Baaghi TV

Tag: کراچی

  • انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    انمول پنکی کیس پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اور حساس ادارے لمبے عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے، پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے،انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ اسمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلد ختم ہونے کے بیان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    مارکیٹ کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،صبح ایک موقع پر انڈیکس 163,459.05 کی سطح پر تھا، جو 562.37 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن سیکٹرز میں خریداری دیکھی گئی۔ بڑے انڈیکس شیئرز جیسے حبکو، ماری، پی پی ایل، ایف ایف سی اور ایفرٹ بھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط ریکوری دکھائی تھی، جب امریکہ اور ایران مذاکرات سے متعلق جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اس روز کے ایس ای-100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • وفاقی وزیر بحری امور  سے قازقستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر بحری امور سے قازقستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے قازقستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ اور کراچی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتی ہیں۔

    سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور ٹرانس شپمنٹ، ملٹی پرپز ٹرمینلز اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ان منصوبوں سے وسطی ایشیائی ممالک کو خلیجی اور افریقی منڈیوں تک رسائی میں نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔

    ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔

  • کراچی: گل پلازا کے قریب ایک اور مارکیٹ میں آتشزدگی

    کراچی: گل پلازا کے قریب ایک اور مارکیٹ میں آتشزدگی

    کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک اور مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی-

    عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ مکی مسجد کے قریب فرنیچر مارکیٹ کی عمارت کے میزنائن فلور پر پیش آیا جہاں بجلی کے میٹر نصب تھےبجلی کے میٹروں میں لگنے والی اس آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی اور عمارت کی بیسمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا آتشزدگی کی اطلا ع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔

    فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی وہاں بڑی مقدار میں فرنیچر اور دیگر تجارتی سامان موجود ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا امدادی ٹیموں نے فوری طور پر عمارت کو خالی کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا تاہم ریسکیو ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خوش قسمتی سے آتشزدگی کے وقت عمارت کے اندر کوئی شخص موجود نہیں تھا جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    فائر فائٹرز نے عمارت کے بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پالیا فائر فائٹنگ آپریشن میں سات فائر ٹینڈرز اور دو واٹر باؤذرز نے حصہ لیاعلاقے میں بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو، پولیس اور رینجرز کی نفری نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آنے جانے میں آسانی رہے۔

    ابھی تک آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے تاہم ابتدائی طور پر اسے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہےانتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ مکمل طور پر بجھانے کے بعد ہی نقصانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا اور کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمارت کے معائنے کی اجازت دی جائے گی۔

  • کراچی: پولیس نے منشیات نیٹ ورک کی بڑی سرغنہ کی گرفتاری ظاہر کر دی

    کراچی: پولیس نے منشیات نیٹ ورک کی بڑی سرغنہ کی گرفتاری ظاہر کر دی

    کراچی میں گارڈن پولیس کراچی نے شہر بھر میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی سپلائی میں مبینہ طور پر ملوث ایک سرغنہ انمول عرف پنکی کی شناخت ظاہر کر دی ہے-

    پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمہ کو متعدد اداروں بشمول اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے بھی مطلوب قرار دیا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر مختلف مقدما ت میں مفرور تھی،کارروائی کے دوران ملزمہ سے اسلحہ، راؤنڈز، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکل اور دیگر منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ کراچی میں منشیات کی ایک منظم اور وسیع سپلائی چین چلا رہی تھی جس میں آن لائن آرڈرز اور مخصوص رائیڈرز کے ذریعے ترسیل کا نظام شامل تھا اس نیٹ ورک میں خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچا جا سکے۔

    ملزمہ کے مبینہ خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جبکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے مالیت کی منشیات کی فروخت میں ملوث رہی ہے ملزمہ کے خلاف مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد تک بھی پہنچا جا سکے۔

  • معرکہ حق کا ایک سال مکمل :  پاک بحریہ کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل : پاک بحریہ کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک بحریہ کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد کیا گیا، پاک بحریہ نے قومی یکجہتی، بہادری اور فیصلہ کن کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام پاکستان نیوی ڈاکیارڈ کراچی میں ایک پروقار یادگاری تقریب منعقد ہوئی ،تقریب میں صوبائی وزرا، اعلیٰ حکومتی شخصیات، تینوں مسلح افواج کے افسران، کاروباری برادری کے نمائندگان، ممتاز شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی،تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائے۔

    اس موقع پر منعقدہ تقریبات میں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کو اجاگر کیا گیا جبکہ معرکہ حق میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا تقریب سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی خدمات کو سراہا اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور لازوال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ معرکۂ حق قومی اتحاد اور عسکری برتری کی روشن علامت بن چکا ہے-

    واضح رہے کہ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر سمیت بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی پروقار تقریبات کا انعقاد کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیاکہ وطن عزیز کی سالمیت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائےگا۔