Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    خبر اور تصاویر گردش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر کٹھوعہ میں بھارتی ریاستی جبر کیخلاف کشمیریوں نے سیبوں پر نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    تفصیلات کچھ یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، مہینوں پر محیط جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    وقوعہ کے مطابق تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں

    "ہم کیا چاہتے آزادی”،

    "میری جان عمران خان”،

    "پاکستان زندہ باد”،

    "میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں”،

    "موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں”،

    "جس نے ہلچل مچا دی ہے”۔

    ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔

    یہ تو تھی خبر اور اس کی تفصیل جس کو ہم نے من حیث القوم بلکل لائٹ موڈ پر لیا جیسے ستر سالوں سے ہم کشمیر کو لائٹ موڈ پر لے رہے ہیں پر صاحبان ذرا تصور کیجیئے کہ آپ کا مکمل سماجی, سیاسی اور سفارتی ناطقہ بند ہو اور آپ کو اپنی آواز دنیا کی سماعتوں تک پہنچانی ہو تو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں اور کتنی بے بسی اور معذوری دیکھنی پڑتی ہے۔

    کشمیری ہمارے بغیر ایک شاندار زندگی کے مزے لینا چاہیں تو ان کے لیئے یہ بات چنداں مشکل نہیں کہ وہ بھارت کو بخوشی تسلیم کرکے اس کا حصہ بن جائیں اور خصوصی مراعات سے کم از کم ان کی ایک سے دو نسلیں دنیا میں فیضیاب ہوجائیں پر ایسا نہ تو ہوا ہے اور نہ ہورہا ہے باوجود بھارت اور اسکے تمام دیدہ و نادیدہ ہمنواؤں کی محنت سے۔ ۔ ۔

    کیوں؟

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    کیونکہ اسلام اور پاکستان کے رشتے سے وہ خود کو کشمیری بعد میں جبکہ مسلمان اور پاکستانی پہلے تسلیم کرتے, کرواتے اور کہلواتے ہیں۔

    —کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں,

    —ان کے کفن سبز ہلالی پرچم میں ڈھکے جاتے ہیں اور ان کی قبروں پر وہی پرچم لہرائے جاتے ہیں,

    —ان کی عید شبرات رمضان نیا سال سب ہمارے فیصلوں اور اعلانات سے مشروط ہے,

    —ان کی ہر نظر پاکستان کی معاشی, اقتصادی, دفاعی اور سفارتی اڑان پر ہے,

    —ان کے لبوں پر آزادی کے نعرے اور دعائیں بعد میں لیکن پاکستان کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے نعرے اور دعائیں اول ہیں,

    —کشمیری ہماری خوشیوں میں خوش اور ہمارے غموں میں غمگین ہوتے ہیں,

    —جتنا پاکستان ہمارا ہے اتنا ہی پاکستان کشمیریوں کا ہے جو اس کا اظہار جموں و کشمیر کی گلی گلی میں اپنے لہو کی قربانی دے کر کرتے ہیں۔

    کتنا دل دکھا اور آپ پزمردہ ہوئے اس خبر کو پڑھ سن کر کہ کشمیری اپنی بے بسی کے باوجود ہم سے محبت, بھائی چارے, امید, یقین اور یکجہتی کا اظہار کے لیئے سیبوں کا استعمال کررہے اور دنیا کو واضح پیغام دے رہے کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا, آج بھی پاکستان ہے اور کل بھی پاکستان ہی رہے گا ان شاء ﷲ بیشک ہندو غاصب فوج جتنا مرضی دبالے اور منہ بند کردے۔

    مولانا فضل الرحمن کی نگری”ملازئی ” میں 14 افراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے

    سیبوں پر لکھے نعرے اور محبت نامے تو بھارت اور دنیا کو بتانے اور سنانے کے لیئے تھے کہ بھارت اور دنیا جان لے کہ

    "کسی غلط فہمی میں مت پڑنا ہم مرتے دم تک پاکستان اور آزادی کی کوہار بلند کرتے رہیں گے”۔

    جبکہ سیب۔ ۔ ۔

    مجسم سیب کشمیریوں کا پاکستان اور امت مسلمہ کے پڑھے لکھے, انٹلیکچوئیل اور ٹیلینٹڈ نوجوانوں بلخصوص ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو واضح اور صاف صاف پیغام ہے کہ

    "بھائیو ہم تو اپنے حصے کی محنت اور مشقت کر رہے ہیں, ہم تو ایسی سخت صورتحال میں بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں خواہ ایپل (سیب) کا آئی فون نہیں ہاتھ میں پر اللہ کی نعمت سیب (ایپل) کو اپنا ذریعہ مواصلات بنا کر آزادی آزادی, پاکستان پاکستان اور عمران عمران کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ ہمارے مقصد میں ایک انچ بھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہم پہلے سے زیادہ پر عزم اور پرجوش ہیں۔

    دوستو تمہارے لیئے تو ہماری آواز بننا اور دنیا کو جگانا مشکل نہیں کہ تمہارے پاس آزادی اور ایپل آئی فونز وغیرہ ہیں کہ ہم تو سیبوں تک محدود ہوکر بھی بھارت اور دنیا کو حریت کی آواز سنا رہے اور بھارتیوں کا سینہ جلا رہے اور ان کو خوف ذدہ کررہے ہیں تو تم بھی مایوس مت ہونا اور ہمیں بھولنا مت کہ ہم تو ہاتھ, منہ, کان اور زبان بندی کے باوجود تمہیں نہیں بھولے اور ہمارا یہ نعرہ سر بلند ہے کہ ہم کیا چاہتے آزادی اور پاکستان زندہ آباد لہذا اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز کا وہی استعمال کرو جو ہم یہاں اپنے باغات کے ایپلز کا کررہے۔”

    واللہ مجھے تو سیبوں پر لکھے نعرے پڑھ کر کشمیریوں کی اس ادا پر پیار اور ترس آیا لیکن سیب دیکھ کو شرمندگی ہوئی کہ دیکھو وہ بیچارے کس طرح ہماری خاطر کیسے کیسے حربے اختیار کررہے اور ہم یہاں اپنی سیاسی و مسلکی اور عصبی بحثوں میں الجھ کر انہیں فراموش کیئے جارہے ہیں۔

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    کشمیر کے سیب پاکستانی نوجوانوں کو سیکھ اور سبق دے رہے وہ بلکل واضح ہے کہ حق اور حریت کی آواز بلند کرنی ہو تو وسائل کوئی مسئلہ نہیں جن کا رونا رویا جائے بلکہ حق اور حریت تو سیبوں کے ذریعے بھی بیان کیئے جاسکتے ہیں۔

    صاحبان کشمیری حریت پسند پاکستانیوں نے تو اپنے باغات کے سیبوں (ایپلز) کا استعمال کرلیا اور دنیا کو پیغام دے دیا, اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز (سیب) کا جارحانہ استعمال کریں کشمیریوں کی آواز بننے کے لیئے۔

    یاد رہے کہ ستر سالوں کی کسک ہے یہ کوئی دو چار مہینےکی بات نہیں, کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں, وہ سبز ہلالی پرچم کی حرمت ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو اے پاکستانیوں اب تم بھی ان کے خون کی حرمت سمجھو اور خدارا تیرے میرے کی سیاست سے نکل کر کشمیریوں کی آواز بنو۔

    آزادیات

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

  • بہت جلد کشمیری بھارت سے آزادی حاصل کرلیں گے ، یکجہتی کشمیرکانفرنس سے قائدین کا خطاب

    بہت جلد کشمیری بھارت سے آزادی حاصل کرلیں گے ، یکجہتی کشمیرکانفرنس سے قائدین کا خطاب

    اسلام آباد : ہم سب کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے ، بھارت یہ بھول جائے کہ ہم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بدلہ نہیں لیں گے ، بہت جلد کشمیر آزاد ہونے والا ہے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام یکجتی کشمیر کانفرنس سے ملی قائدین نےکیا

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

    اسلام آباد میں ہونے والی یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے کہا کہ بھارت تحریک آزادی کودبانا چاہتا ہے لیکن وہ نامراد لوٹے گا ، کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی کو قبول نہیں کریں گے ، سردار فاروق حیدر نے کہا کہ اگر یہی کوششیں پہلے کی ہوتی تو آج تک کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا ، وزیراعظم عمران خان نے سفیر کشمیر بن کر پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے

    وزیراعلٰی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو ہتھیانے کے بعد گلگت بلتستان کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن بھارت کو شاید یہ علم نہیں کہ اس نے کشمیریوں کو آزادی دلانے میں خود ہی ان کی مدد کردی بہت جلد بھارت کشمیر سے رسوا ہوکر نکلے گا

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیری اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں ساری پاکستانی قوم ان کی آزادی کے لیے کوشاں ہے ، وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرکے بہت اچھا کیا ،ہم کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی مدد جاری رکھیں گے

    تحریک نوجوان پاکستان و کشمیر کے چیئرمین عبداللہ گل نے اپنی تقریر میں‌کہا کہ بھارت بہت جلد کشمیر کو اپنے ہاتھ سےکھودے گا آج سارے کشمیری بھارتی مظالم کےخلاف اکھٹے ہوگئے ہیں‌، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی کوششیں‌جاری رکھیں قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ،

    14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    یکجہتی کشمیر کانفرنس سے دیگر خطاب کرنے والوں میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں یکجہتی کشمیرکانفرنس کل ہوگی ، ،صدرملی یکجہتی کونسل ابوالخیرزبیر،، سید ضیا للہ شاہ بخاری ، علامہ ساجدنقوی ،راجہ ناصرعباس،لیاقت بلوچ ،حافظ عاکف سعید، پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالمالک،پیرہارون علی گیلانی،عبدالرشید ترابی، مولانا عبدالغفارروپڑی، سمیت دیگرمذہبی وسیاسی قائدین نے خطاب کیا اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عہد بھی کیا

  • مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 71 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 71 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض علاقوں میں بھارتی فوج کشمیریوں کو ان کے گھرروں سے نکال کر شناخت پریڈ کروا رہی ہے ، اس کی وجہ یہ سامنے آئی ہےکہ فوج پر کشمیریوں کی طرف سے حملوں میں تیزی آگئی ہے

    ترک افواج نے 500 سے زائد کردباغی ماردیئے

    ذرائع کے مطابق آج بھی سارا دن مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ کشمیریوں نے بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے بھرپور مزاحمت کی ہے، مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے تمام کمشیری نوجوانوں کی یہ پیغام دیا جارہا ہےکہ گھبرائیں نہیں منزل بہت قریب ہے بھارت نے جو ظلم کیا ہے وہ اسے برداشت کرنا پڑے گا ۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    رواں ماہ کے آخر میں زندگی کا اہم اعلان کروں گا‘‘حمزہ علی عباسی

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 70 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 70 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔

    جناب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نسل پرستی کے سخت خلاف تھے،عیسائی مفکر

    مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    چونیاں: درندہ صفت انسان نے خود ہی حقائق سے پردے اٹھادیئے

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    فتح جنگ: گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1فتح جنگ کے کانفرنس ہال میں منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ کشمیری پاکستان کا نام لے کر جیتے ہیں‘ زندگی بھر اسی نام کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی نام کی پکار کے ساتھ جان دیتے ہیں، پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کا مقروض ہے، کشمیر کے لئے آواز اٹھانا ہم سب پر فرض ہے‘

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 68روز سے کرفیو کی وجہ سے زندگی اجیرن بنادی گئی ہے، عالمی ادارے ابھی تک خاموش تماشائی ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کیلئے کوئی اقوام متحدہ یا امریکہ معنی نہیں رکھتا، ان کی نظریں صرف اور صرف پاکستان پر ہیں، پاکستان نے ہی کشمیری عوام کو آزادی دلانے کا وعدہ وفا کرنا ہے،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے بتایا کہ گزشتہ68روز سے صرف ایک بار ماموں سے رابطہ ہوااور 20سیکنڈ کی گفتگو میں صرف یہ سن سکا کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔کانفرنس سے ملک منہاج الدین احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جب سید علی گیلانی کا نام آتا ہے تو ہم چومتے ہیں، طلبہ کشمیر کے بارے میں کلاسز میں سوال کرتے ہیں اور فکر مند رہتے ہیں،

    جناب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نسل پرستی کے سخت خلاف تھے،عیسائی مفکر

    کشمیر کانفرنس کے سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوتھ الائنس ملک کے کونے کونے میں یہ پیغام لے کر جارہی ہے کہ پاکستان کے ہر ذی النفس نے کشمیر کا سفیر بننا ہے، کشمیری یہ نعرہ لگاتا ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں بازو کھول کر انہیں کہنا ہے ہاں تم پاکستانی ہو،

    سابق سیکریٹری پر جنسی ہراسگی کی وجہ سے پابندی لگ گئی

    کشمیر کانفرنس سے سینئر صحافی سلطان سکندر، ریڈیو براڈ کاسٹر مہوش ناز اور قاضی خضرالزمان ضیاء نے بھی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا، کانفرنس میں قاضی محمد صفدر،ملک کامران خاکی، سید وجاہت علی شاہ،ملک رفاقت اعوان، ملک عابد داؤد،عابد حبیب، طارق قادری، حاجی اعظم،عادل خانزادہ، ملک افتخار خاری خان، ملک سفیر، قاضی محمود الحسن،خضر حیات نیازی،ممتاز چیئرمین،ساجد لنگڑیال، ملک ارشد،علی عمران سمیت صحافی و سماجی قائدین، عوام اور طلبہ کی کثیر تعداد شریک تھی، آخر میں کشمیری عوام کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔

    پانی کے بغر زندہ رہنےوالی مچھلی ، دیکھتے ہی ماردو ، جارجیائی ماہرین کی تجویز

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 69 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 69 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔

    سپر مارکیٹ میں مصنوعی گوشت ، تیار خلا میں فروخت زمین پر

    مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    چین یغورمسلمانوں کے قبرستانوں کو مسمار کرکے نشانات مٹانے لگا

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    اقرا عزیز نے اپنا یوٹیوب چینل متعارف کرادیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مقبوضہ کشمیربدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 68 واں دن ، ظلم جاری مگر کب تک؟

    مقبوضہ کشمیربدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 68 واں دن ، ظلم جاری مگر کب تک؟

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کا68 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ وادی سے آنے والی اطلاعات کےمطابق بھارتی ظلم کا شکار کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی، چپے چپے پر تعینات بھارتی فوج کی وجہ سے وادی اوپن ائیر جیل بن چکی ہے۔ کشمیری روز مرہ کی اشیاء کے لیے ترس کر رہ گئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی میں صحافی، سیاسی رہنما سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 284 لوگ وادی کی صورتحال پر پٹیشن دائر کرچکے ہیں۔

    لاتوں ، گھونسوکی بارش ، لیڈی ڈینگی ورکرپرتشدد کی انتہا،ایسا کیوں ہوا؟

    مسجدیں 68 روز سے نمازیوں کے لیے بند ہیں، شہری دکانیں، بزنس، تعلیمی ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہیں۔ سری نگر کے ہسپتال میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کرفیو کی وجہ سے مریض ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے، اب تک درجنوں بیمار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ادویات کی قلت اور پابندیوں کی وجہ سے 50 فیصد آپریشن تعطل کا شکار ہیں۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    تعلیم میں سیاست برداشت نہیں،سیاست کرنے والے اساتذہ کے دن برےآگئے

    بھارتی فوج کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورہ میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    کاشف آفریدی کے بیہمانہ قتل کے واقعہ کا نوٹس، قاتل بچ نہیں پائیں‌ گے،اجمل وزیر

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل دو ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟ اطلاعات کےمطابق آج مقبوضہ وادی میں کرفیو کا64 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    دوسری طرف کشمیریوں کی آہ وبکا اور ظلم وتشدد سے بھرپور ایک ایک لمحہ سننے اور جاننے کے باوجود عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یہ بھی یاد رہےکہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔بھارتی فوج کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورہ میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نےکم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    بھارت مزید مشکلات کا شکار: ناگالینڈ علیحدگی پسند تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی…

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ امریکی اخبار نے وادی کی صورتحال کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

    تدبیریں‌ناکام ، ڈینگی نے پنجاب میں پنجے گاڑ لیے، مزید 2 مریض جاں بحق،

    بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کو پاکستان سے متعلق مہذب الفاظ استعمال کرنے پر سخت…

    قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث ایک اور نوجوان شہید ہو گیا، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے