Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 62 واں روز۔بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیری پوچھتے ہیں‌یہ کب تک جاری رہیں گے

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 62 واں روز۔بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیری پوچھتے ہیں‌یہ کب تک جاری رہیں گے

    سری نگر :مقبوضہ وادی میں کرفیو کا62 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ امریکی اخبار نے وادی کی صورتحال کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تسلط کو دو ماہ ہونے کو ہیں۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    اخبار کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 12 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 6 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 281 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 175 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 25 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، ایک خاتون کو بیوہ کیا، دو بچے یتیم ہوئے، 4 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، 62 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

  • وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی

    وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی

    اسلام آباد:وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عوام سے اپیل کی ہے کہ کل بروز جمعہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ریلیاں نکالی جائیں۔

    “کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی” لاک ہے

    کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی

    تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم کو کل 60 دن ہو جائیں گے، عوام ریلیاں نکال کر مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں۔کشمیر کی تحریک آزادی بہت جلد اپنی منزل حاصل کرنے والی ہے، انہوں‌نے کہا کہ کشمیری بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں‌

    “ایل ڈی اے نے نیاپاکستان ہاوسنگ پراجیکٹ کے لیے جگہ دینے سے انکار کیوں کردیا ، میاں محمود الرشید کا کردار بھی سامنے آگیا” لاک ہے

    ایل ڈی اے نے نیاپاکستان ہاوسنگ پراجیکٹ کے لیے جگہ دینے سے انکار کیوں کردیا ، میاں محمود الرشید کا کردار بھی سامنے آگیا

    کشمیر اور کشمیریوں کی ازادی کے لیے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے ، ہمیں‌اس وقت کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے، اعجاز شاہ کا کہنا تھا مودی سرکار کا شدت پسند چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، ہم ایک پرامن قوم ہیں اور حق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور رکھتے ہیں، وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بھی خطاب میں یہی پیغام دیا۔

    “ڈاکٹر شعیب سڈل نے72 سال بعد قائد اعظم کے بارے میں ایسے جملے کہہ دیئے کہ ہرکوئی حیران ہوگیا” لاک ہے

    ڈاکٹر شعیب سڈل نے72 سال بعد قائد اعظم کے بارے میں ایسے جملے کہہ دیئے کہ ہرکوئی حیران ہوگیا

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 59 واں روز ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم جاری ، مگر کب تک ؟

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 59 واں روز ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم جاری ، مگر کب تک ؟

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کا59 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے، سیّد علی گیلانی نے پولیس اہلکاروں کو کہا ہے کہ اپنے مادر وطن کو بچائیں جبکہ ایک اور امریکی خاتون کانگریس رہنما نے مظلوم کشمیریوں کیلئے آواز بلند کر دی ہے۔

    میں ہمیشہ شادی کے خیال سے بھاگتا تھا ، دوبول میں‌ مقبول ” حرا” ایک آئینہ ہے ، کس اداکار نے راز کی باتیں افشاں کردیں‌ ؟

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںقابض فوج نے ضلع گندر بل میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران ایک نوجوان کو شہید کیا، ضلع میں شروع ہونیوالا آپریشن بھارتی قابض فوج کی طرف سے شروع کیا گیا ہے، ایک ہفتے قبل بھارتی قابض فوج نے اسی ضلع گندر بل اور ضلع رمبن میں کارروائی کرتے ہوئے 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران گزشتہ ماہ ستمبر کے دوران 16 کشمیری شہری شہید ہوئے، زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 6 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 281 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 157 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 25 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، ایک خاتون کو بیوہ کیا، دو بچے یتیم ہوئے، 4 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    “یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی” لاک ہے

    یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی

    دوسری طرف بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کے عزم توڑنے کے لیے مزید دباؤ بڑھانے لگی ہے، بھارت کی خفیہ تحقیقاتی ادارے نے حریت رہنماؤں کو جعلی کیسز میں پھنسانے کے لیے ضمنی چارج شیٹ تیار کر لی ہے جن حریت رہنماؤں کے خلاف کیسز تیار کیے جا رہے ہیں ان میں حریت رہنما محمد یٰسین ملک، دختر ملت محترمہ آسیہ آندرابی، مسرت عالم بٹ شامل ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے حریت رہنما یٰسین ملک کو غیر قانونی نظر بندی کیس میں انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔ ان پر سابق بھارتی وزیرداخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیا سعید کو اغواء کرنے کا نام نہاد الزام لگایا گیا ہے، دوسرا الزام بھارت کے چار سابق ایئر فورس کے اہلکاروں کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

    “بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی” لاک ہے

    بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، 58 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بدترین تشدد کے 19 کیسز سامنے لے آیا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر میں 25 سالہ یاسین بھٹ 6 اگست کو رات گئے گھر سے نکلا، مرکزی سڑک پر اس نے درجنوں فوجی دیکھے۔ ایک فوجی نے کشمیر کی خود مختاری کی منسوخی سے متعلق اس کی رائے پوچھی، خوفزدہ بھٹ نے جواب میں اسے اچھا اقدام قرار دیا۔

    اس پر فوجی افسر نے کہا کہ جھوٹ نہ بولو، پھر اسے بیچ سڑک پر کپڑے اتارنے کا حکم دیا۔ کئی فوجیوں نے اسے زمین پر لٹایا اور موٹی تار سے اس کی کمر اور ٹانگوں پر ضربیں لگائیں۔ پھر اس کے سینے اور حساس اعضا پر تاریں رکھ کر انہیں بیٹری سے جوڑ دیا اور کرنٹ کے جھٹکوں سے اس کا برا حال کر دیا۔ بھٹ نے بتایا کہ اسے لگا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہو گی۔

    یاسین بھٹ ان 19 افراد میں شامل ہے جن کے جنوبی کشمیر کے مختلف قصبوں و دیہات میں واشنگٹن پوسٹ نے انٹرویو کئے۔ ان سب نے کریک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج پر تشدد کے ا لزامات لگائے۔ بھٹ سمیت دو افراد بھارتی فوج کی انتقامی کارروائی سے خوفزدہ مگر اپنے ساتھ ہونیوالا سلوک ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے چھڑیوں، لوہے کے راڈ اور موٹے تاروں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ بجلی کے جھٹکے بھی دیئے گئے، کئی کئی گھنٹے الٹا بھی لٹکایا گیا۔

    اخبار کے تشدد کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ کے علاوہ عینی شاہدین سے بھی بات کی، چھ کیسز میں ہسپتال کے ریکارڈ یا زخمیوں کی تصاویر کا جائزہ بھی لیا۔ یاسین بھٹ کی تصویر میں کمر اور ٹانگوں پر گہرے زخمیوں کے نشان دیکھے۔ ترجمان بھارتی وزارت دفاع کرنل آنند نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہ کیا بلکہ تشدد کےواقعات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ واقعات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    نئی دہلی :وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا،بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی پالیسی کا اظہار کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کی فرسٹ آفیسر ودیشا میترا نے کہا کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں نفرت اور تشدد کو ہوا دی۔بھارتی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے جب ایک عالمی لیڈر نے اس فورم پر خون کی ندیاں، نسلی تعصب، ہتھیار اٹھانے، آخر تک لڑنے جیسے الفاظ استعمال کیے ہوں۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    ودیشا میترا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گرد کیمپ موجود نہ ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عالمی مبصرین کو اس ضمن میں دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے اب انہیں اپنے وعدے پر قائم رہنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی اور مہذب معاشروں میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    “بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب” لاک ہے

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان اس کی تردید کر سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئی 25 تنظیموں اور 130 دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران امن کا پیغام دیا تاہم پاکستانی وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعے نفرت کی آگ کو بھڑکایا۔

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں لگ بھگ 50 منٹ تک خطاب کیا تھا۔ عمران خان نے ماحولیاتی تبدیلیوں، منی لانڈرنگ، اسلاموفوبیا اور کشمیر کے معاملے پر اظہار خیال کیا تھا،خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ شروع ہو گئی تو اس کا اثر پوری دنیا محسوس کرے گی۔

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری

    سری نگر : مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری ، تفصیلات کےمطابق مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں گاندر بل اور رمبان ضلع میں چھ کشمیری شہریوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے گاندربل کے علاقے ناراناگ میں سرچ آپریشن کے دوران تین کشمیریوں کو شہید کر دیں۔ تین نوجوانوں کو جموں کے ضلع رامبن کے باٹوٹ علاقے میں شہید کیا گیا۔بھارتی فوج کا سرچ آپریشن ابھی جاری ہے۔

    بھارتی فوج نے جموں کے ضلع ڈوڈا میں بھی اسی طرح کا آپریشن شروع کیا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد کشمیری گھروں سے باہر نکل آئے اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی.

     

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے صورہ میں کشمیری نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے، کشمیری نوجوانوں نے پاکستان کے پرچم اٹھا رکھے تھے مقبوضہ وادی میں کرفیو کا57 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج نے6 کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بناکر شہید کردیا۔وادی میں خوراک اور ادویات کا بحران سنگین ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی زیر حراست معصوم بچوں کی تعداد تیرہ ہزار سے تجاوز کرگئی

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی قابض فوج نے ضلع گاندربل میں محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی لی۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈا اور رام بن میں بھی بھارتی فوج کا محاصرہ اور گھر گھر تلاشی جاری ہے۔واضح رہے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل پچپن ویں روز بھی وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور بھارتی فورسز کی جبری پابندیاں جاری رہیں۔

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    گذشتہ روز بھارتی فورسز کی کڑی پابندیوں کے باوجود کشمیری نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی تسلط کے خلاف مظاہرہ کیا، مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔

    مسلسل کرفیو کی وجہ سے زندگی ابتر ہو چکی ہے،مریض تڑپ رہے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، ہسپتالوں میں دوائی موجود نہ بازاراروں سے کھانے پینے کی اشیا دستیاب، ہر طرف بھارتی درندے بندوقیں اٹھائے دندنا رہے ہیں، موبائل انٹرنیٹ ابھی تک بند ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔

    کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی مظالم جاری ، وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 53 واں روز، کشمیری پرامید ، بھارت پریشان

    مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی مظالم جاری ، وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 53 واں روز، کشمیری پرامید ، بھارت پریشان

    سری نگر : بھارتی مظالم رکے نہیں ، ابھی تک بھارتی افواج کشمیریوں‌کی تحریک آزادی کو دبانے میں‌ ناکام رہے ، اور کشمیر ی تمام تر مظالم کے باوجود ابھی بھی پرامید ہیں‌کہ آزادی کی منزل بہت قریب ہے، بھارت پریشان ہےکہ جبر اور ظلم کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں‌ہوئے ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو کا53 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    ویسے تو بھارت نے ہمیشہ ہی مقبوضہ کشمیر میں‌ فوجی بالادستی قائم رکھنےکی کوشش کی لیکن جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ بہت ہی درد ناک ہے، ، یاد رہےکہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔مسلسل کرفیو کی وجہ سے زندگی ابتر ہو چکی ہے،مریض تڑپ رہے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، ہسپتالوں میں دوائی موجود نہ بازاراروں سے کھانے پینے کی اشیا دستیاب، ہر طرف بھارتی درندے بندوقیں اٹھائے دندنا رہے ہیں، موبائل انٹرنیٹ ابھی تک بند ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں‌کہ کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود لوگوں کا حوصلہ بلند ہے، مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔

    مقبوضہ وادی سے اطلاعات کےمطابق وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔وادی میں مارکیٹ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔

    عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

  • مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم جاری بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 49 واں روز، کشمیری چیخ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم جاری بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 49 واں روز، کشمیری چیخ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا کشمیرکو ہتھیانے کے بعد ظلم کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو بھی آج 49 واں دن ہوچکا ہے ، کشمیری بھارتی مظالم کی وجہ سے چیخ رہے ہیں‌ ، نام نہاد عالمی برادری کو چپ لگ گئی ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کا49 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    دنیا بھر کا میڈیا بھارتی افواج کے کشمیر میں‌مظالم کو جس طرح بیان کررہا ہے اس سے پہلے ایسی سنگینی کو بیان نہیں کیا ، بھارت کی طرف سے 5 اگست کو کشمیر کو ہتھیانے کے بعد سے لے کر اب تک کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔

    لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔وادی میں مارکیٹیں ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔

    آزادی کے حق میں اور مودی سرکار کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے نہتے افراد پر قابض فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گولیاں برسائیں جس سے متعدد کی حالت غیر ہوگئی۔ وادی بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں‌، بھارتی مظالم کے خلاف بارہمولا، کپواڑا، باندی پورہ، پلوامہ اور شوپیاں سمیت مختلف اضلاع میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

    مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔وادی میں تمام مساجد کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، اب تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے

    بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    ایک طرف بھارتی افواج کشمیریوں پر اس قدر مظالم کررہے ہیں کہ جن کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی جانے لگی ہے ، اس کے باوجود تمام تر بھارتی مظالم کے کشمیری مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہے، مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔

  • دل تو یہی کرتا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سے ملاقات نہ کروں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دل کی بات کہہ دی

    دل تو یہی کرتا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سے ملاقات نہ کروں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دل کی بات کہہ دی

    واشنگٹن:پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےدل کی بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی وجہ سے ں بھارتی ہم منصب سے ملنے کو دل نہیں کرتا ،پاکستان کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر چکا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر سیکیورٹی کونسل اور ہیومن رائٹس میں بھی زیر بحث آچکا ہے۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) مسئلہ کشمیر پر اپنا مؤقف لے چکی ہے۔ اب دنیا کو مسئلہ کشمیر بتانا ہے۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا خاموش رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 48 دن ہو چکے ہیں اور معمولات زندگی مفلوج ہے۔ ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خطے کے معاملات کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔

    وزیر اعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم ضرور ملاقات کرتے کشمیر یوں کا مقدمہ پیش کریں گے، اس کے علاوہ تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی، یہاں کے دو معروف تھینک ٹینکس ایشیا سوسائٹی اور کونسل فار فارن ریلیشنز سے بھی وزیراعظم ملیں گے اور تبادلہ خیال کریں گے۔