Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • میں مودی سے پوچھتاہوں کہ کیا کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے؟ اشوک سوائن

    نئی دہلی :بھارت کے اشوک سوائن جو کہ معروف تجزیہ نگارہیں‌نے کشمیریوں کی بے بسی پر بہت خوبصورت انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دعوے بھی عجیب ہیں کہ ایک طرف تو بھارت کہتا ہےکہ کشمیربھارت کا حصہ بن چکا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو شہریوں کے حقوق بھی نہیں دے رہا

    اشوک سوائن نے ٹویٹ پیغام کے ذریعے کہا ہےکہ بھارت اپنے ہی دعووں کے برعکس کام کرتا ہے، اشوک کہتے ہیں کہ نئی دہلی میں پولیس کو تو احتجاج کا حق حاصل ہے حالانکہ وہ ریاستی ادارہ ہے اور ریاستی ادارے اپنی ریاست کے خلاف احتجاج نہیں کرتے لیکن وہ پھر احتجاج کرلیتے ہیں مگر کشمیریوں کو تو زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں

    اشوک سوائن کہتے ہیں کہ بھارت اپنے دہرے معیار کی وجہ سے نقصان اٹھائے گا، کشمیریوں کو پہلے ہی بھار ت سے نفرت ہے ، اب اگر ان سے بولنے کا حق کا بھی چھین لیا جائےتو پھر انہیں کوئی بھارت سے دور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا

  • بیٹا ہم ابھی زندہ ہیں‌، کشمیری ماں کا بیٹے کو آخری فون

    اسلام آباد:پہلے بھی بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا تھا مگر اب تو 5 اگست 2019 سے تو حالات بہت زیادہ خراب ہیں‌ ، بلکہ کشمیر میں‌ تو اب تک سب سے بڑی فوج کشی ہے ، ان خیالات کا اظہار کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کب تک ٹیلی ویژن کے ہیڈ آفس میں ایک انٹریوکے دوران کیا

    پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    کب تک ٹیلی ویژن کو انٹریودیتے ہوئے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پاکستان اور پاکستانیوں سے بہت زیادہ محبت ہے ، کشمیریوں کی محبت کا تو یہ حال ہےکہ وہ دفن بھی پاکستانی پرچم میں ہونا چاہتے ہیں ، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ صورت‌حال اس قدر خراب ہے کہ اس کا ذکرکرنا بھی بہت مشکل ہے،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کا ایک واقعہ ذکرکرتے ہوئے حیران کردیا کہ وہ کہتے ہیں‌کہ انہوں نے اپنے گھروالوں‌کو فون کیا تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ بیٹا ابھی ہم زندہ ہیں، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی بتاتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ کشمیری کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں ،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے مزید بتایا کہ صورت حال اس قدر خراب ہےکہ مائیں اپنے بچوں کے بارے میں اس قدر خوف زدہ ہیں کہ اگرکوئی بچہ باہرچلا جائے تو ان کو یہ ڈررہتا ہےکہ شاید کہ اب وہ کبھی بھی گھرواپس نہیں آئے گا،

    پاک فوج کی سپورٹ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، میجر جنرل آصف غفور

    یادرہےکہ کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کے بھانجےہیں اور ان دنوں پاکستان میں رہائش پزیر ہیں جہاں سے وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے جدوجہد آزادی کی تحریک کو احسن انداز سے چلا رہے ہیں

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں ، پاکستان کا دوٹوک موقف

    اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کردیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حثیت کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کو مسترد کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شملہ معاہدہ سمیت دوطرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تقسیم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ بھارتی فیصلہ شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ بھارتی حکومت کا کوئی بھی اقدام اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ بھارت نے پانچ اگست کو کیے گئے فیصلے کو کشمیری عوام پر بندوق کے ذریعے مسلط کیا۔ کشمیر بھارت کا اندورنی معاملہ نہیں۔ کشمیر کو تقسیم کرنا ہندوتوا نظریے کی تکمیل ہے۔ عالمی برادری بھارتی فیصلے کا نوٹس لے۔

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ غیر کشمیری آبادی کو کشمیر میں آباد کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام بھارت کے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ بھارتی فیصلوں سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت فوری طور پر مقبوضہ وادی سے اپنی فوج کا انخلا کرے اور وادی سے کرفیو اٹھائے

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • برطانوی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرکے بارے میں کیا کہہ دیا کہ بھارت پریشان ہوگیا

    لندن: آرٹیکل 370 کے خاتمہ بھارت کے گلے کی ہڈی بن گیا ، اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر عالمی رہنماوں نے بھی تشویش کا اظہار کردیا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں جاری کریک ڈاؤن اور کرفیو کے تناظر میں برطانوی وزیراعظم بورس جونسن نے بھی مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

    اوراندراگاندھی کوگولی ماردی گئی !

    تفصیلات کے مطابق برطانوی رکن پارلیمنٹ اسٹیو بیکر سے وزیر اعظم بورس جانسن کی ملاقات اس دوران مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ نے برطانوی وزیراعظم بورس جونسن کو مقبوضہ کشمیر میں عزیزو اقارب کو مسائل اور برطانوی کشمیریوں کی تشویش سے آگاہ کیا۔

    آصف زرداری کے خون کے پلیٹ لیٹس 1 لاکھ 35 ہزار،دل کا وال بند

    برطانوی وزیر اعظم نے جواب میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو تسلیم کیا، بورس جانس نے مسئلہ کشمیر بنیادی انسانی حقوق کا طویل حل طلب مسئلہ قرار دیا۔برطانوی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر حکومتی تشویش کا بھی اظہار کیا اور مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

    لاہورکا کفارہ شہبازشریف اسلام آباد میں ادا کریں‌گے

  • بھارتی آئین اورکشمیرسے متعلق فیصلوں کو نہیں‌ مانتے ، وزیراعظم آزاد کشمیر

    اسلام آباد:بھارتی آئین اور کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلوں کو نہ پہلے مانتے تھے اورنہ اب تسلیم کرتے ہیں‌، ان خیالات کا اظہاروزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کل ریاست کے دو حصے کرنا چاہتا ہے، ہم نہ ہندوستان کے آئین کو مانتے ہیں نہ آرٹیکل 370 کو، بھارت کے اس مقصد کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    بہت جلد ممبئی دنیا کے نقشے سے مٹنے والا ہے، ماہرین کی خبرسے کھلبلی مچ گئی

    ذرائع کے مطابق اس موقع پرآزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے ہمراہ پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر راجہ فاروق حیدر نے کہا بھارت کل ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے مگر بھارت کی کسی قسم کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی جنگ چھیڑ رکھی ہے،

    عمران خان استعفیٰ نہیں‌ دیں گے، مولانا فضل الرحمان

    راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہم نہ تو بھارت کے آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی آرٹیکل 370 کو، انہوں نے کہا کہ میرپورمیں ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ان انتخابات کے موقع پر ہم ہندوستان کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں، ہمیں الگ نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بار پھر کشمیریوں کو پیغام دیا کہ وہ بہت جلد آزادی کا سورج دیکھنے والے ہیں

    اسلامیات کی ریفرنس بک میں غلط تجزیے ،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

  • سانپ کا کام ڈسنا!بھارت نے سابق وزرائے اعلیٰ‌کشمیرسے بنگلے بھی چھین لیے

    نئی دہلی :سانپ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس سے پیارکرنے والے کو بھی ڈنگ ماردیتا ہے ، جس طرح کا ڈنگ مودی سرکارنے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دینے والے کشمیری وزرائے اعلیٰ کو مارا ہے ، اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس بھیج دیا گیا ہے

    بھارتی ریاست منی پورہ الگ ملک ،لندن میں اعلان کردیا گیا

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے جب جموں و کشمیر تنظیمِ نو بل 2019 نافذ العمل ہوگا۔

    پاکستان کو انٹرنیٹ فراہمی میں مشکلات

    بھارتی حکومت نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اب تک وہ جموں وکشمیر اسمبلی اراکین پنشن ایکٹ 1984 کی وجہ سے اس پراپرٹی میں رہ سکتے تھے ۔ ان کو حاصل یہ سہولیات یکم نومبر کو ختم ہوںگی ، جب جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2019 نافذ العمل ہوگا۔

    ربیع الاول کا چاند نظر آگیا

    مقبوضہ کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی 5 اگست سے سرینگر میں نظر بند ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا تھا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

  • مبمران یورپی پارلیمنٹ دورہ مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت پہنچ گئے

    نئی دہلی :بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوکررہے گا ، اسی سلسلے میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں موجود سخت گیر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے 30 اراکین 29 اکتوبر کو مقبوضہ جموں وکشمیر کا دورہ کریں گے جو 5 اگست کے بھارتی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی وفد کا پہلا دورہ ہوگا۔

    پاکستان دوڑ سے باہر ہوگیا

    خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سخت گیر نظریات کی حامل جماعتوں کے وفد کے دورے کو بھارت حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور یونین کے رہنماؤں کا اس دورے سے تعلق نہیں ہے جس کے باعث سفارتی سطح پر شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    28-اکتوبرلاہور میں فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح

    رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے سفارت خانے ایک روز قبل تک اس دورے سے لاعلم تھے۔یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘اراکین پارلیمنٹ کا وفد دورہ بھارت سرکاری سطح پر نہیں اور وہ یہاں ایک غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر آئے ہیں’۔

    بیوی گھر سے کیوں بھاگ گئی؟

    رپورٹ کے مطابق وفد میں پولینڈ، فرانس اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے اراکین کی اکثریت ہے اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔وفد منگل کو مقبوضہ جموں کشمیر جائے گا اور ایک روزہ قیام کے بعد واپس آئے گا جس کے بارے میں بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ‘اراکین کو جموں، کشمیر اور لداخ میں ثقافتی اور مذہبی تنوع سے بہترین آگاہی دینا ہے’۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے 5 اگست سے قبل ہی ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو معطل کرکے پورے خطے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور کئی دہائیوں سے مقبوضہ خطے کو حاصل خصوصی حیثیت بھی منسوخ کردی تھی۔بھارتی حکومت نے بعد ازاں پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام تاحال انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

    فرانس کی سخت گیر دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی سے تعلق رکھنے والے رکن تھیری میریانی کا کہنا تھا کہ ‘ہم کشمیر میں صورت حال دیکھنے جارہے ہیں اور جائزہ لیں گے کہ وہ کیا دکھانا چاہتے ہیں’۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نے گزشتہ 72 برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے اور 30 برس کے دوران آزادی کی تیز ہوتی ہوئی تحریک کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور 5 اگست 2019 کو مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

    بھارت مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور یہ مسئلہ عالمی برادری کے لیے توجہ طلب ہے اورحالیہ اقدامات کے بعد اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز میں اس پر بات کی جارہی ہے اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • اقوام متحدہ کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

    نیویارک:مقبوضہ کشمیر میں حالات اس قدرخراب ہوگئے ہیں‌کہ دنیا پریشان ہوگئی ہے کہ کشمیریوں‌کو بھارتی مظالم سے کون بچائے گیا ، یہ الفاظ ہیں‌اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی ایگنس کلامرڈ نے کیا، اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سی آئی اے ابوبکر البغدادی تک کیسے پہنچی؟

    کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی نمائندہ خصوصی ایگنس کلامرڈ نے نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ میں نے بھارتی حکومت کو خط لکھا تھا کہ کشمیر میں موجود ان افراد کی تفصیل بتائیں جنہیں وہ دہشتگرد کہتا ہے لیکن اس کا کوئی مثبت جواباب تک نہیں ملا ہے۔نمائندہ خصوصی نےکہا کہ بھارت کے اس رویے سے انسانیت کی بہت زیادہ تذلیل ہورہی ہے

    مولانا فضل الرحمن کے ساتھی مفتی سلطان محمد قاتلانہ حملے میں زخمی

    کشمیریوں کو بغیر کسی الزام کے گرفتار اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے ماہرین کامقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کمشیر کے علاقے سوپور میں دستی بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ دستی بم حملہ مارکیٹ کے قریب کیا گیا ہے۔

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر