Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    کیف:ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

     

     

    ہنا مالیار نے اپنی پوسٹ میں یوکرین کی جانب سے روس کے پہنچائے جانے والے نقصانات کی فہرست بھی جاری کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے۔

     

     

     

    ان کے مطابق یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں۔

    دوسری طرف روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے یوکرین کے جنوبی شہر خیرسن اور جنوب مشرقی شہر برڈیانسک کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    دوسری جانب خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    چیئرمین اولے سائنی گوبوف نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کی افواج دشمن کو ختم کر رہی ہیں۔ روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ بیلا روس میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے تیار لیکن بیلا روس میں نہیں۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا کہ روسی افواج نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے

  • روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

    اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ تیل ڈپو سے اٹھنے والے دھوئیں سے ماحولیاتی تباہی پیدا ہو سکتی ہے اور شہریوں کو زہریلی دھوئیں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا ،روس کی جانب سے مورچہ سنبھالنے والے خونخوار کمانڈو دستہ کا یوکرین کے میزائیل حملے میں صفایا ہونے کی خبر ہے۔

    یہ کمانڈو چیچنیا کے صدرر قادروف رمضان نے بھیجے تھے جن کا نشانہ یوکرین کے صدر اور ان کا خاندان تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے خونخوار چیچن اسپیشل فورسز کے ایک بڑے گروپ کی ہلاکت نے بڑی حد تک روس کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

    اسکواڈرن کو جو اپنے وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بدنام تھا 56 ٹینکوں کے قافلے کے ساتھ یوکرین کے میزائل نے تباہ کر دیا گیا۔

    امریکا نے افغانستان کے ساتھ لین دین کی اجازت دے دی،نئے قواعد جاری

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا تھا کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک مارکیٹ سے پھیلا ،تحقیق

  • یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا:ماسکوغم میں ڈوب گیا

    کیف: یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت ماراگیا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین جنگ کے پانچویں دن روس کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے ،روس کی جانب سے مورچہ سنبھالنے والے خونخوار کمانڈو دستہ کا یوکرین کے میزائیل حملے میں صفایا ہونے کی خبر ہے۔

     

    یہ کمانڈو چیچنیا کے صدرر قادروف رمضان نے بھیجے تھے جن کا نشانہ یوکرین کے صدر اور ان کا خاندان تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے خونخوار چیچن اسپیشل فورسز کے ایک بڑے گروپ کی ہلاکت نے بڑی حد تک روس کے کھیل کو خراب کردیا ہے۔

    اسکواڈرن کو جو اپنے وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بدنام تھا 56 ٹینکوں کے قافلے کے ساتھ یوکرین کے میزائل نے تباہ کر دیا گیا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ہلاک ہوئے ہیں – لیکن امکان ہے کہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ جائے۔ مٹ جانے والوں میں چیچن جنرل میگومڈ توشیف بھی شامل تھا۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کے کمانڈر تھے۔

    خونخوار دستے کی ہلاکتیں یوکرین کو فتح کرنے کی ولادیمیر پوتن کی رکی ہوئی کوششوں کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔

    چیچن جنرل میگومڈ توشائیف کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ وہ 141 ویں موٹرائزڈ نیشنل گارڈ بریگیڈ کا کمانڈر تھا – چیچن ریاست کے سربراہ رمضان قادروف کی ایلیٹ فورس کا اہم کمانڈر بھی تھا۔ یہاں تک کہ خیال کیا جاتا ہے کہ قادروف نے اپنی موت سے پہلے یوکرین کے جنگل میں اپنے تباہ شدہ اسکواڈرن کا دورہ کیا تھا۔ پوتن نے اس گروپ کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لیے روانہ کیا تھا، یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ جنگجوؤں کی سفاکانہ ساکھ محصور یوکرینیوں کے دلوں میں مزید خوف پیدا کرے گی۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا۔


    لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی ثابت قدمی اور بہادری کےسبب عالمی ہیرو بن گئے ہیں – جب کہ ان کے متوقع قاتلوں کی مبینہ ہلاکتوں نے چیچنیا کے لیے بڑی رسوائی اور بڑے غم کو جنم دیا ہے۔ پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یوکرین کو فتح کرنے کی اپنی رکی ہوئی کوششوں سے ناراض ہوتے جا رہے ہیں، اور انہوں نے دنوں میں کوئی عوامی خطاب جاری نہیں کیا۔ان کی آگ اور انفرادی قوت یوکرین سے بہت زیادہ ہے اور یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ روس بالآخر اپنے پڑوسی کو فتح کر لے گا۔ لیکن چھوٹی قوم کی طرف سے لگائے جانے والے حیرت انگیز طور پر موثر دفاع نے روسی فوجی وقار کو بری طرح داغدار کر دیا ہے، کریملن ابھی بھی کیف کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے اور اپنی حکومت قائم کرنے کے اپنے مقصد سے دور ہے۔

  • یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے

    واشنگٹن : یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے لگے،اطلاعات ہیں کہ روس کو یوکرین پر حملے کے بعد سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرنا پڑا ہے۔ جہاں جنگ کا چوتھا دن شروع ہونے کے باوجود قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔

    ان حقائق کی تصدیق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تازہ بیان سے ہوجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    کل حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    دفاعی ذرائع کےمطابق یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

    حملے چوتھے دن کیئف کے قریب واقع تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ سنیچر کو یوکرین کی جانب سے بیلا روس میں مذاکرات کی پیش کش رد کیے جانے کے بعد روس کی وزارت دفاع نے فوج کو یوکرین پر ہر طرف سے حملہ کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے حکم دیا تھا۔ دووسری جانب روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    امریکہ اور لندن سے لے کر دیگر یورپی ممالک میں مظاہرین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے روس سے خون خرابہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مظاہرے کیے جبکہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی تقریباً ایک ہزار شہریوں نے احتجاج کیا۔

    دوسری جانب یوکرینی وفد سے ملاقات کے لیے روسی وفد بیلاروس پہنچ گیا ہے۔ترجمان روسی صدر دفتر ’کریملن‘ کا کہنا ہے کہ روسی وفد میں وزارت خارجہ، دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں۔کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، مذاکرات کے لیے یوکرینی حکام کے منتظر ہیں۔

    روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں۔اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں پوتن کے فوجی ٹرکوں کو 1.41 ملین آبادی والے شہر میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روس کی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین میں ہے۔ فوجیوں کو خارکیف سے پیدل مارچ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، ایک بہت ہی ڈرامائی کلپ کے ساتھ جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسیوں کو ایک سڑک پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بندوقیں چلانے اور فائر کرنے سے پہلے یوکرین والوں نے ان پر گولی چلا دی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک اور کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ فوج کی ایک گاڑی روسیوں کی ہے، اسے یوکرینیوں نے اپنے شہر کا دفاع کرنے کے لیے نذر آتش کیا تھا

    ادھر یورپی ممالک نے روسی طیاروں کے لیے فضائی حدود بندکرنےکا فیصلہ کر لیا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کئی روسی بینکوں کو مرکزی بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    جنیوا :یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ روس کو یوکرائن پر بلا جواز چڑھائی کے ردعمل میں اُسے اقوام متحدہ میں حاصل اہم اختیارات واپس لے لیے جائیں۔

    یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے مطالبہ کیا ہے کہ روس کو اقوام متحدہ میں حاصل حقِ رائے دہی کا اختیار چھین لیا جائے۔ صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرائن میں روس کی مجرمانہ کارروائیاں نسل کشی کی زمرے میں آتی ہیں۔

    واضح رہے کہ روس 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے ہی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور مستقل رکن کے طور پر اُسے کسی بھی وجہ سے قراردادوں کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

    جمعہ کے روز روس نے اپنے اسی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں روس کی جارحیت کی مذمت اور یوکرائن سے انخلا کے مطالبے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔

    اس کونسل کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد مستقبل میں تنازعات سے بچنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اعزازی صدر اور سفیر کی حیثیت سے معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ صدر پیوٹن جوڈو بلیک بیلٹ ہیں۔

    حال ہی میں میں کھیلوں کے حوالے سے بھی روس کے خلاف کئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ بھی انہی پابندیوں کا تسلسل ہے۔رواں برس ستمبر میں سوچی میں منعقد ہونے والی روسی فارمولا ون گراں پری کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

     

    رواں ہفتے کے شروع میں اعلان کیا گیا تھا کہ چیمپئنز لیگ 2022ء کا فائنل روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کی بجائے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کھیلا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    کیف: روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا ہے کہ روس یافواج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک گیس پائ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جعمرات سے حملے کے بعد تین بچوں سمیت 198 شہری ہلاک ہوئےہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا  روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا

    کیف :یوکرین کی رکن پارلیمنٹ کا روس کیخلاف میدان جنگ میں لڑنے کے اعلان نے نقشہ ہی بدل دیا ،اطلاعات ہیں‌کہ روس کے حملوں کے بعد یوکرین کی خاتون رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے کل ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا اور اس بہادر خاتون کے اعلان نے یوکرین کے بچوں ، بوڑھوں اور مردو خواتین سب کو اتنا حوصلہ دیا ہےکہ ہرکوئی اپنے وطن کےلیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہےجس نے روس کےلیے بہت ہی مشکل صورت حال پیدا کردی ہے اور یہی وجہ ہےکہ روس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے

     

    کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رکن پارلیمنٹ کیرا روڈک نے جنگی ہتھیار تھامے تصویر شیئر کی تھی اور ساتھ ہی لکھا کہ میں کلاشنکوف چلانا اور ہتھیار اٹھانے مشق کر رہی ہوں۔

     

     

    کیرا روڈک نے مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے تک میرے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یوکرین کی خواتین کی جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مٹی کی اسی طرح حفاظت کریں گی جس طرح ہمارے مرد کر رہے ہیں۔

     

    ایک دوست کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے لکھا کہ مزاحمتی دستے جمع ہو رہے ہیں، میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر آج سخت رات کے لیے تیار ہو رہی ہوں۔کیرا روڈک نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم روسی دشمن فوجیوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ روس کو یوکرین کی عوام کی طرف سے سخت مزاحمت کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ،یہ بھی خبریں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے آرہی ہیں کہ یوکرین نے روس کے3500 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔

     

    https://twitter.com/JoseFox_/status/1497611162908831752?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1497611162908831752%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fukraine-parliament-member-kira-rudik%2F

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردئیے ہیں۔
    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

  • یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    نیویارک :اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یوکرین میں نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے لیکن ملک میں فوجی کاروائی کی وجہ سے صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اور امداد فراہم کرنا مشکل ہورہا ہے، دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔ جن میں سے نصف پولینڈ اور بہت سے ہنگری، مالڈووا، رومانیہ اور اس سے آگے جا چکے ہیں۔فلیپو گرانڈی کا ٹویٹفلیپو گرانڈی کا ٹویٹاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کو توقع ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو 40 لاکھ تک یوکرینی باشندے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہمسایہ ممالک پولینڈ، مالڈووا، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ بیلاروس کی طرف بھی جا رہے ہیں جہاں سے کچھ روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں۔اس کے پاس ملک کے لحاظ سے تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں تھیں، لیکن اب تک سب سے بڑی تعداد پولینڈ پہنچ رہی ہے،

    جہاں حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ یوکرینی پہلے ہی کام کرنے کے لیے آباد ہو چکے ہیں، جو 2014 میں یوکرین میں روس کی پہلی دراندازی کی وجہ سے وہاں سے پناہ لیے تھے اور مواقع کی تلاش میں تھے۔پولینڈ کی حکومت نے ہفتے کی صبح کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 100,000 سے زیادہ یوکرینی پولش-یوکرینی سرحد عبور کر چکے ہیں۔پولش براڈکاسٹر TVN24 کی رپورٹ کے مطابق، میڈیکا بارڈر کراسنگ پر پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے گاڑیوں کی ایک قطار یوکرین میں 15 کلومیٹر (9 میل) تک پھیلی ہوئی تھی