Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرین پر حملہ: میٹا نے  روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    یوکرین پر حملہ: میٹا نے روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    میٹا (فیس بک) نے یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس کے سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس ضمن میں فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ ہم روس کے سرکاری میڈیا کو دنیا میں ہر جگہ بھی اپنے پلیٹ فارم پر اشتہار چلانے سے روک رہے ہیں فیس بک روسی سرکاری میڈیا پر لیبل لگانا جاری رکھے گا۔

    میٹا حکام کا کہنا تھا کہ لیبل لگانے کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہوگا کہ روس کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کیا جانے والا مواد کہاں سے آ رہا ہے۔

    میٹا حکام نے کہا ہے کہ کل روسی حکام نے ہمیں آزادانہ فیکٹ چیکنگ اور چار روسی سرکاری میڈیا اداروں کے مواد پر لیبل لگانے سے روکا۔ جس پر ہم نے یہ احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔

    اس سے قبل روسی میڈیا ریگولیٹرزنے میٹا تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا تھا روس کی جانب سے امریکی کمپنی میٹا پر سنسرشپ اور روسی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔

    واضح رہے کہ روسی فوج نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے روسی فوج یوکرین کی پارلیمنٹ سے محض 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ حملے کے پہلے روز ہونے والی ہلاکتیں 137 تک پہنچ گئیں جن میں یوکرین کے فوجی بھی شامل ہیں۔

    حملے کے بعد امریکا برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں-

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں-

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے-

  • روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے  باتھ روم میں پناہ لے لی

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دو سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

    یوکرینی وزارت صحت کا کہنا ہے کی روسی فوج کے حملے میں اب تک 198 یوکرینی ہلاک ہو چکے ہیں،روسی فوج کے حملوں میں ایک ہزار200 کے قریب افراد زخمی ہوئے ،روسی فوج کے حملوں میں 33 بچے بھی زخمی ہوئے ہیں ،

    کیف میں جنگ کی سی کیفیت ہے، شہری خوف میں مبتلا ہیں، کیف چھوڑ رہے ہیں، شہریوں کو محفوظ مقامات کی تلاش ہے، ایسے میں کیف کی رہائشی ایک بچے نے جنگ سے بچاؤ کے لئے باتھ روم میں پناہ لے لیتی ہے، بچہ گھر کے باتھ روم میں گھس جاتا ہے اور اپنی ضروری چیزیں بھی باتھ روم میں جا کر رکھ لیتا ہے،بچے نے خود کو باتھ روم میں محفوظ سمجھا،

    خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق باتھ روم میں پناہ لینے والی بچے کا نام اولگا ہے اور وہ شہر کے مشرقی علاقے میں رہتی ہے،بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اسکا چھوٹا بیٹا جنگ کے آغاز کے بعد سے باتھ روم میں گھس گیا ہم گھر چھوڑنا چاہتے تھے لیکن بیٹا نہیں چھوڑ رہا، پناہ گاہیں بھی غیر محفوظ ہو سکتی ہیں اسی لئے گھر میں ہیں اور اس دوران میرے بیٹے نے باتھ روم میں پناہ لی ہے، وہ یہیں سوتا ہے، میں اسکے پاس بیٹھتی ہوں، باتیں کرتی ہوں پیار کرتی ہوں تاکہ جنگ کا خوف کم ہو

    واضح رہے کہ روس کے حملے کے بعد یوکرین میں تیسرے روز بھی لڑائی جاری ہے اور اب لڑائی دارالحکومت کیف کی گلیوں تک پہنچ گئی ہے

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

  • یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    جنگ ہے تو کیا ہوا؟ یوکرینی جوڑے نے حملے کے دوران ہی شادی کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین پر روس حملہ آور ہو چکا ہے، جنگ گلی محلوں تک پہنچ چکی ہے، یوکرین کے صدر عالمی دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہماری مدد کے، یوکرین کے باسی ملک چھوڑ رہے ہیں اور دوسرے ملکوں کو جا رہے ہیں ایسے میں یوکرینی دارالحکومت کیف میں ایک جوڑے نے روسی حملوں کے دوران ہی شادی کر لی

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ یارینا اریوا اور اس کے 24 سالہ شوہر سوویا توسلاو کی شادی مئی 2022 میں ہونا تھی جس کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں اورشادی کے مقام کا انتخاب بھی ہو چکا تھا تاہم جب روس کے صدر کے احکامات جاری ہوئے اور دونوں نے اپنے ملک پر بمباری اور حملوں کی آوازیں سننا شروع کیں تو فیصلہ کیا کہ ابھی اسی وقت شادی کرلینی چاہیے تا کہ ایک ساتھ مل کر اس مشکل کا سامنا کریں

    21 سالہ یارینا نے بتایا کہ جب آپ کی زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ ہو اور آپ اس طرح حملوں کی آوازیں سنیں جو چاروں طرف سے آرہی ہوں تو یہ انتہائی خوفناک ہے سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا تھا ہمارا ارادہ تھا کہ 6 مئی کو ایک دوسرے سے دریا کنارے شادی کریں گے لیکن روسی صدر کے جنگ کے اعلان کے بعد سب کچھ منٹوں میں بدل گیا۔ ہم نے شادی کے فوری بعد فیصلہ کیا کہ ملک کو اس مشکل صورتحال میں ہماری ضرورت ہے مستقبل میں شاید ہم ساتھ رہیں نا رہیں لیکن اپنے ملک کے لیے جان دیتے ہوئے ہم ساتھ مریں گے ہم ملک کے دفاع کی کوششوں میں شامل ہونے کے لیے مقامی علاقائی دفاعی مرکز پہنچےہمیں اس ملک کی حفاظت کرنی ہے، ہمیں ان لوگوں کی حفاظت کرنی ہے جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور جس زمین پر ہم رہتے ہیں۔یارینا نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم یہ لوگ ہمیں کون سا فریضہ سونپیں گے، ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں صرف ہتھیار دیں اور ہم جا کر لڑیں شاید ہم کسی اور چیز میں مدد کریں گے اس کا فیصلہ حکومتی لوگ کریں گے۔

    واضح رہے کہ روس کے حملے کے بعد یوکرین میں تیسرے روز بھی لڑائی جاری ہے اور اب لڑائی دارالحکومت کیف کی گلیوں تک پہنچ گئی ہے

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

  • یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرین کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے،

    روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں

    امریکہ نے بھی یوکرینی صدر کو ملک سے نکلنے کی پیشکش کی جس کو یوکرینی صدر نے مسترد کر دیا اور کہا کہ میں دارالحکومت ہی میں رہوں گا کیونکہ لڑائی یہاں ہو رہی ہے مجھے گولہ بارود کی ضرورت ہے سواری کی نہیں

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    https://login.baaghitv.com/oittefaq-sabiq-ukarani-sadar-apni-bandoq-ksath-nikla-aayte/

  • امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جوں جوں روسی افواج یوکرین کے اندراپنی فتوحات جاری رکھے ہوئےہیں ایسے ایسے امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی نیندیں بھی حرام ہوگئی ہیں ، جہاں ایک طرف یوکرین کو جنگ میں جھونکنے والا امریکہ کئی دنوں سے زبانی مدد کا وعدہ کررہا تھا ، وہاں اب امریکہ نے عملی طور پرجنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس اسٹاف کے ذریعے ایک میمو جاری کیا جس میں انہوں نے کانگریس سے 350 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوجی امداد بہت ضروری اور فی الفور ملنی چاہیے ۔امریکی صدر کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مشرقی یورپی ملک میں رات بھر جاری افراتفری کے درمیان وہ یوکرین کو فوری فوجی مدد فراہم کرنے کے خیال پر قائم ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کچھ اس سے پہلے کچھ ایسے بھی فیصلے کیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے تنازعہ میں مداخلت کا فیصلہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ یوکرین کے ملک کو کس قسم کی فوجی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والا پورا میمو ہے: "آئین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قوانین کے تحت صدر کے طور پر مجھے حاصل کردہ اختیار کی طرف سے،

    یاد رہے کہ پہلے تو جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کے فوجی دستے یوکرین کے ملک میں داخل نہیں ہوں گے۔ تاہم رات بھر کی صورتحال اس کے ہاتھ کو مختلف قسم کی فوجی امداد کی پیشکش پر مجبور کر رہی ہےاور یہ امکان ہے کہ امریکی فوج یوکرین کے صدر اور وزیراعظم کی زندگیوں کو بچانے کےلیے کوئی نہ کوئی آپریشن کریں‌، لیکن دوسری طرف امریکہ کو روس کی طرف سے سخت ردعمل کا بھی ڈر ہے،

    یاد رہے کہ کانگریس یوکرین کو فوجی سازوسامان، مواصلاتی آلات اور دوسری قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری رقم فراہم کر سکتی ہے جس کی یوکرین کو بطور ملک روس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن اس حملے کے خلاف یہ واضح کارروائی کیسے کریں گے جو وہ مسلسل دو دن سے کر رہے ہیں۔

  • میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی ملٹری نے جمعرات کو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری کے دھارے سے یکسر مختلف موقف اپنایا ہے۔ عالمی برادری نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی نہ صرف مذمت کی ہے ، بلکہ ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اقدام کیا ہے۔

    وائس آف امریکہ کی برمی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، میانمار کی فوجی کونسل کے ترجمان جنرل زا من تن نے فوجی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے اقدام کی وجوہ بیان کی ہیں۔

    بقول ان کے، ”اول یہ کہ روس نے میانمار کی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے، اسی لیے،میرے خیال میں ہمارے لیے یہی اقدام درست ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کو بتایا جائے کہ روس ایک عالمی طاقت ہے”۔

    فوجی انقلاب کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے گزشتہ سال جون میں روس کا دورہ کیا تھا، اور تب سے برما اور روس کی فوج کے مابین مضبوط مراسم قائم ہیں۔ روس اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یکم فروری 2021ء کے انقلاب کے بعد برما کی ملٹری کونسل کی حمایت کی تھی، اس بغاوت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پسند راہنما آنگ سان سوچی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    تب سے، اقوام متحدہ اور برما کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین، ملٹری کونسل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس اس مطالبے کو نظرانداز کرتار ہا ہے۔

  • پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس       کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی درخواست قبول، پولینڈ نے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنے کا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی درخواست پر پولینڈ نے پاکستانیوں کے لیے بارڈر کرانسنگ پوائنٹس کھول دیے۔

    یوکرین میں محصور پاکستانی طلبہ کو نکالنے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے 35 طلبہ پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خرکیف میں سفارت خانے میں موجود طلبہ کو ٹرین کے ذریعے پولینڈ بھیجا گیا ہے۔ خرکیف میں موجود مزید 65 پاکستانیوں کو کل پولینڈ بھیجا جائے گا۔

    پولینڈ نے ابتدا میں ایک کراسنگ پوائنٹ سے پیدل داخلے کی اجازت دی تھی تاہم اب پاکستان کی درخواست پر 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ملک کا سفارت خانہ 25 فروری 2022 سے ترنوپیل میں مکمل طور پر فعال ہے اور یوکرین میں موجود طلبہ کے انخلا کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

    ترنوپیل میں فوکل پرسن کی تفصیلات یہ ہیں: ڈاکٹر شہزاد نجم (موبائل فون نمبر+380632288874 +380979335992) ۔دارالحکومت کیف میں بھی سفارت خانے کے فوکل پرسن (موبائل فون نمبر +380681734727) پر پاکستانی طلبا کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرینیں کام کر رہی ہیں اور خارکیو سے لویو/ ترنوپیل تک ٹکٹ دستیاب ہیں۔ جن شہروں میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے وہاں تمام طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اعزازی تعلیمی مشیر کو طلبا کو ترنوپیل لانے کا کام سونپا گیا ہے۔

    دوسری جانب قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک اور یوکرین میں پاکستانی سفیر کے درمیان رابطہ ہوا جس میں یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی محفوظ مقام پر منتقلی اور وطن واپسی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی طالب علم یوکرین کے شہر ٹرنوہل میں یکجا ہوں گے، ٹرنوہول میں سفارتخانہ زمینی راستے سے پولینڈ تمام طلبا کو منتقل کرے گا۔اس کے بعد پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ طلبہ کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے کورونا پاندیاں معطل کردی ہیں، پاکستانی شہری 15 روز میں پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کو نہ پہنچنے کےحوالے سے بعض ریاست مخالف میڈیا چینلز کی خبریں دم توڑ گئی ہیں ، حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں

  • روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین نے سلامتی کونسل میں یوکرین پر حملے سے متعلق مذمتی قرار داد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔چین کے علاوہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جانے کی ضرورت ہے۔انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ادھر یورپی یونین کے بعد کینیڈا اور برطانیہ نے بھی روس کے صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    دوسری طرف یوکرین پر روس کی فوجی کارروائیوں کے خلاف 24 فروری کو میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے 54 قصبوں اور شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ اس روز سب سے بڑا مظاہرہ ماسکو کے مرکزی چوک پشکن اسکوائر پر ہوا جس میں کئی ہزار افراد شریک ہوئے۔اس موقع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ماسکو سٹی کورٹ نے 25 فروری کو کہا کہ تقریباً 200 مظاہرین پر غیر منظور شدہ عوامی تقریبات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    آرایف ای آر ایل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی معروف روسی راہنما مارینا لیٹوینووچ پر 25 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف ماسکو میں حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر ریلی منظم کرنے کی کوشش پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    لیٹوینووچ کے وکیل فیوڈور سروش نے بتایا کہ ماسکو کی ایک ضلعی عدالت نے ان کی مؤکل پر 30 ہزار روبل یعنی 350 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

    لیٹوینووچ کو ایک روز قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے روسیوں سے یوکرین پر حملے کے خلاف اپنے شہروں اور قصبوں میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی ۔

    ایک اور خبر کے مطابق 250 روسی اسکالرز نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں یوکرین میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینکڑوں روسی صحافیوں، گلوکاروں، مصنفین اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات نے جنگ کی مذمت میں بیانات جاری کیے ہیں۔

    روس سے روسی اور یوکرینی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار "نووایاگازیٹا” میں 25 فروری کو یہ وضاحت شائع کی گئی ہے کہ "اخبار کا عملہ یوکرینی کو دشمن کی زبان نہیں سمجھتا”۔

    اخبار کے چیف ایڈیٹر، دمتری موراتوف نے، جو نوبیل انعام یافتہ ہیں، اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ "صرف روسی شہریوں کی جنگ مخالف تحریک ہی اس کرہ ارض پر انسانی ہلاکتوں کو بچا سکتی ہے۔”روس کی ایک معروف گلوکارہ ویلری میلادزے نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ میں جنگ بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ” آج جو کچھ ہوا،وہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔

    برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی 25 فروری کی اشاعت میں روس کے اندر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پولیس نے ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔

    اخبار کا کہنا ہےکہ پولیس نے جمعرات کی شام تک روس کے 53 شہروں میں غیرقانونی مظاہروں کو منتشر کرتے ہوئے کم ازکم 1702 گرفتاریاں کیں تھیں۔زیادہ تر گرفتاریاں ماسکو اور روس کے ایک اور بڑے شہر سینٹ پیٹربرگ میں کی گئیں۔جمعرات کو ایک آزاد ادارے لیواڈا سینٹر کے تحت کرائے جانے والے سروے کے مطابق یوکرین پر کریملن کے حملے کو صرف 45 فی صد روسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

    ماسکو کے کارنیگی سینٹر کے سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر بونوف کہتے ہیں کہ ” پوٹن سڑکوں پر عوامی منظوری سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاست دان نہیں جنہیں عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ وہ قومی تاریخ کی کتابوں کی ایک ایسی شخصیت جیسے ہیں جو صرف مستقبل کے مورخین اور قارئین کی منظوری کا خیال کرتے ہیں”

  • یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    پیرس : یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے روسی صدراور وزیرخارجہ کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں جنگی طیاروں کے حملے، ٹینکوں کی گولا باری کا سلسلہ جاری ہے۔خبرایجنسی کے مطابق امریکا، برطانیہ اور یورپ نے روس پر مالی پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن اب یورپی یونین نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے ولادیمیر پیوٹن اور وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں پیوٹن اورلاوروف سے وابستہ اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے لٹویا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ یورپی یونین روس پر پابندیوں کا ایک اور منصوبہ تیار کر رہا ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اب جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تو یوکرین کے آس پاس موجود ممالک میں بھی عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی۔ان ہی میں ایک ملک فن لینڈ بھی ہے جو شمالی یورپ کا ملک ہے جو یورپی یونین کا بھی حصہ ہے اور اس کی سرحدیں، روس، ناروے اور سوئیڈن کے ساتھ ملتی ہیں۔

    یوکرین پر حملے کے بعد فن لینڈ کی خاتون وزیراعظم سنا مارین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے ملک کی سلامتی پر بات آئی تو وہ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔

    پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سنا مارین نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فن لینڈ نیٹو کی رکنیت کیلئے درخواست دینے کو تیار ہے۔

    فن لینڈ کی وزیراعظم کے اس بیان پر روس نے سخت ردعمل دیا ہے کیوں کہ اس کی سرحد فن لینڈ کے ساتھ ملتی ہے اور وہ نیٹو کی وسعت کیخلاف ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کیخلاف قرار دیتا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے فن لینڈ کی وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تڑی لگائی ہے کہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فن لینڈ کی حکومت کے عسکری طورپر غیر جانب دار رہنے کی پالیسی کا احترام کرتے ہیں اور اسے شمالی یورپ میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ایک ایک عنصر بھی سمجھتے ہیں البتہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔‘

  • روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    لندن : روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا،اطلاعات کے مطابق کھیلوں کی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے روس اور بیلاروس میں ہونے والے تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دے ہے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے کل جمعہ کو دنیا بھر کے ممالک کی کھیلوں کی فیڈریشنز پر زور دیا کہ وہ روس اور بیلاروس میں منعقد ہونے والے تمام ایونٹس کو منسوخ یا منتقل کریں، اور ممالک کے جھنڈوں اور قومی ترانے کا استعمال بند کریں۔

    انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے یہ درخواست چیمپیئنز لیگ کے فائنل کو سینٹ پیٹرزبرگ سے پیرس کے مضافاتی علاقے میں منتقل کرنے اور اسکیئنگ اور فارمولا ون کی گورننگ باڈی کے روس سے آنے والی ریسوں کو معطل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    والی بال اور شوٹنگ دونوں کی عالمی چیمپئن شپ روس میں ہونے والی ہے۔ ماسکو میں 24 مارچ کو پولینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائنگ پلے آف میچ بھی شیڈول ہے۔

    آئی او سی نے کہا ہے کہ اسپورٹس کی گورننگ باڈیز کو روسی اور بیلاروس کی حکومتوں کی طرف سے اولمپک معاہدے کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھنا چاہیے اور کھلاڑیوں کی حفاظت اور حفاظت کو مکمل ترجیح دینی چاہیے۔