Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    تل ابیب:اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیان جاری کیاگیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین پسند کریں تو اسرائیل ان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کےلیے تیار ہے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہےکہ وہ تیار ہیں کہ یہ دونوں ملک اسرائیل پراپنا قاضی مان کراپنے مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس آئے ، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یوکرین تو تیار ہے لیکن روس نے اسرائیلی دعوت کو ڈھونگ رجانے ایک کھیل قرار دیا ہے

     

    https://twitter.com/DavidADaoud/status/1497278072638394375?t=C2uhCJjbw1OuYAYgXlQiLw&s=19

    یاد رہے کہ چند دن قبل گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر روس کی جانب سے تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی مشن نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم مقبوضہ علاقےگولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے تل ابیب کے اعلان کردہ منصوبوں پر فکر مند ہیں۔

    اقوام متحدہ میں روس کے مستقل رکن کے مشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 1949 کے جنیوا کنونشن کی شقوں سے متصادم ہے۔ٹویٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا علاقہ جو شام کا حصہ ہے اس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:     مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل: مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملےکے خلاف برطانیہ کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے اور پابندیوں‌کے ساتھ ساتھ اب ماضی میں کئے گئے معاہدے بھی منسوخ کیے جارہے ہیں‌، اس سلسلے میں‌ مانچسٹر یونائیٹڈ نے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ساتھ 40 ملین پاؤنڈ کے بڑے اسپانسر شپ معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں ہے اور منگل کو ٹائٹن ایئرویز کے ساتھ یونائیٹڈ کے میڈرڈ کے لیے پرواز کے بعد سامنے آیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک ترجمان نے کہا: ‘یوکرین میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، ہم نے ایروفلوٹ کے اسپانسرشپ کے حقوق واپس لے لیے ہیں۔’ہم دنیا بھر میں اپنےچاہنے والوں‌ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔’

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کا ایک دیرینہ تجارتی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار 2013 میں روسی کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن اب اس نے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

    ایروفلوٹ کے ساتھ یونائیٹڈ کے معاہدے کی تجدید 2017 میں £40 ملین میں ہوئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہونے والی تھی۔ ایروفلوٹ کی قومی ایئر لائن ہے اور 52 ممالک میں 146 مقامات پر پرواز کرتی ہے۔

    یونائیٹڈ ستاروں کو پوری دنیا میں اڑانے کے علاوہ، ایروفلوٹ نے کلب کو سفری اور لاجسٹک مشورے بھی فراہم کیے لیکن یونائیٹڈ اب ایک نئے فلائٹ پارٹنر کے لیے مارکیٹ میں ہے، جس پر قطر ایئرویز زیر غور ہے۔یونائیٹڈ نے ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی نو سالہ رفاقت سے مجموعی طور پر £100m کے علاقے میں سرمایہ کاری کی۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ نے پہلے روسی سرکاری ایئرلائن ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی پرواز کا تبادلہ کیا تھا اور اب یوکرین پر حملے کی روشنی میں اپنا سپانسرشپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد یونائیٹڈ کے حصص کی قیمت گر گئی اور یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایروفلوٹ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے گرا ہے۔جمعرات تک، دو ہفتوں میں حصص کی قیمت $14.08 فی حصص سے گر کر $13.10 ہوگئی، جو کہ سات فیصد کی کمی ہے۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    کیف:روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ ،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کا پلڑہ بھاری ہے ، دوسری طرف یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت پر اکسانے والے اب جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ، روس اور یوکرین کے درمیان اس قدر کشیدگی کیوں پیدا ہوئی ، جنگ کے اسباب کیا ہیں اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا، اس حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں‌،

    روس اور یوکرین کے اس جغرافیائی تنازع کی جڑیں گذشتہ سو سالہ تاریخ میں ہیں۔

    آج مغرب کے ساتھ مل کر روس کو مشکل میں ڈالتا یوکرین 1920 سے 1991 تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔

    نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کا عروج ڈگمگانے لگا تو یوکرین ان پہلے ممالک میں سے تھا، جس نے 16 جولائی 1990 کو یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تقریباً ایک سال بعد 24 اگست 1991 کو یوکرین نے خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔

    یوکرین نے آزادی تو حاصل کرلی لیکن وہاں موجود 17 فیصد روسی النسل آبادی سمیت روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر پریشر گروپس اور مغرب کی حمایت کرنے والے گروہوں میں تنازعات کا آغاز ہو گیا۔

    تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

    ادھر عالمی سطح پر اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔

    روس کی طرف یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔

    کرائمیا کا کنٹرول سنبھالنے اور مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے تناظر میں یوکرین اور امریکہ اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو درست اقدام قرار دیتے ہیں۔ مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔

  • دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے      میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    کیف : دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت تھے،دوستوں نے مروا دیا:یوکرینی وزیراعظم کا اظہار افسوس بار بار تڑپانے لگا ، یوکرین 30 سال قبل اپنی ایٹمی قوت سے دستبرداری کو اب یاد کر رہا ہے، یوکرین نے مغرب اور روس کی بات مان کر اگر یہ عمل نہ کیا ہوتا تو آج روس اسے اس طرح دھمکا نہیں سکتا تھا۔

    یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ تین دہائیوں قبل یوکرین نے مغرب اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کے نتیجے میں اور روس کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی کے بدلے میں اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ان ضمانتوں کی حیثیت ان کاغذ کے ٹکڑوں جتنی بھی نہیں جن پر انہیں تحریر کیا گیا تھا۔

    اسی سابقہ تجربے کے پیش نظر انہوں نے اپنے لوگوں اور دنیا کو خبردار کیا کہ یوکرین کو دوبارہ ایسا بڑا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جس کا روس دوبارہ احترام نہیں کرے گا۔اس کی بجائے انہوں نے تجویز کیا کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی حقیقی سلامتی کی ضمانت ہوگی۔

    نتیجتاً آج روس یوکرین پر حملہ آور ہے اور یوکرینی صدر ساری یورپی دنیا میں پاگلوں کی طرح مدد کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے. مگر کوئی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا.

    خیال رہےکہ یوکرین 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھا اور سوویت یونین سے علیحدگی کے وقت یوکرین کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود تھے جو کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس وقت تیسرے نمبر پر تھے، یہ ہتھیار سوویت یونین کی جانب سے وہاں چھوڑے گئے تھے تاہم آزادی کے بعد یوکرین نے خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکا بڑا فیصلہ کیا۔

    دستاویزات کے مطابق 1991 میں سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے وقت، یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1,900 اسٹریٹجک وار ہیڈز، 176 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اور 44 اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ 1996 تک، یوکرین نے اقتصادی امداد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے تمام جوہری وار ہیڈز روس کو واپس کر دیے تھے، اور دسمبر 1994 میں، یوکرین 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ریاستی فریق بن گیا۔ یوکرین میں آخری اسٹریٹجک نیوکلیئر ڈیلیوری گاڑی کو 1991 کے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (START) کے تحت 2001 میں ختم کردیا گیا تھا۔ یوکرین سے ہتھیاروں اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے 1992 میں لزبن پروٹوکول کے ساتھ شروع ہونے والے سیاسی تدبیروں اور سفارتی کاموں کے برسوں لگے۔

    جزوی طور پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں، یوکرین کی آزادی سے پہلے کی تحریک نے NPT میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر شامل ہونے کی کوششوں کی حمایت کی۔ 16 جولائی 1990 کو اپنی خودمختاری کے اعلان کے ساتھ، یوکرین نے "جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا

    سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ، آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ نے 30 دسمبر 1991 کو منسک معاہدے پر دستخط کیے، اس بات پر اتفاق کیا کہ روسی حکومت کو تمام جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم، جب تک یہ ہتھیار بیلاروس، یوکرین اور قازقستان میں موجود ہیں، ان ممالک کی حکومتوں کو ان کے استعمال کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسلحے کو ختم کرنے کا ہدف 1994 کے آخر تک مقرر کیا گیا تھا۔

    یوکرین نے 23 مئی 1992 کو لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ پروٹوکول میں بیلاروس، قازقستان اور یوکرین کے جوہری ہتھیار روس کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تمام ریاستوں کو START اور NPT میں شامل ہونا تھا۔ تاہم، یوکرین کے اندر، START کی توثیق، NPT میں شمولیت، یا مجموعی طور پر جوہری تخفیف کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یوکرین جلد سے جلد NPT پر عمل کرے، لیکن اس نے ملک کو اس پر عمل کرنے کے لیے سات سال تک کا وقت دیا۔

    1992 کے اواخر تک، یوکرین کی پارلیمنٹ زیادہ جوہری حامی خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ یوکرین کم از کم عارضی جوہری ہتھیاروں کا حقدار ہے۔ شاید امید کے ساتھ، امریکی حکومت نے یوکرین کو تباہی کے لیے 175 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس کے بجائے، یوکرین کی حکومت نے جوہری قوتوں کے انتظامی انتظام پر عمل درآمد شروع کر دیا اور وار ہیڈز کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

    اپریل 1993 کے آخر میں، 162 یوکرائنی سیاست دانوں نے START کی توثیق کے لیے 13 پیشگی شرائط شامل کرنے کے لیے ایک بیان پر دستخط کیے، جس سے توثیق کے عمل میں مایوسی ہوئی۔ پیشگی شرائط کے لیے روس اور امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی، سیکورٹی کے لیے غیر ملکی امداد اور جوہری مواد کے لیے معاوضہ درکار تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈیلیوری گاڑیوں کا صرف 36 فیصد اور اپنے وار ہیڈز کا 42 فیصد ختم کر دے گا، باقی یوکرین کے کنٹرول میں چھوڑ دے گا۔ روس اور امریکہ نے ان مطالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یوکرین اس سے باز نہیں آیا۔ مئی 1993 میں، امریکہ نے کہا کہ اگر یوکرین START کی توثیق کرتا ہے، تو واشنگٹن مزید مالی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرائنی جوہری تخفیف کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوئی۔

    1993 میسنڈرا ایکارڈز

    یوکرائنی اور روسی حکام نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے پروٹوکول، طریقہ کار اور معاوضے کی شرائط سمیت معاہدوں کے ایک سیٹ پر پہنچے۔ تاہم، دونوں فریق حتمی دستاویز پر متفق نہیں ہو سکے، اور سربراہی اجلاس بالآخر ناکام ہو گیا۔

    1994 سہ فریقی بیان

    میسنڈرا ایکارڈز نے بالآخر کامیاب سہ فریقی مذاکرات کا مرحلہ طے کیا۔ جیسا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی، تینوں ممالک نے 14 جنوری 1994 کو سہ فریقی بیان پر دستخط کیے۔ یوکرین نے امریکہ اور روس کی طرف سے اقتصادی مدد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے میں مکمل تخفیف اسلحہ، بشمول تزویراتی ہتھیاروں کا عہد کیا۔ یوکرین نے اپنے جوہری وار ہیڈز روس کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور میزائلوں، بمباروں اور جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں امریکی مدد قبول کی۔ یوکرین کے وار ہیڈز کو روس میں ختم کر دیا جائے گا، اور یوکرین کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تجارتی قیمت کا معاوضہ ملے گا۔ یوکرین نے 3 فروری 1994 کو اپنی ابتدائی شرائط کو منسوخ کرتے ہوئے START کی توثیق کی، لیکن وہ مزید حفاظتی یقین دہانیوں کے بغیر NPT میں شامل نہیں ہوگا۔

    1994 سیکورٹی کی یقین دہانیوں پر بوڈاپیسٹ میمورنڈم

    یوکرین کے ساتھ سلامتی کے وعدوں کو مستحکم کرنے کے لیے، امریکہ، روس، اور برطانیہ نے 5 دسمبر 1994 کو بڈاپسٹ میمورنڈم آن سیکیورٹی ایشورنس پر دستخط کیے تھے۔ ہیلسنکی معاہدے کے اصولوں کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ، یادداشت میں سلامتی کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔ یوکرین کی سرزمین یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال۔ ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ بیلاروس اور قازقستان کے لیے بھی متوازی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے جواب میں، یوکرین نے 5 دسمبر 1994 کو ایک غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے طور پر NPT سے باضابطہ طور پر الحاق کیا تھا۔ اس اقدام نے START کی توثیق کی حتمی شرط کو پورا کیا، اور اسی دن، پانچ START ریاستوں کے فریقین نے توثیق کے آلات کا تبادلہ کیا، معاہدے کو نافذ کرنا۔

    روس اور امریکہ کا 2009 کا مشترکہ اعلامیہ

    روس اور امریکہ نے 2009 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1994 کے بوڈاپیسٹ میمورنڈم میں کی گئی سیکورٹی کی یقین دہانیاں 2009 میں START کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی درست رہیں گی۔

    یاد رہے کہ 1986 میں یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکےکے بعد سے وہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے تھے اور 4000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اب بھی خالی پڑا ہے، یوکرین کی حکومت کا کہنا ہےکہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے۔

    دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہاں مسلسل 10 دن تک آگ لگی رہی، تابکار دھوئیں کی گرد کے بادل ہوا کے ذریعے پورے مشرقی یورپ میں پھیل گئے تھے، اس دوران امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے والے 134 کارکنوں میں تابکاری سے متعلق بیماری تشخیص ہوئی تھی جن میں سے 28 کارکنوں کی موت اس واقعے کے چند ماہ کے اندر ہی واقع ہو گئی جب کہ مزید 19افراد بھی بعد ازاں چل بسے

  • یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،بلاول

    یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،بلاول

    یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے یوکرین میں محصور پاکستانیوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے

    بلاول زرداری نے یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں اور طلبا کی بحفاظت وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کو بحفاظت واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،پیپلز پارٹی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے، اپنے شہریوں کو بے یارومددگار چھوڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے،

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما، سینیٹر شیری رحمان نے حکومت سے یوکرین میں پھنسے 500 طلبہ سمیت پاکستانیوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے ،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین تنازعہ کے نتیجے میں پاکستانی شہری اور طلبہ یوکرین میں پھنس گئے ہیں،500سے زائد طلبہ سمیت دیگر ہزاروں پاکستانی یوکرین سے انخلا کے منتظر ہیں، یوکرین نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں،یوکرین میں پاکستانی سفارت خانہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی معاونت کرے، حکومت یوکرین میں پاکستانی شہریوں اور طلبہ کی جلد اور باحفاظت واپسی کو یقینی بنائے

    ن لیگی نائب صدر مریم نواز نے یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبہ سے متعلق تشویش کا اظہارکیا ہے، مریم نواز کا کہنا تھا کہ کوئی ہے جو یوکرین میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کی آواز سن سکتاہو؟ یوکرین میں سینکڑوں پاکستانی طالب علم وہاں سے نکالے جانے کے منتظر ہیں،

    ن لیگی رہنما ،رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ روس کا یوکرین پر حملہ قابل مزمت، ایک دن میں 137 ہلاکتیں قابل افسوس ہیں۔۔۔پاکستانی طلبہ جو اس وقت یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں کیا ان کاکوئی پرسان حال ہے یا نیازی کا زور بس فوٹو سیشن پر ہے؟؟ نیازی کو پیوٹن کے ساتھ فوٹو سیشن کا پتا ہے، کیا یہ پتا نہیں یوکرین میں پاکستانی طلبا اس وقت مدد کے منتظر ہیں؟؟ سلیکٹڈ ہی سہی نیازی ملک کا وزیراعظم ہے، کیا اس کی ذمہ داری نہیں ان طلبا کو باحفاظت اپنے وطن واپس لائے؟؟

    وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا ہے کہ کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ ہیں ،ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیف میں ہمارا سفارتخانہ تھا جس کو منتقل کردیا کیف سے سفارتخانہ منتقلی کرنے کا مقصد اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے،کیف میں موجود پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہوں

    دوسری جانب پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی طلبہ سے پہلے دن سے تعاون کررہا تھا،پہلے دن سے کہہ رہے تھے ملک چھوڑ دیں لیکن مجبوری کی وجہ سے نہیں گئے،ہم اب بھی پاکستانی طلبہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں،تمام طلبہ ٹرین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ترنوپل آجائیں یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے ٹرین کا ٹکٹ فری ہوگا پاکستانی شہری اورطلبہ رابطہ کرکے بتائیں کہاں آرہے ہیں، لویف اورترنوپل میں سہولت مراکز قائم ہیں سہولت مراکز سے پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ بھیجیں گے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے،پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ کی ٹکٹ لے کر وہاں سے پاکستان جاسکتے ہیں،یوکرین سے اپنے گھر واپسی کےلیے مدد کریں گے،طلبہ کو یوکرین سے بحفاظت نکالنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

  • روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    نیٹو کی مدد سے مایوس ہو کر یوکرینی صدرنے روس کو مذاکرات کی دعوت دے دی
    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یورپ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی،یورپ روس کے خلاف اپنا دفاع کس طرح کرے گا؟ یوکرینی فوج نے خود اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے،غیرجانبدار ملک ہونے کا اعلان کرنے کے معاملے پر روس سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں،

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے موت گلے لگا لی، ہتھیارنہیں ڈالے، ہلاک فوجیوں کوہیرو آف یوکرین کے اعزازسے نوازا جائے گا،

    ترجمان روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے بیلاروس کے دارالحکومت منسک وفد بھیجنے کیلئے تیار ہیں، روس نے نیٹو ممالک پر جوابی پابندیاں لگانےکا فیصلہ کیا ہے کریملن کے مطابق نیٹوممالک کی پابندیوں کاجواب پابندیوں سے دیں گے،پابندیوں کاجواب دینے کے لیے مشاورت جاری ہے،

    ترک صدر نے نیٹواوریورپی یونین پرتنقید کی ہے اور کہا کہ یورپی یونین اورنیٹویوکرین پرمتفقہ موقف اپنانےمیں ناکام رہے،نیٹو کوجنگ روکنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تھے،

    قبل ازیں چینی صدر کا روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے چینی صدر نے مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پرزور دیا ہے ،روسی صدر نے چینی صدر کو بتایا کہ وہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اعلیٰ سطح مذاکرات چاہتے ہیں ،روسی صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو نےروس کے جائزسیکیورٹی مطالبات کونظرانداز کیا،نیٹو نے مشرقی یورپ میں فوج تعینات کرکے چیلنج کیا،

    قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے ساتھ ‘نارمل’ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا ،روس کے ساتھ چین کے تعلقات صدر شی جن پنگ کے دور میں مضبوط ہوئے ہیں جنہوں نے رواں ماہ بیجنگ میںروسی صدر سے ملاقات کی۔ چین واحد بڑی حکومت ہے جس نے روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے روس کے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق امن کے دروازے بند نہیں کریں گے اور بات چیت ٕ کے ذریعے مسئلے کو حل کریں گے

    دریں اثنا، یوکرین میں چین کے سفارت خانے نے وہاں کے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ گھروں میں رہیں اور اگر سفر کرنے کی ضرورت ہو تو اپنی گاڑی کے اندر یا اس پر چینی جھنڈا لگا دیں۔ بیجنگ نے یوکرین کے تنازعے کا ذمہ دار واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ٹھہرایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں،ہم یوکرین پر نازیوں کی حکومت نہیں چاہتے،روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج کے ہتھیار ڈالتے ہی روس کیف کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہم کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں، جیسے ہی یوکرین کی مسلح افواج ہمارے صدر کی کال کا جواب دیں، مزاحمت بند کر دیں اور اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ کوئی بھی ان پر حملہ یا ظلم نہیں کرے گا،انہوں نے روسی حکومت کے پہلے بیانات کا اعادہ کیا کہ ماسکو یوکرین کو غیر فوجی بنانا چاہتا ہے۔ کوئی بھی یوکرین پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ روسی افواج نے رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچانے کے وسیع ثبوت کے باوجود شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں کریملن کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ ماسکو یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائی کے حوالے سے کیف کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے

    روسی وزارت دفاع نے کارروائیوں کی نئی تفصیلات جاری کردیں ،روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین کی 118 عسکری تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں،ایئر فیلڈ، 13 میزائل سسٹم، 5لڑاکا طیارے تباہ کیے،ایک یوکرینی ہیلی کاپٹراور 5 ڈرونز مارگرائے،یوکرینی فوج کے 150 اہلکارہتھیارڈال چکے ہیں،

    عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے روسی سفارت خانے کا دورہ کیا پوپ فرانسس نے روسی سفیر سے جنگ پر تشویش کا اظہار کیا

    قبل ازیں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے ،یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ کیف میں پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے روس بیلاروس میں گومیل ایئر فیلڈ کو کیف پر حملے کیلئے استعمال کر رہا ہے،

    روس نے برطانوی ایئرلائنز پر پابندی عائد کردی ،روسی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ روسی فضائی حدود کا استعمال نہیں کر سکے گا،برطانیہ اپنی پروازوں کوروس کے ہوائی اڈوں پر نہیں اتارےگا،اقدام روسی جہازوں کی پروازوں پر پابندی کے بعد کیا گیا ہے

    یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطہ ہوا ہے،امریکہ نے کیف پر روس کے حملوں کے بارے میں اطلاع دی،یوکرین کو پہلے سے زیادہ شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے، روس پر پابندیوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے،

    یوکرین نے ٹوئٹر سے روس پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے ،یوکرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روس کے لیے کوئی جگہ نہیں، یوکرینیوں کو قتل کرنے والوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے،

    یوکرینی وزیر خارجہ دمتروکلیبا کا کہنا ہے کہ کیف کے حالات دوسری جنگِ عظیم جیسے ہوگئے ہیں، روس حملے کے بعد کیف کی صورتحال دوسری عالمی جنگ میں دیکھی گئی تھی 1941میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے دارالحکومت پر حملہ کیا تھا،نازی جرمنی نے جب کیف پر حملہ کیا تب ایسے ہی حالات تھے،ماضی میں ان حملوں کو شکست دی اور اب وہ اسے بھی شکست دیں گے

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

  • یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل
    روس کی جانب سے یوکرین پر حملوں کے بعد یوکرین میں موجود پاکستانی طلبا پھنس گئے ہیں

    پاکستانی طلبا نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں وہاں سے نکالا جائے،دوسری جانب پاکستان نے کیف سے پاکستانی سفارتخانے کو ٹرنوپل شہر میں منتقل کر دیا ہے، یوکرین میں پاکستان کے سفیر نویل کھوکھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ٹرنوپل میں آج سے مکمل فعال ہے یوکرین سے نکلنے کیلئے پاکستانی طلبہ ٹرنوپل آئیں یوکرین میں خرکیف سے ٹرنوپل کیلئے ٹرین سروس موجود ہے ٹرانسپورٹ نہیں مل رہی تو سفارتخانے کے تعلیمی مشیر سے خدمات لیں جن طلباء کو ٹرانسپورٹ نہیں مل رہی انہیں تعلیمی مشیر ٹرنوپل پہنچائیں گے کیف اور ٹرنوپل میں طلباء کی مدد کیلئے دو فوکل پرسن تعینات کئے گئے ہیں ۔نویل کھوکھر نے کیف میں رابطہ کیلئے 380681734727ہ اور ٹرنوپل میں رابطے کیلئے 380632288874 اور 380979335992 نمبر دیے ہیں

    یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبا مشکل میں ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کو پیغام دیا ہے کہ انہیں نکالنے کا انتظام کیا جائے، طلبا نے شکوہ کیا کہ حکومت ہمارے لئے کچھ نہیں کر رہی،خارکوو کی نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کے پاکستانی طالب علم زین خان کے مطابق خارکوو اور اس کے اطراف میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد تقریباً 300 کے قریب ہے

    کیف میں موجود پاکستانیوں کی بڑی تعداد کیف میں پھنسے ہوے ہیں پاکستانی طلبا نے پاکستانی ایمبیسی سےمدد کی اپیل کررہے ہیں، ایمبیسی نے ٹرنوپِل شہر جانے کا مشورہ تو دیا، لیکن شہر میں ٹرانسپورٹ ہی دستیاب نہیں ہے۔ پاکستانی ایمبیسی نے طلبہ کو کیف سے نکالنے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا اورپاکستانی ایمبیسی کا فون صبح سے بند ہے، کوئی معاونت نہیں مل رہی۔ اس وقت شہر کیف میں رات کا کرفیو لگ چکا ہے، جبکہ دوسرے ملک اپنے باشندوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ہمیں سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا کہ ایئر پورٹ آ جائیں ہم نے ٹکٹ بک کر دیا ہے، ایئر پورٹ پہنچے تو ایمبیسی کہتی ہے کہ اب دوسرے ائر پورٹ پر آئیں ،ایمبیسی کی طرف سے ہمیں جھوٹ بولا جا رہا ہے ہماری کوئی مدد نہیں کی جا رہی،

    ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے یوکرین آیا تھا، یہاں پاکستان کا سفیر جھوٹ بول رہا ہے کہ ہم نے دو ہزار طلبا کو واپس بھیج دیا اور پانچ سو باقی ہیں، ایمبیسی نے ہماری کوئی مدد نہیں کی، پہلے کہتے تھے ہم جہاز بسیں دیں گے جب جنگ شروع ہو گی تو لے جائیں گے لیکن جب جنگ شروع ہوئی، تو کچھ نہیں کیا، یہ بالکل غریب ہیں، پاکستانی سفیر کی یقین پر بات نہ کریں

    پیپلز پارٹی کی رہنما، سینیٹر شیری رحمان نے حکومت سے یوکرین میں پھنسے 500 طلبہ سمیت پاکستانیوں کو جلد واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے ،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین تنازعہ کے نتیجے میں پاکستانی شہری اور طلبہ یوکرین میں پھنس گئے ہیں،500سے زائد طلبہ سمیت دیگر ہزاروں پاکستانی یوکرین سے انخلا کے منتظر ہیں، یوکرین نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں،یوکرین میں پاکستانی سفارت خانہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی معاونت کرے، حکومت یوکرین میں پاکستانی شہریوں اور طلبہ کی جلد اور باحفاظت واپسی کو یقینی بنائے

    ن لیگی نائب صدر مریم نواز نے یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبہ سے متعلق تشویش کا اظہارکیا ہے، مریم نواز کا کہنا تھا کہ کوئی ہے جو یوکرین میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کی آواز سن سکتاہو؟ یوکرین میں سینکڑوں پاکستانی طالب علم وہاں سے نکالے جانے کے منتظر ہیں،

    ن لیگی رہنما ،رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ روس کا یوکرین پر حملہ قابل مزمت، ایک دن میں 137 ہلاکتیں قابل افسوس ہیں۔۔۔پاکستانی طلبہ جو اس وقت یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں کیا ان کاکوئی پرسان حال ہے یا نیازی کا زور بس فوٹو سیشن پر ہے؟؟

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

  • روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں کے اثرات طویل مدتی ہوں گے جس سے روس کی درآمدات بھی متاثر ہوں گی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوبائیڈن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روسی گیس کمپنی کو قیمتیں بڑھانے نہیں دی جائیں گی، ڈالر اور جاپانی ین میں روسی لین دین محدود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ہدف بنایا جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ نیٹو اتحادی آرٹیکل 5 کے تحت جوائنٹ سیکیورٹی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری پہلے ہی کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک سے روسی حملے پر بات کی ہے جو بلا جواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر پابندیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج یوکرین میں براہ راست تنازع میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج یوکرین نہیں جارہی ہیں بلکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا دفاع کریں گی۔

  • روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    ماسکو: روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے اورزمینی پیشقدمی کے ساتھ اب حالات بد سے بد تر ہوتے نظر آرہے ہیں ۔یاد رہے کہ طویل کشیدگی کے بعد روس نے جمعرات کی صبح 8.30 بجے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔اب تازہ خبروں کے مطابق روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ایک خبر کیف سے آرہی ہے کہ یوکرین کا فوجی طیارہ جس میں 14 افراد سوار تھے کیف کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے

    فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی فوجی یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی سرحد کے قریب جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد فرار ہونے والے لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ جیسے ہی روس نے یوکرین پر اپنا حملہ شروع کیا، دارالحکومت، کیف سے ہزاروں کاریں باہر نکل گئیں، بہت سے لوگ مغرب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ اور نیٹو کے فوجیوں کے قریب ملک کے کچھ حصوں میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے کی امید میں ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اب تک 40 یوکرینی فوجی اور 10 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین نے 50 روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے اور 6 لڑاکا طیاروں کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین میں ہندوستانی سفیر نے کہا ہے کہ کیف میں ہندوستانی سفارت خانہ بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا۔

    یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی روسی فوجی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ یوکرین کے صدر کے ایک مشیر نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 40 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    یوکرین میں روسی ٹینکوں کے داخل ہونے سے عوام میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر ہونے والی ویڈیوز میں خوف کا ماحول صاف نظر آرہا ہے۔ لوگ سرحد سے ملحقہ علاقوں سے یوکرین کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج ایک اہم میٹنگ بلائی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ روس کے رویے کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ یوکرین کو اب نیٹو میں شامل ہونا چاہیے۔

    اامور خارجہ کے وزیر مملکت وی مرلیدھرن نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ تقریباً 18,000 ہندوستانیوں کو، جن میں طلباء بھی شامل ہیں، کو یوکرین سے واپس لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یوکرین میں فضائی حدود بند ہیں، اس لیے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہاں یوکرین کے سفیر نئی دہلی میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست کی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی فوجی اور اقتصادی حملے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

  • روس نے یوکرین ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیا

    روس نے یوکرین ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیا

    ماسکو: روس نے یوکرین کے انتونوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا اطلاعات کے مطابق حکام نے قبضے کی تصدیق کر دی-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے ایم آئی 8 ہیلی کاپٹرز کے ساتھ یوکرین کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا یوکرینی حکام نے ایئرپورٹ پر قبضے کی تصدیق کر دی۔

    اس سے قبل روس کے یوکرین پر حملے کے دوران 8 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے اور روس نے یوکرین کا ایئر ڈیفنس نظام تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

    یوکرینی فوج کے سپریم کمانڈر ان چیف نے روسی فوجوں کا زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دیا جبکہ یوکرینی فوج نے مشرق میں 50 روسی فوجی مارنے اور 6 روسی فوجی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین پر قبضے کا منصوبہ نہیں رکھتا، روسی فوجی کارروائی کا مقصد یوکرین کو غیر عسکری کرنا ہے، یوکرینی فوجی ہتھیار چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔