Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔

  • روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    ماسکو: روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان،اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس درمیانے یا کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک تاریخی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بیان میں کہا کہ یوکرین اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے، تاہم روس یوکرین میں جوہری کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گا انھوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اور مغرب روس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

     

     

    واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج پانچواں روز ہے، اس دوران سیکڑوں شہری اور فوجی میزائل حملوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں، کیف، اڈیسہ اور خارکیف پر روسی افواج کی شیلنگ جاری ہے, پیر کو اوختیرکا میں ایک فوجی اڈے پر روسی توپ خانے کے حملے میں کم از کم 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کی جانب ایک بہت بڑے روسی فوجی قافلےکی پیش قدمی دیکھی گئی ہے، روسی فوجی قافلہ سڑک پر 40 میل تک پھیلا ہوا تھا، روسی فوجی کانوائے میں ٹینک اور دیگر جنگی گاڑیاں موجود تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔

  • یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    کیف :یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے دارالحکومت کیف کا دفاع مضبوط کرنے کیلئے فوجی کمانڈ تبدیل کردی۔اطلاعات یہ بھی ہیں‌ کہ ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے اور جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کی جانب تیزی سے پیشقدمی کی جارہی ہے اور ایسے میں یوکرین نے بھی دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج چھٹا روز ہے اور ایسے میں دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری ہے۔

    گزشتہ روز روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سینٹرل اسکوائر پر میزائل حملہ کیا جس میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

     

    اُدھر روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوختیرکا میں بھی حملے کیے اور ایک فوجی اڈہ تباہ کیا، اس حملے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ آج روسی فوج نے ایک اور یوکرینی شہر خیرسون کو بھی گھیرے میں لیکر حملہ کیا ہے اور اب تک وہاں جنگ جاری ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق خیرسون میں روسی فوجیوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کا بڑا کانوائے یوکرینی دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانوائے کی کیف کی جانب پیشقدمی کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر کی ذریعے بھی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب روس نے حملے کے بعد سے لوہانسک اور دونیستک کے علاوہ دارالحکومت کیف کے اردگرد کے علاقے اور خارکیف کے بھی کچھ مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔روس فوج کریمیا کی جانب سے بھی پیشقدمی کرتے ہوئے متعدد مقامات کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے:صدر زیلنسکی

    روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے:صدر زیلنسکی

    کیف:روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران بھی روس نے حملے جاری رکھے تاہم روس نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور یوکرین نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی خواہشات کا ظہار کیا ہے.

    یوکرینی صدر کے مطابق یوکرینی وفد کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے متعلق فیصلہ کریں گے، صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس صرف دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اپنا وقت ضائع نہ کرے کیونکہ یوکرین اس طرح کے حربوں کو نہیں مانتا۔

    دوسری جانب یوکرین پر متنازع بیان پر بلغاریہ کے وزیر دفاع اسٹیفن یانیف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، بلغاریہ کے وزیر دفاع نے یوکرین پر روسی کارروائی کو جنگ کہنے سے گریز کیا تھا، اسٹیفن یانیف نے یوکرین میں روسی کارروائی کو فوجی مداخلت قرار دیا ہے۔

     

    امریکی حکام کے مطابق اب تک روسی افواج نے 380 میزائل فائر کیے ہیں، یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر بھی قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔

    روس کے مرکزی بینک نے شرح سود میں بھی اضافہ کر دیا ہے، روسی مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود کو 9.5 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر رہے ہیں، فیصلہ روبل کی قدر میں کمی اور افراطِ زر جیسے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹانے کے لیے اٹھایا گیا۔ماسکو نے کمپنیوں کو غیر ملکی کرنسی سے ہونے والی آمدن کا80 فیصد فروخت کرنے کا بھی حکم دیا ہے،

     

     

     

    ادھر اطلاعات کے مطابق جنگ میں شدت آگئی ہے اور یوکرینی فوجی دستوں نے روسی افواج کی پیش قدمی روک دی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یوکرینی عوام اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانےکے لیے خطرات کی پرواہ کیئے بغیر کھلے عام پھررہےہیں

     

     

    دوسری طرف روس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجی دستے دوسرے بڑے شہر میں داخل ہوچکے ہیں اور شہر میں گشت کررہے ہیں

  • یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پر حملے کے بعد روس میں ہا لی وڈ فلموں کی ریلیز کو روک دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    جلد ہی عالمی سطح پر ریلیز ہونے والی دیگر بڑی فلمیں بشمول وارنر برادرز کی سپر ہیرو فلم دی بیٹ مین کی ریلیز بھی روک دی گئی ہے۔

    وارنر برادرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین کے انسانی بحران کے پیش نظر وارنر میڈیا نے دی بیٹ مین کی روس میں ریلیز روک دی ہے، ہم صورتحال پر نظر رکھیں گے اور توقع ہے کہ اس سانحے کا فوری اور پرامن حل نکلے گا۔

    ہا لی وڈ اسٹوڈیو ڈزنی نے بھی روس میں اپنی تمام فلموں کی ریلیز روک دی ہے ڈزنی کے مطابق یوکرین پر بلاجواز حملے اور المناک انسانی بحران کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

    ڈزنی کا جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم مستقبل کے کاروباری فیصلے صورتحال کے مطابق کریں گے، اس وقت تک ابھرتے پناہ گزینوں کے بحران کے پیش نظر ہم نے اپنے این جی او شراکت داروں کے ساتھ مل کر فوری امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے پر کام شروع کردیا ہے ڈزنی کی انیمیٹڈ فلم ٹرننگ ریڈ 10 مارچ کو ریلیز ہونا تھی جسے اب روک دیا گیا ہے-

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    ڈزنی اور وارنر برادرز کے بعد سونی پکچرز نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی فلموں میں روس میں ریلیز نہیں کرے گی اس اسٹوڈیو کی سپر ہیرو فلم موربیوس 24 مارچ کو روس میں ریلیز ہونا تھی۔

    سونی پکچرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین میں جاری فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیریقینی صورتحال اور انسانی بحران کے پیش نطر ہم نے اپنی فلموں کی روس میں ریلیز روک دی ہے۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    دوسری جانب نیٹ فلیکس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے روس کے ریاستی پروپگینڈا کو نشر کرنے سے انکار کردیا ہے جو روس میں یکم مارچ سے نافذ ہونے والے قانون کے مطابق کرنا تھا اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ صارفین والی اسٹریمنگ سروسز کو روس کے 20 بڑے ٹی وی چینلز کو بھی دکھانا تھا۔

    نیٹ فلیکس کے ایک ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ہمارا اپنی سروس میں ان چینلز کو شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

  • یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس کے یوکرین پر حملوں کے دوران ایک بھارتی طالب علم بھی ہلاک ہو گیا ہے

    بھارتی حکام نے بھارتی طالب علم کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خارکیف میں ایک بھارتی طالب کی موت ہوئی ہے ،طالب علم حملوں کے دوران گولہ باری سے ہلاک ہوا، بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ طالب علم کے اہلخانہ سے رابطے میں ہیں

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد کئی ممالک کے شہری یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں ،پاکستان بھی اپنے شہریوں کو یوکرین سے نکال رہا ہے، بھارت کے بھی شہری یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں، ایسے میں جنگ کے دوران یوکرین میں بھارتی باشندوں نے مودی سرکار سے مدد مانگی ہے اور کہا ہے کہ انہیں فوری نکالا جائے انکی زندگیوں کو خطرہ ہے، یوکرین کے شہر خار کیف میں بنکر کے اندر پھنسے بھارتی طالب علم اسیوین حسین جس کا تعلق کیرالہ سے ہے نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی صورتحال انتہائی خراب ہے انہیں خوراک اور ادویات بھی بڑی مشکل سے مل رہی ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کو ترجیح دی جا رہی ہے یہاں بنکر میں درجہ حرارت اتنا نیچے چلا گیا ہے جیسے برف جم گئی ہو پچھلے 48 گھنٹوں میں ہمارے پاس روٹی کا صرف ایک ٹکڑا بچا ہے کھانے اور پانی کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے یوکرین انتظامیہ کی جانب سے دی جا رہی مدد میں صرف یوکرین کے لوگوں پر توجہ دی جا رہی ہے

    بھارتی طالب علم کا مزید کہنا تھا کہ یہاں کے حالات بہت خراب ہیں بنکر میں بہت رش ہے۔ ہمارے پاس چار پانچ بستروں کی چادریں تھیں ہم ریلوے ٹریک کے قریب اور پلیٹ فارم پر انہیں چادروں پر سو رہے ہیں ہماری جیکٹس خراب ہوگئی ہیں بہت سردی ہے سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر کیا کروں

    یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد بھارتی طالب علم بے یارو مدد گار ہیں، بار بار ویڈیو پیغامات بھیج رہے ہیں لیکن مودی سرکار دعوے تو کر رہی ہے عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی، گزشتہ روز کیف میں پھنسے طالب علموں کو انخلاء کے لیے ریلوے اسٹیشن پہنچنے کا حکم دیا گیا جہاں طالب علموں کے یوکرین سے انخلاء کے لیے خصوصی ٹرینیں موجود تھیں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بھارتی طالب علموں نے انخلاء کے وقت یوکرینی فورسز کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی اور تشدد کا انکشاف کیا رپورٹ کے مطابق متعدد طالب علموں کا کہنا ہے کہ انہیں پولینڈ کی سرحد پریوکرینی گارڈز کی جانب سے نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ سلاخوں سے ان پر تشدد کیا اور بال کھینچ کھینچ کر انہیں سرحد عبور کرنے سے روکا گیا

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے پھنسے ہونے اور انکی جانب سے دہائیاں دینے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی مودی سرکار پر برس پڑے ہیں، راہول نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں فوجیوں کو لوگوں کو گھسیٹتے اور مارتے پیٹتے دیکھا جاسکتا ہے راہول گاندھی نے طالب علموں پر ہونے والے تشدد پر افسوس کا اظہار کیا اور بھارتی حکومت سے جلد اپنے شہریوں کے یوکرین سے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا

    دوسری جانب مودی سرکار کی کوشش ہے کہ طلبا کو جلد سے جلد نکالا جائے، یوکرین میں پاکستانی طلبا کی تعداد زیادہ ہے، یوکرین میں پھنسے بھارتی طلبا کے والدین ،عزیز و اقارب بھی پریشان ہیں، ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مودی سرکار نے چار وزراء کو یوکرین کے سرحدی ممالک میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ طلبا کا محفوظ انخلا کیا جا سکے

    علاوہ ازیں یوکرین میں بھارتی بھی پھنسے ہوئے ہیں، بھارت اپنے شہریوں کو نکال رہا ہے تا ہم اب خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے یوکرین سے شہریوں کو نکالنے کے لئے بھارتی فضائیہ سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن گنگا کے تحت یوکرین سےبھارتی شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لئے بھارتی ایئر فورس سے تعاون مانگا ہے، اور کہا ہے کہ ایئر فورس یقینی بنائے کہ تمام شہریوں کو نکالا جائے، اور انہیں امداد بھی دی جائے، بھارتی فضائیہ کی جانب سے آج ہی بھارتی شہریوں کو نکالنے کے لئے آپریشن شروع کئے جانے کا امکان ہے

    قبل ازیں یوکرین میں چینی سفارت خانے کے مطابق، چین نے پیر کو یوکرین سے اپنے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، ایران نے بھی اپنے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، پولینڈ سے یوکرین میں مقیم ایرانی طلباء کو لے کر پہلا طیارہ آج منگل کی صبح امام خمینی ایئرپورٹ پہنچا ہے، یوکرین میں مقیم 100 طلبا اورایرانی شہریوں کو پولینڈ کے راستے وطن واپس لایا گیا ،ارنا کے مطابق وزارت خارجہ اور یوکرین اور پڑوسی ممالک میں ایرانی سفارتخانوں کی جانب سے ہم وطنوں کو کم سے کم مشکل کے ساتھ وطن واپس لانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کا کہنا ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے یوکرین جنگ کا شکار ہوا یوکرین امریکہ کے پیدا کردہ بحرانوں کا شکار بنا ،ثابت ہوگیا کہ امریکہ پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے یوکرین تنازعہ کا حل مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے،یوکرین کی صورتحال سے دو اہم سبق ملے،امریکہ اور یورپ پر بھروسہ کرنے والوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کی حمایت حقیقی نہیں،آج کا یوکرین کل کا افغانستان ہے

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

    روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

  • روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

    روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

    روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

    روس اور یوکرین کے مابین مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا تا ہم جنگ بندی نہ ہو سکی

    مذاکرات کا پہلا دور ختم ہونے کے بعد روس کے یوکرین پر حملوں میں تیزی آئی ہے، روس نے کیف اورخار کیف پر حملے کئے ہیں، مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد ہونے کا امکان ہے، یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے خارکیف کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں ،مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روسی توپ خانے نے رہائشی اضلاد پر بمباری کی ،یہ بمباری اس وقت کی گئی جب لوگ سبزی اور راشن لئنے گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے

    روسی فوج کی جانب سے یوکرین پر حملوں میں شدت ،تمام شہروں میں سائرن بجا دیئے گئے ، یوکرینی ریجنل گورنر کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شہر اوختیرکا پر روسی گولہ باری سے 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہین،روسی حملے میں یوکرین کا فوجی یونٹ تباہ ہو گیا،امریکی حکام کے مطابق اب تک روسی افواج نے 380 میزائل فائر کیے ہیں یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر بھی قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے

    یوکرینی سفیرمارکیان چیچک کا کہنا ہے کہ روس نے گزشتہ 6روز سے یوکرین پر جنگ مسلط کر رکھی ہے، روسی افواج یوکرین کے ہر علاقے میں گولہ باری کررہی ہیں، روسی فوج کے حملوں میں اب تک 300سے زائد شہری ہلاک ہوئے روسی فوج کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 16بچے بھی شامل تھے جب ملک حالت جنگ میں ہوں تو بطور سفیر خطاب مشکل ہے،یوکرین بھرمیں روسی فوج کے حملے جاری ہیں 28فروری تک متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں عالمی عدالت انصاف میں روسی مظالم کے خلاف درخواست جمع کرا دی تمام ممالک جنہوں نے ہماری سالمیت کی حمایت کی ان کے مشکو ر ہیں، یوکرین پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے،گزشتہ برس یوکرین نے پاکستان کو 1.3 ملین ٹن گندم فراہم کی، یوکرینی حکومت پاکستانی طلبہ کے انخلا کے لیے راہ ہموار کررہی ہے یوکرائن پرروسی حملہ کی ریڈ لائن واضح ہے،امید ہے پاکستان بھی روسی جارحیت کے خلاف اہم اقدامات کرے گا،

    یوکرین میں پاکستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ ایک ہزار131طلبہ کوبارڈر پر منتقل کر چکے ہیں،ہم پاکستانیوں کے ساتھ ان کے غیر پاکستانی ساتھیوں کو بھی مدد فراہم کررہےہیں،یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے،ایک ہزار 131طلبہ کو بارڈر پر منتقل کرچکےہیں،یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے،بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جو یوکرین میں ہی رہنا چاہتے ہیں، چیک پوسٹوں پر سخت نگرانی ہورہی ہے،یوکرین حالت جنگ میں ہے ،ہر شہر پر بمباری ہورہی ہے،رومانیہ،ہنگری اورپولینڈ سے ہماری بات ہوئی شن جن ویزہ کی وجہ سے پاکستانی طلبہ پولینڈ ہی جانے کو ترجیح دے رہےہیں

    دوسری جانب یوکرین میں بھارتی بھی پھنسے ہوئے ہیں، بھارت اپنے شہریوں کو نکال رہا ہے تا ہم اب خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے یوکرین سے شہریوں کو نکالنے کے لئے بھارتی فضائیہ سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن گنگا کے تحت یوکرین سےبھارتی شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لئے بھارتی ایئر فورس سے تعاون مانگا ہے، اور کہا ہے کہ ایئر فورس یقینی بنائے کہ تمام شہریوں کو نکالا جائے، اور انہیں امداد بھی دی جائے، بھارتی فضائیہ کی جانب سے آج ہی بھارتی شہریوں کو نکالنے کے لئے آپریشن شروع کئے جانے کا امکان ہے

    بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی صورت حال کی جلد از جلد تحقیقات شروع کرے گی ،استغاثہ کریم خان نے کہا ’’میں آج یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے یوکرین کی صورت حال کی جلد از جلد تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے میں نے یوکرین کی صورت حال کی ابتدائی تحقیقات کا جائزہ لیا اور تصدیق کی ہے کہ تحقیقات شروع کرنے کے لئے مناسب وقت ہے صورتحال کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرین میں مبینہ جنگ جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے استغاثہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی تمام دستیاب شواہد کا پتہ لگانے کے لیے ایک ٹیم کو کام سونپا ہے۔ اب تحقیقات شروع کرنے کے لئے عدالت کے پری ٹرائل چیمبر سے اتھارٹی کا مطالبہ کررہے ہیں

    یوکرین پر متنازع بیان پر بلغاریہ کے وزیر دفاع اسٹیفن یانیف کو ہدے سے ہٹا دیا گیا بلغاریہ کے وزیر دفاع نے یوکرین پر روسی کارروائی کو جنگ کہنے سے گریز کیا تھا اسٹیفن یانیف نے یوکرین میں روسی کارروائی کو فوجی مداخلت قرار دیا ہے

    روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے اب تک یوکرین کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے فائرنگ اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

  • جنگ کے بعد یوکرین کیلئے امداد میں بٹ کوائن کی بھر مار

    جنگ کے بعد یوکرین کیلئے امداد میں بٹ کوائن کی بھر مار

    یوکرین: یوکرین پر روسی جارحیت کے بعد اب تک اس کی حکومت، افواج اور غیرسرکاری امدادی اداروں کو کرپٹوکرنسی کی صورت میں خطیر رقم عطیہ کی جا چکی ہے-

    باغی ٹی وی : بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کی تجزیہ کار کمپنی ایلپٹک کے مطابق یوکرینی افراد کی مدد کے لیے ایک کروڑ 37 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم دی گئی ہے جس میں سب سےزیادہ بٹ کوائن شامل ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ رقم دینے والے اکثر افراد اب تک نامعلوم اور گمنام ہیں۔

    کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    اب تک ان کرنسیوں کے 4 ہزار عطیات دیئے گئے ہیں دوسری جانب ایک نامعلوم شخص یا ادارے نے ایک این جی او کو یکمشت 30 لاکھ ڈالر کی بٹ کوائن عطیہ کئے ہیں۔

    اس سے قبل ہفتے کی دوپہر کی یوکرینی حکومت نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر عطیات کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بٹ کوائن، ایتھریئم اور یو ایس ٹی ڈی کی صورت میں کرپٹوکرنسی قبول کی جاسکتی ہے اس کے بعد اگلے 8 گھنٹے میں 54 لاکھ ڈالر کرپٹوکرنسی جمع ہوگئی جو2 والٹ میں ڈالی گئی تھی۔

    ادھر یوکرینی فوج نے بھی عطیات کا اعلان کیا ہےلیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ رقم کس طرح استعمال کی جائےگی تاہم پیٹریون نے یوکرینی افواج کی مدد کرنے والی ایک نجی تنظیم کی رقم جمع کرنے کی اپیل مسترد کرکے ان کا اکاؤنٹ بلاک کردیا ہے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یوکرینی ہمدردی کی آڑ میں بہت سے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین میں اپنے فوجی بھیجے جانےکے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ممالک یوکرین کی فوجی امداد کررہے ہیں الجزیرہ کے مطابق یوکرینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہےکہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے 350 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری پولینڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

    عسکری قوت کے لحاظ سے دونوں ممالک کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ روس دنیا کی دوسری بڑی عسکری قوت ہونے کے باعث یوکرین سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ہے، ایسی صورتحال میں بہت سے ممالک ہیں جو روس کے خلاف دفاع کے لیے یوکرین کو اسلحہ اور دیگر عسکری سازو سامان فراہم کررہے ہیں یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

  • یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین میں جنگی کارروائیوں کے بعد فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی۔

    باغی ٹی وی :روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    اب فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے نےہرقسم کے مقابلوں میں روس کے حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ فیفا اور دی یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) نے مشترکہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کسی بھی قسم کےفٹبال مقابلوں میں شرکت نہیں کرسکے گا۔


    دوسری جانب روس کی قومی فٹبال ٹیم نے 24 مارچ کو قطر 2022 ورلڈکپ کے پلے آف مرحلے کے لیے پولینڈ کے ساتھ کھیلنا تھا تاہم روسی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے اب تک کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    اس کے علاہ یوئیفا نے روسی توانائی کمپنی گیزپروم کے ساتھ اسپانسر شپ کا معاہدہ بھی منسوخ کردیا ہے، جو 2012 سے جاری تھا جس کی قیمت تقریباً 40 ملین یورو فی سیزن بتائی جارہی ہے۔

    اس سے قبل یوئیفا چیمپئن شپ 2021-22 کے فائنل کی میزبانی روس سے واپس لے لی گئی تھی جبکہ یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ نے روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کے خلاف روس سے فٹ بال ورلڈکپ کا کوالیفائر میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

    جبکہ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز فیفا کی گورننگ باڈی نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد متعدد پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئےکہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کی قومی فٹبال ٹیم روس کے بجائےفٹبال یونین آف روس(Football Union of Russia )کے طور پر میچز کھیلے گی جبکہ یہ میچز شائقین کے بغیر نیوٹرل مقام پر کھیلیں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں فیفا نے بین الاقوامی میچز میں روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی اور کہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    جبکہ انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن (آئی جے ایف) نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اعزازی صدارت کا عہدہ بھی چھین لیا ہے انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد ولادیمیر پیوٹن کو فیڈریشن کی اعزازی صدارت اور سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر بلیک بیلٹ جوڈو ماسٹر ہیں اور 2019 میں بھی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ سیشن میں حصہ لیا تھا۔