Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز چیف جسٹس پاکستان کا کُھلی عدالت میں آبدیدہ ہونا و رونے کا مشق کرنا آئین کے تحت اپنے حلف میں کوڈ آف کنڈکٹ کی آرٹیکل 2&9کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    باغی ٹی وی : امان اللہ کنرانی نے کہا کہ پھر جس پس منظر میں چیف جسٹس نے اشک شوئی کی ہےوہ سینئر ترین جج جناب قاضی فائز عیسی و اہل خانہ کاکرب و درد تھاجس پر وہ روئے مگر بدقسمتی سے اس عمل کے موجد و معاون وہ خود تھے غالب کے بقول”کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ—-ھائے اس زود پشیمان کا پشیمان ھونا غالب ،اس سے ثابت وتا ہے چیف جسٹس جذبات کے رو میں بہہ جانے والے ہیں ان کو جذبات پر قابو نہیں ہے-

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    انہوں نے کہا کہ مخالفت و مخاصمت و حمایت کا برملا اظہار اپنے ایک جج صاحب کو دوسروں کو ان کے ساتھ یکجہتی پیغام دینے کے بعد اس نے اپنے آپ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کی صدارت کرنے سے نااہل ثابت کردیا ہے اور برملا اس متنازعہ جج سے اپنے تعلق ثابت کردیا جس کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرالتوء ہے ایسی صورت میں اس بات سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے پر کبھی بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس نہیں بلائیں گے یوں آئین کا آرٹیکل 209 ان کی موجودگی میں غیر موثر رہے گا اور فریق و مدعی کو آئین کے تحت آرٹیکل 10-A کی روشنی میں انصاف نہیں مل سکے گا یوں آئین کے دونوں آرٹیکل معطل رہیں گے جو یقیناً آئین کا منشاء نہیں ہے اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ اور آرٹیکل 4 وآرٹیکل 25 کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    امان اللہ کنرانی نے کہا کہ یہاں تک جج کے لئے لازم ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ انصاف ھوتا ھوا دکھائ بھی دے جبکہ یہاں پر اس کے برعکس رویہ ہے اس لئے ایسی اضطراری و معروضی حالات کے تناظر میں حکومت صدارتی حُکم نامہ نمبر 27 مجریہ 1970 کے آرٹیکل 2 کے تحت چیف جسٹس پاکستان جناب عمر عطا بندیال صاحب کو جبری رخصت پر بھیج کر ریفرینس کا تصفیہ ہونے تک سپریم کورٹ پاکستان کے سینئیر جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کو قائمقام چیف جسٹس مقرر کیا جائے تاکہ وہ جلد از جلد اس ریفرینس کا فیصلہ کرکے رپورٹ صدر پاکستان کو بھجوا سکے اور اس کے بعد چیف جسٹس صاحب واپس اپنے عہدے پر براجمان ہوں-

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے، ریفرنس دائر کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تینوں ججز کا ایک کافی لمبا ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ایسے فیصلے دیئے جو ن لیگ کے خلاف تھے،جو انہوں نے فیصلے دیئے ان میں ایک فیصلہ ایسا بھی ہے جسے صرف مسلم لیگ ن ہی غلط نہیں کہتی، بلکہ اس فیصلے کو ہر وہ شخص جو قانون کو تھوڑا بہت جانتا ہے آئین ری رائٹ کرنے کے مترادف قراردیتا ہے اور وہ فیصلہ 63 اے کے متعلق ہے جس کے تحت پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ختم کی گئی۔


    وزیرداخلہ کا کہنا تھ اکہ اب بھی بظاہر ایسے معلوم ہورہا ہے تینوں جج صاحبان ہر قیمت پر اس فیصلے کو خودکرنے پر بضد ہیں 9 رکنی بینچ بنا پھر 7 کا رہ گیا، پھر5 کا ، پھر 4 کا رہ گیا اور اب 3 کا ہے، تینوں ججز نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی ہے-

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    ابہوں نے کہا کہ تینوں ججز نے اپنے ساتھی اکثریتی ججز کی بات بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور صورت بچتی ہی نہیں ہے کہ ہم اپنا احتجاج نوٹ کرائیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ کے ازخود نوٹس پر 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں اس کے علاوہ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کر لئے-

    باغی ٹی وی: حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی کا تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے –

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    اعلامیے میں کہا کہ چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائےجسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے-

    حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلےکا احترام کرنا بھی سب پرلازم ہےجسٹس اعجازالا حسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور نظائر کی بھی صریح خلا ف ورزی ہے-

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان کیا-

    حکمران جماعتوں نے کہا کہ قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگاپارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہےپارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے-

    اجلاس میں حکمران جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں-

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اقلیت کےفیصلے کو اکثریت کے فیصلے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، 3ججزپرمشتمل بنچ پراعتماد نہیں، اخلاقی طورپرچیف جسٹس اور دیگر دو ججز کو اس کیس سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اداروں میں تقسیم چاہتے ہیں، دھاندلی کے دوبڑے مجرم دندناتے پھررہے ہیں ان کے خلاف ازخودنوٹس نہیں لیا جارہا چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں، پی ڈی ایم کو ان تین ججزپرمشتمل بینچ پراعتماد نہیں، اس بینچ میں ایسا جج بھی ہے جس نے پہلے سماعت سے معذرت کی پھر واپس آ کر بیٹھ گیا، ہماری نظر میں سپریم کورٹ کا یہ تین بینچ دو صوبوں کے کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں اضافہ متوقع

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک کو ایک رکھنے کےلیے ایک الیکشن ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس ہمیں نصیحت کررہے ہیں کہ مل بیٹھ کر طے کریں، ہمیں تو مل بیٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں اور خود اپنی کورٹ کو تقسیم کردیا۔

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل دے دیئے ہیں

    سپریم کورٹ کے تمام 15 ججزآئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے، بنچ 1 چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال اورجسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا،بنچ دو،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل ہو گا،بنچ 3 جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پرمشتمل ہوگا، بنچ4 جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس حسن اظہررضوی پر مشتمل ہو گا جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ 5 کا حصہ ہونگے،بنچ 6 جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل ہو گا،بنچ 7 جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہو گا

    خصوصی بنچ 1 چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پرمشتمل ہو گا ،خصوصی بنچ 4 جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہو گا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اگر بینچ ایسے ہی بنتے اور ٹوٹتے رہے تو ادارے کی ساکھ ختم ہوجائے گی ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی ،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے سرکلر کے ذریعے سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کی جارہی ہے ، فل کورٹ کی تشکیل اب لازم ہوگئی ، اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،چاہتے ہیں معاملہ حل ہو،چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ فل کورٹ بنچ بناتے، پوری قوم اس معاملے پر رنجیدہ ہے ، آج بنچ پر وکلاء کے تحفظات تھے اور بنچ کی تشکیل کے بعد اعتراض اٹھایا گیا،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ تمام کرائیسز کا فیصلہ مشاورت کے بعد ہونا چاہیے مندوخیل نے دکھی دل سے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کی حفاظت کرے سرکلر کا رواج پہلی دفعہ دیکھا ہے قوم پہلے ہی مسائل میں مبتلا ہے مل کر بیٹھیں اور مسائل حل کریں ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ کی بقا بحال رہے، ملک میں ایک آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے لیکن دو تارڑ آئین کی پاسداری کے لیے کھڑے رہیں گے آج معاملات سجاد علی شاہ ٹو کی طرف جا رہے ہیں ،سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی سجاد علی شاہ بنے گا تو آئین کی پاسداری کیلئے تارڑ آئے گا،

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک پاگل جس کے ہاتھ میں ماچس ہے، ملک کو آگ لگانا چاہتا ہے، پہلے کاغذ لہرا کر سائفر کی کہانی گھڑی، قانون اور اسمبلی توڑی صدر ، ڈپٹی اسپیکر سے آئین شکنی کرائی، اسی شخص نے پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑی،ججز کمیٹی کو بینچ بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ بینچ فکسنگ کا تاثر ختم ہو، ترازو کے پلڑے برابر نظر آنے چاہیئے،جسٹس اعجازالحسن 3 رکنی بینچ کا حصہ نہین بن سکتے ،تین رکنی بینچ کا فیصلہ عوام نہیں مانے گی ، پی ڈی ایم کا مطالبہ فل کورٹ بنائی جائے،دیگر جماعتوں کو بھی سماعت کا حصہ بنایا جائے، پوری سماعت متنازعہ ہو چکی ہے، رجسٹررار کا سرکلر ایک فرد کا فیصلہ ہے،اس بینچ نے فل کورٹ کے علاوہ کوئی فیصلہ کیا تو کون مانے گا، عمران خان ملک میں افراتفری چاہتا ہے،دہشتگرد زمان پارک میں پال کر پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے، عمران خان عالمی سازش کے بیانیے میں پکڑا گیا،

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی 

  • عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ایک جیسے مقدمات میں انصاف کا پیمانہ مختلف رہا ہے، ہمارا آج بھی موقف ہے کہ آئینی معاملات کیلئے علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت ہے، آئین سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے،قوم تو پوچھتی رہے گی کہ بھٹو سے انصاف کیوں نہیں ہوتا ،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو صاحب کو پھانسی غلط تھی، عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ،

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں خطاب عوام کے دل کی آواز ہے، صدر آصف علی زرداری نے اپنے تمام اختیارات پارلیمان کو دیئے،بااختیار پارلیمنٹ کے لیئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے تاریخی جدوجہد کی تھی، گڑھی خدا بخش بھٹو کے قبرستان سے خون کی لالی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ہے، افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری عدلیہ نے جمہوریت کو کمزور اور آمروں کو مضبوط کیا، آئین سازی صرف پارلیمان کا اختیار ہے

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی دونوں صوبوں کے وزراء اعلٰی نے تحلیل نہیں کی، جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں جو باتیں لکھیں افسوس ناک ہیں جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا ،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ سپریم کورٹ کے جج کے فیصلے کو ایک سرکلر سے غلط قرار دیا گیا .یہ بینچ 9 سے شروع ہو کر آج 3 ججز تک آ گیا ہے ،سیاسی ،انتظامی ،معاشی ،جوڈیشری کے درمیان بحران کا سبب صرف ایک فتنہ ہے, قاضی فائز عیسی ٰ کے خاندان کو اگر عدالتوں میں خوار نہ کیا جاتا تو آج یہ عدالتی بحران نہ ہوتا یہ دونوں صوبائی اسمبلیاں عمرا ن خان کی ضد پر توڑی گئیں ہیں ،اس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے،

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چیف جسٹس سے فل کورٹ بنانے کی استدعا کر دی اور کہا کہ فل کورٹ نہ بنا تو ایسا فیصلہ قابل عمل نہیں ہو گا یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک اور قومی سانحے سے کم نہیں ،ایک فتنے نے پوری قوم کو اس نہج پر لا کھڑ ا کیا ہے ،اب اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے کہ یہ فتنہ کس طرح یہاں متعارف کروایا گیا اور ملک کو بحران در بحران کا شکار کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا ہو،

    واضح رہے کہ پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے

    الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • سپريم کورٹ ، ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا

    جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    سپريم کورٹ نے ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد کردیا ،ازخود نوٹس اختیار سے متعلق دی گئی ابزرویشن کا بنچ کے سامنے موجود کیس پر اطلاق نہیں ہوتا، قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے انفرادی طور پر کئی گئی تشریح 5 رکنی لارجر بنچ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کی آزادی اوربنیادی انسانی حقوق کے کیس میں واضح فیصلہ دے چکی ہے اس طرح کی تشریح کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کو ہے جس کے قواعد 184(3) میں دیے گئے ہیں جسٹس قاضی فائز کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ لارجر بنچ اکثریتی فیصلہ دے چکا ہے جس معاملے پر 5 رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہو ،اس پر 2 ججز کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

     رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم 

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم

  • جسٹس مسرت ہلالی قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مقرر

    جسٹس مسرت ہلالی قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مقرر

    پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان کل ریٹائرہوجائیں گے،جسٹس مسرت ہلالی قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ مقرر کی جائیں گی-

    باغی ٹی وی:چیف جسٹس قیصر رشید خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس روح الامین کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے وزارت قانون نے صدرمملکت کی منظوری سے اعلامیہ جاری کردیا۔

    پاکستانی نژاد نومنتخب اسکاٹش فرسٹ منسٹرحمزہ یوسف کی سرکاری رہائشگاہ پرافطاری اور نماز کی ادائیگی

    وزرات قانون کے مطابق جسٹس روح الامین 31 مارچ کوایک دن کیلئے چیف جسٹس بنیں گےاور یکم اپریل کو ریٹائرہوجائیں گےجسٹس روح الامین کےبعد جسٹس مسرت ہلالی سینئرترین جج ہیں اورجسٹس مسرت ہلالی کو قائم مقام چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ مقررکیاگیا ہے جسٹس مسرت ہلالی مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک ذمہ داریاں اداکریں گی۔

    دوسری جانب صدر مملکت نے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، وہ یکم اپریل 2023 سے چیف جسٹس کا منصب سنبھالیں گی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائیکورٹ کی سینیئرترین جج ہیں، ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی جوڈیشل کمیشن کرےگا۔

    امریکا میں سپریم کورٹ اور وفاقی ججز کیلئے نئے ضابطوں کا اطلاق

    جسٹس مسرت ہلالی جامعہ پشاور کے خیبرلاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور انہوں نے 1983 میں وکلالت کا آغاز کیا تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی 1988 میں ہائیکورٹ اور 2006 میں سپریم کورٹ کی وکیل بنی تھیں جسٹس مسرت ہلالی کو2013 میں بطورہائی کورٹ جج تعینات کیا گیا، اس کے ساتھ ہی وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون چیئرپرسن موحولیاتی تحفظ ٹریبونل اورخیبرپختونخوا کی پہلی خاتون محتسب بھی رہ چکی ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون ایگزیکٹیو ممبر بھی رہی ہے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

  • پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا چیف جسٹس کا اختیار محدود کرنےکی قانون سازی کی ٹائمنگ ایک سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، ان کی دعا ہے کہ جج آپس میں اشتراک پیدا کریں۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے اکتوبر میں انتخابات کے اعلان کے حوالے سے صدر عارف علوی کا کہنا تھا اکتوبر میں بھی الیکشن کا انعقاد خطرے میں نظر آرہا ہے۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے آج سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظور کر لیا ہے جس کے تحت سو موٹو نوٹس لینے کا اختیار اب اعلیٰ عدلیہ کے 3 سینئر ترین ججز کے پاس ہو گا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل ہونے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو از خود نوٹس پر ملی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے 30 دن میں ون ٹائم اپیل کے حق سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ یوسف رضاگیلانی، جہانگیر ترین سمیت از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرہ فریق بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل کیا ہے؟

    بل کے تحت سپریم کورٹ کے سامنے ہر معاملے اور اپیل کو کمیٹی کا تشکیل کردہ بینچ سنے اور نمٹائے گا جب کہ کمیٹی میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز ہوں گے اور کمیٹی کا فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔

    آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت معاملہ پہلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، بنیادی حقوق سے متعلق عوامی اہمیت کے معاملے پر3 یا اس سے زائد ججزکا بینچ بنایا جائے گا، آئین اور قانون سے متعلق کیسز میں بینچ کم از کم 5 ججز پر مشتمل ہو گا جب کہ بینچ کے فیصلے کے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے، دائر اپیل 14 روز میں سماعت کے لیے مقررہوگی، زیرالتوا کیسز میں بھی اپیل کا حق ہوگا، فریق اپیل کے لیے اپنی پسند کا وکیل رکھ سکتا ہے اس کے علاوہ ہنگامی یا عبوری ریلیف کے لیے درخواست دینےکے 14 روزکے اندر کیس سماعت کے لیے مقرر ہوگا-

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج