Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ کا ملک بھر میں عدالتی نظام میں جدت لانے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا ملک بھر میں عدالتی نظام میں جدت لانے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے ملک بھر میں عدالتی نظام میں جدت لانے کا فیصلہ کیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی قائم کر دی گئی،سپریم کورٹ نے نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے قیام کا اعلامیہ جاری کر دیا،اعلامیہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے ممبر ہیں، ہائیکورٹس اور وفاقی شریعت کورٹ کے ججز بھی کمیٹی کے اراکین ہوں گے،کمیٹی عدالتی نظام میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس سمیت جدت پر نیشنل پلان مرتب کرے گی،کمیٹی عدالتی نظام میں ڈیجیٹل جدت لائے گی،کمیٹی انصاف کی بہتری اور کیسز کے طریقہ کار کیلئے موبائل ایپ بنائے گی، کمیٹی عدالتی نظام اور تحقیق میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس متعارف کرائے گی،

    اعلامیہ کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ کو ٹیکنالوجی میں جدت اپنانی چاہیے،دنیا صنعتی انقلاب سے ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ چکی ہے،یہی وقت ہے کہ عدالتی نظام کو بھی تربیتی پروگرامز سے روشناس کرایا جائے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ انصاف کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن صرف تبدیلی کی شروعات ہے، انصاف تک رسائی کو مزید بہتر بنانے پر یقین رکھتا ہوں، ملک کیلئے شفاف اور موثر قانونی عمل کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہوں،

    اعلامیہ کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے ہائیکورٹ دور میں ریسورس سینٹر اور م آٹومیشن پروجیکٹ شروع کیا، جسٹس منصور علی شاہ کے شروع کردہ نظام سے لاہور ہائیکورٹ میں کیس فلو مینجمنٹ سسٹم بنا،جسٹس علی مظہر نے سندھ ہائیکورٹ کو آئی ٹی ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے، نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی،قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی ہے، قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے چیئرمین چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی ہیں،قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا سیکریٹریٹ قانون و انصاف کمیشن میں ہے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟ چیف جسٹس

    کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟ چیف جسٹس

    ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت،حکمنامہ

    سپریم کورٹ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس کا حکم نامہ لکھوا دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پیش کیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹی او آرز ایک ہفتے میں شامل کر لیں گے،ہم اب کیس دو ماہ بعد سنیں گے، اٹارنی جنرل سے استدعا کی کہ سماعت 20 جنوری کے بعد کی جائے، کسی کو استثنی نہیں سب کو کمیشن بلا سکتا ہے،کمیشن ابصار عالم کے نام لیے گئے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی نظر ثانی درخواست واپس لینے پر خارج کر دی، شیخ رشید عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نظرثانی کی درخواست آخر دائر ہی کیوں کی تھی،چار سال تک اس کیس کو لٹکائے رکھا، سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں کوئی ہمت نہیں کرتا ، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں،یہ معاملہ مذاق نہیں ہے پورے ملک کو آپ نے سر پر نچا دیا، یہ کوئی مذاق نہیں جب چاہے درخواست دائر کی جب دل کیا واپس لے لی، نظر ثانی درخواستیں اتنا عرصہ کیو ں مقرر نہیں ہوئی یہ سوال ہم پر بھی اٹھتا ہے، کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی، سب سے پہلے ہم خود قابل احتساب ہیں، نظرثانی کی درخواست آجاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں،پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جارہا، کیونکہ نظرثانی زیر التوا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید سے استفسار کیا کہ آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظرثانی کا کہا تھا، شیخ رشید نے کہا کہ نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے مجھے کسی نے نہیں کہا تھا،وکیل نے کہا کہ شیخ رشید اپنی درخواست واپس لینا چاہے ہیں، عدالت نے کہا کہ عدالت شیخ رشید کی نظرثانی درخواست نمٹا رہی ہے،آپ نے یہ درخواست دائر کیوں کی تھی؟ ایک ہی دن میں اتنی درخواستیں کیسے داخل ہوئی تھیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر ابھی ایک کمیشن بنا ہے، یہ کوئی مذاق نہیں، جب درخواست واپس لینی ہے تو دائر کیوں کی تھی؟ ہم تنقید کو برداشت کرتے ہیں لیکن سسٹم کومیناپولیٹ نہیں کرنے دینگے، ہمارا کوئی اور دشمن نہیں ہم خود اپنے دشمن ہیں،
    مومن کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا،کیا آپ کو ملک کی مزید خدمت کرنے کا موقع ملا تو کرینگے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا تھا کہ نظر ثانی داخل کریں ،آئی ایس آئی کی رپورٹ میں آپ کا ذکر تھا ، فیصلے میں نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے کمیشن کے تشکیل کا نوٹیفکیشن عدالت میں جمع کرادیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نوٹیفکیشن پڑھیں گے؟ وزارت دفاع میں سے کسی کو کمیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اس کمیشن سے تعاون کرنےکی پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ایم این اے رہ چکے اور وزیر رہ چکے وہ تودھرنے کے ذمہ دار ہیں ناں؟ جلاؤ گھیراؤ کاکہتے ہیں تو اس پر آپ قائم بھی رہیں ناں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کہیں ناں کہ ہاں میں نے دھرنے حمایت کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کو روسٹرم پر آکے بولنے سے روک دیا،کہا کہ آپ سے نہیں پوچھ رہے آپ کے وکیل سے پوچھ رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ شیخ رشید ایک سینئر پارلیمنٹیرین ہیں،آپ کے حوالے سے عدالت نے کچھ نہیں کہا،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی کمیشن یا تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ہے یا پھر نئی تاریخ لکھےگا،ہمیں امید ہے کہ انکوائری کمیشن آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا،انکوائری کمیشن اپنا کام مکمل کر لے پھر کوئی رائے دی جاسکتی ہے، ابصار عالم نے کہا کہ انکوائری کمیشن سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم صاحب کمیشن پر ابھی سے خدشات کا اظہار نہ کریں،انکوائری کمیشن کو اپنا کام کرنے دیں،آپ نے سابق وزیر اعظم،آرمی چیف اور چیف جسٹس کو خط لکھا تھا،انکوائری کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ سب کو بلا سکتا ہے،ہوسکتا ہے ساٹھ دنوں میں آپکی بات سچ نکل آئے،امید پر دنیا قائم ہے، ہم پہلے سے ہی شک نہیں کرسکتے، سچ تو تفتیشی بھی نکال سکتا ہے، چار سال سے کچھ ہمارے سامنے نہیں آیا 60 دن میں اب رپورٹ آجائے گی،ابصار عالم نے عدالت میں کہا کہ میں بحال نہیں ہونا چاہتا، صرف عدالتی نظام کی بہتری چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی جومرضی ہے کریں لیکن تقریرنہیں کرسکتے، ابصار عالم اپنی برطرفی کیخلاف اپیل بحال کرانا چاہتے تھے،ابصار عالم نے اپنی متفرق درخواست واپس لےلی

    قبل ازیں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی پر عمل درآمد کیلئے کمشین تشکیل دیدیا، تین رکنی کمشین میں سابق آئی جی طاہر عالم، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ خوشحال خان بطور ممبر ہونگے،وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی اختر علی شاہ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا،کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا،وفاقی حکومت نے کمیشن کے 10 ٹی او آرز طے کردیے،فیض آباد دھرنا کے دوران ٹی ایل پی کو کس نے غیر قانونی فنڈنگ یا دیگر سہولیات فراہم کیں،کمیشن دھرنے کے تناظر میں فتوے دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تجویز بھی دے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سرکاری افسران کیلئے”صاحب“ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد

    سرکاری افسران کیلئے”صاحب“ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کے لیے ”صاحب“ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر تے ہوئے ریمارکس دیئے کہ صاحب کا لفظ آزاد قوم کی عکاسی نہیں کرتا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں مردان میں 9 سالہ بچے کے قتل کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،چیف جسٹس نے ناقص پولیس تفتیش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس تحقیقات کو شرمناک قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے تحقیقات پر کچھ کام نہیں کیا، سپریم کورٹ کو مجسٹریٹ کی عدالت بنا دیا گیا ہے، بچہ مر گیا اور پولیس کی تفتیش کا حال یہ ہے، ناقص تفتیش کر کے کہتے ہیں عدالت نے ملزم چھوڑ دیا، ،چیف جسٹس نے پولیس اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کا پیٹ کیوں اتنا نکلا ہوا ہے، آپ ایک فورس ہیں۔

    سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

    چیف جسٹس نے دوران سماعت سرکاری افسران کے لیے“صاحب“ کا لفظ استعمال پر پابندی عائد کردی اور کہا کہ ڈی ایس پی کے ساتھ ”صاحب“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، صاحب کا لفظ آزاد قوم کی عکاسی نہیں کرتا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے قتل کیس کے ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔

    قبل ازیں رواں سال 28 ستمبر کو بھی سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کے لیے صاحب کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا تھا سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے زمین کے معاوضے کےکیس میں سرکاری ملازمین کے اپنے افسر کے لیے صاحب کا لفظ استعمال کرنے پر چیف جسٹس نے سخت سرزنش کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ صاحب کیا ہوتا ہے؟ ہم 1947 میں آزاد ہو گئے تھے، یہ غلامی والا تاثر ذہنوں سے نکال دیں۔

    ورلڈ کپ سیمی فائنل:بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی اجازت کے بغیر پچ …

    عدالت نے قرار دیا تھا کہ ممبر کے نام کے ساتھ صاحب کا لفظ استعمال کرنا مائنڈ سیٹ کو ظاہر کرتا ہے، دفاتر میں سرکاری ملازمین کے لیے صاحب کا لفظ حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے، صاحب کا لفظ استعمال کرنے کی آئین میں کوئی شق موجود نہیں ہے۔

  • زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس

    زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں زمین کے زبانی معاہدہ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے زبانی معاہدہ پر ریلیف دینے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زبانی معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پنجاب میں زمین کے معاہدوں کو بہت زیادہ لٹکایا جاتا ہے، زبانی معاہدوں کا دروزاہ ہمیں اب بند کرنا ہوگا، لوگوں نے بھی اراضی پر معاہدے کرنا چھوڑ دیئے ہیں ،لوگ سمجھ چکے کہ وکلا ایسے کیسز 20سال تک لٹکا دیتے ہیں، درخواستگزار معاہدہ بھی زبانی کرتاہے اور ریلیف بھی عدالت سے مانگتا ہے، کیا زبانی معاہدہ کرکے قرآن پاک کی آیت کی خلاف ورزی نہیں ہوئی،قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق بھی معاہدہ زبانی نہیں تحریری ہوتا ہے، درخواستگزار مقررہ مدت میں طے شدہ رقم جمع کروانے میں ناکام رہا،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،درخواستگزار محمد رفیق نے 4ایکٹر اراضی خریدنے کے لئے 152ملین کا معاہدہ کیا تھا ،درخواستگزار دو ماہ میں صرف 15ملین رقم ادا کر سکا تھا

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    سپریم کورٹ میں خاتون سے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات کے جواب نہ دینے پر وکیل پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں، ہم کون ہیں؟ بادشاہ سلامت؟ درخواست ضمانت چلانے کے لئے عدالت کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے،تین بار پوچھ چکے ہیں کہ چالان کہاں ہیں، وکیل خاتون نے کہا کہ ٹرائل میں اب تک کچھ ثابت نہیں ہوا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا قانون میں لکھا ہے کہ کیس کا چالان جمع نہیں ہوتا؟ ایسے تو کہیں نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،درخواستگزار حسینہ بی بی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کی تھی

    کوٹی ڈکیت گینگ کے 2 خطرناک ملزمان گرفتار

    بزدار کے لاہور میں طالبہ کے ساتھ دست درازی،ویڈیو سامنے آ گئی

    مسجد کے اندر بچے کیساتھ بدفعلی کی کوشش کرنیوالا قاری گرفتار

    خواتین گروہ کے ہاتھوں درجنوں افراد کے لُٹنے کا انکشاف

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اعتراضات اٹھا دئیے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے اعتراضات سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرا دیئے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق کی کونسل میں شمولیت پر اعتراض کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے جسٹس نعیم اختر افغان پر بھی اعتراض کیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے ریفرنس اور شواہد کی نقول بھی مانگ لیں،

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جس انداز سے میرے خلاف کارروائی شروع کی گئی اِس سے میرے بنیادی قانونی حقوق سلب کئے گئے، انصاف کے صحیح تقاضے پورے کرنے کیلئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو میرے خلاف کیس نہیں سننا چاہئیے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرا دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ممبران میرے بارے میں جانبدار ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کا حصہ ہیں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے ممبران کو میرے خلاف جوڈیشل کمیشن کا حصہ نہیں ہونا چاہیے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم افغان کو میرے خلاف کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے جانبدار سپریم جوڈیشل کونسل کا جاری کردہ اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جانبدار ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا سپریم جوڈیشل کونسل اکثریت سے صرف حتمی رائے صدر مملکت کو بھجوا سکتی ہے جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو رولزبنانے کی اجازت ہی نہیں دیتا، چیف جسٹس اور جسٹس سردار طارق جوڈیشل کونسل رولزکوپہلے ہی غیر آئینی کہہ چکے ہیں، شوکاز نوٹس میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی دونوں ججز نے کوئی وجہ نہیں بتائی شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں بحث ہوئی نہ کسی سے معلومات لی گئیں جسٹس سردار طارق کے کیس میں کونسل نے شکایت کنندہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور شواہد مانگے میرے کیس میں شکایت کنندہ کو بلایا نہ ہی مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا جو موقع جسٹس سردارطارق کوکونسل کی جانب سے دیا گیا وہ مجھے نہیں ملا، میرے خلاف کارروائی سیاسی ایما پر ہو رہی ہے، میرے خلاف کارروائی غیر قانونی اور نامناسب ہے

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    زمین ملکیت کیس، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، سالہا سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کریں گے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے

    عدالت نے کیس کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کر دیا، درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • چیف جسٹس نے اپنے متعدد انتظامی اختیارات رجسٹرارسپریم کورٹ کو تقویض کردیئے

    چیف جسٹس نے اپنے متعدد انتظامی اختیارات رجسٹرارسپریم کورٹ کو تقویض کردیئے

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے متعدد انتظامی اختیارات رجسٹرارسپریم کورٹ کو تقویض کردیئے ہیں، جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ اسلم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی( پی اے سی) سے متعلق معاملات میں مکمل با اختیار ہوں گی، پی اے سی امور پر رجسٹرار کا فیصلہ فل کورٹ یا چیف جسٹس کی منظوری سے مشروط ہوگا،آڈٹ اور محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی بھی امور رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے انجام دیں گی، سپریم کورٹ کا سالانہ بجٹ پلان کوبھی رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے حتمی شکل دیں گی۔

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ : پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے عید گاہ پر سیکرٹریٹ کی تعمیر پر محکمہ اوقاف اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیا، وکیل نے لہا کہ پندرھویں صدی کی مسجد اور عید گاہ ہے۔ صوبائی حکومت وہاں سیکرٹریٹ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسجد نہیں عید گاہ کی زمین ہے۔ عید گاہ کی زمین تو اوپن ہوتی ہے۔زمین کی ملکیت کس کی ہے، ؟ وکیل نے کہا کہ زمین مسلم کمیونٹی کی ملکیت ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ مسلم کمیونٹی کسی این جی او کا نام ہے؟ زمین کسی کو ملکیت تو ہوگی۔ جو دستاویز آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق یہ وقف کی زمین ہے۔ وکیل نے کہا کہ پشاور مرکزی عید گاہ پر وزیر اعلی سمیت نامور شخصیات عید نماز ادا کرتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سیکرٹریٹ تعمیر کا سائیٹ پلان کدھر ہے۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اگر عید گاہ مسجد کیساتھ مولوی صاحب کی کوارٹر تعمیر ہو اس پر آپکو اعتراض ہوگا۔وکیل نے کہا کہ مولوی کے کوارٹر پہلے سے تعمیر شدہ ہے ۔عدالت نے محکمہ اوقاف صوبائی حکومت کو نوٹس کردیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات