Baaghi TV

Tag: چین

  • چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا انعقاد

    چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا انعقاد

    بیجنگ:چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا چوبیس تاریخ کو ورچوئل انعقاد کیا گیا۔مکالمے کا موضوع رہا "پائیدار ترقیاتی ایجنڈے 2030 کے مشترکہ نفاذ کے لیے نئے دور کی عالمی ترقیاتی شراکت داری کا فروغ” ۔برکس رہنماؤں اور متعلقہ ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے رہنماؤں نے اس تقریب میں شرکت کی۔

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی نے شرکا کو چین کے شمال مغربی علاقے میں اپنے کاشت کاری کے تجربات سے آگاہ کیا۔ شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین بھر سمیت متعدد ممالک کے بھی دورے کیے ہیں۔انہیں یہ لگتا ہے کہ صرف مسلسل ترقی ہی بہتر زندگی اور مستحکم معاشرے کے بارے میں عوام کے خوابوں کو پورا کرسکتی ہے۔

    شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کے عوام کی خوشحال زندگی کی صورت میں ہی پائیدار ترقی ، سلامتی اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تحفظ پسندی کے تحت دوسروں پر پابندیاں عائد کرنا خود اپنے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ ہمیں ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے ، کھلی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا چاہیے اور عالمی گورننس کے لیے مزید منصفانہ ماحول تشکیل دینا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں اور ترقی پزیر ممالک کو تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔ جنوب شمال دونوں فریقوں کو ایک ساتھ مل کر یکجہتی، مساوات، توازن اور جامع عالمی ترقیاتی شراکت داری تشکیل دینے کی مشترکہ کوشش کرنی چاہیے اور کسی بھی ملک یا فرد کو پیچھے نہ چھوڑنا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا۔چین ترقیاتی تعاون کے لیے وسائل کی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا، جنوب جنوب تعاون امدادی فنڈز کو عالمی ترقیاتی اور جنوب جنوب تعاون فنڈز کی سطح تک بلند کرے گا اور چین۔ اقوام متحدہ امن و ترقیاتی فنڈز پر مزید سرمایہ کاری کرے گا۔چین مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ غربت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ، اجناس کی پیداوار اور فراہمی کی مضبوطی ، صاف توانائی ، ویکسین کی تحقیق اور تیاری ، زمین و سمندر کے ماحول کی حفاظت اور ڈیجیٹل عہد میں باہمی روابط سمیت دیگر شعبوں کو آگے بڑھائے گا۔

    چین بین الاقوامی ترقیاتی معلومات و تجربات کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم قائم کرے گا اور نوجوانوں کے لیے عالمی ترقیاتی فورم کا انعقاد کرے گا۔

    چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این ڈاکیو منٹری ٹی وی چینل اور ریڈیو گریٹر بے کی لانچنگ تقریب بیجنگ اور ہانگ کانگ میں بیک وقت منعقد ہوئی۔یہ نشریات 1 جولائی سے ہانگ کانگ میں دیکھی اور سنی جا سکیں گی۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
    چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چیف ایگزیکٹو کیری لام نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ اس پیش رفت سے ہانگ کانگ کے شہریوں کو ملک کی تازہ ترین صورتحال اور ترقی کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا اور ان کی قومی شناخت کا احساس مزید مضبوط ہو گا۔

    چائنا میڈیا گروپ کے صدر شین ہائی شونگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ صدر ممکت شی جن پھنگ نے ہمیشہ ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کا خیال رکھا ہے اور طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کی ہانگ کانگ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ ملکی ترقی میں ہانگ کانگ کے انضمام کی مجموعی صورتحال کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیےمذکورہ نشریات کو ہانگ کانگ میں بھرپور طور پر نشر کیا جائے گا۔مرکزی حکومت کی اہم پالیسیاں اور قومی ترقیاتی حکمت عملی مین لینڈ کے ساتھ خوشحالی اور ترقی کی ترغیب دیتی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران افغانستان میں آنے والے حالیہ زلزلے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین افغانستان کی ضروریات کے مطابق ہنگامی انسانی دوست امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی، چین نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک اضافی ہنگامی امداد بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔علاوہ ازیں افغانستان کی امداد کے لیے خوراک افغانستان پہنچ چکی ہے اور اس وقت تقسیم جاری ہے

    افغانستان کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کی جائے :اس حوالے سے کل 23جون کو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کو مزید تعاون اورمدد فراہم کی جائے ۔

    چانگ جون نے کہا کہ افغانستان بد نظمی سے نظم و ضبط تک کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ سال اگست کے بعد سے، افغانستان کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی، متشدد تصادم میں واضح کمی آئی ہے۔تاہم افغانستان میں انسانی ہمدردی اور اقتصادی شعبے کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان کو امن اور ترقی کے حصول کے لیےابھی بہت مشکل اور طویل سفر طے کرنا ہے، افغان عوام کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے لیے عالمی برادری کو مزید معاونت اور مدد فراہم کرنی چاہیے ۔

    اس حوالے سے سب سے پہلے ، آزاد اور موثر قومی حکمرانی کے حصول کے لیے تعمیری سرگرمیوں کو مضبوط کیا جانا چاہیئے اور افغانستان کی حمایت کی جانی چاہیئے۔ دوسرا، وسائل کی صلاحیت و استعمال کو بڑھایا جانا چاہیئے تاکہ افغان عوام کو معاشی مشکلات سے نجات دلانے میں مدد فراہم کی جاسکے ۔ تیسرا، افغانستان کی مثبت اور پائیدار ترقی میں معاونت کے لیے جامع پالیسیز پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

    چانگ جون نے کہا کہ چین افغانستان کا ہمسایہ دوست ہے۔ چین ، افغانستان کی پرامن اور مستحکم ترقی کی حمایت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہےاور افغانستان کے روشن مستقبل کے لیے نئی شراکت داریوں کی تشکیل کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

    ادھرافغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کی فوج کے ترجمان محمد اسماعیل معاویہ کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بھی ملبے تلے نہیں دبا ہوا۔‘ جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے کہا ہے کہ بڑے ضلعوں میں ریسکیو آپریشن ختم ہوگیا ہے تاہم دوردراز علاقوں میں جاری ہے۔

    اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق 90 فیصد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

    ادھر پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، خاص کر خوراک اور ادویات، پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہیلی کاپٹر، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔‘

  • چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا

    بیجنگ:چین بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے کے لیےسرگرم ہے:چینی میڈ یا نے چین کی عالمی خارجہ پالیسی کا ایک پہلوبیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اس وقت دنیا میں امن وامان،خوشحالی اورترقی کے حوالے سے عالمی سطح پرکوشاں ہے ، چینی میڈیا نے یہ پیغام اس وقت جاری کیا جب چین کی میزبانی میں 22 سے 24 جون تک ہونے والےبرکس اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا کے پانچ اہم ترقی پذیر ممالک پر مشتمل کثیرالجہت میکانزم کے طور پر، برکس کا تعاون مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے میں بھی ایک اہم قوت ہے۔ ایک مزید منصفانہ اور معقول بین الاقوامی نظم و نسق قائم کرنے اور مشترکہ عالمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین اور تمام ترقی پذیر ممالک سرگرم رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ترقی عوامی خوشحالی کی کلید اور تمام مسائل کے حل کی بنیاد ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، اپنی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے، چین دوسرے ترقی پذیر ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، امداد اور علم کے تبادلے کے ذریعے مشترکہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا آرہا ہے۔مختلف ممالک خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چین نے “دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو جیسی تجاویز پیش کیں، “عالمی ترقی کی رپورٹ” جیسی تحقیقی رپورٹس جاری کرتے ہوئے دانشورانہ تعاون فراہم کیا ۔دوسری طرف، برکس اور جنوب جنوب تعاون جیسے کثیر جہتی میکانزمز کو مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ساتھ منسلک کرنے اور مختلف ممالک کی پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے کو عملی طور پر فروغ دینے میں بھی چین تعاون کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں، جب سے عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست بحال ہوئی ہے، تب سے چین ثابت قدمی کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتا آرہا ہے۔ حال ہی میں جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس کے دوران چینی مندوبین نے بارہا بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی جامع ترقی کی حمایت کرے، حقیقی کثیرالجہتی کو برقرار رکھے اور ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی انتظام و انصرام تشکیل کرے۔ 25 جون 2021 کو چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے “اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کی 50 ویں سالگرہ” کی یاد میں منعقدہ فورم میں کہا کہ چین، ماضی میں بھی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ کھڑا تھا، اب بھی کھڑاہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ میں، چین کا ووٹ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کے حق میں جائے گا۔

    چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ “عالمی ترقیاتی رپورٹ” میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگلی دہائی میں، عالمی اقتصادی نمو میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس اور ترقی پذیر ممالک کاحصہ مزید بڑھ جائے گا اور عالمی ترقی میں ان ممالک کا مزید اہم کردار ہوگا۔ تاہم فی الحال یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور گروہی سیاست کے باعث عالمی اقتصادی بحالی نیز علاقائی استحکام شدیدخطرات سے دوچار ہے۔ اس لیے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مزید بلند کرنا اور ایک مزید منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تشکیل اشد ضروری ہے۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔

  • اولمپک جذبے کو فروغ دیں اور ایک بہتر دنیا کی تشکیل کریں:چینی صدر

    اولمپک جذبے کو فروغ دیں اور ایک بہتر دنیا کی تشکیل کریں:چینی صدر

    بیجنگ :چینی صدر کہتے ہیں کہ جب لوگ اولمپک جذبے کا تذکرہ کرتے ہیں تو جو چیز آتی ہے وہ اس کے مقابلے کا جذبہ، با صلاحیت کھلاڑی، شاندار ایونٹس اور دلچسپ مقابلے۔ درحقیقت، کھیلوں کے مقابلوں میں انصاف، مساوات اور آزادی کے جذبے کی روشنی میں، کھیلوں میں عام لوگوں کی شرکت اور زیاد تیز، زیادہ مضبوط اور زیادہ اعلیٰ کے جذبے کے تحت خود کو کرنے کی کوشش کرنے والوں کو "اولمپک جذبے” کہتے ہیں۔

    موجودہ ہنگامہ بین الاقوامی صورتحال کے پیشِ نظر، آئی سی اولمپک کے نعرے زیادہ تیز، مضبوط اور زیادہ اعلیٰ کے بعد لفظ "زیادہ اتحاد” کا شامل کیا، جس نے اولمپک روح کے مفہوم کو مزید تقویت بخشی، اولمپک جذبے مفہوم کو مزید بامعنی بنایا گیا، اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی یہ النظری چینی روایتی ثقافتی انسان دوست جذبات کے ساتھ زیادہ جگہوں پر ہے، جس سے چین میں جذبے کو زیادہ حد تک مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

    کھیل صرف کھیل ہی نہیں بلکہ تعلیم اور زندگی کا فلسفہ بھی۔ اولمپک چارٹر بتاتا ہے، "اولمپزم زندگی کا ایک فلسفہ ہے جو متوازن جسم سے ہے، دماغ اور روح کی مختلف خصوصیات کو ایکجا اور بہتر بناتا ہے” یہ روایتی چینی مارا آرٹس کے جذبے سے۔ جب بات چینی کھیلوں کی ہو تو دنیا بھر کے لوگ سب سے پہلے چینی ماریا آرٹس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ حقیقت، چینی ماریا آرٹ نہ صرف جنگ کا ایک طریقہ ہے، بلکہ چینی روایتی ثقافت کا علمبردار بھی، جو منفرد روحانی مفہوم پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر، طاقت، رفتار اور حملہ کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی تربیت کے مقابلے میں، چینی ماریا آرٹس اپنے دماغ، طاقت، توانائی اور روح کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، "ہم مضبوطی” کی روایت قدر کی مضبوطی پر زور دیتے ہیں، "ہم مضبوطی” کے روایتی نظریہ کی پیروی کرنے کا کہنا ہے، ماریا آرٹس کی تربیت کے دیویوز کو جنگی قوتوں کی مرضی اور اخلاقیات جاتی ہیں، اور لوگوں کو مارا آرٹس کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے۔ تاکہ لوگ روایتی اصولوں، اخلاقیات، عادات اور اپنے ساتھ دیگر بنیادی اقدار اور فضائل حاصل کریں۔ لہذا، چینی ماریا آرٹس کا مقصد روایتی ثقافتی اخلاقیات کے ساتھ پرتشدد قوتوں کو مساوی طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح ماریا آرٹس اور عالمی امن اور خیر خواہی کا تصور جو اولمپیک جذبے سے پیش کیا جاتا ہے، تمام بنی نوع انسان کے لیے قابل تقلید ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ خود اولمپک جذبے کے فروغ دینے والے اور عملبردار ہیں، وہ کھیلوں کے بڑے شائق بھی ہیں، خاص طور پر فٹ بال اور تیراکی جیسے کھیلوں سے محبت کرتے ہیں اور کھیل کے جذبے سے پورے معاشرے میں مثبت توانائی لانے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اگست 2019 میں، شی جن پنگ نے صوبہ گانسو میں ایک معائنے کے دورے کے دوران ایک مقامی پرائمری اسکول کے طلباء کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ جسمانی ورزش کو عادت بنائیں اور ایک مہذب روح کے ساتھ ایک سخت جان جسم کی تعمیر کریں ۔دو ہزار سترہ میں منعقدہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 19ویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں “صحت مند چین کی حکمت عملی ” کو نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی ایک بڑی اسٹریٹجک تعیناتی کے طور پر بیان کیا گیا ہے،اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ “عوام کی صحت قومی ترقی اور قومی خوشحالی کی ایک اہم علامت ہے۔”یوں چین میں قومی تندرستی اور قومی صحت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہ چینی عوام کی طرف سے اولمپک جذبے کا سب سے

    ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے میدان میں بہترین کارکردگی چین کی معیشت اور ترقی کی یقینی تعمیر کے ساتھ، اولمپیک جذبے کو چین میں مقبول عام بنایا جائے گا، جو بنی نوع انسان کے لیے ہم نصیبی میں "زیادہ ہم مضبوطی” کا چینی جذبہ ڈالےگا۔

    یاد رہے کہ 8 جون 2022 کو چینی اولمپک کمیٹی نے 36 اولمپک ڈے کی سرگرمیاں شروع کیں، 23 جون کو اولمپک ڈے یادگاری مواقع کا مقابلہ شروع کیا۔پورے چین کے لوگوں نے اولمپک جذبے کو فروغ دینے کے لیے واک اور اولمپک ثقافتی کیمپ سمیت مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا ، اور اپنی قوت اور محنت سے اولمپک تصور کو عام کیا، اور لوگوں کو “ایک ساتھ مل کر ایک بہتر دنیا بنانے “کی دعوت دی، اس سلسلے میں چینی صدر نے افتتاح بھی کیا

     

  • سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ

    سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ

    اسلام آناد:سی پیک پاکستان میں غذائی ضروریات کوپوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا:سید ظفرعلی شاہ نے ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) زرعی تعاون کے ذریعے ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید کاشتکاری متعارف کروا کر پاکستان کے بڑھتے ہوئے غذائی تحفظ کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد کرے گی۔

    وزارت منصوبہ بندی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان نے محسوس کیا ہے کہ غذائی تحفظ قومی سلامتی کا ایک اہم جزو ہے، اور زرعی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے ذریعے زرعی کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے، جسے CPEC فریم ورک کے تحت مزید بڑھایا جائے گا۔

    ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے ایک حصے کے طور پر، اس سال ہم اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے پانی کے شعبے اور زراعت کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں… یہ تمام شعبے چین کی طاقت ہیں، جس نے شاندار کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔اپنے ملک کے زرعی شعبے کی صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اہلکار نے کہا کہ یہ دودھ، سبزیوں اور پھلوں کا ایک بڑا پروڈیوسر ہے، لیکن پروسیسنگ یونٹس اور سپلائی چین کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کار اس شعبے کی صلاحیت سے استفادہ کر سکتے ہیں جیسا کہ انہوں نے دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ سیکریٹری نے کہا کہ ان کا ملک CPEC کے لیے پرعزم ہے، اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے، اس بات پر مشترکہ اتفاق رائے ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ CPEC ایک کثیر جہتی پروگرام ہے جو پاکستان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے، جس میں ملک کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ضروری اور دباؤ کی طلب بھی شامل ہے جسے CPEC متعارف کرائے جانے کے وقت 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا۔ شاہ نے نوٹ کیا کہ CPEC نے مختلف منصوبوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) لا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو ایک نئی زندگی بخشی۔

    پاکستان کی مجموعی ترقی میں CPEC کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اس کا آغاز بنیادی ڈھانچے سے ہوا، جس کے بعد صنعت کاری کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جو CPEC کے فریم ورک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ "اقتصادی زونز میں ایف ڈی آئی نے ان ممالک میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے جن کے پاس سرمائے کی کمی تھی … چین دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہونے کے ناطے ہمارا قریبی دوست ہے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ چینی سرمایہ کاری پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بہت زیادہ حصہ ڈالے گی۔

  • ملک میں مہنگائی،امریکی صدرکا اپنے چینی منصب سے رابطے کا عندیہ

    ملک میں مہنگائی،امریکی صدرکا اپنے چینی منصب سے رابطے کا عندیہ

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں مہنگائی کم کر نے کے لیے چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کو 40 سال کی تاریخی مہنگائی کا سامنا ہے ایک بیان میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی چین کے صدر ژی جن پنگ سے بات کریں گے چینی صدر سے رابطے کے لیے ابھی وقت کا تعین نہیں کیا، یہ جلد ہو سکتا ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج ترکی کا دورہ کریں گے

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدرچینی مصنوعات پر عائد 25فیصد اضافی ٹیکس ختم کرنے پر غور کررہے ہیں جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کیا تھا تاہم اگر ٹیرف کی تجدید نا کی گئی تویہ جولائی میں ختم ہوجائےگا۔

    اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پچھلی انتظامیہ سے وراثت میں ملنے والی چینی درآمدات پر کچھ محصولات کا "کوئی تزویراتی مقصد نہیں تھا”، امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کہا کہ بائیڈن افراط زر کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر انہیں ہٹانے پر غور کر رہے ہیں۔

    اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بائیڈن اس مقصد کے لیے محصولات کو ہٹانا چاہتے ہیں، کیونکہ ریاستہائے متحدہ میں افراط زر اب 40 سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے، بنیادی طور پرکوویڈ 19 وبائی امراض ، عالمی سپلائی چین، اور روس یوکرین تنازعہ اور مئی میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا اور ایک سال میں تقریباً 50 فیصد بڑھ گیا۔

    گروسری کی قیمت میں گزشتہ ماہ تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 1979 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ سب بائیڈن انتظامیہ کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول میں لانا ایک فوری کام بنا دیتا ہے۔

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    اس طرح تقریباً 500 بلین ڈالر کی چینی درآمدات پر محصولات ان کی نظروں میں ہیں چین کے ساتھ خسارہ درحقیقت، تجارتی جنگ کے آغاز کے بعد بھی دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس میں 2021 میں امریکی خسارہ 396.6 بلین ڈالر کی بلند ترین سطح تک بڑھ گیا –

    محصولات کو ہٹانے سے نہ صرف افراط زر کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے چین کے ساتھ امریکہ کے ٹوٹے ہوئے تجارتی تعلقات کو ٹھیک کرنے میں بھی مدد ملے گی جیسے جیسے دنیا کی معیشت کورونا کی وبائی بیماری سے بحال ہو رہی ہے، دونوں ممالک کے پاس عالمی میکرو اکنامک کوآرڈینیشن میں اہم کردار ہیں محصولات کا خاتمہ، اور تجارتی جنگ کا باضابطہ خاتمہ، دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک ٹانک اور دنیا کے معاشی مستقبل کے لیے اچھا اشارہ ہوگا۔

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی…

  • چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ نے ” چین کے بارے میں امریکی فہم وادراک کی غلطیاں اور حقائق” کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا جس میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں دھوکہ دہی،منافقت اور نقصانات کوسامنے لایا گیاہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق40ہزار الفاظ پر مشتمل اس مضمون میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی کی اکیس غلطیاں بیان کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کیاگیا ہے تاکہ سب دیکھ سکیں کہ عالمی نظم و نسق میں افراتفری کا سب سے بڑا سبب ، “ناجائز دباو کی سفارت کاری “کا تخلیق کار،انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کرنے والا اور سب سے بڑی “ہیکر ایمپائر ” امریکہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

    ان میں سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ “بین الاقوامی نظم و نسق میں چین ایک بڑا طویل مدتی چیلنج ہے” ۔ اس کے علاوہ امریکہ ، ایشیا و بحرالکاہل میں اپنے پاوں پھیلاتے ہوئے “انڈو پیسفک اکنامک فریم ورک ” تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ اس خطے کے ممالک پر امریکی تجارتی اصول لاگو کر کے چین کے ساتھ ” ڈی کپلنگ ” کی جائے اور روابط کومنقطع کیا جائے ۔یہ فریم ورک صرف اور صرف امریکہ کے ذاتی مفادات پر مبنی ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

    یہ ایک واضح امر ہے کہ امریکی سیاستدان “بین الاقوامی نظم و نسق ،سکیورٹی اور ترقی کے تحفظ” کے بارے میں بیانات تو دیتے ہیں لیکن عمل ، اس کے بر عکس کرتے ہیں ۔ چاہےیہ جتنے بھی بہانے بنا لیں ، ان کے چین کی ترقی پر اثر انداز ہونے کا مذموم مقصد چھپایا نہیں جا سکتا۔

    ادھراس سےپہلے عالمی ترقیاتی رپورٹ کا پہلا شمارہ 20 جون کو بیجنگ میں جاری کیا گیا۔ اس موقع پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے ایک خصوصی ورچوئل خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ترقیاتی رپورٹ میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے نفاذ میں پیش رفت اور چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس صدی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور عالمگیر وبا کے پیش نظر عالمی برادری کو چاہیے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنانے اور بنی نوع انسان کی مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کی خاطر سبز تبدیلی کے لیے ترقیاتی تعاون اور عالمی شراکت داری کی تعمیر پر زیادہ توجہ دے ۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نےکہا کہ مذکورہ رپورٹ میں دنیا اور چین کے مفید تجربے کی بنیاد پر 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ چین کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پر عمل درآمد کا ایک اہم اقدام ہے۔ یہ تمام ممالک کی ترقی کے لیے مفید حوالہ فراہم کرے گا اور عالمی ترقی کے مقصد میں اپنی دانش کے تحت کردار ادا کرے گا۔

    ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے سربراہ ما چیان تھانگ نے نشاندہی کی کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے اقوام متحدہ میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کی تجویز کے بعد عالمی ترقیاتی رپورٹ پہلی جامع تحقیقی رپورٹ ہے۔وسیع تناظر میں دنیا مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے اکیس تاریخ کو یومیہ نیوز بریفنگ میں چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی جانب سے پیش کردہ پہلی “عالمی ترقیاتی رپورٹ “کے حوالے سے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ عالمی ترقیاتی انیشیٹو سے بین الاقوامی بنیادی ایجنڈے میں ترقیاتی امور کی واپسی ، تمام فریقوں کے درمیان ترقیاتی پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے اور تمام وسائل یکجا کرتے ہوئے ترقیاتی مسائل کو حل کرنے اور ہم آہنگ ترقی میں مضبوط قوت حیات فراہم کی گئی ہے ۔

    وانگ وین بین نے نشاندہی کی کہ چین اور دنیا کے دیگر ممالک کے مفید تجربات کی بنیاد پر اس رپورٹ نے 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء اجلاس نے عالمی ترقیاتی انیشیٹو کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے چین کی عالمی ترقیاتی رپورٹ کو بھی سراہا ہے۔ شرکاء کے نزدیک عالمی ترقیاتی انیشیٹو نے بین الاقوامی اتفاق رائے پایا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ امنگوں کی عکاسی کی ہے، اور بین الاقوامی برادری کو مشترکہ طور پر پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔بھارت میں متعین چینی سفیر سون دی دونگ نے کہا ہے کہ 16 برسوں میں ترقی کرتے ہوئے برکس کا نظام باہمی مفادات کے تعاون کا اہم پلیٹ فارم اور بین الاقوامی نظم و نسق کی ترقی،عالمی انتظام و انصرام کی بہتری اور مشترکہ ترقی کی تکمیل کی اہم قوت بن چکا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے ذرائع کے مطابق اسی حوالے سے منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سون دی دونگ نے کہا کہ
    چین مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر ایک مزید قریبی ،جامع اور نتیجہ خیز برکس شراکت داری تشکیل دینے کا خواہاں ہے تاکہ مزید مضبوط ، سرسبز اور مثبت عالمی ترقی کی تکمیل ہو سکے، اس کے ساتھ ساتھ ترقی پزید ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے برکس کی آواز کو مزید بلند کیا جائے گا۔

    سون وی دونگ نے کہا کہ رواں سال چین ،برکس کا میزبان چیئرمین ملک ہے اور چین نے برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔

  • ہانگ کانگ کا  مشہورتیرتا ہوا ریسٹورنٹ سمندر میں ڈوب گیا

    ہانگ کانگ کا مشہورتیرتا ہوا ریسٹورنٹ سمندر میں ڈوب گیا

    ہانگ کانگ کا دنیا بھر میں مشہورتیرتا ہوا ریسٹورنٹ جنوبی چین کے سمندر میں ڈوب گیا۔

    باغی ٹی وی : "سی این این” اور ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق ہانگ کانگ کا ایک مشہور تیرتا ہوا ریستوراں ڈوب گیا ہے،1976 میں ایک بحری جہاز پربنائے گئے فلوٹنگ (تیرنے والا) ریسٹورنٹ جنوبی چین کے سمندر میں پیراسل جزائر کے قریب سے گزرتے ہوئے ڈوب گیا-

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    جمبو کنگڈم، ایک تین منزلہ جہاز جو کسی زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا ریستوراں تھا، شہر کے جنوب مغربی پانیوں میں تقریباً نصف صدی کے وقفے کے بعد گزشتہ منگل کو ٹگ بوٹس کے ذریعے کھینچ کر لے جایا گیا-

    ایبرڈین ریسٹورنٹ انٹرپرائزز لمیٹڈ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ریستوران کی مرکزی کشتی ایک نامعلوم شپ یارڈ کی طرف سفر کر رہی تھی جب وہ ہفتہ کے روز بحیرہ جنوبی چین میں پارسل جزائر (جسے شیشا جزائر بھی کہا جاتا ہے) کے قریب الٹ گئی تیرتا ہوا ریسٹورنٹ شدید مالی بحران کے باعث دو سال سے بند تھا اوراسے ایبرڈین کی بندرگاہ سے کسی اورمقام پرمنتقل کیا جارہا تھا۔


    جہاز کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ سمندر کے اس مقام پرگہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز کو بچانا مشکل ہے۔ واقعہ میں جہاز کے عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا۔

    برطانیہ کو 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی ریلوے ہڑتال کا سامنا

    بیان میں کہا گیا کہ کشتی 1,000 میٹر (3,280 فٹ) سے زیادہ ڈوب گئی، جس سے بچاؤ کا کام "انتہائی مشکل” ہو گیا ایبرڈین ریسٹورانٹ انٹرپرائزز "اس حادثے سے بہت افسردہ ہیں” اور مزید تفصیلات اکٹھا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    تیرتا ہوا ریسٹورنٹ چار دہائیوں تک سیاحوں کی دلچپسی کا مرکز رہا تھا۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم اورہالی وڈ کے ہیرو ٹام کروز سمیت متعدد مشہور ہستیاں تیرتے ہوئے ریسٹورنٹ میں کھانا کھا چکی ہیں۔

    روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

  • روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    یوکرین جنگ کے بعد روس پر لگنے والی بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل بیچ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : "الجزیرہ” کے مطابق روس چین کو سب سے زیادہ تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا ہے گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس مئی تک روس سے خام تیل کی چینی درآمدات میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے-

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

    چین نے مئی میں روس سے خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا، جس سے یوکرین پر اس کے حملے پر روس کی توانائی کی خریداریوں کو کم کرنے کے لیے مغربی ممالک سے ماسکو کے نقصانات کو پورا کرنے میں مدد ملی۔

    چینی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ 8 اعشاریہ چار دو ملین ٹن تیل برآمد کیا گیا۔ جس کے بعد سعودی عرب کی بجائے روس، چین کو آئل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    چینی جنرل ایڈمنِسٹریشن آف کسٹمز کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ماہ 8.42 ملین ٹن تیل برآمد کیا گیا تھا، جبکہ چین نے سعودی عرب سے 7.82 ملین ٹن خام تیل خریدا۔

    چین 2016 سے روس کی خام تیل کی سب سے بڑی منڈی ہے اور اس نے یوکرین میں ماسکو کی جنگ کی عوامی سطح پر مذمت نہیں کی۔ اس کے بجائے، چین نے اپنے الگ تھلگ پڑوسی سے معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روسی تیل کی درآمدات میں مشرقی سائبیریا پیسیفک اوقیانوس پائپ لائن کے ذریعے پمپ کی جانے والی سپلائی اور روس کی یورپی اور مشرق بعید کی بندرگاہوں سے سمندری ترسیل شامل ہیں۔

    اعداد و شمار، جو ظاہر کرتے ہیں کہ روس نے 19 ماہ کے وقفے کے بعد دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے درآمد کنندہ کو سپلائرز کی ٹاپ رینکنگ واپس لے لی، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماسکو مغربی پابندیوں کے باوجود اپنے تیل کے لیے خریدار تلاش کرنے میں کامیاب ہے، حالانکہ اسے قیمتوں میں کمی کرنا پڑی ہے ایسا کرنے کے لئے.

    بلومبرگ نیوز کے مطابق، چین نے مئی میں 7.47 بلین ڈالر مالیت کی روسی توانائی کی مصنوعات خریدیں، جو اپریل کے مقابلے میں تقریباً 1 بلین ڈالر زیادہ تھیں چین کے کسٹمز کے نئے اعداد و شمار یوکرین میں جنگ کے چار ماہ بعد سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکہ اور یورپ کے خریداروں نے روسی توانائی کی درآمدات سے گریز کیا ہے یا آنے والے مہینوں میں ان میں کمی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیائی مانگ روس، خاص طور پر چین اور بھارت کے خریداروں کے لیے ان نقصانات میں سے کچھ کو پورا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

    روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

    تجزیہ کار وی چیونگ ہو نے کہا کہ ابھی کے لیے، یہ خالص معاشیات ہے کہ ہندوستانی اور چینی ریفائنرز زیادہ روسی نژاد خام تیل درآمد کر رہے ہیں کیونکہ یہ تیل سستا ہے۔

    دوسری جانب تہران پر امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایرانی تیل بھی خرید رہا ہے، چین نے گزشتہ ماہ ایران سے بھی 260,000 ٹن خام تیل درآمد کیا۔ دسمبر کے بعد سے یہ اس کی تیسری شپمنٹ تھی۔

    بی بی سی کی گلوبل ٹریڈ کارسپانڈینٹ، دھارشینی کا کہنا ہے کہ صرف چین نے ہی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے بلکہ انڈیا نے بھی روسی تیل کی خرید میں اضافہ کر دیا ہے۔

    ریسرچ فرم Rystad Energy کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت نے مارچ سے مئی تک گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ روسی تیل خریدا، اور اس عرصے کے دوران چین کی درآمدات میں تین گنا اضافہ ہوا۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تازہ ترین عالمی تیل رپورٹ کے مطابق، ہندوستان نے گزشتہ دو مہینوں میں جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر روسی خام درآمد کرنے والے دوسرے سب سے بڑے ملک کے طور پر آگے نکل گیا ہے۔

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    علیحدہ طور پر، اعداد و شمار نے یہ بھی دکھایا کہ چین کی روسی مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمدات گزشتہ ماہ تقریباً 400,000 ٹن تھیں، جو کہ مئی 2021 کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہیں۔

    کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال کے پہلے پانچ مہینوں کے لیے، روسی ایل این جی کی درآمدات – زیادہ تر مشرق بعید میں سخالین-2 پروجیکٹ اور روسی آرکٹک میں یامال ایل این جی سے – سال کے دوران 22 فیصد بڑھ کر 1.84 ملین ٹن ہو گئیں۔

    واضح رہے کہ روس نے کیف کے لیے یورپ کی حمایت پر بظاہر انتقامی کارروائی میں توانائی ذرائع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے گیس سپلائی کو کم کردیا ہے روس نے گزشتہ دنوں نورڈ اسٹریم پائپ لائن سےگیس کی سپلائی میں 60 فیصد کٹوتی کی ہے جس سے جرمنی، فرانس، آسٹریا اور جمہوریہ چیک متاثر ہوئے ہیں گیس کی سپلائی میں کمی سے توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے یورپی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔

    نچوڑ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، خطے کی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا اور یورپی یکجہتی کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے – کریملن کے لیے تمام فتوحات جو کہ یورپی رہنماؤں نے ملک کے ایک اعلیٰ سطحی دورے کے دوران یوکرین کے لیے حمایت پر زور دیا۔

    برطانیہ کو 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی ریلوے ہڑتال کا سامنا

    کنسلٹنٹ ووڈ میکنزی لمیٹڈ کے مطابق، اگر روس اپنا مرکزی رابطہ مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، تو خطے میں جنوری تک سپلائی ختم ہو سکتی ہے کشیدگی کی وجہ سے، یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا جو یوکرین میں روس کی جنگ کے ابتدائی مراحل کے بعد سے سب سے بڑا ہفتہ وار فائدہ ہے اس خطے کے پاس روس کی پائپ لائنوں کا بہت کم متبادل ہے، خاص طور پر موسم سرما کے دوران، ناروے اور نیدرلینڈز سے اسپیئر گنجائش بہت کم ہے، اور مائع قدرتی گیس کے کارگوز کے مزید سخت ہونے کی امید ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر روس کی جانب سے مرکزی لنک کو بند کردیا جائے تو یورپ جنوری میں گیس کی سپلائی سے محروم ہوجائے گا یورپ کے پاس ابھی روس سے ہٹ کر توانائی کے حصول کا کوئی ٹھوس متبادل موجود نہیں، بالخصوص موسم سرما کے دوران اسی طرح دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بھی بڑھ گئی ہےاور چین دنیا میں ایل این جی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے تو یورپی ممالک کو ایندھن کے اس ذریعے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

  • چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    واشنگٹن :چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن سربراہوں نے جمعے کو قانون سازی متعارف کرائی جو تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تجویز کرے گی۔

    اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سینس باب مینینڈیز اور لنڈسے گراہم کی طرف سے متعارف کرایا گیا یہ قانون تائیوان کو اگلے چار سالوں میں تقریباً 4.5 بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کرے گا اور تائیوان کو ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر قبول کرے گا۔اس سے پہلے تائیوان کو پہلے ہی امریکی قانون کے تحت ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے باضابطہ طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یہ ایکٹ بین الاقوامی تنظیموں اور تجارتی بلاکس میں تائیوان کی شمولیت کے لیے اضافی امریکی حمایت میں مزید اضافہ کرے گا۔

    "تائیوان پالیسی ایکٹ 2022، بیجنگ کے فوجی، اقتصادی اور سفارتی خطرات کے پیش نظر تائیوان اور ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مکمل عزم کا ایک بنیادی بیان پیش کرتا ہے جو ہند بحر الکاہل میں ہمارے مفادات اور ہماری اقدار کا اشتراک کرتے ہیں۔

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ بیجنگ تائیوان کو مجبور کرنے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تائیوان کے عوام اور ان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کے ہمارے عزم کی گہرائی اور طاقت کے بارے میں کوئی شک یا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔”

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    سینیٹرز نے آخری بار اپریل 2022 میں ایشیا پیسیفک کے علاقائی دورے کے ایک حصے کے طور پر تائیوان کا دورہ کیا تھا جس میں وہ تائیوان کے صدر تسائی انگ وین اور تائیوان کے دیگر سینئر حکام کے ساتھ بیٹھے تھے۔

    یاد رہے کہ چین تائیوان کو ایک "تقسیم شدہ صوبہ” سمجھتا ہے، لیکن تائی پے نے 1949 سے اپنی آزادی برقرار رکھی ہے۔