ایران نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے تہران سے رابطے شروع کردیے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے معاملے پر تہران سے رابطے میں ہیں مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد اطلاعا ت ملی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسد ارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہوسکے-
تاہم ایرانی میڈیا نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے،ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کردیا تھا، اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس گزرگاہ پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ایران کو اہم سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ دوسری جا نب امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے،امن کے دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدر تی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دیگر اہم تجارتی سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں چینی جہاز بھی شامل تھےیہ اجازت ”آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول“ پر معاہدے کے بعد دی گئی، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ”جنگ سے پہلے والی صورتحال“ میں واپس نہیں جائے گی، گزشتہ ماہ تہران نے اس راستے سے حاصل ہونے وا لی فیس کی پہلی آمدن موصول ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔
ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کیلئے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کرلیا ہے، جسے جلد متعارف کرایا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یا فریقین ہی سہولت حاصل کرسکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کیلئے باقاعدہ فیس بھی وصول کی جائے گی، نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کیلئے یہ راستہ بند رہے گا، ایران اس اصطلاح کو امریکی فوجی آپریشن کیلئے استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا۔
