Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع

    ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع

    لاہور: سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دن کی توسیع کر دی۔

    باغی ٹی وی: انسدادِ دہشتگردی عدالت میں 4 مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر پیش کیا گیاانسدادِ دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے مقدمات کی سماعت کی پولیس کی جانب سے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کا جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے، عدالت جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کا حکم صادر کرے عدالت نے پولیس کو مقدمہ کا چالان جلد مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے، ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17 اگست تک توسیع کر دی۔

    انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے دوسری بار چیف سلیکٹر تعینات

    یاد رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد پر جناح ہاؤس، (ن) لیگ کے دفتر اور عسکری ٹاور پرحملے کروانے اور تھانہ شادمان کو جلانے کا الزام ہے، ملزمہ کیخلاف گلبرگ، شادمان، ماڈل ٹاؤن اور سرور روڈ تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کا فیصلہ

  • مکافاتِ عمل ، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے،ریحام خان

    مکافاتِ عمل ، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے،ریحام خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا طنزیہ ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : ریحام خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں اٹک جیل کی مختصر تاریخ بتاتے ہوئے لکھا کہ اٹک جیل کو برطانوی حکمرانوں نےبغاوت میں ملوث لوگوں کو قید کرنے کے لیے بطور جیل استعمال کیا تھا ریحام نےایک اور طنزیہ ٹوئٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے ابھی تک احتجاج کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی-


    ریحام خان نے ایک ڈیجیٹل میڈیا کو انٹرویو میں عمران خان کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ یہ قدرتی عمل ہے ، جو عمران خان کے ساتھ ہوا وہ مکافاتِ عمل ہے، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے، ملک دشمنی کے نعرے لگا رہے تھے،تحریک عدم اعتماد کے بعد جو عمران خان نے کیا، میں نے ٹوئٹ کے ذریعے قمر جاوید باجوہ کو پیغام دیا تھا کہ ہم پہ جو بیتی ہے وہ تو ہم نے سہی ہے، آپ پہ جو گزرے گی وہ دنیا دیکھے گی-

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    ریحام نے کہا میں نے متعدد انٹرویوز میں بتایا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد یہ شخص جو کرے گا وہ پوری دنیا دیکھے گی، بہت سے لوگوں کو تعجب ہوگا کہ میں اس کیس کو فالو نہیں کر رہی تھی، میں نے خبر دیکھی تو پتہ چلا کہ عمران خان پر ایک لاکھ جرمانہ ہوا ہے، جسے سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

  • عمران خان اٹک جیل میں قید ہونے والے پہلے سابق وزیراعظم

    عمران خان اٹک جیل میں قید ہونے والے پہلے سابق وزیراعظم

    اٹک: سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ سے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک لاہور سے گرفتاری کے بعد ہفتہ کی شام ڈسٹرکٹ جیل اٹک لے جایا گیا جہاں انہوں نے پہلی رات گزاری-

    باغی ٹی وی :پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پہلے انھیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے اسلام آباد منتقل کرنے کی خبریں گردش کرتی رہیں تاہم بعدازاں پی ٹی آئی چئیرمین کو سخت سیکیورٹی میں بذریعہ موٹر وے جیل لے جایا گیا۔ جیل کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سخت حفاظتی دستوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اٹک پولیس کو ہدایت ملتے ہی جیل کے اطراف پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

    اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ عمران خان کے لیے جیل میں ایک وی وی آئی پی سیل تیار کیا گیا تھا۔ سیل میں ایئر کنڈیشننگ کی کوئی سہولت نہیں ہے لیکن اس کے اندر ایک پنکھا، بستر اور ایک واش روم ہے۔

    واضح رہے کہ اٹک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا آخری شمالی شہر ہے جو سنہ 1904 میں انگریزوں کے دورِ حکومت میں کیمبل پور کے نام سے آباد کیا گیا تھا دریائے سندھ کے بائیں کنارے جہاں 120 سال پرانا شہر اٹک موجود ہے وہاں تھوڑے ہی فاصلے پر ‘اٹک خورد’ یعنی چھوٹا اٹک کے نام سے ایک گاؤں اس کہیں پہلے وجود رکھتا ہے۔

    عمران خان پہلے سابق وزیراعظم ہیں جو اٹک جیل میں بند ہیں جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو 1999 میں اٹک قلعہ میں قید کیا گیا تھا اس سے قبل انہیں 10 سالہ جلاوطنی پر جدہ بھیج دیا گیا تھا اٹک جیل اور قلعہ الگ الگ احاطے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔

    پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے،غیر ملکی ماہرین

    قلعہ اٹک خورد میں مغل بادشاہ اکبر کے دور میں 1581-83 میں خواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دریا کے گزرنے کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا یہ قلعہ صوبہ خیبرپختونخوا سے متصل دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ قلعہ کا داخلی راستہ راولپنڈی-پشاور جی ٹی روڈ کی طرف سے ہے، اس تاریخی قلعے کا ایک حصہ آج بھی پاکستانی فوج کے ‘سپیشل سروسز گروپ’ یعنی کمانڈوز کے زیرِ انتظام ہے۔

    دوسری جانب اٹک جیل شہر کے وسط میں راولپنڈی پشاور ریلوے ٹریک کے ساتھ واقع ہے۔ اسے برطانوی حکمرانوں نے 1905-06 میں 67 ایکڑ پر تعمیر کیا تھا برطانوی حکمران اس جیل کو زیادہ تر بغاوت میں ملوث لوگوں کو حراست میں لینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اسے اب ملک کی ایک ہائی سیکیورٹی جیل سمجھا جاتا ہے جہاں عام طور پر سخت زیر سماعت قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

    اسی قلعے میں سابق فوجی صدر ضیاالحق کے خلاف مبینہ طور پر بغاوت کے مقدمے سمیت بینظیر بھٹو کے خلاف مبینہ سازش کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے،اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت بھی اسی تاریخی قلعے میں ہوتی رہی ہے اور وہ ایک طویل عرصے تک یہیں قید رہے۔

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی …

    اٹک کی ضلعی جیل شہر کے قیام کے ایک برس بعد 1905 میں قائم کی گئی اور پنجاب کے محکمۂ جیل خانہ جات کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں 539 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت وہاں اس سے کہیں زیادہ یعنی 804 افراد قید ہیں۔

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 1999 میں اٹک فورٹ کی احتساب عدالت سے مشہور MI-8 ہیلی کاپٹر کک بیک کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد اٹک جیل میں رکھا گیا تھا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز، سابق وزیراعلیٰ کے پی سردار مہتاب احمد خان، سابق وزیر مواصلات اعظم خان اور ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی جیل میں قید ہیں اس سال کے شروع میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

  • اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم پنجوتھا کا کہنا ہے کہ اٹک جیل کی انتظامیہ نے عمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: نعیم پنجوتھا کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے اٹارنی اور دیگر دستاویزات پر دستخط کرانے ہیں لیکن جیل کی انتظامیہ نے عمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا جیل انتظامیہ نےکہا پاور آف اٹارنی کے لیے پیر کو رابطہ کریں، اگر پیر کو بھی ملاقات نہ کرنے دی گئی تو ایک دن مزید ضائع ہو جائےگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وکیل نعیم پنجوتھا چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اٹک جیل پہنچے تھے جہاں سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل ور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی اجازت مانگی،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے تا حال جواب نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی آئی سے پاور آف اٹارنی اور مختلف درخواستوں پر دستخط کروانے ہیں۔

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر اپیل دائرکرنےکیلئے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کےدستخط کروانے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی سے خیریت، کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی پوچھنا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہورمیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا تھا جہاں سے انہیں اٹک جیل منتقل کیا گیا۔

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی …

  • آپ عوام کو ہر دفعہ اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے،مریم اورنگزیب

    آپ عوام کو ہر دفعہ اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات اور رہنما مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سیاسی نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کودیئے گئے خصوصی انٹرویومیں مریم اورنگزیب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کا پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، مقدمہ عدالتوں میں رہا، مقدمہ تفتیش کے مراحل میں رہا اور ٹرائل کے عمل سے بھی گزرا، پھر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا الزامات تھےکہ ایک شخص اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا رہا، ایک شخص جو اپنے دفاع میں شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا، مزید 4 مقدمات بھی ہیں جو ٹرائل کورٹس میں ہیں جن میں سے ایک کیس 19کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے متعلق ہے، یہ ایک مقدمہ ہے جو پایہ تکمیل کو پہنچا اور ٹرائل کورٹ نے اپنا فیصلہ دیا، ایک شخص نے 15ماہ قانون سے فرار اختیار کیا اس کے خلاف عدالت نے فیصلہ کیا، کسی شک و شبہ کے بغیر بددیانتی ثابت ہونے پر عدالت نے اپنا فیصلہ دیا ایک کیس سائفر سے متعلق، ایک 9 مئی اور ایک بیرونی فنڈنگ کا کیس ہے، ایسے شخص کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے جس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، 9مئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی اپنے دفاع کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تھے لیکن نواز شریف نے نیب کی 150 پیشیاں بھگتیں، قانون کو دھمکیاں دینے سے آپ مقدمات سے نہیں بچ سکتے اور آپ عوام کو ہر دفعہ اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کا جواب دیا اور عدالتیں موجود ہیں جہاں الزامات کا جواب دینے کا سب کو حق ہوتا ہے۔

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی مخالفین کو قید کروایا اور اپنے دور میں میڈیا کارکنوں پر بھی تشدد کرایا، پہلی بار دیکھا کسی سیاسی جماعت نے پیٹرول بمبوں کا استعمال کیا ہو،، بچوں اور عورتوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا پرامن احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت یا کارکن کا جمہوری حق ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ زمان پارک میں پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔ کیا سرکاری املاک، اسپتالوں اور اسکولز پر حملہ کرنے والوں کو رعایت دی جا سکتی ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی 9مئی کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی سے معیشت کی خرابی کا پوچھا جائے تو وہ کابینہ پر ڈال دیتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی نے ریاستی تحائف بیچے اس لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سیاسی نہیں ہے۔

    پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے،غیر ملکی ماہرین

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا، نیب اور ایف آئی اے کو استعمال کیا، جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا گیا، پھر ہم نے 9 مئی کے واقعات دیکھے، 9 مئی کو فوجی تنصیبات، اسپتالوں اور ایمبولینسوں پر حملے کیے گئے کیپٹل ہل پر حملے میں ملوث لوگوں کو سزا دی جا چکی ہے، قانون میں آپ کو اپنے عمل کا جوابدہ ہونا پڑتا ہے، ایسا شخص جو عدالت میں مجرم ثابت ہو چکا ہو اسے گرفتار ہونا ہی ہے، ٹرائل کورٹ میں ریفرنس بھیجا گیا، 40 پیشیوں کے ذریعے دفاع کا موقع بھی دیا گیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ مجھے ریاستی تحائف ملے میں نے توشہ خانہ میں جمع کرا دیئے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی عدالت میں سوالوں کا جواب دینے سے قاصر رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالتی حکم پر گرفتار کیا گیا اور کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا۔

    قبل ازیں وزیر اطلاعات اور رہنما مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی کو یہ ابہام ہے کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو اس تفصیلی فیصلے کو دیکھیں جس میں لکھا ہے کہ عمران خان کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنا موقف پیش کریں عمران خان نے بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور سوال پوچھے جانے پر ’ریاستی اداروں پر حملے‘ کیے۔

    پاکستان دنیا بھر میں گنجان آبادی کے اعتبار سے کونسے نمبر پر؟

  • حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی آئی

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی آئی

    چیئرمین پی ٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پرپی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ الزام صرف یہ ہے کہ اثاثہ جات میں رقم لکھی تفصیل نہیں لکھی اس فارم میں رقم کی تفصیل کا آپشن ہی نہیں ہوتا۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کا کہنا تھا کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کوسب سےسخت سزا سنائی ہے، حق دفاع کا کیس اب بھی ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے، جب دائرہ اختیار طے نہیں ہوا تو مرکزی کیس پر کیسے فیصلہ سنا دیا گیا۔سیاست دانوں کے کیسز میں فیصلہ آنے میں سالوں لگ جاتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو عجلت میں سزا کیوں سنائی گئی چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے، فیصلہ اسلام آباد سے آیا، گرفتارلاہور سے کرلیا گیا، وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیسے ہوا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف 180 کیسز ہیں، ملزم ایک وقت میں ایک کیس میں پیش ہوسکتا ہے، عدالت کچھ انتظارکرلیتی تو آسمان نہیں گرجاتا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    واضح رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی عدالتی فیصلے کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھااسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی۔

    اپنے قائد کی رہائی کیلئے بھرپور قانونی لڑائی لڑیں گے،کور کمیٹی

  • چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جمہوری اصولوں کے احترام اور قانون کی حکمرانی کا کہتے ہیں،عمران خان اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،جمہوری اصولوں کا احترام لازم ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپےجرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی عدالتی فیصلے کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

  • عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    بھارتی ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے کہا ہے کہ نے پاکستان کی بڑی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کی گرفتاری کے حوالے سے بھارتی ریٹائرڈ میجر گورونے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے-


    انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اورخالصتانیوں میں ایک چیز مشترک ہےوہ بیرون ممالک میں موجود ہیں اور صرف ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے گراؤنڈ زیرو – زمین پر صفر کی اصطلاح کو ایک نیا معنی دیا ہے۔

    میجر گورر نے کہا کہ آج 2019 میں، ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیادنیا کی "نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی” کو نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اوردنیا کی "نمبر ون فوج” نےاس بارے میں کچھ نہیں کیا،عمران خان، امت مسلمہ کےغیرمتنازع حکمران صرف پیچھے بیٹھ گئے اور ٹویٹ کیا۔ واحد اسلامی ایٹمی ہتھیار رکھنے والی ریاست اس پر او آئی سی کو اکٹھا بھی نہیں کر سکی۔

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی


    میجر گورو نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کو 30 منٹ تک دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا اور جلد ہی ان کی بھی دلچسپی ختم ہو گئی۔ وہ ویسے بھی کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے جب تک کہ لائن کے دوسرے سرے پر کھانا نہ ہو آج پاکستانی فوج کشمیر کی بات نہیں کرتی۔ یہ "کارپوریٹ زراعت” کے لیے 10 لاکھ ایکڑ اراضی (پاکستان میں) لینے کی بات کرتا ہے جو کچھ بھی ہو۔ یہ ہے جذ بے والی قوم اور ان کو کشمیر چاہئیے-

    چئیرمین تحریک انصاف کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی ریٹائرد میجر نےکہا کہ عمران خان کی گرفتاری ہمارے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا دھچکا ہے۔ ان جیسا کوئی شخص تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہو گا، کوئی ایسا شخص جو اپنی انا میں اتنا بڑھ گیا ہو کہ پاکستان کی تباہی اس کے عزائم کی ادائیگی کے لیے ایک چھوٹی سی قیمت تھی۔

    انہوں نےمزید کہا کہ عمران خان اکیلے اسٹیبلشمنٹ کو ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہو گئے۔ اس نے پاکستان کی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا۔ یہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ پاکستان میں فعال ادارے نہیں ہیں۔ اپنی تمام تر خرابیوں کے لیے فوج ہی وہ گلو ہے جو ملک کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔ وہ گوند تقریباً 9 مئی کو اکھڑ گیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار


    میجر گورو نے کہا کہ عمران خان نے سی پیک کا پروجیکٹ روک دیا اس نے پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کو آباد کرنے کی پوری کوشش کی اور انہیں سانس لینے کی جگہ دی۔ جب آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا جا رہا تھا تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کردیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اسٹیج کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ اگلی حکومت کو ناکام ہونا پڑا بھارت کی سرمایہ کاری؟ صفرمیری دعا ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران کے حق میں حل ہو جائے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ وہ ون مین اسٹرائیک کور ہے اور اس کا ہدف راولپنڈی ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے جب میجر گورو آریا نے عمران خان کو پاکستان کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہو اس سے قبل بھی رواں سال گورو آریا نے پاکستان آرمی کو ایک طاقتوراور پروفیشنل ادارہ قراردیا ہے جس نے تمام قوم کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ میجر گوروآریا نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف بیان دیکر اپنی ہی فوج کا نقصان کررہے ہیں، اس لیے بھار ت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    کیونکہ بھارت کا کام عمران خان اچھے انداز میں کررہے ہیں ۔عمران خان اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اگر پاکستان کی آرمی مضبوط ہوگی توپاکستان کے پاس کم سے کم ایک ادارہ ایسا ہے جو مضبوط ہوگا۔

    پاکستانی آرمی صرف فوج ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک گلیو(گوند) ہے جس نے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں ایک ہی کریڈیبل ادارہ ہے اور وہ پاکستان آرمی ہے ۔انہوں نے پھر زور دیکر کہا کہ وہ فوج ہے ہی نہیں وہ گوند ہے جس نے سب کو اکھٹا کررکھا ہو اہے گٓورو آریا نے مزید کہا کہ ’’آپ ہمیں دشمن کہتے ہو تو ہم آپ کو دشمن کہتے ہیں ، لیکن آپ کے اندر والا بندہ بنا پیسے خرچ کرے ،خود اندر( پاکستان کو ) اتنا نقصان پہنچا رہا ہے ،یہ بہت بڑی چیز ہے ۔

    سب پاور کے لیے کام کرتے ہیں سب کی قیمت ہوتی ہے ۔ عمران خان کی قیمت اس کی انا ہے ، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھار ت سے پیار کرتا ہے مگر وہ پاکستان سے بھی پیا رنہیں کرتا ۔ عمران خان کی انا اور گھمنڈ پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے اور بھارت کے لیے فائدہ مند ہے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

  • قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین سے ملاقات کیلئے ان کی قانونی ٹیم اٹک جیل پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی: وکیل نعیم پنجوتھا چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اٹک جیل پہنچے، جہاں سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل ور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی اجازت مانگی،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے تا حال جواب نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی آئی سے پاور آف اٹارنی اور مختلف درخواستوں پر دستخط کروانے ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر اپیل دائر کرنے کیلئے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے دستخط کروانے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی سے خیریت، کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی پوچھنا ہے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین کو اٹک جیل منتقل کردیا گیا پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 6 بج کر 50 منٹ پر اٹک جیل منتقل کیا گیا، جہاں جیل مینویل کے مطابق ان کا میڈیکل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک لاہور سے گرفتار کیا، جس کے بعد وفاقی پولیس نے سابق وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچایا تھا۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا تھا،اسلام آباد کی سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے والد محمد سعید گرفتار

  • یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے چار سال میں مخالفین پر جھوٹے مقدمے بنائے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئرمرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے پوری قوم کو تقسیم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کہتا تھا آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا، آئی ایم ایف سےمعاہدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کی گئی، جب ہمیں یہ ذمہ داری ملی تو آئی ایم ایف نے کہا آپ کا اعتبار نہیں دوست ممالک نےبھی کہا کہ آئی ایم ایف سےمعاہدہ کر لیں،آئی ایم ایف معاہدے کو پورے کرتے کرتے ہمیں سال لگ گیا، آئی ایم ایف معاہدے پر عمل نہ کرتے تو ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا،آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ پیٹرول اورگیس پر سبسڈی ختم کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اداروں اور تنصیبات پر حملے کیے، جن لوگوں نے یہ کیا ہے انہیں قانون اور عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، آئین اور قانون کے مطابق ملک آگے بڑھتا رہے گا، ان لوگوں کے تانے بانے ملک کے باہر دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں،میں نے کہا ہے جیل میں قانون کےمطابق ہرسہولت دی جائے لیکن کوئی ممنوعہ چیز نہ دی جائے، اگر جان ٹوٹنے پہ آئے تو ڈاکٹر ز سے مشورہ کر کے دیئے جائیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    لیگی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ملک کو لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی سے پاک کیا تھا ، 2018میں پاکستان ترقی کر رہا تھا جسے روکا گیا ، بدقستمی سے ایک شخص کو دھاندلی سے لایا گیا اور ترقی کو روکا گیا،لو گوں کو کہا گیا ن لیگ کا ٹکٹ واپس کرو اور آزاد الیکشن لڑو یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے، 2018میں ایک پراجیکٹ کو لا کر وہ پچھتا رہے ہیں اور اپنا کیا ہوا صاف کر رہے ہیں، اگر یہ تجربہ نہ کیا ہوتا تو ملک میں اب ترقی ہوتی، چیئرمین پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہیں،ہم پنجاب اور وفاق میں حکومتیں بنائیں گے، ترقی کے روکے ہوئے سفر کو دوبارہ شروع کریں گے۔

    اپنے قائد کی رہائی کیلئے بھرپور قانونی لڑائی لڑیں گے،کور کمیٹی

    رانا ثنا کا کہنا تھا کہ ایک سال میں جتنی ہو سکی عوام کو سہولیات دی ہیں، دوبارہ ملک اس طرح کے حادثے سے دو چار نہیں ہو گا، ایک سال بعد ہم آپ سے آ کر یہ پوچھیں گے کہ کوئی اور کام ہے تو بتاو، نوجوانوں کو بدتمیزی اور مخالفیں کو گالیاں دینے سے کیا ملک ترقی کر سکتا ہے، اگر 1999اور 2018والے کام نہ ہوتے تو ملک اب ترقی کر چکا ہوتا۔