Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • ایم کیو ایم کے کنوینراس وقت بلکل بے بس ہیں،سعید غنی

    ایم کیو ایم کے کنوینراس وقت بلکل بے بس ہیں،سعید غنی

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیر بلدیات سندھ سعیدغنی نے ایم کیو ایم پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی :رپورٹ کےمطابق صوبائی سعید غنی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گذری کےعلاقے میں اکبری فٹبال گراونڈ کا افتتاح کردیا، ان کے ہمراہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے مرزا اختیار بیگ، وقار مہدی دیگرموجود تھے۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے اکبری فٹبال گراونڈ کا افتتاح کیا ہے، پیپلزپارٹی نے جو ترقیاتی منصوبوں کا پلان کیا تھا وہ پورا ہورہا ہے، رمضان میں بھی اور رمضان کے بعد بھی کئی منصوبوں کےافتتاح ہونے ہیں، اس فٹبال گراونڈ کی حالت بہت خراب تھی ،اس فٹبال گراونڈ میں چھوٹا سا پارک بھی بنایا گیا ہے، گورنر سندھ کومزید سیکیورٹی کی ضرورت ہے تو ہم فراہم کریں گے، صرف دھمکیوں کی بناپرصوبےکی امن کےصورتحال پربات نہیں کرسکتے۔

    وزیراعظم کی چینی کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت

    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے لوگوں کو روزگار دے لیکن یہ نہیں ہوسکتاکہ سڑکوں کو بند کرکے روزگارفراہم کیاجائے، اگر ریڑی والے روڈ پر دکان بنا کر روزگار کریں گے تو یہ غلط ہے، ہمیں لوگوں کو سہولیات دینی ہے امید ہے اس علاقے کے لوگ کھیلیں گے،صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے،امید ہے یہاں سے بڑے کھلاڑی نکلیں گے-

    وزیر بلدیات نے کہا کہ سندھ حکومت نے جتنا کھیلوں میں کام کیا ہے شاید اتنا کسی اور نے نہیں کیا ہو، ہاکی، فٹبال اور دیگر کھیلوں کے گراونڈ بنائے ہیں، ہم کوشش کرتے ہیں ہر سہولت فراہم کریں، ایم کیو ایم والےفارغ ہوگئے، ایم کیو ایم پی ایس پی کے قبضے میں ہے، ایم کیو ایم کے کنوینراسوقت بلکل بے بس ہے کے ایم سی،واٹر کارپوریشن کےواجبات ہیں،وہ ایم کیو ایم کے دورمیں رہے ہیں،کے ڈی اے نے ہم سے 3 ارب مانگے ہیں وہ ہم ان کو دے رہے ہیں۔

    مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کیلئے رجسٹریشن کا آغاز 5 مارچ سے

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں بلکل پانی کا مسئلہ ہے، لیکن اب پانی ضائع نہیں ہورا ہے پانی شہرمیں ٹھیک طرح سےآرہاہے، یونیورسٹی روڈ پر کچھ لیکیج تھے آج بہتر ہوگیا ہے۔

  • بلاول بھٹو وزیراعظم بننے کے مستحق ہیں، ہم فارم 47 والے نہیں، فارم 45 والے ہیں، شرجیل میمن

    بلاول بھٹو وزیراعظم بننے کے مستحق ہیں، ہم فارم 47 والے نہیں، فارم 45 والے ہیں، شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئیر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو وزیراعظم بننے کے مستحق ہیں، ہم فارم 47 والے نہیں، فارم 45 والے ہیں-

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئیر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ2 لاکھ سے زائد خاندانوں کو میرٹ پر سولر سسٹم دیئے جا رہے ہیں،سیلاب متاثرین کیلئے 21 لاکھ گھرانوں کی تعیمر کاکام جاری ہے،سندھ میں وہ کام ہو رہے ہیں جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے،سندھ حکومت لوگوں کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کر رہی ہے،مستحق افراد میں شمسی توانائی کی تقسیم بلاول بھٹوکا ویژن ہے،شمسی توانائی سسٹم ان کو دے رہے ہیں جن کے گھر بجلی نہیں ہے،سولر سسٹم کی کامیاب تقسیم پر وزیر توانائی مبارکباد کے مستحق ہیں،سندھ حکومت نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں میں متعدد جدید ترقیاتی منصوبے مکمل کیے-

    انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے اینٹی نارکوٹکس کو آٹو میٹڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ڈبل کیبن گاڑیوں کی کمرشل رجسٹریشن کرا کر ذاتی استعمال کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ پریمیئم نمبر پلیٹس سے حاصل رقم سندھ پیپلز ہاسنگ سیل کو منتقل کی جائے گی، سندھ کابینہ نے مزید الیکٹریکل بسوں کی پروکیورمنٹ کی منظوری دے دی ہے، ڈبل ڈیکر بسز کی بھی منظوری لی ہے-

    تمام بینک 3 مارچ کوعوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے

    شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے ہر محکمے میں اچھے کام ہوئے ہیں، ٹرانسپورٹ کا محکمہ خواتین کے لیے فری پنک اسکوٹر دینے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن خواتین کے پاس 2 وہیلر لائسنس ہو گا انہیں اسکوٹر دی جائے گی، ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے خواتین کو الیکٹرک بائیک دیں گے، اسٹوڈنٹ، ملازمت پیشہ خواتین الیکٹرک بائیک کی اہل ہوں گی جن خواتین کو بائیک چلانی نہیں آتی انہیں لیڈی انسٹرکٹر کے ذریعے تربیت دلوائی جائے گی، جن خواتین کو الیکٹرک بائیک ملے گی اسے 7 سال تک فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔

    جاپٔان میں شرح پیدائش 125 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت کا فوکس عوام کو ریلیف دینا ہے، ہم نے کے فور کے ڈیزائن پر اعتراض کیا تھا، وزیرِ اعلی اور میں انجینئر ہیں، ہمارا اعتراض درست ثابت ہوا۔

  • جو جماعت 16 سال سے کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکی وہ ہمیں لیکچر نہ دے،عظمی بخاری

    جو جماعت 16 سال سے کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکی وہ ہمیں لیکچر نہ دے،عظمی بخاری

    لاہور:وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نےوزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہےکہ مسلسل شعلہ انگیزیاں آپ اور آپکے لوگ دے رہے ہیں، ہمیں تو کبھی کبھی جواب دینا پڑ جاتا ہے تو آپ خفا ہوجاتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عظمیٰ بخاری نے کہا کہآئینہ انکو دکھایا تو برا مان گئے، صوبائیت کارڈ کھیلنا آپ کی پرانی عادت ہے، سندھ میں تمام بڑے پروجیکٹ وفاق کی مدد سےچل رہے ہیں،کہتے ہیں ہم نے کبھی سیاست نہیں کی، کیا ہر معاملے میں چچا بھتیجی کا ذکر کرنا سیاست نہیں ؟ ہماری مجبوری ہے کھل کر آپکو جواب بھی نہیں دے سکتے، ورنہ سندھ کے بلدیاتی الیکشن سے لے کر بہت ساری کہانیاں ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔

    سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں کوئی منصوبہ ایک سال میں مکمل ہوجائے تو آپ تڑپنا شروع کردیتے ہیں، سندھ میں جانور بندھے سکولوں اور ٹرانسپورٹ کا رونا سالوں سے لوگ رو رہے ہیں، اپنی حکومت کی 16 سال کی کارکردگی اور مریم نواز کی 1 سال کی کارکردگی کا جب دل چاہے معائنہ کرلیں، جو جماعت 16 سال سے کراچی کا کچرا نہیں اٹھا سکی وہ ہمیں لیکچر نہ دے، اگر اپ کو کبھی صفائی اور خوب صورت سڑکیں دیکھنے کا شوق ہو تو لاہور لازمی چکر لگائیں۔

    سندھ دریا سے نہریں نکالنا نامنظور، 23 فروری کو سندھ،پنجاب بارڈر پر دھرنے کا اعلان

    واضح ہے کہ سیہون میں ہونے والے حادثے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نےکہا تھا کہ عظمیٰ بخاری نے سیہون حادثے پر سیاست کرنے کی کوشش کی، پنجاب کی وزیر اطلاعات صاحبہ کو حقائق کا پتا نہیں، جس روڈ کی بات کی جارہی ہے وہ نیشنل ہائی وے ہے، یہ ن لیگ کی وفاقی حکومت کی نااہلی ہے جو یہ روڈ مکمل نہ کرسکی، پنجاب کی وزیر صاحبہ جب بیان دیتی ہیں تو سوچ لیں کہ جواب آئے گا۔

    سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے،شرجیل میمن

  • کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی حقیقت جان چکے ہیں، شرجیل میمن

    کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی حقیقت جان چکے ہیں، شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئیر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم والے اپنے داخلی تضادات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے الزامات کی سیاست کھیل رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا کہا کہ متحدہ ہر دور میں سیاسی مفادات کے لیے کراچی کے عوام کے جذبات کا بدتر استعمال کرتی رہی ہےنفرت کی سیاست نے متحدہ کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے لیکن ایم کیو ایم کے لیڈران اب بھی باز نہیں آ رہے ہیں متحدہ کے رہنما بار بار نفرت، تعصب، تقسیم اور فریب کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں۔

    عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی حقیقت جان چکے ہیں اور اب بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی تمام پاکستانیوں کا شہر ہے، متحدہ کراچی کی ٹھیکیدار بننے سے گریز کرے کراچی کے بچے ہمارے بھی بچے ہیں اور عوام جانتے ہیں کہ کراچی کے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب کے بجائے بندوق کس نے دی تھی ایم کیو ایم کراچی پر دہائیوں تک حکمرانی کرتی رہی اور آج حقوق کی بات کرتی ہے۔

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

  • موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں،بلاول

    موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں،بلاول

    جامشورو: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں۔

    باغی ٹی وی : مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو میں کانووکیشن میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن بھی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تھے،کانووکیشن کی تقریب میں صوبائی وزرا اور اراکین صوبائی و قومی اسمبلی نے بھی شرکت کی، کانووکیشن میں 19 پی ایچ ڈی، 58 ماسٹرز اور سافٹ ویئر انجینئرنگ شعبے 80 طالب علموں کو ڈگری سے نوازا گیا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوان تعلیمی میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں، نوجوانوں کے راستوں سےرکاوٹیں ہٹانا ہوں گی نوجوان آگےبڑھ کر ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، کامیاب ہونے والے طلبہ کے لیے آج خوشی کا دن ہے، سندھ خوبصورت ثقافت کی حامل دھرتی ہے-

    لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ بجھنے کی امید

    طلباسے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا ہم ایسے عہد میں زندگی گزار رہے ہیں جس کا چہرہ ٹیکنالوجی بنا رہی ہے موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور سائبر کرائمز بھی اس عہد کے بڑے چیلنج ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا، نوجوانوں کے راستے سے رکاوٹیں ہٹائیں، مدد کریں اور ہاتھ تھامیں، وادی سندھ کی تہذیب ہزاروں سال پہلے بھی بہت ترقی یافتہ تھی، موئن جو دڑو میں جدید ترین شہری انفرا اسٹرکچر موجود تھا۔

    سابق ٹی وی میزبان اور تجزیہ کار نے امریکی وزیر دفاع کا عہدہ سنبھال لیا

    انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کی ترقی میں انجینئرز کا اہم کردار ہے، دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے، ہمیں بھی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا لیکن افسوس ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں فیک نیوز کے چیلنج کاسامناہے، جدید ٹیکنالوجی کو صرف انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کیاجاناچاہیے۔

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

  • خاتون اول آصفہ بھٹو   شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت  کی مشکور

    خاتون اول آصفہ بھٹو شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت کی مشکور

    راولپنڈی: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی : دورے کے دوران خاتون اول کو پروفیسر ڈاکٹر پین شیانگ بن کی سربراہی میں چینی ماہرین ِامراض قلب کی ٹیم نے بریفنگ دی ،بریفنگ میں کہا گیا کہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں الٹراساؤنڈ رہنمائی کے تحت دل کی پیدائشی اور ساخت سے متعلق بیماریوں کا جدید طبی طریقہ کار سے چینی تعاون سے پہلی بار علاج کیا جا رہا ہے-

    اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زئے ڈونگ اور کمانڈنٹ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میجر جنرل نصیر احمد سامور بھی موجود تھے-

    چینی سفیر نے کہا کہ چین امراض قلب کی جدید طبی خدمات کا دائرہ بلوچستان تک بھی بڑھائے گا،چین پاکستانی ڈاکٹروں کو امراض قلب کے جدید طریقہ علاج بارے تربیتی مواقع بھی فراہم کرے گا، چین پاکستان کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھائے گا-

    خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،خاتون اول نے دل کے مریضوں کو جدید ترین علاج فراہم کرنے پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی انتظامیہ کو بھی سراہاخاتون اول نے اے ایف آئی سی میں مختلف وارڈز کا دورہ کیا، مریضوں سے بات چیت کی اور انہیں پھول پیش کئے،آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے کمانڈنٹ نے خاتون اول کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی-

  • پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مرکزی حکومت کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانیوں کی پیش رفت کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت کراچی میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزرائے اعلیٰ بلوچستان اور سندھ سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے گورنرز فیصل کریم کنڈی اور سردار سلیم حیدر نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی روشنی میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں شرکا نے وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اس پر بلاول بھٹو نے ہدایت کی کہ حکومت کے ساتھ اپنے رابطوں کو مزید تیز کیا جائے، تاکہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس ہو تو اس میں ان رابطوں کا مثبت نتیجہ سامنے رکھا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو نظرانداز کر رہی ہے، طے تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتظامی معاملات میں حصے دار ہوں گے، (ن) لیگ ہمارے گورنرز سے مشاورت نہیں کر رہی ہے۔16 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی، سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے، معذرت کے ساتھ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درا?مد ہوتا ہے، ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔انہوں نے آئندہ ماہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مرکز میں حکومتی اتحاد پر ممکنہ نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا تھا۔لاول بھٹو نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ووٹرز اور صوبائی حکومتوں کی مسلم لیگ (ن) سے شکایات ہیں۔اس بیان کے بعد 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو سونپ دی تھی۔وزیر اعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے اراکین میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب شامل تھے۔اس کے علاوہ سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، گورنر بلو چستان جعفر خان مندوخیل اور بشیر احمد میمن بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

  • فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری کیلئے آصف زرداری سے رابطہ کیا تھا، شہلا رضا کا دعویٰ

    فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری کیلئے آصف زرداری سے رابطہ کیا تھا، شہلا رضا کا دعویٰ

    اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے آرمی چیف بننے کے لئے صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ فیض حمید اور زرداری نے مبینہ طور پر طویل المدتی سیاسی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جس میں آرمی چیف کی تقرری بھی شامل ہےیہ کہا گیا تھا کہ فیض حمید نے دوسروں کے ساتھ مل کر طویل حکمرانی کا منصوبہ بنایا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری پر بات کرنے کے لیے زرداری سے بھی رابطہ کیا تھا۔

    انہوں نے موجودہ سیاسی ماحول پربات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پارٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے بارے میں اپنے خدشات کی پشت پناہی کی ،انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) پر کارروائی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا،ہم نے نوٹ کیا کہ تین اجلاس ہونے چاہیے تھے، ایک بھی نہیں بلایا گیا،ان کا کہنا تھا کہ ”ہمیں کلیدی مسائل پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جیسے کہ دریائے سندھ سے پانی نکالنا،انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ متاثرہ افراد کے نام فراہم کرے۔

  • پی پی اور ن لیگ کی رابطہ کمیٹی کی اہم بیٹھک،پی پی وفد کے گلے شکوے

    پی پی اور ن لیگ کی رابطہ کمیٹی کی اہم بیٹھک،پی پی وفد کے گلے شکوے

    اسلام آباد: پیپلزپارٹی اور حکومتی کمیٹیوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی –

    باغی ٹی وی: پاکستان پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پی پی کی رابطہ کمیٹی کے درمیان اہم بیٹھک ہوئی ہے،دونوں سیاسی جماعتوں کے وفود کی اہم بیٹھک پنجاب ہاؤس کی گورنر انیکسی میں ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں حکومتی کمیٹیوں سے طویل ملاقات میں پی پی وفد نے لیگی کمیٹی کے سامنے خوب گلے شکوے کئے،ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی کے وفد نے مسلم لیگ ن کو مختلف امور پراپنے تحفظات سے آگاہ کیا، پی پی نے پنجاب میں کمیٹیوں کی سفارشات پر بھی عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے موقع پر لیگی کمیٹی نے پیپلزپارٹی کے تحفظات پر اعلیٰ سطح پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، حکومت وفد نے پی پی تحفظات دور کرنے کیلئے مزید وقت مانگ لیا، اجلاس میں تحفظات کے خاتمے کیلئے ایک اور نشست پراتفاق کیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کی جانب ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، احد چیمہ اور امیر مقام ملاقات میں موجود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کا9 رکنی وفد راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں موجود ہے، جس میں نوید قمر، شیری رحمان، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ ،وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، گورنر خیبرپختنخوا فیصل کریم کنڈی، سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود اور علی حیدر گیلانی بھی شریک ہیں۔

  • بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی  کمیٹی کا ورچوئل اجلاس

    بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی کمیٹی کا ورچوئل اجلاس

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارٹی کی کمیٹی برائے قومی ایشوز کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم ملکی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغٰی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے مختلف قومی امور پر بات چیت کی اور حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے۔اجلاس میں پی پی پی کمیٹی برائے قومی ایشوز کے ارکان شامل تھے، جن میں راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، مخدوم احمد محمود، نوید قمر، سید مراد علی شاہ، سردار سلیم حیدر، فیصل کریم کنڈی، میر سرفراز بگٹی اور علی حیدر گیلانی نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کل حکومتی کمیٹی سے ملاقات کرے گی، جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان ملک کے اہم مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔پی پی پی کی کمیٹی برائے قومی ایشوز کے اجلاس میں ملکی سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور تمام ارکان نے ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔واضح رہے کہ یہ اجلاس پی پی پی کی طرف سے قومی سطح پر اہم فیصلوں میں مشاورت کی ایک کڑی ہے، جو پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق کی گئی۔

    مریم نواز چین پہنچ گئیں، پرتپاک استقبال