Baaghi TV

Tag: چین

  • چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا لی

    چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا لی

    چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا کر ریکارڈ قائم کردیا-

    چینی میڈیا کے مطابق چین کی شینجیانگ نمبر 1 ٹنل بورنگ مشین نے دنیا کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس نے 113 میٹر گہرائی پر زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل تعمیر کیا یہ ٹنل جنوبی چین کے پرل ریور ایسچوری میں واقع ہے اور طویل شینزین جیانگمن ریلویز کے ایک اہم منصوبے کا حصہ ہے مکمل ہونے پر یہ ٹنل گوا نگ ڈونگ، ہانگ کانگ، میکاؤ گریٹر بے ایریا میں ریل نیٹ ورک کو مزید بہتر بنائے گا۔

    ٹنل بورنگ مشین کے اگلے حصے میں ایک بڑا کٹر ہیڈ موجود ہے جو مستقل گردش کرتے ہوئے چٹان اور مٹی کو توڑتا ہے کٹر ہیڈ کے پیچھے مشین کا اسمبلی سیکشن ہوتا ہے، جہاں مزدور قریباً 2 میٹر چوڑائی کے ٹنل لائننگ کے سیکشن نصب کرتے ہیں، اس طرح کھدائی اور لائننگ بیک وقت کی جاتی ہے تاکہ کام کی رفتار بڑھائی جا سکے،حال ہی میں شینجیانگ نمبر 1 نے 4 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا، اور 113 میٹر گہرائی تک پہنچا۔ ٹنل کا سب سے گہرا حصہ 116 میٹر زیرِ آب ہے، جہاں پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔

  • عالمی توانائی بحران:چینی صدر کی  نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت

    عالمی توانائی بحران:چینی صدر کی نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت

    چینی صدر نے ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پن بجلی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ، اور جوہری توانائی کے محفوظ و منظم پھیلاؤ پر بھی زور دیا انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے عالمی توانائی کے رجحانات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے نئی توانائی سلامتی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے اہم فیصلے کیے ہیں-

    صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہوا اور شمسی توانائی میں ابتدائی سرمایہ کاری ہماری دور اندیشی کا ثبوت ہے، تاہم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو توانائی نظام کی بنیاد کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا ہوگا چین اس وقت دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک بھی سمجھا جاتا ہے –

    صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو کم کاربن اور صاف توانائی کے اہداف پر قائم رہنا ہوگا ان کے مطابق ‘ایک سبز، متنوع اور مضبوط توانائی نظام نہ صرف توانائی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کی بھی ضمانت ہوگا-

    واضح رہے کہ گزشتہ برس چین نے تبت کے سطح مرتفع کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کی تھی، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق 4,550 میٹر کی بلندی پر شمسی حرارتی بجلی گھر کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

  • تائیوان کی اپوزیشن رہنما چین کے دورہ کریں گی،صدر شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات بھی متوقع

    تائیوان کی اپوزیشن رہنما چین کے دورہ کریں گی،صدر شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات بھی متوقع

    تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی سربراہ چینگ لی وون چین کے دورے پر روانہ ہوں گی-

    تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کیومنٹانگ (کے ایم ٹی) کی سربراہ چینگ لی وون منگل کے روز چین کے دورے پر روانہ ہو ں گی، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات بھی متوقع ہے چین کی جانب سے تائیوان کے ساتھ ’اتحاد‘ کے لیے بڑھتی سفارتی کوششوں کے تناظر میں چینگ نے اپنے اس دورے کو ’امن مشن‘ قرار دیا ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین تائیوان پر فوجی دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے اور اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی اپوزیشن اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ حکومت کے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

    دورے سے قبل کے ایم ٹی اور حکمران جماعت ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے درمیان سوشل میڈیا پر بیانات کی جنگ بھی دیکھنے میں آئی، جہاں دونوں جماعتوں نے جنگ اور امن کی علامتی زبان استعمال کی کے ایم ٹی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امن ہی خوشحالی کی بنیاد اور تائیوان کے مستقبل کی امید ہے جبکہ اس کے برعکس ڈی پی پی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن چین کے ساتھ مل کر تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ٹرمپ آج اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    اتحاد کے حوالے سے سوال پر چینگ لی وون نے کہا کہ اس موضوع پر بات چیت کا وقت ابھی نہیں آیا ان کے بقول، فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کے درمیان پُرامن اور مستحکم تعلقات کیسے قائم کیے جائیں۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے ہیں توقع ہے کہ اس دوران زرعی تجارت اور ہوابازی کے پرزہ جات جیسے معاملات پر پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم تائیوان کے حساس معاملے پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے۔

    یہ ایک دہائی کے بعد کسی کے ایم ٹی رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے، تاہم تاحال چینی حکام نے چینگ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، چینگ جمعرات سے بیجنگ میں موجود ہوں گی، ادھر تائیوان کی چین پالیسی مرتب کرنے والے ادارے مین لینڈ افیئرز کونسل نے کہا ہے کہ چینگ کو بیجنگ سے فوجی دباؤ ختم کرنے اور تائیوان کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

    چین نے کبھی بھی تائیوان کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال سے دستبرداری اختیار نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح ’پرامن اتحاد‘ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بیجنگ نے توانائی کے تحفظ سمیت مختلف فوائد کا حوالہ دے کر تائیوانی عوام کو قائل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جنہیں تائیوانی حکام مسترد کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکا کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں،قالیباف

    چین کی مشرقی تھیٹر کمانڈ نے حال ہی میں ایک علامتی تصویر بھی جاری کی، جس میں تائیوان کو چین کے ساتھ اتحاد کی صورت میں دکھایا گیا، تاریخی پس منظر میں 1949 کی خانہ جنگی کے بعد ماؤ زیڈونگ کی قیادت میں کمیونسٹوں سے شکست کے بعد کے ایم ٹی کی افواج تائیوان منتقل ہو گئی تھیں، تائیوان میں ہو نے والے عوامی جائزوں سے بارہا ظاہر ہوا ہے کہ بیجنگ کے ’ایک ملک، دو نظام‘ ماڈل کے تحت چین کی خودمختاری قبول کرنے کی حمایت نہایت کم ہے-

  • چین خاموشی سے اپنے  نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے،سی این این

    چین خاموشی سے اپنے نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے،سی این این

    ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر دکھاتی ہیں کہ جہاں کبھی بستیاں آباد تھیں، وہاں اب بلند و بالا عمارتیں اور ایسے گنبد نما ڈھانچے تعمیر ہو چکے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نئی جوہری فیسیلیٹی کو ’سائٹ 906‘ نام دیا گیا ہے۔

    چین کے صوبہ سیچوان کے ایک دور افتادہ گاؤں کے مکینوں نے جب حکومت سے اپنی زمینوں پر قبضے اور بے دخلی کی وجہ پوچھی تو انہیں صرف یہ جوا ب ملا کہ یہ ایک ریاستی راز ہے۔ اب ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ اس راز کا تعلق چین کے ان خفیہ منصوبوں سے ہے جن کے تحت وہ خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    سی این این کی تحقیقات کے مطابق سیچوان کے علاقے میں واقع ایک جوہری اڈے میں ایک بہت بڑا گنبد تعمیر کیا گیا ہے جس کا رقبہ 13 ٹینس کورٹس کے برابر ہے اس مضبوط کنکریٹ اور اسٹیل کے ڈھانچے میں ریڈیشن مانیٹر اور دھماکہ پروف دروازے نصب کیے گئے ہیں تاکہ یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکار مواد کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مڈل بیری کالج کے ممتاز اسکالر جیفری لیوس نے سی این این سے گفتگو میں ان تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت چین کے مستقبل کے عزا ئم کے بارے میں امریکا کے بدترین خدشات کی عکاسی کرتی ہے، اس کمپلیکس کی ازسرنو تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلا حیت میں بہت بڑا اضافہ ہونے والا ہے چین کے اس جوہری پروگرام کا مرکز زیتونگ کاؤنٹی کا علاقہ ہے جہاں کئی خفیہ اڈوں کو نئی سڑکوں کے ذریعے آ پس میں جوڑ دیا گیا ہے۔

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    سیچوان صوبے میں سائٹس کی توسیع، جس کا مشاہدہ سیٹلائٹ کی تصویروں میں کیا گیا ہے اور چینی حکومت کے درجنوں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حالیہ دعووں کی تائید کرتا ہے کہ بیجنگ دہائیوں میں اپنی سب سے اہم جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کی مہم چلا رہا ہے۔

    ٹرمپ اگلے ماہ بیجنگ کا ایک تاریخی دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ چینی رہنما شی جن پنگ کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ایک معاہدے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سال کے شروع میں، روس اور امریکہ کے درمیان ہتھیاروں میں کمی کا تازہ ترین معاہدہ – جسے نیو اسٹارٹ کے نام سے جانا جاتا ہے – کی میعاد ختم ہوگئی، ٹرمپ ماسکو کے ساتھ ایک نیا اور بہتر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہوگا

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

    سی این اے کارپوریشن کے نیوکلیئر تجزیہ کار ڈیکر ایویلتھ کا کہنا ہے کہ اس جدید کاری کی وسعت بتاتی ہے کہ پورے نظام کی ٹیکنالوجی میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب مغرب کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ چین کتنے ایٹمی ہتھیار پیدا کر سکتا ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق چین دنیا میں سب سے تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے ذخائر اب فرانس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، حالانکہ وہ ابھی بھی امریکا اور روس کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔

    دوسری جانب چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین صرف اپنے دفاع کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    تاہم کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو ٹونگ ژاؤ کا ماننا ہے کہ چینی قیادت کا خیال ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ مغربی ممالک پر نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں ابھرتے ہوئے چین کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں جاری حالیہ جنگ نے چین کے اس عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو کمزور نہ پڑنے دے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    فرانس کے نیول چیف ایڈمرل نکولس ووجور نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بحال کرنے کے موجودہ اقدامات ناکافی ہیں، اس معاملے پر چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز پیرس میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی نیول چیف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چین کو کردار ادا کرنا پڑے گا، اب تک چین کی بحریہ کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عملی اقدام کرتے نہیں دیکھا گیا، چینی اور ایرانی حکام کے درمیان جہازوں کی محدود آمد و رفت کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم یہ اقدامات معمول کی بحر ی ٹریفک بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، اسی لیے چین کو اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنی بے چینی ظاہر کرنا ہوگی۔

    ایڈمرل ووجور کے مطابق فرانس اس معاملے پر دیگر ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سیاسی سطح پر یہ طے کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،طے ہوجانے کے بعد شرائط طے ہوجانے کے بعد اس عمل کی نگرانی کے لیے فوجی کردار بھی ضروری ہوگا، جس کے لیے ماضی میں یورپی یونین کے تحت چلنے والے ’ایجینور مشن‘ جیسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ماہرین آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے کے حوالے سے بھی جائزہ لے رہے ہیں، جنہیں ہٹانا ضروری ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی، یہ معاملہ صرف فرانس کا نہیں بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سمیت تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

  • وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم   اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے ہیں-

    وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے،پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ شامل ہے۔

    اس دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گےوزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ کندھے کے معمولی فریکچر کے باوجود یہ دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور پاکستان اس دوران امن کے داعی کے طور پر سامنے آیا ہے، اور خطے میں قیام امن کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے، پاکستانی قیادت کی کاوشوں سے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزر ائے کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے موضوع پر مفصل بات چیت ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، جس کے دوران تمام فر یقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے جبکہ اگلا دور جلد شروع کیا جائے گا، جس میں دی گئی تجاویز پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائےگا۔

    دوسری جانب چین نے بھی تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں اور مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل نکالا جائے۔

  • اسحاق ڈار  کل دورے پر چین جائیں گے

    اسحاق ڈار کل دورے پر چین جائیں گے

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے-

    دفتر خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب (Wang Yi) کی دعوت پر اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے،پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسحاق ڈار کو حالیہ معمولی کندھے کی چوٹ کے باعث آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود دورہ چین اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنی چین کے ساتھ شراکت داری کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

  • وزیراعظم  سے چینی سفیر  کی ملاقات

    وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ’ٹو سیشنز‘ کی کامیاب تکمیل پر چینی قیادت کو مبارکباد دی اور صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیانگ اور وزیر خارجہ وانگ یی کا یوم پاکستان کی خوشیوں پر شکریہ ادا کیا وزیراعظم نے چین کی مستحکم اقتصادی حمایت کو سراہا اور زراعت، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے ترجیحی منصوبوں کے ساتھ سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چینی سفیر نے پاکستان کی اقتصادی استقامت اور اصلاحات کو سراہا اور چین کی تجارت و سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کا اعادہ کیا، فریقین نے جاری ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطح رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کشیدگی میں کمی اور استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا، انہوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے اور پائیدار پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے اعادہ پر زور دیا۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

  • ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کو نشانہ بنانا کسی صورت  قبول نہیں،چین

    ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کو نشانہ بنانا کسی صورت قبول نہیں،چین

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے پریس بریفنگ میں ایرانی سیکیورٹی چیف کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے علی لاریجانی کے قتل کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    چینی میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں جب کہ شہری اہداف پر حملے بھی قابل مذمت ہیں، چین ہمیشہ بین الاقوامی معاملات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

    لن جیان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نتین یاہو کے بیان پر چین کو شدید جھٹکا لگا ہے، نیتن یاہو کے ایرانی حکام کو قتل کرنے کے بیان پر تشویش ہےچین موجودہ جنگی صورت حال میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    چینی وزارت خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ خطے کو غیر یقینی صورت حال کی طرف دھکیل رہا ہے، عالمی برادری بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، اس لیے تمام فریقین کو فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنی چاہئیں تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہیدہوگئے ہیں-

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

  • پاکستان  اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    پاکستان اور چین سمیت 5 ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار

    واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں، اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے چین اور روس اس وقت امریکا کے لیے سب سے بڑے اور براہ راست چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ وہ ایسا جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیکیورٹی کو ناکام بنا سکتا ہے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی چین امریکا کا سخت ترین حریف ثابت ہو رہا ہے۔

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

    دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بین البراعظمی میزائل بنانے کے پروگرام اور جوہری صلاحیت کو حالیہ حملوں کے ذریعے کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے بتایا کہ اگرچہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت کو حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اب بھی خطے میں موجود اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی مفادات پر حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کر نے کی کوشش کرے گی۔

    قطر کا ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے تھے اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا تھا۔

    سماعت کے دوران جب ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران اگلے چھ ماہ کے اندر امریکا تک پہنچنے والے میزائل بنا سکتا تھا، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس کا کوئی واضح وقت نہیں بتایا انہوں نے سینیٹر کے خدشات کو درست تو قرار دیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایران کو ایسا کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی صلاحیتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم وہ کسی حتمی تاریخ پر بات کر نے سے گریز کر رہے ہیں۔

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    دوسری جانب ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں کانگریس کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر کسی بڑے حملے کی فوری تیاری کر رہا تھا۔

    اس دوران امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے تلسی گبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس وقت مختلف بیرونی ممالک کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی شدید خطرات کا سامنا ہے، انتہا پسند گروہ اب بھی متحرک ہیں اور شریعت کی بنیاد پر خلافت کے قیام کا نظریہ پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں،یہ مخصوص نظریہ مغربی طرز زندگی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے-

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس