ہوا غلط تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، ہمیں تمام اداروں کا احترام کرنا چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ ایک محب وطن پاکستانی کی طرح مجھے اپنی فوج پر فخر ہے، کوئی ایسی چیز جس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے ، افسوسناک ہے،ایک پاکستانی کی حیثیت سے ریاست کی بقا ہمارا فرض ہے، میں خود کو تحریک انصاف سے الگ ہونے کا اعلان کرتی ہوں۔

    ذرائع کے مطابق منزہ حسن کا بیرون ملک سے واپسی پر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا بھی امکان ہے ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے لیےالوداعی گارڈ آف آنر کی تقریب ملتوی

    اغوا کیا گیا جنوبی وزیرستان کا مقامی کرکٹر قتل،لاش گھر کے قریب سے برآمد

  • شاہ محمود قریشی  پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے لیے کام نا کرنے کے معاہدے کےتحت باہر ہیں،راجہ ریاض

    سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی معاہدے کے تحت باہر ہیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کےپروگرام میں گفتگومیں راجہ ریاض نےکہا کہ اسحاق ڈار اور شاہد خاقان کےنام بطور نگران وزیرا عظم زیر غور ہی نہیں آئے، وزیراعظم سے طے ہوا تھا کہ جب تک نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہیں ہوتا، سامنےنہیں لایا جائےگا، میں نےجو وعدہ کیا تھا پورا کیا ہوسکتا ہےکہ معاشی ماہرین کے نام نگران کابینہ میں ہوں، نگران وزیر خزانہ کوئی نہ کوئی معاشی ماہر ہی ہوں گے، میرا خیال ہےکہ نگران وزیرخزانہ ٹیکنوکریٹ ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ عام انتخابات فروری میں ہوں گے، الیکشن میں پی ٹی آئی ہوگی یا نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا،قریشی صاحب پی ٹی آئی کے لیےکام نہ کرنےکا معاہدہ کرکے باہر آئے ہیں، ان کا معاہدہ یہی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے لیے کام نہیں کریں گے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ہیں کچھ کہنے سے پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔

    یوم آزادی، قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی کمی

    دوسری جانب نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹر انوار الحق کاکڑ پر بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے، دیکھنا ہو گا نگران وزیراعظم صاف شفاف انتخابات کرا پائیں گے نگران کابینہ کیسی کابینہ چنتے ہیں جو غیر جانبدار ہو انوار الحق کاکڑ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے آئے ہیں، نگران وزیراعظم سے توقعات وابستہ کرنا بری بات نہیں،انوار الحق آئینی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں تو جمہوری قدروں میں اضافہ ہوگا، نگران وزیراعظم کا آئینی کا م صاف شفاف الیکشن کرانا ہے۔

    مصر میں سکندر اعظم کا 2200 پرانا مجسمہ دریافت

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لے گی، ن لیگ الیکشن آگے لے جانا چاہتی ہے ، الیکشن کے بارے میں مطلع ابرآلود دکھائی دے رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا کے فیصلے میں بہت سے نقائص موجود ہیں، اگر انوار الحق کاکڑ ماحول میں تبدیلی لاتے ہیں تو خوش آئند ہو گا۔

  • پشاور ہائیکورٹ میں سابق پی ٹی آئی سینٹر اورنگزیب خان کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق پی ٹی آئی سینٹر اورنگزیب خان کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سابق سینیٹر اورنگزیب خان سمیت 4 کارکنوں کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری سے روکنے کے متعلق کیسز کی سماعت ہوئی ہے،
    سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی، حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل دانیال اسد چمکنی پیش ہوئے۔ عدالت کو وکیل درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ میرا موکل 9 مئی کے واقعات کے دوران پاکستان میں موجود نہیں تھا اور اورنگزیب خان11 مئی سے 18 مئی تک دبئی میں تھا، وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ درخواست گزار کے پاسپورٹ سے بھی یہ واضح ہے کہ میرا موکل پاکستان میں نہیں تھا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیرون ملک ہونے کے باوجود 3 جولائی 2023 کو ڈی سی اوکزئی نے اس کے تین ایم پی او کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، عدالت کو اے اے جی کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ سینیٹر کے خلاف ایک کیس ہے، جس پر عدالت نے اورنگزیب خان سمیت دیگر 4 کارکنوں کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم کیا عدالت نے رکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی،

  • پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے آج ‘یومِ تشکّر و نجات’ منا نے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی جس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی،وزیراعظم نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی۔ ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی صدر کے دستخط کرتے ہی قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی تاہم نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے-

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر پی ٹی آئی نے یوم نجات منانے کا اعلان کیا ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پی ڈی ایم کے تقریباً 16 ماہ پر محیط راج کےاختتام پرآج یومِ تشکر منائے گی پارٹی کےکور کمیٹی کےاجلاس میں پی ڈی ایم کی نااہل حکومت کی تباہی کا تفصیلی تجزیہ ، بدترین مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کور کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران کان کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالتی سماعت پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

  • پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ میتھیو ملر کا ردعمل آیا ہے،

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا جن باتوں کے بارے میں رپورٹ کی گئی وہ سو فیصد بھی درست نہیں جو باتیں رپورٹ کی گئیں کسی بھی طرح سے یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی جانب سے روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے انتخاب پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے اس مبینہ مراسلے سے یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ امریکی قیادت اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے (امریکی اہلکار) کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتا میں کسی کی نیت پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے میں پہلی بات یہ کہوں گا کہ کس طرح سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب نکالا جا سکتا ہے دوسری بات یہ ہےکہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں :

    کوہ سلیمان پرشدید بارشیں،کار ندی میں بہہ گئی، 4 افراد جاں بحق

    غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو جانا چاہیے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ قریب قریب یہی مطلب ہے،انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات بھی ثابت نہیں کرتیں کہ امریکا نے کسی پاکستانی رہنما کا انتخاب کیا یا نہیں۔ہم نے سابق وزیر اعظم پاکستان کےدورہ روس پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق وزیر اعظم پاکستان نے روس کے یوکرین پر حملے والے دن دورہ کیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اوچ شریف: دریائے چناب عبور کرتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

    واضح رہے کہ 16 ماہ پر محیط 13 جماعتی مخلوط حکومت ختم ہوگئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے 15 ویں قومی اسمبلی کی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ۔ صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر لاہور میں دستخط کیے۔

    قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نگران وزیر اعظم کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیےمشاورت کریں گے اور نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کیلئے 3 دن کاوقت ہوگا، آئین کے آرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا-

    تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گےپارلیمانی کمیٹی تین دن کےاندرنگران وزیراعظم کےنام کو فائنل کرےگی،پارلیمانی کمیٹی کےنگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پرمعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا،الیکشن کمیشن دیےگئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔

    13 جماعتی اتحادی حکومت 15 ماہ 28 روزقائم رہی،مدت مکمل ہونے سے تین روزپہلے توڑی گئی۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوتےہیں۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.

  • چارسدہ،پی ٹی آئی سابق وزیر فضل شکور کا 14 آگست کو ریلی کا اعلان

    چارسدہ،پی ٹی آئی سابق وزیر فضل شکور کا 14 آگست کو ریلی کا اعلان

    خیبرپختونخوا کے سابقہ وزیر برائے قانون حاجی فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ کو ایک مراسلہ کے ذریعے آگاہ کیا کہ جشن آزادی کے موقع پر اپنے بزرگوں، مشران اور ورکرز کے ہمراہ ریلی کا انعقاد کر رہا ہوں۔
    فضل شکور خان نے مزید کہا کہ اس پر مسرت موقع پر ریلی کے ذریعے خوشی کا اظہار ہر پاکستانی کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ مذکورہ ریلی سے کسی کے جان، مال کاروبار اور مواصلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
    فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈی پی او چارسدہ سے ریلی منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے کی بھی گزارش کی ہے،

  • پی ٹی آئی حکومت نے جیل میں خود اے کلاس ختم کی تھی، فیاض الحسن

    پی ٹی آئی حکومت نے جیل میں خود اے کلاس ختم کی تھی، فیاض الحسن

    لاہور: استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں اے کلاس ڈیمانڈ غیر قانونی اور غیر منطقی ہے۔

    باغی ٹی وی :سابق وزیر اور سابق پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں جیلوں میں اے کلاس ختم کردی گئی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے جیل قوانین تبدیل کرکے خود اے کلاس ختم کی تھی پنجاب جیل رولز کے مطابق اب عام کلاس اور بی کلاس ہوتی ہے، بی کلاس میں ٹی وی، بیڈ، ٹیبل، کرسی اور اخبار کی سہولت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وکلا نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی، عمران خان نے وکلا سے میٹنگ میں کہا کہ مجھے باہر نکالو، جیل میں نہیں رہنا چاہتاجیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پرپھیلائی گئی مختلف ویڈیوز جعلی ہیں۔

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    یاد رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

  • قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی پٹیشنر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےوکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ روز ملاقات کا آرڈر کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نےاستفسار کیا کہ انہوں نے ملاقات نہ کرانے کی کوئی وجہ بتائی؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، آرڈر لیٹ جاری ہوا تھا 6 بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے، اور ایف آئی اے نے کل ایک وکیل کو بلایا اور آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا، خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔

    وکیل شیر افضل نے استدعا کی کہ لسٹ کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈرکردوں گا لیکن سیاسی اجتماع نہ بنائیے گا۔ جس پر وکیل شیر افضل نے یقین دہانی کرائی کہ سارے لوگ ایک دم نہیں جائیں گے، نوازشریف نے بھی اے کلاس سہولت لی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اے کلاس سہولت کے حقدار ہیں، لیکن انہیں 9×5 کے اٹک جیل سیل میں رکھا گیا ہے ، وہاں مچھر ہیں، حشرات الارض ہیں، بارش کا پانی بھی اندر گیا تھا۔

    جج نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش کے نام پر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو تنگ کیا جائے، قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے، ہر کسی کے حقوق ہیں، وکیل سے ملاقات کرانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ اس کو سیاسی معاملہ اور وہاں پر رش نا بنائیں، ایک ایک، دو یا تین وکلاء مل کر چلے جائیں، اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں اس لیے قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی رکھا جاتا ہے، کیا اٹک اور دیگر جیل بھجوانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل رولز کے مطابق اے کلاس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں اے کلاس نہیں اس لیے وہاں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کو بیرک کے بجائے سیل میں رکھا گیا ہے، رات کو بارش کا پانی بھی اس کمرے میں گیا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہو سکتا ہے سیکیورٹی کے باعث بیرک میں نا رکھا گیا ہوچیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا گیا تھا مگر اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔

    چیف جسٹس استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کے بجائے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھجوانے کا آرڈر کس نے کیا؟ ٹرائل کورٹ نے سزا دی مگر بطور قیدی حاصل حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صرف جیل میں اے کلاس کے حق سے محروم کرنے کے لیے اٹک جیل میں رکھا گیا، سابق وزیرِ اعظم کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دینے کا بھی آرڈر کیا جائے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ قیدی کی جیل منتقلی کا فیصلہ کون کرتا ہے، پرسوں تک پوچھ کر بتائیں۔وکیل شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ اس کیس کو پرسوں کے بجائے کل سماعت کے لیے رکھا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ طبیعت خرابی کے باعث شاید کل میں دستیاب نہیں ہوں گا عدالت نے کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔