Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ،ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عہدے کا حلف اٹھایا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے، آج سے ہمارا ملک ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، اور دنیا بھر میں دوبارہ اس کی عزت کی جائے گی۔ ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی، رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن کے ہمراہ کیپیٹل ہل داخل ہوتے ہوئے کہا کہ ’گڈ مارننگ‘، جبکہ جوبائیڈن نے اس سوال پر کہ کیسا محسوس کرتے ہیں، کہا کہ اچھا ہوں۔حلف برداری کی تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن، جارج بش اور ان کی اہلیہ اور بارک اوباما بھی شریک رہے۔اس کے علاہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن، دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک، میٹا کے مالک مارک زکر برگ، گوگل کے چیف ایگزیکٹیو اور دیگر بھی تقریب میں موجود ہیں۔قبل ازیں، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اہلیہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے، جہاں جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کا استقبال کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ایگزیکٹو پاور کی حدود کو آگے بڑھانے، لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، اپنے سیاسی دشمنوں کے خلاف انتقام اور عالمی سطح پر امریکا کے کردار کو تبدیل کرنے کے وعدے کے ساتھ 4 سالہ ایک اور ہنگامہ خیز میعاد کا آغاز کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل معاونین نے ایگزیکٹو کارروائیوں کی تفصیلات بتائیں ہیں جن پر وہ فوری طور پر دستخط کریں گے، جس میں بارڈر سیکیورٹی اور امیگریشن ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    ڈونلڈ ٹرمپ 47ویں امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے لیے کیپٹل ہل پہنچ گئے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی، رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن کے ہمراہ کیپیٹل ہل داخل ہوتے ہوئے کہا کہ ’گڈ مارننگ‘، جبکہ جوبائیڈن نے اس سوال پر کہ کیسا محسوس کرتے ہیں، کہا کہ اچھا ہوں۔تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن، جارج بش اور ان کی اہلیہ اور بارک اوباما بھی شریک ہیں۔اس کے علاہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن، دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک، میٹا کے مالک مارک زکر برگ، گوگل کے چیف ایگزیکٹیو اور دیگر بھی تقریب میں موجود ہیں۔قبل ازیں، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اہلیہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے، جہاں جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کا استقبال کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ایگزیکٹو پاور کی حدود کو آگے بڑھانے، لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، اپنے سیاسی دشمنوں کے خلاف انتقام اور عالمی سطح پر امریکا کے کردار کو تبدیل کرنے کے وعدے کے ساتھ 4 سالہ ایک اور ہنگامہ خیز میعاد کا آغاز کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل معاونین نے ایگزیکٹو کارروائیوں کی تفصیلات بتائیں ہیں جن پر وہ فوری طور پر دستخط کریں گے، جس میں بارڈر سیکیورٹی اور امیگریشن ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    حلف اٹھانے کے بعد وائٹ ہاؤس میں عہدہ سنبھالنے والے عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کریں گے، وہاں مسلح دستے بھیجیں گے اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو میکسیکو میں اپنی امریکی عدالتی تاریخوں کا انتظار کرنے پر مجبور کرنے والی پالیسی دوبارہ شروع کریں گے۔جوبائیڈن نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے الوداعی ملاقات کی تھی، ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری 40 سال میں پہلی بار کیپٹل ہِل کے کینن روٹنڈا ہال میں ہوگی۔ڈونلڈ ٹرمپ سے چیف جسٹس جان رابرٹس صدارت کا حلف لیں گے، واضح رہے کہ صدر ریگن کی حلف برداری بھی1985 میں شدید سردی کے سبب اسی مقام پر ہوئی تھی۔

    تلہ گنگ دھرتی کا قابلِ فخر سپوتسینیٹ اجلاس: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور

  • صدر ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کردی

    صدر ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کردی

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کی ہے، جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تیزی سے کئی بلین ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ ’میم کوائن‘کی ریلیز اس وقت ہوئی ہے جب وہ پیر کو امریکا کے 47ویں صدر کے طور پر عہدہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں،اس منصوبے کو ٹرمپ آرگنائزیشن سے ملحقہ سی آئی سی ڈیجیٹل ایل ایل سی کے زیراہتمام لانچ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کمپنی قبل ازیں ٹرمپ کے برانڈ والے جوتے اور پرفیوم لانچ کرچکا ہے’میم کوائن‘ ایک وائرل انٹرنیٹ ٹرینڈ یا تحریک کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ان میں اندرونی قدر کی کمی ہے اور یہ انتہائی غیر مستحکم سرمایہ کاری ہیں۔

    CoinMarketCap.com کے مطابق، ہفتہ کی دوپہر تک اس کے آغاز کے چند گھنٹے بعد، ’$Trump‘ کے لیے مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 5.5 بلین امریکی ڈالر(4.5بلین پونڈ) تک پہنچ گئی،تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ اس منصوبے سے کتنی رقم کما سکتے ہیں۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل ‘ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میرا نیا آفیشل ٹرمپ میم یہاں ہے! یہ ہر اس چیز کا جشن منانے کا وقت ہے جس کے لئے ہم کھڑے ہیں‘۔

    ’$Trump آفیشل ویب سائٹ کے مطابق تقریباً 200 ملین ڈیجیٹل ٹوکن جاری کیے گئے ہیں اور مزید 800 ملین اگلے تین سالوں میں جاری کیے جائیں گے۔ویب سائٹ کے مطابق ’یہ ٹرمپ میم ایک ایسے لیڈر کا جشن ہے جو پیچھے نہیں ہٹتا، خواہ کیسی ہی مشکلات ہوں‘۔دوسری طرف ٹرمپ کی جانب سے کرپٹو کرنسی لانچ کیے جانے پر ان کے ناقدین نے ان پر صدارتی عہدے کو کیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔وشل میڈیا پر جاری ردعمل میں یہ کہا گیا کہ اس طرح کے ڈیجیٹل کرنسی میں فروخت سے پہلے قیمت بڑھانے کے لیے ہائپ کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعد میں سرمایہ کاروں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

      "سنو نیوز” بحران کا شکار، ملازمین کو نوٹس ،پی یو جے کارکنان کی حمایت میں آ‌گئی

    یورو اسٹار کی اجارہ داری ختم ، 500 ملین پاؤنڈ کا تیز رفتار ٹرین منصوبہ منظرعام پر آ گیا

    کام نہیں کررہے کہنے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں، مئیر کراچی

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک کو 90 دن کی مہلت دینے کا اعلان

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک کو 90 دن کی مہلت دینے کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک کو 90 دن کی مہلت دینے کا اعلان

    امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو ممکنہ پابندی سے بچنے کے لیے 90 دن کی مہلت دیں گے۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 90 دن کی توسیع ایک ایسا اقدام ہے جس کا زیادہ تر امکان ہے کیونکہ یہ مناسب ہے۔ اگر میں ایسا کرنے کا فیصلہ کرتا ہوں، تو میں شاید پیر کو اس کا اعلان کروں گا۔ٹک ٹاک جو چین کی ملکیت ہے اور تقریباً نصف امریکیوں میں مقبول ہے، چھوٹے کاروباروں کو چلانے اور آن لائن کلچر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔تاہم امریکی حکومت نے اس ایپ پر قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث اس پر پابندی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    جمعے کے روز ٹک ٹاک نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ وہ اس وقت تک امریکا میں بند نہیں ہوگا جب تک صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایپل اور گوگل جیسی کمپنیوں کو یقین دہانی نہیں کراتی۔ایپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر پابندی نافذ ہوتی ہے تو انہیں نفاذ کے اقدامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔یہ پابندی کے حوالے سے صورتحال اس وقت پیچیدہ ہو گئی ہے جب گزشتہ سال منظور کیا گیا قانون جمعے کو سپریم کورٹ کی جانب سے متفقہ طور پر برقرار رکھا گیا۔ اس قانون کے تحت ٹک ٹاک کو چین میں قائم اپنے سرپرست ادارے بائٹ ڈانس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے یا امریکی آپریشنز کو بند کرنے کے لیے آج تک وقت دیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے، وزیر توانائی

    ریلوے نے مزید 620بوگیوں کی پاکستان میں تیاری شروع کر دی

    سینئر وزیر پنجاب کو مریم اورنگزیب کو مزیدوزارتیں دے دی گئیں

  • عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد سے پاکستان کے ٹرمپ انتظامیہ سے تصادم کا امکان بڑھ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار ”دی ٹیلی گراف“ کیلئے ممبئی سے سمن لطیف نے لکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ملنے والی سزا نے ٹرمپ انتظامیہ کی ان سینئر شخصیات کے ساتھ حکومت پاکستان کا تصادم کا آغاز کر دیا ہے جو ان کی رہائی کیلئے مہم چلا رہے تھے۔

    جج ناصر جاوید رانا نے جمعہ کو راولپنڈی کے گیریژن ٹاؤن میں واقع اڈیالہ جیل کے عارضی کمرہ عدالت میں ان کی اہلیہ کو سات سال قید کی جبکہ بانی پی ٹی آئی کو 14سال قید بامشقت سنائی، 72 سالہ کرکٹر سے سیاست دان بنے اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون سے زمین کا تحفہ قبول کیا جب خان صاحب اقتدار میں تھے۔

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

    عمران خان کے خلاف یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے پہلے دیا گیا ہے، جن کے اتحادی رچرڈ گرینل اور میٹ گیٹز، عمران خان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں رچرڈ گرینل خصوصی مشنز کیلئے ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیں گے، جبکہ میٹ گیٹز منتخب کردہ اٹارنی جنرل کے طور نامزد ہونے کے بعد یہ عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے چھ گھنٹے بعد دکان سے ہیڈ فون خریدا

    اخبار کے مطابق ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے ، جن سے وہ جولائی 2019 میں واشنگٹن میں ملے تھے، دونوں کی ملاقات 2020 میں ڈیووس میں دوبارہ ہوئی، جہاں ٹرمپ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کو ”بہت اچھا دوست“ کہا،لیکن عمران خان نے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن سے کبھی ملاقات نہیں کی۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

  • کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر (Solana-based memecoin) کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ نے تہلکہ مچا دیا،یہ پوسٹس 20 جنوری کو ٹرمپ کے امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھانے سے قبل سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ”آفیشل ٹرمپ میم“ کا اعلان کیا، اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جیت کا جشن منایا جائے پوسٹ میں انہوں نے لوگوں کو اپنی کمیونٹی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی پوسٹ کے ذریعے انہوں نے ٹرمپ میم کوائن حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی۔

    ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں یہاں تک کرپٹو انڈسٹریز بھی ٹرمپ کی پوسٹ دیکھ کر حیرانی میں مبتلا ہیں اس کے بعد کئی سوشل پلیٹ فارمز پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    آفیشل ٹرمپ میم کوائن اپنے آغاز کے صرف تین گھنٹے بعد $8.41 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جس کی مارکیٹ کیپ 8.3 ڈالر بلین ہے یہ ڈیٹا تجارتی پلیٹ فارم ’مون شوٹ‘ سے سامنے آیا ہے جو میم کوائنس کی تجارت کا ایک پلیٹ فارم ہے ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر بھی اپنی میم کوائن کا ​​اعلان کیا،کرپٹو انڈسٹریز اس بات پر منقسم ہے کہ آیا ان پوسٹوں کے پیچھے ٹرمپ ہی تھے یا نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کے بانی اور سی ای او میکس شوارٹمین نے حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے میم کوائن کے فروغ سے متعلقہ پوسٹ پر بیان جاری کیا کہ اگر ٹرمپ کا اکاؤنٹ واقعی ہیک ہو گیا ہے، تو یہ کرپٹو کے لیے ان کے جوش و خروش کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جیسا کہ وہ عہدہ سنبھالنے والے ہیں، جو کرپٹو مارکیٹ کے لیے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    کرپٹو مبصر JRNY نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی ٹیم نے صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے علاوہ ایک نئے کریپٹو کرنسی پروجیکٹ میں اپنی شمولیت کی باضابطہ تصدیق کیوں نہیں کی اگر پوسٹس حقیقی ہیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ کے مشیر اس منصوبے کی قانونی حیثیت کی تصدیق کے لیے کچھ کہیں گے؟-

    واضح رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کو مستقبل کی کرنسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بٹ کوائن امریکہ کے 35ارب ڈالر کے قرضے کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ٹرمپ کرپٹو کرنسی کے بڑے حامی بھی ہیں۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

  • ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم  برقرار

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار

    امریکی عدالت نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں وہ سزا سے بچ گئے ہیں، تاہم ان کا جرم برقرار رکھا گیا ہے۔

    غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کی فوجداری عدالت نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’ہَش منی کیس‘ کی سماعت کی۔عدالت نے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ڈونلڈ ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قید نہیں کیا جائےگا، نہ ہی ان پر کوئی جرمانہ کیا جائےگا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا منصب سنبھالیں گے۔یاد رہے کہ مئی 2024 میں امریکا کی عدالت نے فحش فلموں کی اداکارہ کو رقم دینے سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات کو درست قرار دیا تھا، اور انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

    پاکستان پیٹرولیم کا گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل: پولیس کی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار

  • ٹرمپ کا  امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    ٹرمپ کا امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    واشنگٹن: امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سرزمین میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ‌ٹرمپ نے کہا ہے کہ کم از کم کچھ عرصے کے لیے وہ ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک عوامی خطاب کے دوران کہا کہ امریکی صدارتی مہم کے دوران ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز کے ویوز اربوں میں تھے،یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کی مخالفت کے حوالے سے اب تک کا سب سے زیادہ ٹھوس اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ پہلے ایوان نمائندگان کانگریس نے 20 اپریل اور پھر سینیٹ نے 24 اپریل 2024 کو ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری دی تھی اس امریکی قانون کے تحت ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک امریکا میں کمپنی کو فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہےاس مدت میں کمپنی کو فروخت نہ کرنے پر امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    ٹک ٹاک اور بائیٹ ڈانس کی جانب سے مئی 2024 میں اس قانون کو ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی کورٹ آف اپیلز میں چیلنج کیا گیا اور 16 ستمبر کو اس کی پہلی سماعت ہوئی،6 دسمبر کو عدالت کے تینوں ججوں نے متفقہ فیصلے میں ٹک ٹاک کی اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے۔

    کورٹ آف اپیلز کے 3 ججوں پر مشتمل پینل نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو جواز قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کے قانون کو برقرار رکھا تھاعدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاک کی جانب سے ایک بار پھر اسی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون پر عملدرآمد عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی،مگر 13 دسمبر کو کورٹ آف ایپلز نے ٹک ٹاک کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

    گزشتہ دنوں ٹک ٹاک نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور امریکا کی اعلیٰ عدالت نے مقدمے کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے مگر امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اگر ٹک ٹاک کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا جاتا یا قانون کے اطلاق کو عارضی طور پر ملتوی نہیں کیا جاتا تو پھر اس سوشل میڈیا ایپ کو 19 جنوری کو پابندی کا سامنا ہوگا۔
    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا
    وفاقی وزیر تجارت کی کینیا کے ہائی کمشنر سے اہم ملاقات
    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

  • ٹرمپ نے پانامہ کینال پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے دی

    ٹرمپ نے پانامہ کینال پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے دی

    واشنگٹن: نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے پانامہ کینال پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے دی جو کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے سے قبل پانامہ پر تنقید کی تھی کہ وہ پانامہ کینال کو استعمال کرنے کے لیے امریکی بحری جہازوں سے بہت زیادہ فیس وصول کرتا ہے،ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاناما کی فیس غیر منصفانہ طور پر بہت زیادہ ہے۔

    سابق امریکی صدر نے پانامہ کینال کے بارے میں ٹروتھ سوشل کے پلیٹ فارم پر پر دو طویل پوسٹس شئیر کیں انہوں نے اس بارے میں بات کی کہ امریکا نے نہر کو کس طرح بنایا اور فروخت کیا، اور اس کا آج امریکا کے تعلقات اور مالیات پر کیا اثر پڑتا ہے ان کے خیال میں یہ امریکا کے لیے قومی سلامتی اور پیسہ دونوں کے لیے ایک بڑا سودا ہے،اگر پانامہ ہمارے اصولوں پر عمل نہیں کرتا ہے، تو ہم پانامہ کینال کو واپس لے لیں گے-

    رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور پاناما کے درمیان 1977 میں ہونے والے معاہدے کی بات کر رہے تھے جس میں امریکا نے پاناما کینال کا کنٹرول پاناما کے حوالے کر دیا تھا یہ منتقلی دراصل 1999 میں صدر جمی کارٹر کے معاہدے کے حصے کے طور پر ہوئی تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے پاناما کینال کو دینے پر سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تقریباً بغیر پیسے کے کیا گیا ایک احمقانہ فیصلہ قرار دیا، تاہم، ٹرمپ نے جس چیز کا ذکر نہیں کیا وہ یہ تھا کہ نہر کی منتقلی دراصل 1977 میں دستخط کیے گئے Torrijos-Carter Treaties کا نتیجہ تھی، جس کا مقصد امریکہ اور پاناما کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں اس حوالے سے ناراضگی طاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاناما کی جانب سے امریکی بحریہ اور کاروباری اداروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے، ان کے خیال میں پاناما کینال کو استعمال کرنے کے لیے چارجز بہت زیادہ ہیں، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ ماضی میں امریکا نے پاناما کی کتنی مدد کی ہے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ پاناما کینال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک تنقید کیں شروع کی، تاہم یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ نہر پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں، جو بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے سمندروں کو جوڑنے والی ایک اہم آبی گزر گاہ ہے ان خدشات کے باوجود پاناما نہر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتا ہے، اور چین کی شمولیت بنیادی طور پر نہر کی بندرگاہوں کے مخصوص حصوں کے انتظام اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہے۔

  • اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ایک قیامت ٹوٹ پڑے گی،ڈونلڈ ٹرمپ

    اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ایک قیامت ٹوٹ پڑے گی،ڈونلڈ ٹرمپ

    فلوریڈا: اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے پر نو منتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو دھمکی دے دی-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہفتے کی رات اسرائیلی وزیراعظم کی ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی، اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے کہا ہےکہ میں 20 جنوری کو آجاؤں گا اس معاملے کو پھر دیکھیں گے۔

    فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک مرتبہ پھر سے دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حماس کو کہہ چکا ہوں کہ اگر 20 جنوری تک میرے صدارتی منصب سنبھالنے سے قبل اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ایک قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ان کے صدارتی منصب سنبھالنے تک جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوتا تو جو ہوگا قطعی خوشگوار نہیں ہوگا، یوکرین جنگ روکنے کیلئے روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر سے بات کروں گا، یہ جنگ بھی اب ختم ہونی چاہیے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے قبضے میں آنے والے یوکرینی علاقوں کے مستقبل سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دئیے بغیر کہا کہ کشیدگی کا شکار سرزمین پر زیادہ تر علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور انہیں بحال ہونے میں ایک صدی لگ جائے گی متنازعہ علاقوں میں اب کوئی شہر باقی نہیں بچا، کوئی ایک عمارت بھی صحیح حالت میں موجود نہیں اور بس ملبے کا ڈھیر ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انہیں میدان جنگ میں خون سے لتھڑی ہوئی لاشوں کی تصاویر دکھائی گئیں جنہیں دیکھ کر انہیں 1861 سے 1865 تک امریکا کی خانہ جنگی یاد آگئی، وہ یوکرین اور روس کے مابین گزشتہ تین سالوں سے جاری جنگ کا فوری خاتمہ کروانا چاہیں گے لیکن یہ صورتحال مشرق وسطیٰ سے زیادہ مشکل ہوگی۔