Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیرلاک ڈاون کا 82 واں‌دن:نمازجمعہ کے بعد بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری

    سری نگر :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا آج 82 واں دن ہے اورآزادی کی جنگ جاری ہے ، مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کے بعد بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری ہے، قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے اسی لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض اسپتال۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو آج نماز جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے وادی کشمیر سخت پابندیاں نافذ کرنے کا خدشہ ہے، قابض انتظامیہ نے 05 اگست کے بعد سے مقبوضہ علاقے کی تمام بڑی مساجد اور درگاہوں میں نمازجمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی ہے۔

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • مقبوضہ کشمیر، لاک ڈاون کا 81 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری

    سری نگر: بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 81واں روز ہے، وادی میں تاحال زندگی مفلوج ہے۔ظلم وتشددکےسلسلے اب 12 ویں ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں ، مسلسل لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ادھر آج وفاقی دارالحکومت میں کشمیر ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں نے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرکے ان کے حوصلے بلند کردیئے ، کشمیر ملین مارچ میں 5 کلومیٹر کشمیری پرچم لہراکر ریکارڈ بھی قائم کیا

    جدید اسلحے سے لیس بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں سے خوفزدہ ہیں۔ قابض فوج نے سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بلٹ پروف بنکرز تعمیر کرلیے۔ مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 8ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو تین ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اکتوبرکے مہینے میں اب تک 5 کشمیریوں کو بھارتی فوج شہید کرچکی ہے ،دوسری طرف بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعےپچھلے دوہفتوں میں 5 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 480 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے273کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 40 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، 9خواتین کو بیوہ کیا، 47بچے یتیم ہوئے، 11خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے،81 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

  • بھارت کو چیلنج ، دہشت گردوں کے ٹھکانے ثابت کردکھائے

    بھارت کو چیلنج ، دہشت گردوں کے ٹھکانے ثابت کردکھائے

    اسلام آباد:پاکستان کا بھارت کو آزاد کشمیر میں دہشگردوں کے ٹھکانے ثابت کرنیکا چیلنج کر دیا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر میں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرے۔ اسلام آباد میں موجود سفیروں اور عالمی میڈیا کو بھی لائن آف کنٹرول کا دورہ کروایا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 78 واں دن،بھارتی مظالم ، کشمیریوں کی جنگ آزادی جاری

    سفارتی ذرائع کے مطابق غیر ملکی سفیروں کو 22 اکتوبر کو شاہ کوٹ، نوسیری اور جوڑا سیکٹر کا دورہ کروایا جائے گا اور انہیں ایل او سی پر بھارتی جارحیت سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان نے بھارتی ناظم الامور سے کہا ہے کہ بھارت آزاد کشمیرمیں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ سچ ثابت کرے۔

    بھارتی آرمی چیف کاآزاد کشمیر میں کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ افسوسناک ہے، ترجمان

    اس مقصد کے لیے پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو ایل او سی پر لے جانے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ بھارت بزدل ، کھل کر سامنے آئے ، پاکستان نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر بھارت جارحیت سے باز نہ آیا تو اس کے لئے صورتحال ناقابل برداشت ہو جائے گی اور اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق عالمی میڈیا کو بھی کنٹرول لائن پر لے جا کر زمینی حقائق سامنے رکھے جائیں گے۔اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کو کل مذکورہ علاقوں کا دورہ کرایا جائے گا اور پھر بھارتی مکاری کو دنیا کے سامنے پیش بھی کیا جائے گیا

  • بھارت جھوٹا، آرمی چیف جھوٹا ، پھر چیلنج کرتے ہیں ، میجر آصف غفور کا پیغام

    بھارت جھوٹا، آرمی چیف جھوٹا ، پھر چیلنج کرتے ہیں ، میجر آصف غفور کا پیغام

    راولپنڈی :انڈیا جھوٹا ، آرمی چیف جھوٹا ، ہم نے کل سے چیلنج کررکھا ہےکہ اگر بھارت نے پاکستان میں کیمپ تباہ کیے ہیں تو ثابت کردے ،لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا،بھارت کے نام یہ پیغام پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے پہنچا دیا ہے

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 78 واں دن،بھارتی مظالم ، کشمیریوں کی جنگ آزادی جاری

    ذرائع کےمطابق گزشتہ رات کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی طرف سے کی جانے فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 9 سے زائد فوجی افسروں سمیت ہلاک کردیئے تھے جس کے بعد سے اب تک بھارت اپنی خفت مٹانے اور شکست چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ،https://twitter.com/OfficialDGISPR?ref_src=twsrc%5Egoogle%7Ctwcamp%5Eserp%7Ctwgr%5Eauthor

    بھارتی ڈراموں کے جواب میں آج پھر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ پیغام میں بھارت کو چیلنج کیا ہےکہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بھارتی فوج کاآرمی چیف جھوٹ بول رہا ہے، میجر جنرل آصف غفور نے پھر چیلنج کیا کہ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو ہمارے ساتھ معلومات شئر کرے تاکہ ہم بھی دنیا کو بتا سکیں کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے

    بھارتی آرمی چیف کاآزاد کشمیر میں کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ افسوسناک ہے، ترجمان 

    میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہےکہ ہم پھر بھارت کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ معلومات پاکستانی دفتر خارجہ سے شیئر کرلے ، اگر پھر بھی بھارت ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے تو کل جب عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچے گیں تو پھر حقیقت کھل ہی جائے گیا

  • بھارتی ناظم الامور حاضر ہوجائے، دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی ناظم الامور حاضر ہوجائے، دفتر خارجہ طلبی

    اسلام آباد:بھارت پھر شرارت سے باز نہیں آرہا ، پاک فوج نے شرارت کی سزا بھی دے اور دوسری طرف بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے بھارتی ناظم امور کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

    اسلام آباد سے ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، بھارتی فائرنگ سے بےگناہ شہریوں کی شہادت پر پاکستان نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔پاکستان نے بھارت کو پیغام بھی بھیج دیا ہے کہ وہ آئندہ ایسی کسی شرانگیزی سے باز رہے

    دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں کا بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔ اس قبل بھی متعدد بار بھارتی حکام پاکستان دفترخارجہ طلب کیے جاچکے ہیں، تاہم اس کے باوجود بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    بھارتی شرانگیزی کے ردعمل میں جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے شاہ کوٹ، نوسیری اور جوڑا سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 9 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک کردیے۔

    ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس جوابی کارروائی میں دو بھارتی بنکرز تباہ اور کئی بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے۔ جبکہ بھارتی فائرنگ سے ایک جوان لانس نائیک زاہد اور 5شہری شہید گئے

  • کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    لندن : کشمیرکے مسئلہ کا حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن میں کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی برادری کشمیر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تفصیلات کے مطابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانیہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیر کے تنازعے کو عالمی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    صدر آزاد کشمیر نے کہ عالمی ذرائع ابلاغ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کی یکطرفہ منسوخی کو مسترد کرتے ہوئے سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی ہے۔

    مولانا فضل الرحمن مان گئے؟ اہم خبر آگئی

  • مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 77 واں دن،مظالم رکے نہیں، کشمیری تھکے نہیں،آزادی کی جنگ جاری

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 77 واں دن،مظالم رکے نہیں، کشمیری تھکے نہیں،آزادی کی جنگ جاری

    سری نگر: بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 77واں روز ہے، وادی میں تاحال زندگی مفلوج ہے۔11 ہفتے سے مسلسل لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔

    جدید اسلحے سے لیس بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں سے خوفزدہ ہیں۔ قابض فوج نے سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بلٹ پروف بنکرز تعمیر کرلیے۔ مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔

    مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں کے 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی سرکار کو مقبوضہ وادی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔لیکن مودی کی ظالم سرکار نے ان کی درخواست سننےکی بجائے اسے رد ی کی ٹوکری میں ڈال دیا

    خط میں کہا گیا تھا کہ تقریباََ 80 لاکھ کشمیری 2 ماہ سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، موبائل فون اور انٹرنیت سروس بھی بند ہے۔عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 8ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو تین ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 7 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 480 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 213 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 32 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، 6 خواتین کو بیوہ کیا، 25 بچے یتیم ہوئے، 9 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    مولانا فضل الرحمن مان گئے؟ اہم خبر آگئی

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے،77 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

     

    ادھر آج وفاقی دارالحکومت میں کشمیر ملین مارچ ہورہا ہےہیں جہاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لوگ ڈی چوک جمع ہونے شروع ہوچکے ہیں، سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طالب علم بھی اظہاریکجہتی کررہے ہیں، اس کشمیر ملین مارچ میں دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا بھی لہرایا جارہاہے، جو کہ کم از کم 5 کلومیٹر لمبا ہے،

     

     

  • کشمیر کانفرنس، ملین مارچ کرکے بھارت کو پیغام کا وقت آگیا،ڈاکٹرسیدمجاہدگیلانی

    کشمیر کانفرنس، ملین مارچ کرکے بھارت کو پیغام کا وقت آگیا،ڈاکٹرسیدمجاہدگیلانی

    اسلام آباد:کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام گورنمنٹ کالج ایف 10 اسلام آباد میں کشمیر کانفرنس، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر ملین مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔

    ذرائع کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس کی طرف سے کشمیر ملین مارچ کے حوالے سے تفیصلات بتائی گئی ہیں ان کے مطابق اس میں 2ہزار کے قریب نوجوان شرکت کریں گے ،ذرائع کے مطابق اس میں ملک بھر کی 42 یونیورسٹیوں کے 1500سے زائد وفود شرکت کریں ، گللگت بلتستان اور کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے نمائندگی بھی ہوگی جس میں بڑی تعداد میں نوجوان اکٹھے ہوں گے ، پوری دنیا کو امن کا پیغام دیں گے ، کشمیر کے لیے امن ریلی بھی منعقد کی جائے

    جس میں بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم اور دو ماہ سے زائد کرفیو کی توجہ بے حس دنیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردارون کی توجہ مبذول کرانے کے لئے 20اکتوبر دن ڈیڑھ بجے Dچوک اسلام آباد میں یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ایک عظیم الشان‘‘کشمیر ملین مارچ’’کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کشمیر یوتھ الائنس، سول سوسائٹی، اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شرکت کریں

  • بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں

    بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں

    سری نگر: بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں ، اطلاعات کے مطابق بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری حریت رہنماوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر پہنچاکر خوف و ہراس پھیلارہی ہیں‌ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے حریت رہنما جاوید احمد میر کو سری نگر سے گرفتار کرلیا جبکہ جامع مسجد میں مسلسل گیارھویں ہفتے بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا اور مقبوضہ وادی سے لے کر گئے۔سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو 25 جنوری 1990 کو سری نگر کے مضافات میں ایک حملے میں بھارتی فضائیہ کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے ایک جعلی مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘جاوید احمد میر کو آئی اے ایف اہلکار کے قتل میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں جموں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے’جاوید میر کے علاوہ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو متعدد جعلی مقدمات میں بھارتی قابض فورسز نے نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی کی درخواست پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ نے رواں برس 13 مارچ کو مذکورہ مقدمے کے علاوہ 8 دسمبر 1989 کو اس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے کو منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو بھارتی اقدامات کے ساتھ ہی پوری سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ہے جس میں سابق وزرا اعلیٰ فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ حریت رہنما بھی شامل ہیں۔

    سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ حریت کانفرنس کے ہزاروں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔یہ بھی معلوم ہواہےکہ دوردراز علاقوں سے بھی کشمیری نوجوانوں کی گرفتار کیا جارہا ہے