Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب حکومت نے پچھلے سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کر کے باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا،
    وسائل کے وفاقی تقسیم کے تدارک میں صوبوں کے لئے حصہ لینے کے لئے وفاقی حکومت کی سخت شرائط کے باوجود ، گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب کے ٹیکس وصولی میں 44 فیصد اضافے سے 77 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت نے پیر کو محکمہ خزانہ کے جائزہ اجلاس میں اس کا انکشاف کیا۔

    ہنڈائی موٹرز موبلٹی ٹیکنالوجی پر کتنے بلین ڈالر خرچ کرے گی؟ خبر آ گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سابقہ ​​حکومت کے مالی اعداد وشمار کے باوجود موجودہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) قرض پروگرام کی شرائط کی تعمیل کے لئے وفاقی حکومت کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 233 ارب روپے کا فاضل بجٹ دیا، اجلاس کے شرکاء نے نوٹ کیا کہ رواں مالی سال 2019۔20 کے لئے پنجاب کے لئے 388 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ، جو پچھلے مالی سال سے 44 فیصد زیادہ تھا۔

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

  • کون بنا معاشیات کے نوبل انعام کا نیا حقدار ؟

    کون بنا معاشیات کے نوبل انعام کا نیا حقدار ؟

    معاشیات کا نوبل انعام غربت کے خاتمے اور بدحال معیشت کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے اعتراف میں تین امریکی ماہرین کو دے دیا گیا، انعام کی رقم 9 لاکھ 15 ہزار ڈالر ہے جو تینوں میں یکساں طور پر تقسیم کی جائے گی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نوبل انعام برائے معاشیات سے امریکی ماہرین مائیکل کریمر، خاتون ایستھر ڈوفلو اور ابھیجت بینر جی کو نوازا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈیمی کی جانب سے خوش نصیب ماہر اقتصادیات کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان تینوں نے غربت کے خاتمے کے لیے ایک ایسا تحقیقی کام کیا جس سے غربت کے شکار ممالک میں بدحالی کے خاتمے اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے میں مدد ملی۔

    مائیکل کریمر
    نوبل انعام برائے معاشیات حاصل کرنے والے امریکی ماہر معاشیات مائیکل کریمر 1964ء کو پیدا ہوئے اور اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں ترقی یافتہ معاشروں کے لیے مہمان پروفیسر کے بطور خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اقتصادیات کی دنیا کا ایک معتبر ترین نام ہیں۔ ان کی پیش کی گئیں تھیوریز کریمو او رنگ نے معاشی الجھنوں کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    ابھیجیت بینرجی

    نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہر معیشت ابھیجت بینر جی نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور امریکی اکانومسٹ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی (MIT) میں معاشیات کے پروفیسر ہیں۔ ابھیجت بینر جی نے دنیا سے غربت کے خاتمے کے لیے ’عبدالطیف جمیل پوورٹی لیب‘ قائم کی تھی۔

    ایستھر ڈوفلو

    معاشیات کے نوبل انعام کی شریک حق دار 46 سالہ ایستھر ڈوفلو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں سن 1972ء کو پیدا ہوئیں تھیں اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ ابھیجت بینرجی کے ساتھ عالمی تحقیقی مرکز عبدالطیف جمیل پوورٹی لیب کی شریک بانی بھی ہیں۔

    یاد رہے کہ اکنامکس سائنسز کا نوبل انعام الفریڈ نوبل کی یاد میں سویڈن کے مرکزی بینک (Sveriges Riksbank) نے اپنے قیام کی 300 ویں سالگرہ کے موقع پر 1968ء میں شروع کیا تھا۔ سویڈن کے مرکزی بینک کو دنیا کا قدیم ترین بینک سمجھا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ اکنامکس کے پرائز کے اعلان کے ساتھ ہی 7 اکتوبر کو میڈیسن کے شعبے سے شروع ہونے والے نوبل انعام کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔

    وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا

  • وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا

    وزیراعظم نے مہنگائی کی لہر کو قابو کرنے کا حکم جاری کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے ، اس بات کا اعلان حکومت کے چیف ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پیر کو کابینہ کے بعد ہونے والی ایک نیوز بریفنگ میں کیا

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیر اعظم نے افراط زر پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی وضع کرنے کے لئے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک اجلاس کے لئے بھی بلایا ، جس میں ستمبر تک ریکارڈ ہونے والا سالانہ اضافہ 11.4 تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ کابینہ کے اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبوں کی قیمت کمیٹیوں کو فعال کیا جائے گا اور قیمتوں میں اتار چڑھاو اور ذخیرہ اندوز عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    پی آئی اے انتظامیہ کا بڑا فیصلہ

    وزیر اعظم نے حکام کو زندگی بچانے والی دوائیوں کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے سمری لی جارہی ہے۔وفاقی کابینہ نے آج کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری دی، مشیر اطلاعات کے مطابق ، وزیر اعظم عمران نے ملاقات کے دوران کابینہ کے اراکین کو اپنے حالیہ چین اور ایران کے دوروں پر اعتماد میں لیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اپنی کوششوں سے کابینہ کو آگاہ کیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر امور میں ، کابینہ کے ممبروں کو بتایا گیا کہ حکومت کے ایواکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) نے گذشتہ ایک سال کے دوران 1،262 ایکڑ اراضی بازیافت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ہیلتھ کیئر ایکٹ کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس کے تحت بورڈ ممبروں کی تقرری کی بھی منظوری دی ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد کے لئے ماسٹر پلان اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دی۔

  • پی آئی اے انتظامیہ کا بڑا فیصلہ

    پی آئی اے انتظامیہ کا بڑا فیصلہ

    قومی ایئر لائن نے اپنے فضائی بیڑے میں 5 نئے طیارے شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پی آئی اے کے مطابق قومی ایئر لائن 2 مراحل میں 5 طیارے اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرے گی، پہلے مرحلے میں دو A320 طیارے رواں ماہ کے آخر اور نومبر میں لیے جائیں گے جب کہ 3 نیرو باڈی طیاروں کے لئے ٹینڈر نومبر میں جاری ہوگا۔ نئے 323 نیرو باڈی طیارے کم ایندھن خرچ کریں گے۔ نئے طیاروں سے پی آئی اے اندرون و بیرون ملک پروازوں میں اضافہ کرے گا۔

    مزید طیارے شامل ہونے سے پی آئی اے کے بیڑے میں شامل طیاروں کی تعداد 37 ہوجائے گی، پی آئی اے کے بزنس پلان کے مطابق 4 سال کے دوران پی آئی اے کا بیڑا 45 طیاروں سے زائد پر مشتمل ہوگا۔ پی آئی اے نے اپنے مزید نئے روٹس میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایئر بس 320طیارے شامل ہونے سے پی آئی اے کے مزید روٹس میں اضافہ ہوجائے گا۔

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

  • ایف بی آر نے اگلے تین ماہ کیلئے بڑا ٹیکس ٹارگٹ سیٹ کر لیا

    ایف بی آر نے اگلے تین ماہ کیلئے بڑا ٹیکس ٹارگٹ سیٹ کر لیا

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کیلے 1295 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ٹارگٹ سیٹ کر لیا، اور اکتوبر کے ماہ کیلئے ایف بی آر نے 376 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا ہے،

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلئے 1100 ارب روپے کا ٹیکس ٹارگٹ رکھا تھا جس میں سے حاصل ہونے والا ٹیکس 1000 ارب روپے تھا، اور اب ٹیکس محصولات کی مد میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کیلئے بڑا پہلے سے بڑا ٹارگٹ سیٹ کر لیا، اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر سے دسمبر) تک انکم ٹیکس کی وصولیوں کا ٹارگٹ 491 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کی جانے والی رقم کی ٹارگٹ 499 ارب روپے رکھا گیا ہے، اسی طرح ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس ٹارگٹ 84 ارب روپے جبکہ کسٹم ٹیکس کی مد میں ٹیکس ٹارگٹ 219 ارب روپے رکھا گیا ہے،

    مزید پڑھیں
    ہاکی کے 4قومی کھلاڑی سڑک حادثہ میں جاں بحق

  • آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں پاکستانی آڑو کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پھلوں کا بادشاہ آم پاکستان بھر میں یقینا سب سے زیادہ پسندیدہ پھل ہو سکتا ہے لیکن کم از کم ملک کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میںآڑو بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ ان حصوں میں ایک مشہور پشتو کہاوت “اگر آپ کی دوستی کی قیمت آڑو ہے تو میں آپ کی دوستی کو ترک کر دیتا ہوں۔” سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت آڑو مقامی مارکیٹ میں بہت کم حصہ حاصل کرتا ہے لیکن ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں اس پھل کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    اگر حکومت کچھ ٹھوس اقدامات کرتی ہے تو آڑو کا ہماری معیشت میں بہت اہم کردار ادا ہو گا۔ آڑو زیادہ تر پشاور، کوئٹہ، سوات، چترال، مالاکنڈ اور قلات کے اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ عام طور پر پھل مئی میں پکنا شروع ہوتا ہے اور ستمبر کے پہلے ہفتے تک تیار ہوتاہے۔کے

    پی میں مجموعی طور پر 6330 ہیکٹر رقبہ پر پھل اگایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، سوات میں19۔ 2018 میں 5280 ٹن آڑو پیدا ہوا ، جبکہ پشاور میں 1066 ٹن ، مردان 2825 ٹن ، مالاکنڈ میں 1190 ٹن ، لوئر دیر 1033 ٹن ، بونیر 3105 ٹن اور اپر دیر 1917 ٹنپیدا ہوا ۔ ہر سال صرف سوات ہی 6400 ٹن آڑو تیار کرتا ہے۔

    پارلیمانی سفارتکاری میں پاکستان کی تاریخی فتح، بھارت کو ہوئی رسوائی

  • پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اورچین کے درمیان ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

    چینی وزیر ٹرانسپورٹ کی قیادت میں سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح کے چینی وفد نے ہفتہ کو یہاں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیزکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    دوسرے مرحلہ میں مغربی روٹ پر 1270 کلو میٹرکی شاہراہیں اورگلگت سے چترال اور ڈی آئی خان سے ژوب تک شاہراہیں بھی تعمیر ہوںگی۔ پشاور تا ڈی آئی خان اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سمیت قراقرم ہائی وے پر بھی کام ہوگا۔
    چینی وفد نے کہاکہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے وزارت مواصلات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہاکہ سی پیک سے دونوں ممالک کی آئندہ نسلیں بھی مستفید ہوں گی، اس کے علاوہ دونوں ملکوںکی قیادت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

    وزیر مواصلات مراد سعید نے چینی انجینئرزکی محنت،عزم اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اورکہا کہ سی پیک کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے۔ سی پیک سے ملازمتوں کے مواقع،انفراسٹرکچر اور مقامی کاروبارکو فروغ ملے گا۔

    وزیر مواصلات نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی چینی وفدکوآگاہ اورکشمیرکے معاملہ پرچینی حکومت کی حمایت پراظہار تشکر کیا۔

    مراد سعید نے چین کی تیزرفتارترقی کوسراہتے ہوئے کہاکہ معاشی و اقتصادی ترقی سمیت غربت کے خاتمہ کے لیے چین ایک رول ماڈل ہے۔ وفدکو سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت، سیاحت اورغربت کے خاتمہ میں ترجیحات سے بھی آگاہ کیاگیا۔

    مزید پڑھیں
    جدہ سے لاہور ائیرپورٹ پہنچنے والی بلی کے دنیا بھر میں تذکرے ، معاملہ کیا ہے ؟

  • پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت تفتان بارڈر کے زریعے ہوتی ہے لیکن پچھلے پانچ دن سے بلوچستان کے تاجروں نے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کے حکام کیخلاف ہڑتال کر رکھی ہے جس کے باعث بارڈر کے دونوں اطراف ٹرکوں اور کنٹینروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں،

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    یہ ہڑتال کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان کی جانب سے کی جارہی ہے ، تفتان بارڈر پر ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو بتایا کہ "پچھلے چار دنوں کے دوران درآمد اور برآمدی سامان پر ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وجہ سے کسٹمز اور ایف بی آر کو 200 ملین سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔” ڈیوٹی کی مد میں تفتان بارڈر پر ہر روز تقریبا 6 سے 7 کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے ،

    دوسری طرف پاک افغان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معمول کےمطابق جاری ہے ، اور تاجر سیکیورٹی چیک کے مراحل سے گزرنے کیساتھ ساتھ ٹیکسز کی ادائیگی بھی کر رہے ہیں، کوئٹہ چیمبر اف کامرس کے صدر بدرالدین کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہم ایران سے لائے گئے سارے سامان کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرتے ہیں اس کے باوجود ہمارے ٹرک افغان بارڈر پر روک لیے جاتے ہیں، اس لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں ،

    مزید پڑھیں
    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

  • حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اسلام اباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں استحکام آ گیا ہے، کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور نئی ملازمتیں نکلیں گی۔ مشکل وقت سے حکومتی پالیسیوں کے باعث نکلنا ممکن ہوا

    اسلام آباد میں مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پالیا ہے، درآمدات میں کمی لائی گئی ہے اور تجارتی خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کیلئے کئی بلین ڈالرز ضائع کیے گئے لیکن اب ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔

    مشیرخزانہ نے کہا کہ 5لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا اور ریونیومیں16فیصد اضافہ کیاگیا ہے، اپنے اخراجات کو سختی سے کنٹرول کیا ہوا ہے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی، 3مہینوں میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی اور کوئی ادھارنہیں لیا گیا۔

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 3ماہ میں بیرونی تجارت پر قابو پا لیا ہے، باہر سے سرمایہ کاری کیلیے 340 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے، فیکٹریز میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ملازمتیں نکلیں گی، بیرون ملک ملازمتوں کیلیے جانےوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ یو اے ای حکام سے اقامہ کے غلط استعمال پر بات ہوئی ہے اور انہوں نے اتفاق کیا کہ اقامہ ہولڈر کی معلومات پاکستان سے شیئر کی جائیں گی، وہ آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے۔

    مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ کو روکنا ہمارے مفاد میں ہے، حکومتی پالیسیوں سے معیشت میں استحکام آگیا ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے، جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں عوام کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔

    مزید پڑھیں
    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

  • مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    گذشتہ سال کے اسی عرصے کی برآمدات کے مقابلہ میں رواں مالی سال 2019۔20 کے پہلے دو ماہ کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات میں 9.53 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان بیورو آف شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اگست (2019-20) کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات 10.9796 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ، مقدار کے لحاظ سے ، مصالحوں کی برآمدات میں 2،323 میٹرک ٹن سے 2،563 میٹرک ٹن یعنی 10.33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اور حیران کن طور پر مالی سال 2019-20 کے اگست کے مہنے میں پچھلے مالی سال کے اگست کی نسبت مصالحوں کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی اور جولائی اور ستمبر کے مہنے اضافے کا باعث بنے،

    مزید پڑھیں
    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟