Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے،طلال چوہدری

    چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے،طلال چوہدری

    فیصل آباد: رہنما (ن) لیگ طلال چوہدری نے چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔

    باغی ٹی وی : فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ، اس نے غریب کی روٹی بھی نہیں چھوڑی جبکہ میاں نوازشریف کو ایک سازش کے تحت ہٹایا گیا اورعمران خان کولانے کیلئے مخصوص قسم کے فیصلے سنائے گئےملک کو آئین کےمطابق چلایا جائے۔

    پیپلزپارٹی کا سندھ کے بعد پنجاب میں بھی احتجاج کا اعلان

    طلال چوہدری نے کہا کہ ایک مرتبہ پھرعمران خان کی سہولت کاری کیلئے ماحول بنایا جارہا ہے ایسا ماحول اب نہیں بن سکے گا-پارلیمنٹ کھڑی ہے پارلیمنٹ جان گئی ہے سیاسی قیادت اب اپنا حق جا ن گئی ہے اور اپنا حق لینا جانتی ہے اب ایسا نہیں ہوھا اب 2017 یا 18کا کھیل نہیں کھیلا جا سکے گا پاکستان میں انتخاب ہو گا مگر وہ انتخاب جو پاکستان کی ضرورت ہے وہ انتخاب نہیں جو عمران خآن کی خواہش ہے وہ انتخاب نہیں جس میں صرف عمران خان کو جتایا جائے وہ انتخاب ہو گا جس میں لوگ ووٹ سے جیتیں-

    سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی،اسحاق ڈار

    طلال چوہدری نے کہا کہ آڈیولیکس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں یہ آڈیو بھی ہماری مؤقف کی تائید کررہی ہےنئے قانون کے تحت قائم بینچز کے فیصلے مانے جائیں گے نئے قانون کے تحت بینچ نہ بنا تو فیصلہ قبول نہیں کریں گے فیصلے آئین نہیں، ایک شخص کی مرضی سے ہو رہے ہیں چیف جسٹس کومستعفی ہوجانا چاہئے، نااہلوں کواہل قرار دینے کے فیصلے قبول نہیں کریں گے۔

    کینیا میں مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنیوالے فرقہ کے 47 افراد کی لاشیں …

  • چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو لیک ہوگئی ہے جس میں

    باغی ٹی وی : لیک آڈیو میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس ماہ جبین نون کہتی ہیں ہیلو رافعہ کیا ہو گا یار میں تو رات سے نا عمر کیلئے پڑھ پڑھ کے میں تمہیں بتا نہیں سکتی دعائیں مانگ مانگ کے صبح سےبہت پریشانی ہے-

    عمران خان سے ملاقات کیلئے 1 کروڑ روپے دینا ہوں گے. اعجاز چودھری کی مبینہ آڈیو لیک


    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کی اہلیہ رافیعہ طارق کہتی ہیں یار لوگوں کو بھی کہا ہے اور عمر کو ایک پیغام بھیجا میں نے ،جس میں میں نے کہا کہ تم نے لاہور کے جلسے میں وہاں موجود تھی وہاں لاکھوں بندہ تھا اسی طرح ہر شہر میں لاکھوں بندہ ہے اور تم صرف یہ اندازہ لگا لو کہ تمہارے لئے کتنی دنیا دُعا کر رہی ہے اس وقت جس سے تمہاری ہمت اور سیفٹی ، میں نے عمر کو کہہ دیا ہے کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں اور دعا کر رہی ہیں آپ ڈٹے رہیں۔

    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اللہ تعالی اسے ہمت دے اور اس کے مطابق جس پر خواجہ طارق کی اہلیہ بات کاٹتے ہوئے کہتی ہیں نہیں نہیں اس کی حفاظت ضروری ہے-

    مبینہ آڈیو لیک : اعجاز چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا


    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں ان کو کمزور کرے اورا ن (چف جسٹس ) کو ہمت دے ،رافعیہ طارق کہتی ہیں ان کو تو اللہ کرے جو باقیوں کو ندھا کر دے میں تو یہ کہہ رہی ہوں وہ تو وہ تو اس ملک کے غدار ہیں دیکھو جس طرح وہ کر رہے ہیں –

    چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں کہ وہی نا لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اسے(چیف جسٹس عمر عط بندیال) کوایسا کرنے کا اختیار کیوں ملا،چیف جسٹس پی ٹی آئی کو جان کر فائدہ دے رہے ہیں اور اب دوسری چیزیں بھی اس پر ڈال رہے ہیں،اور سوال بھی کہ سومو موٹو کیوں دیا گیا ہے،عمر کو تو نہیں دیا نا یہ تو پہلے کا ہوا ہوا ہے-

    سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ آن لائن لیک ہوگئی

    جس پر پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں نہیں کوئی اور دوسری چیز نہیں ڈال رہے بلکہ سوموموٹو تو اس کا حق ہے ،یہ تو ہر چیف جسٹس کا حق ہے ،اگر آپ نے قانون بدلنا ہے تو اپنی مرضی سے بدلو ویلا نا لیکن اس ٹائم نہیں،جس پر ماہ جبین نون کہتی ہیں لیکن اب اسے تبدیل نہیں کر سکتے-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ابھی نہیں وہ اسے بعد میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ابھی نہیں۔ یہ قانون ہے،ماہ جبین نون کہتی ہیں قانون ہے وہی نا-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ہاں وہی تو وہ اتنا اچھا کر رہا ہے،عمرعطا بندیال کی ساس کہتی ہیں تم بالکل نا آؤ تم عمر کے ساتھ رہو اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے –

    کراچی:مختلف پولیس مقابلوں میں ایک ڈاکوہلاک جبکہ چار ڈاکوگرفتار

    رافعیہ طارق کہتی ہیں نہیں نوین بھی نا آئے اور میں نے یمان کو بھی کہا ہے بیٹا ہر وقت اپنے ابا کے ساتھ رہو ،میں تو رت کو میں نے تو رات کو میں نے دونوں کو اس کو اور منیب کو گڈ بھیجا تو دونوں نے پتہ کیا مجھے بھیجا وہ نہیں شکل ہوتی تو کہ دانتوں میں آپ دبا لیتے ہو اپنی زبان ،مجھے کہہ رہے تھے محتاط رہیں،میں کیوں محتاط رہوں کیوں؟

    ماہ جبین ہتی ہیں یا ر جلدی سے جلدی الیکشن ہوں ابھی ،رافیعہ طارق کہتی ہیں الیکشن دیکھونا اگر یہ نہیں ہوتی نا پھر یہ سمجھ لیں کہ پھر مارشل لاء لگے گا یہ نہیں رہ سکتے نا بس بات ختم، ماہ جبین کہتی ہیں مارشل لاء بھہ وہ کمبخت نہیں لگانے کو تیارنا پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں بالکل تیار ہیں-

    بیوی کی حراست کے بعد خالصتان کے حامی امرت پال سنگھ نے گرفتاری دے دی

  • ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے سارے اختیارات پر قبضہ کرکے عدالتی مارشل لاء لگادیا۔

    باغی ٹی وی: مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بڑا انکشاف کیا کہ چھ افراد کے درمیان اسمبلی توڑنے کی تاریخ طے ہوئی، ملاقات میں الیکشن کا نیا شیڈول متعین ہوا اگلے سال مارچ میں الیکشن کرانے کی تاریخ طے ہوئی، طے ہونے کے باوجود وعدہ پورا نہیں ہوا، مذاکرات میں جنرل فیض کے ساتھ چوہدری پرویز الہی بھی تھے۔

    سوڈانی فوج اورریپڈ ایکشن فورسز کے درمیان جھڑپیں،دونوں کا صدارتی محل پر قبضہ کرنے کا …

    عدالت کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کی نفی کی جارہی ہے، ایسے لوگوں سے بات کرنے میں کوئی ملکی مفاد نہیں، ایکٹ بنا نہیں اور چیف جسٹس نے 8 رکنی بینچ بنادیا، کیا دوسرے فریق کی بات سنی گئی، ہم انسان اور سیاسی لوگ ہیں، ایسا نہیں کہ جانوروں کی طرح ہر چیز قبول کرتے رہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آئینی طور پر اختیارات تقسیم ہیں، ہر ادارہ کا اپنا دائرہ اختیار ہے، الیکشن کمیشن کے اختیارات آپ نے سلب کرلیے، یہاں تک کہ الیکشن کا شیڈول تک دے دیا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہٹانا انتظامی معاملہ ہے، کہا گیا کہ رجسٹرار نہیں جائے گا، ہم نے آئین کا سہارا لیکر جبر کو تسلیم نہیں کرنا۔

    مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کی اسٹیبلشمنٹ سے ماضی کی اسٹیبلشمنٹ سےدھاندلی کرانےکی تحقیقات کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے۔

    شہید ڈی ایس پی کا بھی تبادلہ کر دیاگیا

    انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون منظور کرتی ہے ابھی ایکٹ بنا بھی نہیں لیکن چیف جسٹس نے بینچ بنادیا، آئینی طور پر اختیارات تقسیم ہیں پھر کیوں مداخلت کی جارہی ہے، کسی ادارے کو دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    فضل الرحمٰن نے عمران خان سے کسی بھی مذاکرات کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سیاست کا غیر ضروری عنصر ہے، سیاست اتنی گرگئی ہےکہ ہم اس سےمذاکرات کی بات کرتے ہیں ہم اس سےکبھی مذاکرات نہیں کریںگے 2018 میں اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کی پشت پناہی کررہی تھی، کیا ہم موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرسکتے ہیں کہ وہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے اس ناجائز، ظلم و دھاندلی کے جرم کا احتساب کرسکے گی۔

    مردم شماری میں 20 اپریل تک توسیع

    آصف زرداری کی اپوزیشن سے مذاکرات کی تجویز سے متعلق سوال کے جواب میں فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اپنا سیاسی فلسفہ ہے،ہم نے پہلے بھی کہا تھا اسمبلیوں سے مستعفی ہوں اور نئے الیکشن کی طرف جائیں لیکن پی پی پی نے کہا عدم اعتماد لائیں ہم نے اتفاق کیا، ہماری بات مان لی جاتی تو آج الیکشن ہوچکے ہوتے اور ملک میں کوئی ہیجان نہ ہوتا، آج اسی کو ہم بھگت رہے ہیں، وہی مہنگائی آج ہمارے لیے مشکل کا باعث بن رہی ہے اور عمران خان اسے اپنی اڑان کےلیے استعمال کررہا ہے، اب ہم نئے تجربے نہیں کرسکتے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    انہوں نے کہا کہ ہمارے دھرنے کو اٹھانے کے لئے جنرل باجوہ کے نمائندےجنرل فیض،پرویز الہیٰ شجاعت اورہماری ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں طے ہوا تھا اسمبلیاں توڑ کے الیکشن کرائیں گے تاریخ بھی طے ہوئی تھی، لیکن دھرنا ختم ہونے کے بعد پھر وہ مکر گئے، کہا ایسی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی، اتنی ذمہ دار پوسٹس پر بیٹھنےوالےلوگ بھی ایسی کچی باتیں کرتےہیں، نہ چوہدری صاحبان کو آج تک احساس ہے کہ ہم نے زبان دی تھی، ایک وعدہ نہیں جنرل باجوہ اور فیض حمید کی کس کس بات کو روئیں گے، اب ان کے ادارے کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس بارے میں خود سوچیں تمام جماعتوں کا اتفاق ہے الیکشن اکٹھے ہوں گے، اس پورے قومی تصور کو عمران خان کے لیے قربان نہیں کرسکتے۔

    پی ٹی آئی رہنما علی زیدی گرفتار ہو گئے

  • چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس/شکایت دائر کر دی گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے، معروف قانون دان میاں دائود ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات تین تا چھ اور نو کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے

    سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیاہے، چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے بل کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر8 رکنی بنچ تشکیل دیا ، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی خود سربراہی کر کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی سات ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بنچ بل کیخلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہےلیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کیخلاف حکم امتناعی جاری کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی بطور اکثریتی ججز کے فیصلے کی پابندی نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹس صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق جہاں ججز کا مفاد سامنے آجائے، وہاں لازمی پابندی عائد کی گئی ہے کہ ججز اس کیس سے خود کو الگ کر لیں گے لیکن چیف جسٹس بندیال سمیت مستقبل کے مذکورہ بالا تینوں جج صاحبان نے اس لازمی آئینی پابندی کو نظرانداز کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان بندیال نے کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کے آئین اور مس کنڈکٹ کیا اور اوپن کورٹ میں بیان دیا کہ جسٹس مظاہر نقوی کو ساتھ بٹھا کر کسی کو پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے جج کے ساتھ کھڑے ہیں، ٹیکس تنازع پر جج کیخلاف ٹرائل نہیں کر سکتے، چیف جسٹس بندیال کا یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف صرف ٹیکس تنازع کا نہیں بلکہ باقی سنگین بدعنوانیوں کے الزامات بھی ثبوتوں کے ساتھ ریفرنس میں شامل تھے۔میاں دائود ایڈووکیٹ نے اپنے ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو غلام محمود ڈوگر کیس میں اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا اورچیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جو مس کنڈکٹ کےزمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال انتظامی اختیارات کے بدترین ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں جبکہ تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہی ہیں۔ چیف جسٹس بندیال جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزمفادات کے ٹکرائو کے اصول پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزذاتی سیاسی دلچسپی کے مقدمات کی سماعت کے مرتکب ہوئے ، سپریم کورٹ کے 8ججز خود کو مقدمات پر اثرورسوخ استعمال کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزباقی ججز کے ساتھ باہمی تعلقات بہتررکھنے میں ناکام ہوئے اور اس طرح چیف جسٹس بندیال سمیت 8ججز سپریم کورٹ کی عوام میں بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

    ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔آٹھ ججز کیخلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔ چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کیخلاف ریفرنس آنے کے بعدان کی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہونگے۔ ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،بنچ میں جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی بنچ کا حصہ ہیں ،پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی بل کو چار مختلف درخواست گزاروں نے چیلنج کررکھا ہے،درخواستوں میں پارلیمنٹ سے منظور ترمیمی بل کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے

    وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے قاسم سوری کیس کے بعد سیاسی تفریق میں بہت اضافہ ہوا ہے وفاقی حکومت اورالیکشن کمیشن انتخابات کرانے پر آمادہ نہیں عدالت کو انتخابات نہ کرانے پر ازخود نوٹس لینا پڑا ،امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی، دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدر کو بھجوایا گیا،صدر مملکت نے اعتراضات عائد کرکے بل اسمبلی کو واپس بھیجا، سیاسی اختلاف پر صدر کے اعتراضات کا جائزہ نہیں لیا گیا،مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد 10 روز میں بل قانون بل جائے گا، آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ اپنے رولز خود بناتی ہے،بل کے تحت ازخود نوٹس اور بنچز تشکیل کا فیصلہ 3 رکنی کمیٹی کرے گی، بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ بل قانون بننے کے لائق ہے، کابینہ کی جانب سے بل کی توثیق کرنا غیرقانونی ہے،بل کابینہ میں پیش کرنا اور منطوری دونوں انتظامی امور ہیں بل کو اسمبلی میں پیش کرنا اور منظوری لینا بھی غیر آئینی ہے، بل زیرالتوا نہیں بلکہ مجوزہ ایکٹ ہے، صدر منظوری دیں یا نہ دیں ایکٹ قانون کا حصہ بن جائے گا، سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کو کالعدم قرار دے سکتی ہے

    وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ حسبہ بل کے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے منطور شدہ بل کا جائزہ لیا،حسبہ بل کیس ناقابل سماعت ہونے کے اعتراضات سپریم کورٹ نے مسترد کئے،سپریم کورٹ نے حسبہ بل کو غیر آئینی قرار دیا،حسبہ بل صدارتی ریفرنس کی صورت میں سپریم کورٹ آیا تھا، موجودہ کیس آرٹیکل 184/3 کا ہے جس میں عدالت ذیادہ بااختیار ہے،آرٹیکل 184/3 میں سپریم کورٹ شادی ہال تک گرانے کا حکم دے چکی ہے،عدالت کے تمام احکامات بنیادی حقوق کے پیرائے میں تھے،کیا عدلیہ کی آزادی عوام کا بنیادی حق نہیں ہے؟مجوزہ قانون کے زریعے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی آئین 184/3 میں اپیل نہیں نظرثانی کا حق دیتا ہے، سپریم کورٹ کا ایک جج دوسرے جج کے خلاف اپیل نہیں سن سکتا، کئ مرتبہ ہم وکلاء بھی 184/3 کا شکار ہوئے ہیں، عام مقدمات میں نظرثانی کیس پانچ منٹ بھی نہیں چلتا کچھ مقدمات میں نظر ثانی مقدمات کئی ماہ چلتے ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمینٹ عدلیہ کے اندرونی معاملے کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بل سے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو نقصان پہنچے گا، جیسے پارلیمنٹ اور دیگر ادارے پروٹیکٹڈ ہیں،ایسے ہی عدلیہ بھی ہے، آپ کو علم ہے کہ تمام ججز برابر ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ نکات ایسے ہیں جس پر آپ کا جواب چاہئے، عدالت آئین کی محافظ اور انصاف کرنے کیلئے بااختیار ہے، تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں، سپریم کورٹ کے رولز موجود ہیں جن میں پارلیمنٹ ترمیم نہیں کرسکتی ،پارلیمنٹ کی مکمل عزت کرتے ہیں،ہم آج کی سماعت کا آرڈر بعد میں جاری کریں گے،آئندہ سماعت کب ہوگی اس پر اپنے ججز کے ساتھ مشاورت کروں گا، آئندہ ہفتے 4 ورکنگ ڈے ہیں، عدالت نے پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں اہم آئینی سوالات ہیں، ممکن ہے عدالتی معاون مقرر کریں، جائزہ لینا ہے کہ اس معاملہ میں ائینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی ۔ ججز کی دستیابی کو مد نظر رکھ کر جلد سماعت کیلئے مقرر کریں گے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

  • جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں،رانا مشہود

    جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں،رانا مشہود

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود نے کہا ہےکہ معیشت کو بہتر کرنے کےلیےفسادی سیاست ختم کرنےکی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی: لاہور کے علاقے گلشن راوی میں اپنے انتخابی دفتر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں رانا مشہود نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اب یہ جان لینا چاہیےکہ پارلیمان سپریم ادارہ ہے،یہ کیا بات ہوئی، ایک جنرل کو یہ اپنا ابو کہتےہیں، جب وہ چلا جائے تو چیف جسٹس کو ابو کہنا شروع کر دیتے ہیں،ثاقب نثار کو چوراہے پر لٹکایا جانا چاہیے-

    وفاقی حکومت نےتوشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنےکا فیصلہ چیلنج کر دیا

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف انشا اللہ جلد واپس آئیں گےاور پاکستان دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہوگا ، جن لوگوں نے نواز شریف کو نااہل کیا تھا، ان کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے اور آرٹیکل 6 کے مطابق سزائیں ملنی چاہئیں۔

    رانا مشہود نے کہا کہ جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں جب کہ ججز پارلیمان کے مرہون منت ہیں، اگر یہ پارلیمان کی عزت نہیں کریں گے تو پارلیمنٹ کو اپنی عزت کرانا آتی ہے۔

    آئر لینڈ کے ڈبلن ائیرپورٹ پرغیرمتوازن لینڈنگ کے دوران پرواز کو حادثہ،رن وے بند

  • پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی،قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی،قمر زمان کائرہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی چیف جسٹس سے محاذ آرائی میں انتہائی اقدام نہیں چاہتی۔

    باغی ٹی وی: قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ڈیڈ لاک نہیں بلکہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی بس اتنا چاہتی ہے کہ چیف جسٹس فل کورٹ بنائیں۔

    کراچی: ایس ایچ اوز کو باڈی وارن کیمرے یونیفارم کے ساتھ منسلک رکھنے کا حکم

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی اور ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے حکومت نے پیپلز پارٹی سے سرکاری سطح پر کوئی بات نہیں کی۔

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے کہا تھا کہ صدر مملکت پارلیمنٹ کو قانون سازی نہ سکھائیں۔ انہوں نے بل نظر ثانی کے لیے واپس بھیج کر ثابت کر دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

    بیرونی دشمن کے ساتھ اندرونی سازشیں بھی ملک کوعدم استحکام کاشکارکررہی ہیں،مولانا احمد لدھیانوی

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صدر کہہ رہے ہیں کہ یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہےاور ساڑھے 3 سال صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کی طرح چلاتے رہے، وہ پارلیمنٹ کے اختیارات سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:جسٹس قاضی فائز عیسی کا نوٹ اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ انگریزی اور اردو ترجمے کے ساتھ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن 20 اضافی نمبر کیس کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس نمبر 4/2022 میں 29 مارچ کا حکم 4 اپریل کا نوٹ منسوخ نہیں کر سکتا، متکبرانہ آمریت کی دھندمیں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

  • پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منظور کی گئی صریح غیر قانونی قرار داد کو پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےساتھ کھڑے ہیں،بدقسمتی کی بات ہےکہ قومی اسمبلی جوکہ آئین کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے، نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے آرٹیکل 68 کسی جج یا جج کے طرز عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے منع کرتا ہے-

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ، ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ کے ارکان کے خلاف توہین آمیز اور انتہائی اہانت آمیز تبصرے کیے ہیں، یہ تبصرےنہ صرف آئین کی خلاف ورزی بلکہ عدلیہ کی سالمیت کے لیے براہ راست چیلنج ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ اورایگزیکٹو کو آزادانہ طور پرکام کرنا چاہیےریاست کی کوئی شاخ کسی دوسرے پر تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس سے برتر ہے عدالتی فیصلہ حتمی ہے اور قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا-

    کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ قرارداد ایوان کے 342 میں سے صرف 43 ارکان نے منظور کی تھی، ایسی قراردادیں انتشار کا باعث بنیں گی جب استحکام اور جمہوری طور پرمنتخب حکومتوں کی ضرورت ہوسپریم کورٹ بار پاکستان کے تمام قانونی برادری کے ساتھ مل کر معزز ججوں کے میڈیا ٹرائل کی شدید مذمت کرتی ہے-

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عدلیہ کی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی بحالی کے لیے باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں، ایسا کرنے میں ناکامی سے ہمارا ملک مکمل انارکی کی طرف بڑھے گا، ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا باہمی اتحاد بہت ضروری ہے۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اس کی سماعت کریں گے، حکومت کی جانب سے کیوریٹوریو واپس لینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے چیف جسٹس پاکستان 10 اپریل کو ان چیمبر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا …

    شہباز شریف نے مزید کہا تھاکہ یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نےاپوزیشن کےدورمیں بھی اس جھوٹےریفرنس کی مذمت کی تھی عمران خان نےصدرکےآئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کاراورایک جھوٹ کےحصہ دار بنےپاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کیا گیا تھااس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا ہماری حکومت کی غلطی تھی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا