آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔
Tag: کشمیر

مقبوضہ کشمیر: کرفیو کا 40 واں روز، مظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے ، آج وزیراعظم عمران خان اظہار ہمدردی کے لیے کشمیر پہنچ رہے ہیں
مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 40 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے ، لوگ بھوک اور پیاس سے مررہے ہیں نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں
وادی میں مکلم لاک ڈاون ہے ، انٹرنیٹ ، موبائل سروس، اور حتی کی میڈیکل اسٹور بھی بند ہیں ، زخمی تڑپ رہے ہیں ان کو چپ کرانے والا نظر نہیں آرہا کوئی ، دوسری طرف وزیراعظم پاکستان آج آزاد کشمیر میں تشریف لا رہے ہیں اور کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کی کوششوں کی بھرپور مدد کا اعلان ایک بار پھر کریں گے

کشمیر کے حق میں قرارداد منظور ، دیار غیر میںبھی بھارت کو رسوائی
مانچسٹر: بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے ، انسانی حقوق کی پامالیاں بھارت کی عادت بن چکی ہے ، کشمیری تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں، اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے مانچسٹر کے اولڈھم کونسل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔
مانچسٹر سے ذرائع کے مطابق بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے اولڈھم کونسل کے اجلاس میں قرارداد پاکستانی نژاد برطانوی کونسلر زاہد چوہان نے پیش کی۔ اجلاس میں شریک تمام کونسلرز نے متفقہ طور پر قرار داد کے حق میں ووٹ دیا قرار داد میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بند اور مواصلاتی قدغن ختم کرنے اور تمام پابندیاں اتھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارت خطے میں کرفیو ختم کرکے عام شہریوں کے بنیادی حقوق بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔یہ برطانیہ کے کسی بھی کونسل میں کشمیر پر منظور ہونے والی پہلی قرارداد ہے۔

بھارتی فوج آزاد کشمیر میں کسی بھی وقت آپریشن کرسکتی ہے، بھارتی آرمی چیف نے دھمکی دے دی
نئی دہلی : بھارتی قیادت بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ زورآزمائی کررہی ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اسٹیٹس تبدیل کرنے کے بعد بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیاں بھی جاری ہیں،
پاکستان کو دھمکیاں دینے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے کہا ہے کہ بھارتی فوج آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ فوجی کارروائی کا فیصلہ سیاسی حکومت نے کرنا ہے۔
پاکستان کی طرف سے امن مذاکرات کے باوجود بھارت نے اس معاملے پر تحمل اور سمجھداری سے کام لینے کی بجائے آزاد کشمیر پر اپنی گندی نظر ڈالی جس پر بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی بیان دیا کہ پاکستان سے مذاکرات مقبوضہ پرنہیں آزاد کشمیر پرہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پہلے بھارتی وزیر داخلہ پاکستان کے خلاف جنگ کی دھمکی دی اور اب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی ایسی ہی ایک بڑھک مار دی ہے جس پر بھارتی میڈیا خوب بڑھ چڑھ کر کوریج کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کو پاکستان کے خلاف فضائی جارحیت بڑی مہنگی پڑی ، رواں سال فروری میں بھارتی ائرفورس نے مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانی پڑی تھی، بھارتی فضائیہ کے دو طیارے تباہ ہوئے تھے اور ابھی نندن نامی بھارتی پائلٹ کو بھی پاکستان نے گرفتار کر لیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن
آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…!
کشمیریوں سے اظہار ہمدردی ، وزیراعظم کی پکار ، حاضر ہوں گے فنکار ، مظفر جانے کا اعلان کردیا
کراچی: ہر پاکستانی کشمیری اور ہر کشمیر ی پاکستانی ہے ، اور پھر تاریخ نے یہ ثابت بھی کردیا ، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر مظفرآباد میں جلسے کا اعلان کیا جس پر شوبز فنکاروں نے لبیک کہہ دیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے اعلان کے بعد پاکستانی فنکاروں نے بھی مظفرآباد جانے کا اعلان کردیا ، اعلان کرنے والوں میں مایا علی، ہمایوں سعید، ساحر علی بگا اور کرکٹر شاہد آفریدی نے لبیک کہہ دیا۔ہمایوں سعید نے لکھا کہ میں مظفرآباد جلسے میں جاؤں گا، آئیں دنیا کو دکھادیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک کے بعد دوسرا غرض ہر پاکستانی فنکار، موسیقار اور گلوکار کی یہ خواہش ہے کہ وہ کشمیریوں کے لیے قربانی دے ، مظفر آباد جانے والے دیگر لوگوں میں موسیقار اور گلوکار ساحر علی بگا نے بھی جلسے میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے میں وزیراعظم کا ساتھ دیں،بوم بوم آفریدی نے لکھا کہ آئین مل کر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے میں وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دیں، میں جمعے کو مظفرآباد جارہا ہوں، آئیں اور ہمارا ساتھ دیں۔
ذرائع کے مطابق دوسری جانب معروف پاکستانی اداکارہ مایا علی نے بھی وزیراعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفرآباد جانے کا اعلان کیا ہے۔اداکارہ مایا علی نے کہا کہ ’آئیے اس جمعے کو اپنے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے کشمیریوں بھائی بہنوں کے لیے یکجہتی کا اظہار کریں۔

بھارت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پرواپس جائے، دنوں ملک مذاکرات کا راستہ اختیار کریں ، امریکی مسلم تنظیم کا مطالبہ
واشنگٹن: بھارت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے ، دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے حل نکالیں ، اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلمان تنظیم کے ایک گروہ کو بتایا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت دیگر امور پر براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی کونسل آف مسلم آرگنائزیشن (یو ایس سی ایم او) کے وفد نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے امور پاکستان ارون مسنگا سے رواں ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی اور انہیں بھارت کے 5 اگست کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
مسلم تنظیم نے بھارت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ پہلے 5 اگست سے پہلی والی کشمیر کی حیثیت بحال کرے ، انہوں نے امریکا سے جنوبی ایشیا میں 2 جوہری ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھی زور دیا۔

مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 35 واں دن بھارتی مظالم جاری،بھارت کےخلاف مزاحمت،بغاوت اورنفرت کےآثارنمایاں
مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 35 واں روز ہے، لوگوں کے رابطے معطل، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل جبری پابندیوں کے باوجود سری نگر اور دیگر شہروں میں احتجاج جاری ہے۔مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کر رہے ہیں جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پر آ رہی ہے۔
صرف سری نگر جہاں بھارت کا دعویٰ ہے کہ صورت حال ان کے کنٹرول میں ہے ، وہاں صورت حال یہ ہے کہ سکولوں اور اہم سرکاری دفاتر میں حاضری 50 فیصد سے کم ہے، نواحی علاقوں میں اس سے بھی کم ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کے 300 کے عملے میں سے صرف 30 ارکان حاضر ہو رہے ہیں، ان میں سے زیادہ تر ملازمین کے گھر دفتر کے قریب ہیں،اس کے باوجود دفاتر نہیں آرہے
ذرائع کےمطابق اس وقت مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔مقبوضہ وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیری بدستور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کشمیریوں کو اتر پردیش، لکھنو کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری خواتین کو آسانی سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، دیہاتی علاقوں میں خوف زیادہ ہے، آرمی کے بندے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو لوہے سے مارتے ہیں، گھر دور دور ہونے کی وجہ لوگ تشدد کی آواز بھی نہیں سن سکتے اور نا ہی ان کی مدد کے لیے کوئی آتا ہے کہ وہ آرمی کو گھروں کو نکالے
دوسری طرف بھارتی خبر ایجنسی دی وائر نے بھی مقبوضہ وادی کی اصل صورتحال بے نقاب کر دی، کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ شہریوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو رہا ہےکشمیری شہری کا کہنا تھا کہ بھارت جب چاہے دروازہ کھول کر ہمیں چارا ڈالتا ہے جب چاہے پھر بند کردیتا ہے، کشمیریوں کو 50 سال سے ترقی کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ن مظالم کے باوجود بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔کشمیری نوجوانوں نے بھارتی سامراج کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے مظاہرے کیے، ہزاروں نوجوانوں نے آزادی ریلیاں نکالیں جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے فائر کیے۔
کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے، طالبعلم سکول سے غیر حاضر ہیں۔ بھارتی فوج کے خلاف زبردست احتجاج کیا جائے گا۔5 اگست سے اب تک1250سے زائد چھوٹے بڑے مظاہرے ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، حکومتی اہلکار کے مطابق اب تک سیکڑوں افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہی

عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند
آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔
اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔
اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین
مجلس علماء کشمیر نے کشمیر جانے کا اعلان کردیا
اسلام آباد:مجلس علماء کشمیرکا ایک بھرپور اجلاس جامع مسجد اویس قرنی میں ہوا جس میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ 12ستمبربروزجمعرات دن 2 بجے پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ ہوگا اس کے بعد اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ ہوگا اور اقوام متحدہ کے دفتر کےسامنے یاداشت پیش کی جائے گی اور وہاں سے ان شاء اللہ علماء کی مشاورت اور حکم سے سیز فائرلائن کو توڑنے کے لئےکشمیر کے باڈر کی طرف مارچ کرنے کا اعلان ہو گا رہنماء مجلس علماء کشمیر قاری امجد علی اسلام نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ اجلاس کی صدارت مولانا عبدالوحید قاسمی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے کی اجلاس میں مولانا پیر شفیق الرحمن ,مولانا تجمل گیلانی, مولانا واجد ,مولانا آصف فاروقی, مولانا اشفاق ,مولانا مقبول, مفتی ابرار ,مفتی زبیر, مولانا نزاقت ,مولانا عنایت اللہ اور راولپنڈی اسلام آباد سے کثیر تعداد میں علماءنے شرکت کی.









