Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    واشنگٹن: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں، ٹرمپ کو 2024 کے انتخابات میں اہم ریاستوں میں برتری رہی ہے یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں ٹرمپ کا نام گونج رہا تھا،حالیہ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔سی این این کے ایگزٹ پولز کے مطابق، 2016، 2020 اور 2024 کے انتخابات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح خراب معیشت نائب صدر کملا ہیرس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی، خواتین میں ان کی حمایت میں اضافے کی کوششیں ناکام ہوئیں، حالانکہ اس دوران اسقاط حمل کے حق میں حمایت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، اور کس طرح لاطینی مرد خاص طور پر ٹرمپ کی طرف مائل ہوئے۔

    اس سال کملا ہیرس کو خواتین میں جو برتری حاصل ہوئی، وہ صدر جو بائیڈن اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے کم تھی، جو نائب صدر کے لیے پریشان کن علامت ہے کیونکہ ان کا مقصد خواتین کو اسقاط حمل کے مسئلے پر متحرک کرنا تھا۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے مردوں میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ لاطینی ووٹرز، خصوصاً لاطینی مردوں میں، 2016 سے ٹرمپ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سال، لاطینی مردوں نے پہلی بار ٹرمپ کو حمایت دی۔ 2020 میں جو بائیڈن نے ان کی حمایت 23 پوائنٹس سے حاصل کی تھی، لیکن 2024 میں یہ حمایت ٹرمپ کو حاصل ہوئی۔ لاطینی خواتین نے اب بھی ہیرس کو پسند کیا، لیکن یہ فرق پہلے کی نسبت کم تھا۔ دوسری جانب، ہیرس نے سیاہ فام مردوں اور عورتوں میں مضبوط برتری برقرار رکھی۔ سفید فام مردوں میں ٹرمپ کی برتری کم ہوئی۔سفید فام ناخواندہ ووٹرز ہمیشہ سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، اور یہ رجحان اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، سفید فام تعلیمی ڈگری رکھنے والے ووٹرز میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ 2016 میں یہ ووٹرز ٹرمپ کے حق میں تھے، لیکن 2024 میں ہیرس نے ان میں تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو کہ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف سے تھی۔ ہیرس نے سفید فام خواتین میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ 20 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو بائیڈن اور کلنٹن کے مقابلے میں بہتری تھی۔

    حالیہ امریکی انتخابات میں نسل، عمر اور طبقاتی فرق میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو جمہوریت کے اصولوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور ترقی پسند نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسی طرح خواتین، رنگ دار افراد اور تعلیم یافتہ طبقات نے انتخابی عمل میں حصہ داری بڑھائی ہے، جس کا اثر امریکی سیاست پر گہرا پڑا ہے۔2016 کے انتخاب میں جس طرح سے ٹرمپ کی جیت ہوئی، اس کے بعد سے قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت نے ایک نئی سیاسی سمت کا آغاز کیا، اور اسی دوران امریکہ میں مروجہ سیاسی تقسیم میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انتخابی گفتگو اور بحث میں نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔معاشی حالات، صحت کی خدمات، موسمیاتی تبدیلیوں اور سوشل جسٹس جیسے مسائل نے عوام کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور عوامی شعور میں اضافے نے بھی امریکی ووٹروں کے رویوں کو متاثر کیا ہے۔

    یہ انتخابات امریکی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت ہیں، جہاں نہ صرف ٹرمپ کی مسلسل حمایت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہیرس اور بائیڈن کی پالیسیوں کے اثرات بھی واضح ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    امریکی تجزیہ کار نے اپنی رائے میں کہاہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں امریکی نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینئر نمائندے اولیور ناکس کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ایک عشرے کے بعد پارٹی میں الیکشن مہم سے نئی روح پھونک دی ہے.اب ٹرمپ ہی ڈیموکریٹس کا چہرہ اور پہچان بن چکے ہیں. اولیور ناکس کا مزید کہنا تھا کہ 2020 کے واقع کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ دوبارہ سے انتخاب لڑنے اور سیاست میں رہیں گے لیکن انہوں کر دیکھایا.واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، اور صدارتی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی کوشش کی ۔ 6 جنوری 2021 ءکو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

  • ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے بلند ہو گئے.

    باغی ٹی ی : امریکی میڈیا کے مطابق ریاست مشی گن کے عرب اکثریتی آبادی والے شہر ڈیربورن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے بلند ہو گئے، ڈیربورن میں ڈیموکریٹس کی مشرق وسطی پالیسی پر ناراضگی کے باعث ووٹرز کی رائے منقسم ہے، اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی کے دوران بھی سڑکوں پر جمع ہجوم میں یو ایس اے اور فلسطین کی آزادی کے نعرے سنائی دیتے رہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق مقامی ووٹر کا کہنا ہے کہ مشی گن کے میدان میں مسلمان ووٹرز ہار اور جیت کا فرق پیدا کرسکتے ہیں، غزہ جنگ پر بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے ناراض عرب ووٹرز کے علاقوں میں کملا ہیرس کو روایتی ڈیموکریٹ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ عرب نژاد امریکیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    اسرائیل پر حملہ،امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا

    اسرائیل پر حملہ،امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا

    آج بھی دنیا کے تین آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرسکتی ہے، ٹائمز آف اسرائیل

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرسکتی ہے، ٹائمز آف اسرائیل

    تل ابیب:اسرائیلی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتظامیہ کو غزہ جنگ کے فوری حل کے لیے مشورہ دیا ہےیہ بات اسرائیلی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ٹرمپ کی تجویز کو نظرانداز کیا گیا تو وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے اس کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    اسرائیلی اخبار نے رپورٹ میں کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل دائیں بازو کی جماعتیں غزہ میں جنگ جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کے اندر مختلف آرا موجود ہیں۔

    دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے حملے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اسرائیل کے لیے ایک اور چیلنج پیش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    ادھر لبنان پر مسلسل اسرائیلی حملوں کی روشنی میں تل ابیب میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ،جو لبنان سے داغے گئے دو میزائلوں کے ساحلی شہر کے ساحل پر پھٹنے کی تھی، اسرائیلی فوج نے بھی تل ابیب کے وسیع تر علاقے کی جانب میزائل داغے جانے کا بتایا ہے،اسرائیلی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایک میزائل لبنان کی سرزمین سے داغے جانے کا پتہ چلا اور وہ ملک کے وسط میں ایک کھلے علاقے میں جا گرا، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بحیرہ روم میں پانچ ڈرونز کو اسرائیل میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا۔

    اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی نے بین گوریون ایئرپورٹ پر مختصر مدت کے لیے رکنے کے بعد فضائی ٹریفک بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ ایک جگہ پر ایک مشکوک چیز دیکھی گئی تھی جس کی بنا پر ایئرپورٹ کو مختصر وقت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

  • ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو  ایران  کو تباہ کردیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو ایران کو تباہ کردیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر کسی امریکی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو جواب میں ایران یا اس کے کسی شہر کو مکمل طور پر تباہ کردینا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر میں صدر ہوتا اور ایران ہمارے کسی صدارتی امیدوار کے قتل کی دھمکی دیتا تو جواب میں سخت ردعمل دیتا میں ایران کو کہتا کہ اگر ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو تمھارے پورے ملک یا کسی بڑے شہر کو تباہ کردیں گے، موجودہ حکومت کو بھی ایسا ہی ردعمل دینا چاہیے اور ایران کو سختی سے متنبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے نے ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے خبردار کرتے ہوئے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے جولائی میں پنسلوینیا اور فلوریڈا میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھیں جن میں سے ایک حملے میں وہ زخمی بھی ہوگئے تھے تاہم ان دونوں حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے امکان کو رد کردیا گیا تھا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو  ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے،امریکی انٹیلی جنس

    ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے،امریکی انٹیلی جنس

    واشنگٹن: امریکی انٹیلی جنس ادارے نے قتل کی ایرانی سازش سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ترجمان نے بتایا کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس نے سابق صدر کو اطلاع دی کہ ان کو ایران کی طرف سے قتل کیے جانے کا خطرہ ہے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے قتل کی اس کوشش کا مقصد امریکا انتخابات پر اثر انداز ہونا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    ایران نے امریکی سیکیورٹی ادارے کے اس الزام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ماضی میں امریکی امور میں مداخلت کے حوالے سے امریکی دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں 5 نومبر کو صدارتی الیکشن ہوں گے اور اس سے قبل ہی انتخابی مہم کے دوران 2 بار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے جس میں سے ایک میں وہ زخمی بھی ہوئے جب گولی ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔

  • کملاہیرس سے ہار گیا تو دوبارہ الیکشن نہیں لڑوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    کملاہیرس سے ہار گیا تو دوبارہ الیکشن نہیں لڑوں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکا میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ نومبر میں صدارتی الیکشن ہار گئے تو وہ دوبارہ نہیں لڑیں گے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ری پبلکن پارٹی کی جانب سے مسلسل تیسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ ان کے آخری انتخابات ہوں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مباحثے کے لیے اب بہت دیر ہوچکی ہے، ووٹنگ شروع ہے، وہ نومبر میں ہونے والے امریکا کے صدارتی انتخابات بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے، اگر وہ کملا ہیرس سے ہار گئے تو یہ ان کے آخری انتخابات ہوں گے تاہم انہیں امید ہے کہ وہ 5 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات 5نومبر کو ہوں گے، انتخابات سے قبل ہونے والے مقبولیت کے سرویز میں موجودہ امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سخت مقابلے کا امکان ہے،موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے صدارتی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    شمالی کیرولائنا میں ریلی سے خطاب کے دوران کملاہیرس نے کہا تھا امریکی ووٹرز چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ ایک اور مباحثہ ہو۔ دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کملاہیرس کے ساتھ ایک اور مباحثہ کرنے سے انکار کردیا تھا ٹرمپ نے کہاتھا کہ کملاہیرس کے ساتھ ایک اور مباحثے میں حصہ نہیں لوں گا، ایک مباحثہ جون میں بائیڈن دوسرا کملاہیرس کے ساتھ ہوا،اب پانچ نومبر سے پہلے کوئی تیسرا مباحثہ نہیں ہوگا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ کوائن جاری کردئیے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ کوائن جاری کردئیے

    نیو یارک: سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ٹرمپ کوائن جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی : اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں آج بہت زبردست چیز جاری کر رہا ہوں یہ ہے آفیشل ٹرمپ کوائن۔واحد آفیشل سکہ ہے جو میں نے خود ڈیزائن کیا ہے، سلور میڈیلین کا پہلا ایڈیشن بدھ سے دستیاب ہوگا، یہ آزادی کے لیے ہماری جدوجہد کا یادگاری سکہ ہے، یہ سکہ 99.9 فیصد چاندی سے بنا ہے، ہر سکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ سر ٹیفکیٹ کے ساتھ ملے گا۔

    ٹرمپ کوائن کی قیمت 100 ڈالر رکھی گئی ہے، یہ یادگاری سکہ ایک خوبصورت بیگ میں دیا جائے گا، سکہ امریکی ریاست انڈیانا کی ایک ٹکسال میں ڈھالا گیا ہے، ٹرمپ نے حال ہی میں کرپٹو کرنسی کی ایک فرم بھی شروع کی ہے۔

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز

    ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کی گاڑی پرحملہ،ایک اہلکار شہید جبکہ تین زخمی

  • حملہ آور نےبائیڈن اور کملا ہیرس کی بیان بازی پر یقین  کر کے حملہ کیا،ٹرمپ

    حملہ آور نےبائیڈن اور کملا ہیرس کی بیان بازی پر یقین کر کے حملہ کیا،ٹرمپ

    فلوریڈا: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اوپر ہونے والے حملوں کا الزام امریکی صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس پر عائد کر تے ہوئے کہا کہ حملہ آور نےبائیڈن اور کملا ہیرس کی بیان بازی پر یقین کر کے حملہ کیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فلوریڈا میں حملہ آور نے بائیڈن اور کملا کی بیان بازی پر یقین کیا اور حملہ کرنے آ گیا سیکرٹ سروس نے شاندار کارکردگی دکھائی اور ملزم کو فائرنگ کرنے کا موقع نہ ملا۔

    دوسری جانب فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ کی کوشش کے مشتبہ ملزم کو فیڈرل کورٹ میں پیش کیا گیا 58 سالہ ریان روتھ پر اسلحہ سے متعلقہ دو الزامات عائد کیے گئے، مزید الزامات بھی عائد کئے جا سکتے ہیں جس کے بعد حکام اب اسے تحویل میں رکھ سکیں گے-

    امریکی عہدیدار کے قتل کی سازش میں گرفتار آصف مرچنٹ نیویارک کی عدالت میں پیش

    ادھر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں ایک بیان میں جوبائیڈن نے سابق صدرکی حفاظت یقینی بنانے پرسیکرٹ سروس کی تعریف کی اور کہا کہ امریکا میں کسی قسم کےسیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے ٹرمپ پرحملےکے الزام میں ایک مشتبہ شخص حراست میں ہے، ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    واضح رہے کہ اتوار کو فلوریڈا میں ویسٹ پام بیچ میں واقع ٹرمپ گالف کلب کے قریب فائرنگ ہوئی جہاں سابق صدر اور امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت گالف کھیل رہے تھےڈونلڈ ٹرمپ فائرنگ سے محفوظ رہے جب کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے واقعہ کو ٹرمپ کے قتل کی کوشش قرار دے دیا۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر جولائی میں بھی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہوئے تھے جب کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا۔

    پاکستان ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر  قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والاملزم گرفتار

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والاملزم گرفتار

    واشنگٹن:سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر کل قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے والے مشتبہ شخص کو مارٹن کاؤنٹی سےگرفتارکیا گیا،فلوریڈا پولیس کے مطابق مشتبہ شخص گالف کورس میں فائرنگ کرنے کے بعد رائفل چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا جسے بعد ازاں پولیس نے مارٹن کاؤنٹی سےگرفتارکیا جب کہ مبینہ حملہ آور فرار ہوتے ہوئے پیچھے دو بیگ، رائفل اور کیمرا چھوڑ گیا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق گرفتار کیے جانے والے 58 سالہ حملہ آور کا نام ریان ویسلے روتھ ہے اور وہ ایک چھوٹی تعمیراتی کمپنی کا مالک ہے، ریان کا کوئی فوجی پس منظر نہیں مگر وہ ماضی میں اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں یوکرین کی جنگ میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ریان ویسلے نے 2023 میں نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھاوہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد وہاں گیا تھا تاکہ یوکرین کی طرف سے لڑنے کے لیے افغان فائٹرز کو بھرتی کرسکے اور یوکرین کو اس کے لیے اجازت دینے پر راضی کرے،2002 میں بھی مبینہ حملہ آور ریان نے خود آٹومیٹک ہتھیاروں سے لیس کرکے ایک عمارت میں بند کرلیا تھا۔

    دوسری جانب اپنے اوپر ہونے والے مبینہ حملے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں محفوظ ہوں اور کبھی ہار نہیں مانوں گا۔

    ادھر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں ایک بیان میں جوبائیڈن نے سابق صدرکی حفاظت یقینی بنانے پرسیکرٹ سروس کی تعریف کی اور کہا کہ امریکا میں کسی قسم کےسیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے ٹرمپ پرحملےکے الزام میں ایک مشتبہ شخص حراست میں ہے، ٹرمپ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کو فلوریڈا میں ویسٹ پام بیچ میں واقع ٹرمپ گالف کلب کے قریب فائرنگ ہوئی جہاں سابق صدر اور امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت گالف کھیل رہے تھےڈونلڈ ٹرمپ فائرنگ سے محفوظ رہے جب کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے واقعہ کو ٹرمپ کے قتل کی کوشش قرار دے دیا۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر جولائی میں بھی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہوئے تھے جب کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا۔