Baaghi TV

Tag: چین

  • افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ:افغانستان کے معاملات پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس پچیس سے چھبیس جولائی تک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں شریک تمام فریقوں کی رائے میں اقتصادی ترقی کی بحالی اور مضبوطی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔

    کانفرنس میں افغانستان کی عبوری حکومت ، چین، روس، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ایران، پاکستان سمیت 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان، ماہرین اور سکالرز نے شرکت کی۔عالمی میڈ یا کے مطا بق افغان عبوری حکومت کے وفد کے سربراہ اور قائم مقام وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا کہ اس وقت افغانستان کا بنیادی کام معیشت کو ترقی دینا ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی مندوب برائے افغان امور یوئے شیاؤیونگ نے اجلاس میں کہا کہ چین، افغانستان کو گورننس، سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • اسپیس ایکس نے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    اسپیس ایکس نے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    نیویارک:اسپیس ایکس نے اپنے اسٹار لنک مشن کے تحت مزید 32 سیٹلائیٹس خلا میں بھیج کراپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    اسپیس ایکس کی جانب سے گزشتہ جمعے فیلکن 9 راکٹ کے ذریعے مزید 32 سیٹلائیٹس مشنزمدارمیں بھیجنے کے بعد کمپنی کےچیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ’ سیٹلائیٹ لانچنگ کی ریکارڈ تعداد کے بعد اسیپس ایکس ٹیم کو بہت بہت مبارک باد‘

    اس مشن کے تحت 46 اسٹارلنک سیٹلائیٹس کوزمین کے نچلے میں مدار میں نصب کیا جاچکا ہے۔ اس مشن کوکمپنی کی ریاست کیلی فورنیا کے وینڈین برگ اسپیس فورس بیس میں واقع لانچ سائٹ سے روانہ کیا گیا۔

    دنیا کے کونے کونے مین انٹرنیٹ تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار لنک منصوبے کے تحت تقریبا 3 ہزارسیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا چکا ہے۔

    اس بابت اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف اس سال کے آخر تک 52 مشنزکومدارمیں بھیجنا ہے، جوکہ اس کے سالانہ لانچنگ پروگرام سےتقریبا دوگنا ہے۔ گزشتہ سال اسپیس ایکس نے تمام ترمخالفت کے باوجود 31 مشن سرانجام دیے تھے۔

    اسپیس ایکس اس مقصد کے لیے دوبارہ استعمال کے قابل فیلکن 9 راکٹ استعمال کرتا ہے جوکہ 15 مرتبہ پروازکی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یاد رہے کہ اسپیس ایکس نے اپنے خلائی پروگرام پرکی جانے والی تمام ترتنقید کے باجود نئے سال کے پہلے ہفتے میں ہی مزید اسٹارلنک سیٹلائٹ کومدارمیں بھیج دیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں: ایلو ن مسک کی برین چپ اور دماغ کے آپریشن کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    اسپیس ایکس نے 49 سیٹلائٹس پر مشتمل 35 ویں بیچ کوفلیکن 9 راکٹ کے ذریعے فلوریڈ کے کینیڈی خلائی مرکزسے روانہ کیا تھا۔

    جب کہ ایک میزجتنی جسامت رکھنے والے ان سیٹلائٹس کی پروازکے 1 گھنٹے 20 منٹ بعد آن بورڈ ڈیپلائمنٹ (صف بندی) کردی گئی تھی۔

    اسٹارلنک اسپیس ایکس کا ہزاروں سیٹلائٹس پرمشتمل ایسا جھرمٹ ہے جس کا مقصد دنیا بھرخصوصا انٹرنیٹ سے محروم علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

    اسپیس ایکس، اسٹارلنک منصوبے کے بانی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ نیکسٹ جنریشن اسٹارلنک پراجیکٹ کے تحت زمین کے نچلے مدارمیں تقریبا 42 ہزاراسٹار لنک سیٹلائٹس بھیجیں جائیں گے۔

    چین نے اپنے مستقل خلائی اسٹیشن کے لیے دوسرے موڈیول کو لانچ کردیا جو کہ سال کے آخر تک اس کے خلائی مشن کی تکمیل کے لیے درکار تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی خبر کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے 23 ٹن وزنی وینٹیئن نامی (اگلے جہانوں کی تلاش) لیبارٹری موڈیول کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجکر 22 منٹ پر ہینان کے جنوبی جزیرے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے چین کے سب سے طاقتور راکٹ لانگ مارچ 5 بی پر لانچ ہوتے لائیو دکھایا۔

    خلائی ایجنسی کے عملے نے لائیو فیڈ پر کنٹرول روم سے لانچ کا مشاہدہ کیا اور جب وینٹیئن لانچ کیے جانے کے تقریباً 10 منٹ بعد راکٹ سے الگ ہوا تو عملے نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجائیں۔

    سی سی ٹی وی نے لانچ کے کچھ دیر بعد رپورٹ کیا کہ لانچنگ مکمل طور پر کامیاب رہی۔چین نے ٹائے آنہی موڈیول کے ساتھ خلائی اسٹیشن کی تعمیر اپریل 2021 میں شروع کی تھی۔

    وینٹیئن لیب ماڈیول، 17.9 میٹر (59 فٹ) لمبا وہ جگہ ہو گی جہاں خلاباز سائنسی تجربات کر سکیں گے جب کہ اس کے ساتھ دوسرا مینگٹیئن (اگلے جہانوں کا خواب) نامی لیب ماڈیول کو بھی لانچ کیا جانا ہے-

    وینٹیئن میں ایئر لاک کیبن موجود ہے جو کہ خلائی اسٹیشن کے مکمل ہونے پر بغیر گاڑیوں کی سرگرمیوں کے لیے مرکزی ایگزٹ انٹری پوائنٹ ہوگا۔

    یہ اسٹیشن پر عملے کی موجودگی کے دوران خلابازوں کے لیے قلیل مدتی رہائش گاہ کے طور پر بھی کام کرے گا، اس اسٹیشن کو صرف 3 خلابازوں کی طویل مدتی رہائش کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔عالمی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے پانچویں حصے کی تعمیر کی تکمیل چینی عوام کے لیے باعث فخر ہے۔

    خلائی اسٹیشن پر شینزو 14 مشن کے کمانڈر چن ڈونگ کے ہمراہ ان کی ٹیم کے 2 افراد موجود ہیں، وہ شینزو 15 کے عملے کی آمد کے ساتھ دسمبر میں زمین پر واپس آئیں گے۔

  • امریکی اسپیکر کے دورہ تائیوان سے چین کے اقتدار اعلی کو شدید نقصان پہنچے گا:چین

    امریکی اسپیکر کے دورہ تائیوان سے چین کے اقتدار اعلی کو شدید نقصان پہنچے گا:چین

    بیجنگ:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ چین نے بارہا اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ چین امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ امریکی کانگریس امریکی حکومت کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تائیوان کے معاملے پر امریکی وعدوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق انہوں نے کہا کہاگر سپیکر پیلوسی تائیوان کا دورہ کرتی ہیں تو یہ ایک چین کے اصول اور چین اور امریکہ کے درمیان تین مشترکہ اعلامیوں کی سنگین خلاف ورزی ہو گی، چین کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کو شدید نقصان پہنچے گا، چین-امریکہ تعلقات کی سیاسی بنیاد بری طرح متاثر ہوگی اور تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو ایک سنگین غلط سگنل جائے گا۔ اگر امریکہ اپنے راستے پر چلا تو چین اس کا جواب دینے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔ ” ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔”

    ادھرچین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے جنوری سے جون تک قومی پاور انڈسٹری کے اعداد و شمار جاری کیے۔اعداد و شمار کے مطابق جون کے آخر تک، بجلی کی مجموعی قومی پیداواری صلاحیت تقریباً 2.44 بلین کلوواٹ رہی ہے، جس میں سال بہ سال 8.1 فیصد کا اضافہ ہے ہے۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ان میں، ہوا سے بجلی کی پیداواری صلاحیت تقریباً 340 ملین کلوواٹ ہے، جس میں سال بہ سال 17.2 فیصد کا اضافہ ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداواری صلاحیت تقریباً 340 ملین کلوواٹ رہی ہے، جس میں سال بہ سال 25.8 فیصد کا اضافہ ہے۔جنوری سے جون تک، ملک بھر میں بجلی پیدا کرنے والے آلات کا مجموعی اوسط استعمال 1,777 گھنٹے رہا، جس میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 81 گھنٹے کی کمی آئی ہے۔ ان میں تھرمل پاور کے استعمال میں 133 گھنٹے ، جوہری توانائی کے استعمال میں 132 گھنٹے اور ہوا سے توانائی کے استعمال میں 58 گھنٹے کی کمی آئی ہے۔

    چینی حکام کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران ملک میں بجلی پیدا کرنے والے بڑے اداروں نے پاور پراجیکٹس میں 215.8 بلین یوآن کی سرمایہ کاری کی، جس میں سال بہ سال 14.0 فیصد کا اضافہ ہے۔ ان میں، شمسی توانائی کے منصوبہ جات میں 63.1 بلین یوآن کی سرمایہ کاری کی گئی، جو سال بہ سال 283.6 فیصد زیادہ ہے۔ پاور گرڈ پراجیکٹس میں سرمایہ کاری 190.5 بلین یوآن رہی جو کہ سال بہ سال 9.9 فیصد زیادہ ہے۔

    دوسری طرف چینی صدر جہاں ایک طرف امورمملکت احسن انداز سے چلارہےہیں وہاں چینی صدر چینی قوم کی ہرموقع پر رہنمائی بھی کرتےہیںَ یہ رہنمائی تعلیم کے میدان سے لیکرصنعتی ترقی اورکھیل کے میدان سے لیکن میدان جنگ تک وہ مسلسل کرتے ہیں ، شاید یہی وجہ ہےکہ اس بار پھر چینی صدر شی جن پنگ نے ورلڈ یوتھ ڈویلپمنٹ فورم کے نام تہنیتی خط بھیجا ہے۔

    امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    جمعرات کے روزچینی میڈ یا کےمطابقشی جن پنگ نے نشاندہی کی کہ نوجوان امید کی نمائندگی کرتے ہیں، اور نوجوان تخلیق کرتے ہیں۔ چین نے ہمیشہ نوجوانوں کو سماجی ترقی کے لیے ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا ہے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کے عمل میں اپنی توانائیوں کا مظاہرہ کریں۔

    چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان…

    شی جن پنگ نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ یوتھ ڈولیپمنٹ فورم دنیا کے نوجوانوں کے لیے عالمی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے اور عالمی سطح پر نوجوانوں کی ترقی کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن جائے گا۔

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کے نوجوانوں کو تمام بنی نوع انسان کے مشترکہ اقدار کے لیے امن، ترقی، انصاف،جمہوریت اور آزادی کو آگے بڑھانا چاہیے، عملی اقدامات کے ساتھ عالمی ترقی کے اقدامات کو فروغ دینا چاہیے اور اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے پر عمل درآمد میں مدد کرنی چاہیے۔یاد رہے کہ عالمی یوتھ ڈویلپمنٹ فورم کا آغاز آج کے دن بیجنگ میں ہوا۔

  • امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    نیویارک:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ چین امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک چین کے اصول اور چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی پاسداری کرے اور امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کا اہتمام نہ کرے۔ امریکہ اور تائیوان کے درمیان سرکاری تبادلے فوری طور پر بند کئے جائیں، اور آبنائے تائیوان میں کشیدگی پیدا کرنا بند کیا جائے۔

    منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اس سال اگست میں ایک وفد کے ہمراہ تائیوان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ میڈیا کا کہنا ہے کہ 25 سالوں میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا تائیوان کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

    ادھر آج اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی نے اعلیٰ سطح کی خصوصی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع رہا “مشترکہ اقدامات: عالمی خوراک کے بحران پر مربوط ردعمل”۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے” گروپ آف فرینڈز” کی ترجمانی کرتے ہوئے خطاب میں اپنا موقف بیان کیا۔

    منگل کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ چانگ جون کے مطابق خوراک کے بحران کے شکار ایسے ممالک بالخصوص ترقی پزیر ممالک کو ہنگامی حمایت فراہم کی جائے ۔ مختلف شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے تعاون کی مضبوطی پر زور دیا جائے۔ دنیا بھر میں خوراک اور زراعت سے متعلق سپلائی چین کے موثر آپریشن کو یقینی بنایا جائے۔

    چانگ جون نے مزید کہا کہ فوڈ سیکیورٹی ، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔مذکورہ گروپ خوراک کے عالمی بحران سے مشترکہ نمٹنے کے لیے کثیر فریقی تعاون کو مضوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
    چینی مندوب کے مطابق رواں سال چین نے اقوام متحدہ کے نیویارک صدر دفتر میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کا” گروپ آف فرینڈز” قائم کیا تھا جس میں ساٹھ ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ اُن کی جانب سے خطاب گروپ کا پہلا مشترکہ خطاب ہے، جسے گروپ تعاون کا اہم قدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    چین کی معروف کارسازکمپنی ”گریٹ وال موٹر”نےہندوستان چھوڑنےکا اعلان کردیا

    نئی دہلی:چین کی سب سے بڑی آٹو موٹیو کمپنی گریٹ وال موٹر لمیٹڈ اب اپنا تمام کام سمیٹ کربھارت سےواپس جا رہی ہے۔حالانکہ چین نےاس پراجیکٹ پربہت پیسہ لگایا۔مستقبل میں بھی چین بھارت میں آٹوموٹیوسیکٹرمیں کروڑوں روپےکی سرمایہ کاری کرنے والا تھا لیکن ایک بھی کارنہ بنا کراس نےبھارت میں اپنا کام بند کردیا ہے۔گریٹ وال موٹر کمپنی اپنی تمام سرمایہ کاری ہندوستان سے باہر لےجا رہی ہے۔

     

     

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان

    گریٹ وال موٹر کمپنی سال 2019 میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری اور مارکیٹ حکمت عملی کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ یہ کمپنی ہندوستان کے ہر شہر میں اپنے شو روم قائم کرنا چاہتی تھی، کچھ بڑے شہروں میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنا چاہتی تھی اور اسے بڑے پیمانے پر ہندوستانی مارکیٹ میں فروخت کرنا چاہتی تھی اور یہاں سے بنی گاڑیاں بھی برآمد کرنا چاہتی تھی۔ انہیں ایسا کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، کیونکہ ہر چینی کمپنی وہاں کی حکومت سے وابستہ ہے، اس لیے ان کے پاس کبھی پیسے کی کمی نہیں ہوتی۔ اگر یہ کمپنی ہندوستان میں مینوفیکچرنگ شروع کر دیتی تو ہندوستان میں کام کرنے والی تمام ملکی اور غیر ملکی کار ساز کمپنیاں سر جوڑ کر بیٹھ جاتی، کیونکہ یہ صارفین کو اپنی مارکیٹ بنانے کے لیے منافع بخش پیشکشیں دیتی۔

     

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    کہا جاتا ہے کہ چین کبھی بھی براہ راست تجارت نہیں کرتا۔ چین نے بھارت میں تیزی سے کام شروع کرنے کے لیے امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کا مہاراشٹر میں بنایا ہوا پلانٹ ایک ارب ڈالر میں خرید لیا، کیونکہ اگر چین اپنی فیکٹری بناتا اور لوگوں کو ملازمت دیتا تو اس میں بہت وقت لگتا۔ چنانچہ چین نے بھارت میں فلاپ امریکی کار کمپنی شیورلیٹ کی فیکٹری خرید کر اپنا وقت بچا لیا۔

    گریٹ وال موٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ان تمام لوگوں کو نوکری سے نکال دیا ہے جن کی اس نے خدمات حاصل کی ہیں اور چین نے اس فیکٹری میں اب تک جو سرمایہ کاری کی ہے وہ بھارت سے واپس لے لے گا۔ یعنی چین نے بھارت سے اپنا کام واپس لے لیا ہے۔

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    دوسری جانب یہ خبر چین کی معیشت کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں کیونکہ چین کی معیشت کو ان دنوں ترقی کی کمی کا سامنا کرنا پڑھ رہاہے۔اس وبا کے بعد چین میں تقریبا 20 لاکھ بڑی کمپنیاں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے پاس ریزرو میں پیسہ نہیں بچا ہے۔ اس کا سب سے برا اثر چین میں جمود کی طلب پر پڑا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    سنکیانگ:چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ سے پیچھے نچلے نہ بیٹھے رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مشرق وسطیٰ کسی کے گھر کا پچھواڑا نہیں ہے۔’ چینی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔

    وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں ایسا کوئی خلا ہے’ جسے امریکہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چینی ترجمان نے اپنے ملک کی فروغ امن اور مسائل کے منصفانہ حل کے لیے کوششوں کے حوالے سے کہا چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ امن کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے۔’

    چینی ترجمان وانگ نے یہ بھی کہا ‘چین پوری طرح پیسفک آئی لینڈ کے ملکوں کی خواہش کو سنے گا اور ان کی خواہش کا احترام کرے گا۔’ واضح رہے چین کی طرف سے یہ بات پیسفک آئی لینڈ فورم کی طرف سے الزامات سامنے آنے کے بعد کہی گئی ہے۔ پی آئی ایف کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چیز بشمول سکیورٹی اور ماہی گیری ہر چیز پر محیط ہے۔

    چینی ترجمان کے بیان سے محض ایک روز پہلے جمعرات کے دن پی آئی ایف کے سیکرٹری جنرل ہنری پونا نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ چینی وزیر خارجہ وانگ بحرالکاہل ملکوں میں اپنے پہلے سے تیار کردہ دستاویز کے ساتھ آئے تاکہ متعلقہ ملکوں سے مشاورت کر سکیں۔ لیکن یہ ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

    اس موقع پر وانگ نے اس پر اصرار کیا تھا کہ چین نے بحرالکاہل کے ملکوں سے بڑی سنجیدہ مشاورت کی ہے۔ ہم اس پراسس کو جاری رکھیں گے۔’

    وانگ نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سری لنکا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیجنگ نے سری لنکا کے لیے 75 ملین ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ خوراک کی دوسری شپمنٹ بھی بھیج چکا ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے ۔ سنکیانگ کے سفر کے دوران صدر شی کی طرف سے خصوصی تو جہ اور اہم ہدایات کا خلاصہ چار کلیدی نکات میں کیا جا سکتا ہے۔آج ہفتے کے روز صدر شی جن پنگ نے کہا ، “سنکیانگ کا سب سے طویل المدتی مسئلہ نسلی اتحاد کا مسئلہ ہے،” اور “سنکیانگ میں سب سے بڑا کام نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی ہے۔”انہوں نے کہا کہ اتحاد شناخت سے الگ نہیں ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ثقافتی شناخت سب سے بنیادی شناخت ہے، قومی اتحاد کی جڑ اور قومی ہم آہنگی کی روح ہے۔

    انہوں نے مز ید کہا کہ سنکیانگ کے مسائل کے حل کے لیے ترقی بنیادی کلید ہے۔ سنکیانگ کے لیے طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز لوگوں کے دلوں میں سکون ہے۔ سنکیانگ کے اس معائنہ کے دوران صدر شی نے زور دیا، “ہمیں ترقی اور استحکام، لوگوں کی روزی، اور ترقی اور لوگوں کے دلوں کے درمیان قریبی تعلق کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے اور لوگوں کے دلوں کو متحد کرنے کے لیے ترقیاتی ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔

    اس معائنہ کے دوران صدر شی نے واضح طور پر تجویز پیش کی کہ ہمیں سنکیانگ میں بنیادی اور طویل مدتی امور پر توجہ دینی چاہیے جو طویل مدتی استحکام سے متعلق ہیں۔ سنکیانگ کی سماجی صورتحال کے مجموعی اور طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سنکیانگ میں قانون کی حکمرانی کو زیادہ نمایاں اور اہم مقام پر رکھا جائے ۔

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔

     

     

     

  • چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    بیجنگ:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران سری لنکا کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین نے ہمیشہ سری لنکا کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں پر توجہ دی ہے اور سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق مدد فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے سری لنکا کو 500 ملین یوان کی ہنگامی انسان دوست امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور چودہ تاریخ کو چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد کی دوسری کھیپ سری لنکا کے حوالے کر دی گئی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ وین بین نے واضح کیا کہ چینی مالیاتی ادار ے سری لنکا کے ساتھ مشاورت سے قرضوں کے مناسب انتظام کے خواہاں ہیں تاکہ سر ی لنکا کو موجودہ مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    چین کی ریاستی کونسل کےدفترِاطلاعات کی پریس کانفرنس میں قومی شماریات بیوروکےترجمان اور محکمہِ قومی اقتصادی شماریات کےڈائریکٹر فولینگ ہوئی نے2022 کی پہلی ششماہی میں قومی معیشت کےعمل سے متعارف کروایا ہے۔

    جمعہ کےروزچینی میڈ یا نےبتایاکہ ابتدائی اعدادوشمارکےمطابق، سال کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی 562کھرب 64ارب 20 کروڑ چینی یوآن تھی، مستقل قیمتوں کےمطابق اس میں سال بہ سال 2.5 فیصد اضافہ ہواہے۔ سال کی پہلی ششماہی میں، قومی سی پی آئی میں سال بہ سال 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں صنعتی پروڈیوسرز کی ایکس فیکٹری پرائس میں سال بہ سال 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    چین کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے ہی شدید مشکل بین الاقوامی صورتِ حال اور چین میں وبا کے اثرات کے پیش نظر، مختلف علاقوں اور محکموں نےسی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے فیصلوں اور انتظامات پر سختی سے عمل درآمد کیا، روزگار کے امور کو مستحکم اور یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جس سے روزگار کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی۔

    اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک، ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پینسٹھ لاکھ چالیس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے 59فی صد سالانہ اہداف اور کام مکمل ہوئے ، جو طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق ہے ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ملازمتوں کے زبردست دباؤ کے باوجود، طلب اور رسد کے نقطہ نظر سے، چینی منڈی میں ملازمتوں کی مانگ ہمیشہ ملازمت کی تلاش کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔

    وزارتِ انسانی وسائل وسماجی تحفظ کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسیز اور اقدامات کے پیکج پر تیزی سے عمل درآمد، انسداد وبا اور اقتصادی وسماجی ترقی کے لیے موثر ہم آہنگی نیز تمام فرقوں کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنے کی بھرپور کوششوں کے باعث ، روزگار کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

  • چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    بیجنگ:چین کے قومی ترقیاتی و اصلاحاتی کمیشن نے کہا ہےکہ ملک کی صنعتی چین اور سپلائی چین مجموعی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور ہائی ٹیک صنعتیں اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے لیے ترقی کے نئے نکات بن چکے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق رواں سال کی پہلی ششماہی میں معاشی صورتحال پر میڈیا بر یفنگ میں کمیشن کے شعبہ ہائی ٹیک کے اہلکار نے کہا کہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی اضافی قدر میں سالانہ بنیادوں پر 9.9 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2019 کی اسی مدت کی سطح سے تجاوز کر چکا ہے۔ کئی بڑی اختراعی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اور ہائی ٹیک انڈسٹریز اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے نئے گروتھ پوائنٹس بن چکے ہیں، جو صنعتی اور سپلائی چینز کی اصلاح اور اپ گریڈنگ کو مضبوط قوت فراہم کریں گے۔چین نیٹ ورک کی سہولیات اور ایپلی کیشنز کے اعتبار سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ ڈسپلے انڈسٹری کا پیمانہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ فوٹو وولٹک ماڈیولز کی عالمی پیداوار تین چوتھائی سے زیادہ ہے، اور مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاور ٹرانسمیشن ، ٹرانسفارمیشن آلات اور ریل ٹرانزٹ آلات کی تکنیکی سطح عالمی معیار پر انتہائی جدید ہے۔

    جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج پر بحرالکاہل جزائر ممالک فورم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ چین نے جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین کے بھی یہی احساسات ہیں ۔ یہ جاپانی فیصلے پر عالمی برادری کی شدید تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سمندری ماحول اور متعلقہ ممالک کی صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس مسئلے کا تعلق محض جاپان سے نہیں ہے۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایک سال سے زائد عرصے میں، جاپانی حکومت نے جوہری آلودہ پانی کو صاف کرنے والے آلات کی تاثیر، اور ماحولیاتی اثرات کی غیر یقینی صورتحال جیسے اہم مسائل پر سائنسی اور قابل اعتبار وضاحتیں نہیں پیش کی ہیں ، بلکہ اس منصوبے کو زبردستی فروغ دیا ہے۔ جوہری آلودہ پانی کے اخراج کے حوالے سے تمام فریقوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

     

  • ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ

    ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ

    نئی دہلی :ہندوستان کا ایران اور روس کے ساتھ روپے میں تجارت کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق حکومت ہندوستان نے ایران اور روس کے ساتھ تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے شکار ایران اور روس جیسے ملکوں کے ساتھ تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے روپے میں ادائیگی کا نظام استعمال کیا جائے گا۔

    آر بی آئی کے بیان میں آیا ہے کہ یہ فیصلہ ہندوستانی برآمدات میں اضافے کی پالیسی اور عالمی تجارتی برادری میں روپے میں لین دین کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے برآمداتی اور درآمداتی ادائیگیوں کا نیا نظام تیار کیا جارہا ہے۔

    ہندوستان کی، فروغ برآمدات کونسل کے سربراہ مہیش دیسائی نے مرکزی بینک کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ایران اورروس جیسے ملکوں کے ساتھ تجارت میں آسانیان پیدا ہوں گی جن پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    ہندوستان کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اس فیصلے سے ڈالر اور یورو کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی گرتی قدر کو بھی سہارا ملے گا۔