Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ایوان نمائندگان میں بھی ٹرمپ کی جماعت نے اکثریت حاصل کرلی

    ایوان نمائندگان میں بھی ٹرمپ کی جماعت نے اکثریت حاصل کرلی

    امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 300 سے زائد الیکٹورل ووٹس حاصل کرکے حکمراں جماعت کی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دیدی اور ان کی جماعت نے اب سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کر لی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور ایوان نمائندگان) میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن کے فوری نفاذ کا مینڈیٹ مل گیاامریکی ریاستوں ایری زونا اور کیلی فورنیا میں ووٹوں کی سست گنتی کے باعث نتائج اب جاری کردیئے گئے جس سے ری پبلکن کے ایوان نمائندگان میں نمبرز پورے ہوگئے، ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز نے امریکا کے ایوانِ نمائندگان میں 435 میں سے 218 نشستیں حاصل کرلیں جو اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نمبر ہے۔

    دوسری جانب حکمراں جماعت ڈیمو کریٹ ایوان نمائندگان کی 208 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، ری پبلکن پارٹی سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 53 نشستیں جیت کر پہلے ہی ایوان بالا میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

  • نومنتخب صدر ٹرمپ کی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات

    نومنتخب صدر ٹرمپ کی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات

    واشنگٹن: نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : بی بی سے کے مطابق ٹرمپ نے بائیڈن کے ساتھ اپنی ملاقات ختم کر دی ہے اور میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ہی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے ہیں، اوول آفس میں اپنی میٹنگ کے آغاز پر نامہ نگاروں کے سامنے مختصر ریمارکس کہے جہاں ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی پر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا، دونوں کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی-

    امریکی صدر جوبائیڈن نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ پر امن اقتدار کی منتقلی کے لیے تیار ہیں، جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جوبائیڈن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ایک مشکل کام ہے کئی حوالوں سے ہر روز یہ کوئی بہت اچھی دنیا نہیں ہوتی لیکن آج کے دن یہ دنیا بہت اچھی ہے، ٹرمپ نے بھی کہا کہ وہ پر امن انتقال اقتدار کو سراہتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق توقع ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان امریکی خارجہ پالیسی سے لے کر اقتدار کے حوالے سے لاجسٹکس تک کئی چیزوں پر بات چیت ہوگی، وائٹ ہاؤس کے مطابق، ٹرمپ کی آنے والی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور بائیڈن کے چیف آف اسٹاف جیف زیئنٹس بھی ملاقات کے دوران موجود تھے-

    ٹریبون کے مطابق یہ ملاقات ان دونوں افراد کی برسوں سے ایک دوسرے پر کی جانے والی تنقید کے بالکل برعکس تھی81 سالہ بائیڈن نے ٹرمپ کو جمہوریت کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ 78 سالہ ٹرمپ نے بائیڈن کو نااہل قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں بائیڈن سے ہارنے کے بعد بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے جھوٹے دعوے کیے تھے۔

    سابق اور مستقبل کے ریپبلکن صدر کا استقبال اوول آفس میں بائیڈن نے کیا، جو ایک ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے انہیں 2020 کے انتخابات میں شکست دی تھی۔

    امریکی روایات کے مطابق صدارتی انتخابات کے بعد امریکی صدر نو منتخب امریکی صدر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرتا ہے تاہم 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ نے جوبائیڈن کو وائٹ ہاؤس میں مدعو نہیں کیا تھا۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس آمد پر ان کے استقبال کے لیے جوبائیڈن کے ہمراہ امریکی خاتون اول جل بائیڈن بھی موجود تھیں جنہوں نے ٹرمپ کو میلانیا ٹرمپ کے لیے ہاتھ سے لکھا ہوا مبارک باد کا خط بھی دیا، ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا’پروجیکٹ 2025‘ کیا ہے؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کا’پروجیکٹ 2025‘ کیا ہے؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوتے ہی امریکا سمیت دنیا بھر میں ’پروجیکٹ 2025‘ کے چرچے ہیں-

    باغی ٹی وی : نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قدامت پسندانہ منصوبوں کو جنوری کی شروعات سے قبل ہی عملی جامہ پہنانا شروع کر سکتے ہیں یہ منصوبہ جسے پروجیکٹ 2025 کے نام سے جانا جاتا ہے، حکومتی پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں کرنے کے لیے ایک روڈ میپ کا خاکہ پیش کرتا ہے یہ امریکا کے قیام کے بعد دوسرا بڑا انقلاب ہو گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ 2025 کا مقصد دائیں بازو کے عہدیداروں کو لگا کر ریاستہائے متحدہ کی حکومت کو تبدیل کرنا ہے جو ”قیادت کے لیے مینڈیٹ“ کے منشور میں بیان کردہ پالیسیوں پر عمل درآمد کریں گے مذکورہ پروجیکٹ جسے The Heritage Foundation کی حمایت حاصل ہے، امریکی حکومت کی تشکیل نو اور ایگزیکٹو پاور کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو متنازع قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس منصوبے کے تحت کئی محکموں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور 50 ہزار سرکاری ملازموں کو برطرف کر کے ان کی جگہ ٹرمپ اپنے ساتھیوں کو بھرتی کرلیں گے یہ 900 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز ہوگی جس میں نمایاں طور پر امریکا کو دائیں جانب کر دیا جائے گا جس سے پوری طاقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں آجائے گی۔

    پروجیکٹ 2025 میں کیا ہے؟

    پروجیکٹ 2025 ایجنڈے میں امیگریشن قوانین کے نفاذ میں اضافہ، غیر ملکی تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر جیسے اہم منصوبے پروجیکٹ 2025 کا حصہ ہیں اس کے علاوہ تعلیمی نظام میں وفاقی حکومت کی مداخلت میں کمی اور ایف بی آئی سمیت کئی محکموں کا خاتمہ شامل ہے۔

    منصوبہ 2025 میں اسقاطِ حمل کا معاملہ بھی شامل ہے اور یہ اہم ایجنڈا رپبلکن پارٹی کے اہم نکات میں شامل ہے امکان ہے کہ پروجیکٹ 2025 میں اسقاط حمل پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوسکتی ہے پروجیکٹ 2025 سفارش کرتا ہے کہ اسقاط حمل کے لیے استعمال ہونے والی دوا ’میفے پرسٹون‘ کی پیداواری کو روک دیا جائے جبکہ شادی اور خاندان کی تعریف بائبل کی تعلیمات کی روشنی میں کی جائے۔

    اپنے پہلے چار سالوں کے دوران ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر افراد کی فوج میں بھرتی پر پابندی عائد کر دی تھی بائیڈن نے اس پالیسی کو تبدیل کر دیا، لیکن پروجیکٹ 2025 پالیسی بک میں اس پابندی کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اس منصوبے کے حوالے سے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو خدشات ہیں کہ ’پروجیکٹ 2025‘ امریکا کو تباہ کر دے گا، جبکہ صدارتی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس بھی اسے ’خطرناک‘ منصوبہ قرار دے چکی ہیں۔

  • ٹرمپ اور فلسطینی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، غزہ جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو

    ٹرمپ اور فلسطینی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، غزہ جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ فون پر گفتگو ہوئی جس میں جس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بات ہوئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ 2017 کے بعد امریکا اور فلسطین کا پہلا رابطہ ہے جہاں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں تنازعہ ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، صدر ٹرمپ اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے، اور ٹرمپ کا جاری مسئلہ کو حل کرنے کا ارادہ براہ راست صدر عباس کو پہنچایا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی لگن کا اعادہ کیا اور خطے میں امن کے لیے صدر عباس اور دیگر علاقائی اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی، یہ عزم اسرائیل-فلسطین کے دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو بین الاقوامی توجہ کا بڑا مرکز رہا ہے۔

    فلسطینی صدر محمودعباس نے نئے منتخب امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر کام کر کیلئے تیار ہیں،امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کیلئے کام کروں گا۔

    سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی، وفا نے عباس کے دفتر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کی اور انہیں اس ہفتے کے شروع میں انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔

    ٹرمپ نے منگل کے صدارتی انتخابات میں اپنے ڈیموکریٹک حریف نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دی وہ صدر کا باقاعدہ حلف 20 جنوری 2025 کو اٹھائیں گے-

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    دوحہ: امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنا پہلا ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار سمی ابو ذوہری نے کہا کہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے حساب سے جانچا جائیگا کیونکہ انہوں نے کہا تھا وہ بطور امریکی صدر غزہ جنگ کو چند گھنٹوں میں روکیں گے انہوں نے ٹرمپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ صدر بائیڈن کی غلطیوں سے سیکھیں-

    حماس پولیٹیکل بیورو کے ممبر باسم نعیم نے کہا کہ صیہونی ریاست کی اندھی حمایت ختم ہونی چاہیے کیونکہ یہ حمایت ہمارے لوگوں کے مستقبل اور خطے کے کی قیمت پر آتی ہے۔

    واضح رہے کہ دوسری مرتبہ صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائےجنگوں کو ختم کریں گے، جبکہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کو حقیقی اور پائیدار امن کی طرف لوٹتے دیکھنا چاہتےہیں اور وہ اس عمل کو اچھے طریقے سے کریں گے تاکہ 5 یا 10 سال بعد دوبارہ سے پرانے حالات واپس نہ آئیں۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے-

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

  • امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    واشنگٹن: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں، ٹرمپ کو 2024 کے انتخابات میں اہم ریاستوں میں برتری رہی ہے یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں ٹرمپ کا نام گونج رہا تھا،حالیہ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔سی این این کے ایگزٹ پولز کے مطابق، 2016، 2020 اور 2024 کے انتخابات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح خراب معیشت نائب صدر کملا ہیرس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی، خواتین میں ان کی حمایت میں اضافے کی کوششیں ناکام ہوئیں، حالانکہ اس دوران اسقاط حمل کے حق میں حمایت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، اور کس طرح لاطینی مرد خاص طور پر ٹرمپ کی طرف مائل ہوئے۔

    اس سال کملا ہیرس کو خواتین میں جو برتری حاصل ہوئی، وہ صدر جو بائیڈن اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے کم تھی، جو نائب صدر کے لیے پریشان کن علامت ہے کیونکہ ان کا مقصد خواتین کو اسقاط حمل کے مسئلے پر متحرک کرنا تھا۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے مردوں میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ لاطینی ووٹرز، خصوصاً لاطینی مردوں میں، 2016 سے ٹرمپ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سال، لاطینی مردوں نے پہلی بار ٹرمپ کو حمایت دی۔ 2020 میں جو بائیڈن نے ان کی حمایت 23 پوائنٹس سے حاصل کی تھی، لیکن 2024 میں یہ حمایت ٹرمپ کو حاصل ہوئی۔ لاطینی خواتین نے اب بھی ہیرس کو پسند کیا، لیکن یہ فرق پہلے کی نسبت کم تھا۔ دوسری جانب، ہیرس نے سیاہ فام مردوں اور عورتوں میں مضبوط برتری برقرار رکھی۔ سفید فام مردوں میں ٹرمپ کی برتری کم ہوئی۔سفید فام ناخواندہ ووٹرز ہمیشہ سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، اور یہ رجحان اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، سفید فام تعلیمی ڈگری رکھنے والے ووٹرز میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ 2016 میں یہ ووٹرز ٹرمپ کے حق میں تھے، لیکن 2024 میں ہیرس نے ان میں تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو کہ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف سے تھی۔ ہیرس نے سفید فام خواتین میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ 20 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو بائیڈن اور کلنٹن کے مقابلے میں بہتری تھی۔

    حالیہ امریکی انتخابات میں نسل، عمر اور طبقاتی فرق میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو جمہوریت کے اصولوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور ترقی پسند نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسی طرح خواتین، رنگ دار افراد اور تعلیم یافتہ طبقات نے انتخابی عمل میں حصہ داری بڑھائی ہے، جس کا اثر امریکی سیاست پر گہرا پڑا ہے۔2016 کے انتخاب میں جس طرح سے ٹرمپ کی جیت ہوئی، اس کے بعد سے قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت نے ایک نئی سیاسی سمت کا آغاز کیا، اور اسی دوران امریکہ میں مروجہ سیاسی تقسیم میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انتخابی گفتگو اور بحث میں نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔معاشی حالات، صحت کی خدمات، موسمیاتی تبدیلیوں اور سوشل جسٹس جیسے مسائل نے عوام کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور عوامی شعور میں اضافے نے بھی امریکی ووٹروں کے رویوں کو متاثر کیا ہے۔

    یہ انتخابات امریکی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت ہیں، جہاں نہ صرف ٹرمپ کی مسلسل حمایت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہیرس اور بائیڈن کی پالیسیوں کے اثرات بھی واضح ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    امریکی تجزیہ کار نے اپنی رائے میں کہاہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں امریکی نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینئر نمائندے اولیور ناکس کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ایک عشرے کے بعد پارٹی میں الیکشن مہم سے نئی روح پھونک دی ہے.اب ٹرمپ ہی ڈیموکریٹس کا چہرہ اور پہچان بن چکے ہیں. اولیور ناکس کا مزید کہنا تھا کہ 2020 کے واقع کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ دوبارہ سے انتخاب لڑنے اور سیاست میں رہیں گے لیکن انہوں کر دیکھایا.واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، اور صدارتی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی کوشش کی ۔ 6 جنوری 2021 ءکو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

  • ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے بلند ہو گئے.

    باغی ٹی ی : امریکی میڈیا کے مطابق ریاست مشی گن کے عرب اکثریتی آبادی والے شہر ڈیربورن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے بلند ہو گئے، ڈیربورن میں ڈیموکریٹس کی مشرق وسطی پالیسی پر ناراضگی کے باعث ووٹرز کی رائے منقسم ہے، اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی کے دوران بھی سڑکوں پر جمع ہجوم میں یو ایس اے اور فلسطین کی آزادی کے نعرے سنائی دیتے رہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق مقامی ووٹر کا کہنا ہے کہ مشی گن کے میدان میں مسلمان ووٹرز ہار اور جیت کا فرق پیدا کرسکتے ہیں، غزہ جنگ پر بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے ناراض عرب ووٹرز کے علاقوں میں کملا ہیرس کو روایتی ڈیموکریٹ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ عرب نژاد امریکیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    اسرائیل پر حملہ،امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا

    اسرائیل پر حملہ،امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا

    آج بھی دنیا کے تین آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرسکتی ہے، ٹائمز آف اسرائیل

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرسکتی ہے، ٹائمز آف اسرائیل

    تل ابیب:اسرائیلی اخبار کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت غزہ جنگ کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتظامیہ کو غزہ جنگ کے فوری حل کے لیے مشورہ دیا ہےیہ بات اسرائیلی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ٹرمپ کی تجویز کو نظرانداز کیا گیا تو وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے اس کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    اسرائیلی اخبار نے رپورٹ میں کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل دائیں بازو کی جماعتیں غزہ میں جنگ جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کے اندر مختلف آرا موجود ہیں۔

    دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے حملے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اسرائیل کے لیے ایک اور چیلنج پیش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    ادھر لبنان پر مسلسل اسرائیلی حملوں کی روشنی میں تل ابیب میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ،جو لبنان سے داغے گئے دو میزائلوں کے ساحلی شہر کے ساحل پر پھٹنے کی تھی، اسرائیلی فوج نے بھی تل ابیب کے وسیع تر علاقے کی جانب میزائل داغے جانے کا بتایا ہے،اسرائیلی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایک میزائل لبنان کی سرزمین سے داغے جانے کا پتہ چلا اور وہ ملک کے وسط میں ایک کھلے علاقے میں جا گرا، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بحیرہ روم میں پانچ ڈرونز کو اسرائیل میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا۔

    اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی نے بین گوریون ایئرپورٹ پر مختصر مدت کے لیے رکنے کے بعد فضائی ٹریفک بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ ایک جگہ پر ایک مشکوک چیز دیکھی گئی تھی جس کی بنا پر ایئرپورٹ کو مختصر وقت کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

  • ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو  ایران  کو تباہ کردیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو ایران کو تباہ کردیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر کسی امریکی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو جواب میں ایران یا اس کے کسی شہر کو مکمل طور پر تباہ کردینا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر میں صدر ہوتا اور ایران ہمارے کسی صدارتی امیدوار کے قتل کی دھمکی دیتا تو جواب میں سخت ردعمل دیتا میں ایران کو کہتا کہ اگر ہمارے کسی صدارتی امیدوار کو نقصان پہنچایا تو تمھارے پورے ملک یا کسی بڑے شہر کو تباہ کردیں گے، موجودہ حکومت کو بھی ایسا ہی ردعمل دینا چاہیے اور ایران کو سختی سے متنبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے نے ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے خبردار کرتے ہوئے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے جولائی میں پنسلوینیا اور فلوریڈا میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھیں جن میں سے ایک حملے میں وہ زخمی بھی ہوگئے تھے تاہم ان دونوں حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے امکان کو رد کردیا گیا تھا۔