Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس کا یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر حملہ

    روس نے یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس پر جدید ترین میزائل ’اوریشنک‘ سے حملہ کیا ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق، اس صنعتی کمپلیکس میں یوکرین بیلسٹک میزائل نظام تیار کر رہا تھا،حملے کے بعد صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک ہنگامی خطاب میں بتایا کہ اس کارروائی کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا، جس پر ہائپرسونک ہتھیار نصب تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میزائل ایک سیکنڈ میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے اور دنیا میں کوئی دفاعی نظام اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پیوٹن نے یوکرین کے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

    دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے سخت ردعمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس نے یوکرینی سرزمین کو ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ روسی میزائل حملہ جنگ کو مزید بڑھا دے گا،نئے بیلسٹک میزائل کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماسکو امن نہیں چاہتا۔

    قبل ازیں یوکرین نے برطانوی فراہم کردہ اسٹارم شیڈو میزائلز روس کے اندر اہداف پر داغے ہیں،اگرچہ برطانیہ اور یوکرین نے ان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے روس میں استعمال کی تصدیق نہیں کی، لیکن برطانوی میڈیا میں ان کے استعمال کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں گردش کر رہی ہیں۔ٹیلیگرام پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں روس کے کورِسک علاقے میں ان میزائلوں کے ملبے کو دکھایا گیا ہے۔ کورِسک یوکرین کی سرحد سے متصل روس کا علاقہ ہے۔برطانیہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ برطانوی ٹینک، اینٹی ٹینک میزائلز اور دیگر فوجی سازوسامان یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے تحت روس کے اندر استعمال ہو سکتے ہیں۔تاہم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد تھیں۔

  • جو بائیڈن  کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز   استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کا اجازت کا امکان

    واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کے روز کہا کہ بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو امریکی فراہم کردہ اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال کرنے کی اجازت دے گی تاکہ وہ روسی افواج کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھ سکے۔

    باغی ٹی وی : لاوس کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، آسٹن نے کہا کہ یہ پالیسی میں تبدیلی روس کی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کے پیش نظر کی گئی ہے روسی زمینی افواج اب میدان جنگ میں زیادہ سرگرم ہیں، جو پہلے سے محفوظ بکتر بند گاڑیوں کے بجائے میدان میں براہ راست موجود ہیں، اس صورت حال میں یوکرین کو ایسے ہتھیاروں کی ضرورت ہے جو روسی افواج کی پیش قدمی کو سست کر سکیں۔

    آسٹن نے مزید کہا کہ وہ بارودی سرنگیں جو ہم فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں، وہ ایسی ہوں گی جنہیں مستقل نہیں سمجھا جا سکتا، ہم ان کے خود کار طریقے سے فعال یا تباہ ہونے کے وقت کو کنٹرول کر سکتے ہیں، جو انہیں آخرکار زیادہ محفوظ بناتا ہے بجائے ان ہتھیاروں کے جو وہ خود تیار کر رہے ہیں۔

    روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    اینٹی پرسنل لینڈ مائنز کیا ہیں؟

    لینڈ مائن یا بارودی سرنگ ایسا دھماکا خیز مواد ہوتا ہے جو زمین کے نیچے چھپا ہوتا ہے اور دشمن کی فوج کے قریب آنے پر پھٹتا ہے ان میں سے کچھ مائنز ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں جو اینٹی ٹینک مائنز کہلاتی ہیں جبکہ فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی مائنز کو اینٹی پرسنل مائنز کہا جاتا ہے۔

    روس پر یوکرائنی حملوں کی امریکی منظوری تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی …

    ان بارودی سرنگوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے جن میں فوجی تنصیبات کی حفاظت، دشمن پر گھات لگانا اور دشمن کی پیش قدمی کے راستوں کو محدود کرنا شامل ہےکچھ لینڈ مائنز کا آپریشن محدود وقت کے لیے ہوتا ہے اور ایک خاص مدت کے بعد وہ کام کرنا بند کر دیتی ہیں، لیکن کچھ مائنز کئی دہائیوں تک خطرہ بنی رہتی ہیں۔

    کیا بارودی سرنگوں کا استعمال قانونی ہے؟

    1997 میں منظور ہونے والے اینٹی پرسنل مائن بین کنونشن (اوٹاوا معاہدہ) کے تحت 150 سے زائد ممالک نے لینڈ مائنز کے استعمال، پیداوار، ذخیرہ کرنے اور منتقلی پر پابندی عائد کرنے کا عہد کیا ہے تاہم، امریکا، روس اور چین جیسے کچھ بڑے طاقتور ممالک اس معاہدے کے دستخط کنندہ نہیں ہیں، یوکرین اگرچہ اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہے مگر جنگی ضروریات کے پیش نظر یوکرین اس معاہدے سے نکل سکتا ہے۔

    امریکا کا یوکرین کو میزائل کے استعمال کی اجازت،روس کا سخت ردعمل

  • روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    روس کے بڑے حملے کا خطرہ،امریکا کا یوکرین میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان

    کیف: امریکا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کے خطرے کے پیش نظر اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکا سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کی اجازت ملنے کے بعد ایک طرف روس نے اپنی نیوکلئیر ڈاکٹر ا ئن تبدیل کرلی ہے تو دوسری جانب اجازت ملتے ہی یوکرین نے روس پر امریکی ساختہ میزائلوں سے حملہ کردیا، روس نے چھ میزائلوں میں سے پانچ کو تباہ کردیا۔

    روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ کے ایک ہزار دن پورے ہونے پر یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل داغے ہیں،یہ حملہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیف کو روس کے اندر اہداف کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے گرین لائٹ دیے جانے کے صرف دو دن بعد ہوا۔

    پاکستان اور چین کی مشترکہ تربیتی فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا

    یہ پہلا موقع ہے جب یوکرین نے روس کے اندر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا، روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 3:25 بجے یوکرین نے برائنسک میں ایک تنصیب پر چھ بیلسٹک میزائل فائر کیے، حملے میں امریکی ساختہ ATACMS میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    روسی فضائی دفاع نے کہا کہ انہوں نے پانچ میزائلوں کو مار گرایا اور ایک سے معمولی نقصان پہنچا، تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے فوجی تنصیب کی سرزمین پر گرے، جس سے آگ لگ گئی جسے اب تک بجھا دیا گیا ہے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کو طویل فاصلے تک وار کرنےوالے امریکی میزائل روس پر داغنے کی اجازت دیئےجانے کے بعد اب روس کی طرف سے بھی بھرپور کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہےروس کے صدر ولادیمیر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا اور فرانس کے جدید ترین ہتھیاروں سے روس میں بہت اندر تک حملے کیے گئے تو بھرپور جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

  • یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    یوکرین کا روس پر امریکی ساختی میزائل سے پہلا حملہ، تیسری جنگ عظیم کا خدشہ

    کیف: یوکرین نے روس کے برائنسک علاقے میں یوکرائنی سرحد سے 75 میل کے فاصلے پر کاراچیف میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی: روس کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین نے ملک کو امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ATACMS میزائلوں سے نشانہ بنایا،پانچ میزائلوں کو مار گرایا گیا اور ایک کو نقصان پہنچا، جس کے ٹکڑوں کی وجہ سے خطے میں ایک فوجی تنصیب میں آگ لگ گئی یہ فوجی مرکز کاراچیف میں واقع تھا، جو وسطی کرسک سے تقریباً 100 میل شمال میں تھا۔

    یہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ATACMS میزائلوں کے استعمال کی اجازت دینے کے چند دن بعد آیا ہے اس خدشے کے باوجود کہ یہ تنازعہ کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔

    تاس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ ماسکو وقت کے مطابق 03:25 پر، یوکرین کی مسلح افواج نے برائنسک کے علاقے میں چھ ATACMS بیلسٹک میزائلوں سے ایک ہدف کو نشانہ بنایا "فضائی دفاعی نظام نے برائنسک کے علاقے میں پانچ ATACMS میزائلوں کو مار گرایا، ایک کو نقصان پہنچا ، اے ٹی اے سی ایم ایس کے ٹکڑے برائنسک کے علاقے میں ایک فوجی سہولت کے تکنیکی علاقے پر گرے، آگ لگ گئی، اسے بجھا دیا گیا –

    منگل کو یہ اطلاع ملی تھی کہ روسی صدر نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کو کم کرتے ہوئے ایک نئے نظریے پر دستخط کیے ہیں اگر یوکرین روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مغربی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرے۔

    کریملن کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی فیڈریشن جارحیت کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حق محفوظ رکھتی ہے، یوکرین کو روس کے اندرونی علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کے امریکہ کے فیصلے سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور تنازع میں امریکہ کی شمولیت مزید گہری ہو جائے گی، سبکدوش ہونے والی جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین میں تنازع کو بڑھانا چاہتی ہے۔

    منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں ملک کے لیے ایک تازہ ترین جوہری نظریے کی منظوری دی گئی جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال سے ہم آہنگ نقطہ نظرہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے منظور کی گئی نئی نیوکلئیر ڈاکٹرائن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر جوہری ملک کا روس پر حملہ، اگر کسی جوہری طاقت کی حمایت سے ہو تو وہ دونوں ممالک کا روس پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا روس یا اس کے اتحادی بیلا روس پر اگر روایتی ہتھیاروں سے ایسا حملہ کیا گیا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے کسی بڑے خطرے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی روس جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہےکسی فوجی اتحاد یا بلاک کے رکن کیجانب سے روس پر جارحیت پورے اتحاد کی جار حیت تصور کی جائے گی۔

    نئی ڈاکٹرائن کے تحت روس پر کسی بڑے فضائی حملے کی صورت میں جوہری ردعمل دیا جا سکتا ہے روس کی یہ نئی جوہری ڈاکٹرائن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو امریکا کے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے روس کے اندر حملے کی اجازت دی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ اس دستاویز کی اشاعت کا وقت پہلے سے طے شدہ تھا اور پیوٹن نے رواں سال کے آغاز میں اس ڈاکٹرائن کو موجودہ صورتحال کے مطابق تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک نے چپکے سے اپنے ہتھیاروں کو یوکرین کی سرزمین سے روس میں گہرائی میں حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    بوریل نے کہا کہ "امریکہ نے روسی سرزمین کے اندر 300 کلومیٹر کی گہرائی میں اپنے ہتھیاروں کے ساتھ حملوں کی اجازت دینے کا ایک اہم فیصلہ کیا۔ دیگر ممالک نے اس کا اعلان کیے بغیر روس کے اندر حملوں پر پابندیاں ہٹا دیں۔ یہ یورپی یونین میں قومی طور پر (ہر ملک کے لیے) ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

    اس سے قبل’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ’اٹاکمز‘ میزائل کا استعمال کرتے ہوئے روسی علاقے کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی۔ اخبار نے بتایا تھا کہ فرانس اور برطانیہ نے بھی اسکالپ اور سٹارم شیڈو کے ذریعے حملوں کی اجازت دی تھی، اس خبر کی سرکاری تصدیق جاری کر دی گئی ہے۔

  • امریکا کا یوکرین کو میزائل کے استعمال کی اجازت،روس کا سخت ردعمل

    امریکا کا یوکرین کو میزائل کے استعمال کی اجازت،روس کا سخت ردعمل

    ماسکو: روس کا کہنا ہے کہ صدر جوبائیڈن کا یوکرین کو دور تک مار کرنے والے میزائل روس پر استعمال کرنے کی اجازت دینا، امریکا کو براہ راست جنگ میں شریک بنانے کے مترادف ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے میزائل پالیسی میں تبدیلی کو امریکی صدر جوبائیڈن کی روس یوکرین تنازع کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا ہے-

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بیان میں کہا کہ یوکرین کو روسی علاقوں پر حملے کے لیے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کے فیصلے سےکشیدگی میں اضافہ ہو گا جوبائیڈن کےاس اقدام سےروس یوکرین تنازع میں امریکا کی براہ راست شمو لیت مزید گہری ہو جائے گی، ایک ماہ بعد سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن یوکرین میں تنازع کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

    روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب صدر جو بائیڈن نے پہلی بار یوکرین کو روس کے اندر حملے کرنے کے لیے امریکا کے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

  • روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    روس کیخلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی یوکرین کی درخواست منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی جانب سے کئی ماہ تک درخواست کرنےکے بعد بلآخر یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں دور تک مار کرنے والے (لانگ رینج) امریکی میزائل ATACMS کو استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ماسکو نے تقریباً 50,000 فوجیوں کو کرسک میں تعینات کر دیا ہے، جنوبی روسی علاقے جہاں کیف نے موسم گرما میں اپنی حیرت انگیز جوابی کارروائی شروع کی تھی، تاکہ علاقہ واپس لینے کی تیاری کی جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق لانگ رینج میزائل ATACMS امریکی ساختہ ہے اور 300 کلومیٹر (186 میل) دور تک جاکر ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے امریکی صدر کی جانب سے میزائل استعمال کرنے کی اجازت ممکنہ طور پر روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کی فوجیوں کی شمولیت کے فیصلے کا جواب ہے۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ہتھیاروں کا مقصد فی الحال بنیادی طور پر کرسک میں استعمال کیا جانا ہے وہاں اپنی بھاری نفری کے ساتھ، روس مستقبل کے کسی بھی امن مذاکرات میں یوکرینیوں کے لیے ممکنہ سودے بازی کے طور پر کرسک کو میز سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، جسے امریکہ نہیں دیکھنا چاہتا اہلکار نے کہا کہ خیال یہ ہے کہ یوکرین کو کرسک کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی جائے۔

    شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی روس کی جارحیت کے ایک حصے کے طور پر کرسک میں تعینات ہیں، جو بائیڈن اور ان کے مشیروں کی طرف سے تشویش کو جنم دے رہے ہیں کہ ان کا داخلہ جنگ میں ایک خطرناک نئے مرحلے کا باعث بن سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ماضی میں روسی صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ یوکرین کو نیٹو ممالک کی جانب سے فراہم اسلحے کو جنگ میں استعمال کرنے کی اجازت کو نیٹو ممالک کی براہ راست جنگ میں شمولیت سمجھا جائیگا۔

  • یوکرین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرے گا؟

    یوکرین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرے گا؟

    کیف: یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق، اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوجی امداد واپس لے لیتے ہیں تو یوکرین مہینوں کے اندر ایک ابتدائی جوہری بم تیار کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک تیزی سے پلوٹونیم سے ایک بنیادی ڈیوائس بنانے کے قابل ہو جائے گا جس کی ٹیکنالوجی 1945 میں ناگاساکی پر گرائے گئے "فیٹ مین” بم سے ملتی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "ایک سادہ ایٹم بم بنانا، جیسا کہ امریکہ نے مین ہٹن پروجیکٹ کے فریم ورک کے اندر کیا، 80 سال بعد کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔”

    یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے درکار بڑی سہولیات بنانے اور چلانے کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث، جنگ کے وقت یوکرین کو ملکی نیوکلیئر ری ایکٹروں سے لیے گئے ایندھن کی سلاخوں سے نکالے گئے پلوٹونیم کے استعمال پر انحصار کرنا پڑے گا۔

    یہ امکان ہفتوں پہلے اس وقت پیدا ہوا تھا جب اکتوبر میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ انہوں نے ستمبر میں نیویارک شہر میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ٹرمپ کو بتایا تھا کہ یوکرین یا تو نیٹو میں شامل ہو جائے گا یا جوہری ہتھیار تیار کر لے گا۔

    زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے انہیں سنا ہے اور کہا ہے کہ "یہ ایک منصفانہ دلیل تھی، بعد میں انہوں نے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جوہری ہتھیاروں نہیں بنائے گا،تاہم، زیلنسکی کے بیان نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ آیا یوکرائنی جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تکنیکی اور سیاسی نقطہ نظر سے حقیقت پسندانہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین سالوں کے اندر کم از کم ایک قدیم جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ اس کے لیے کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

    امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی سینئر انٹیلی جنس سروس کے ایک ریٹائرڈ رکن جان سیفر نے 5 نومبر میں ٹرمپ کی فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "میرا اندازہ ہے کہ ہر کوئی جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا ہے۔

    سیفر، جو اب اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک کے ساتھی ہیں، ان خدشات کا ذکر کر رہے تھے کہ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی امریکہ کو تنہائی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، جس سے مغربی اتحادی، بشمول نیٹو ممبران اور یوکرین، امریکی حمایت کے بغیر اپنا دفاع کرنے کی ضرورت پر غور کر رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے  حکمت عملی کی ضرورت

    ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت

    ذرائع کے مطابق،نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے یوکرین کے تنازعے پر بات کی ہے اور پیوٹن سے اس صورتحال کے مزید بڑھنے سے بچنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ میں امریکہ کی فوجی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امریکی اثرورسوخ اس خطے میں موجود ہے۔

    میدان جنگ میں روس کی افواج یوکرین کے مغربی "کرسک” علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں، جہاں تقریباً 50,000 روسی فوجی اُس علاقے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اگست سے روس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس کی سست مگر مسلسل پیش قدمی مشرقی یوکرین میں جاری ہے، جہاں اُس کی فوجیں ڈونباس کے صنعتی علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے گاؤں گاؤں فتح حاصل کر رہی ہیں۔

    اس جنگ کے اقتصادی اثرات یوکرین اور روس تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا عالمی تجارت اور خوراک کی سکیورٹی پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ ممالک جو روس اور یوکرین پر انحصار کرتے ہیں، جیسا کہ ایندھن اور اناج کی فراہمی کے لیے، انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ حالانکہ امریکہ ان ممالک پر کم انحصار کرتا ہے، لیکن دوسرے ممالک پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہیٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں، اور پہلے سے ہی معاشی طور پر کمزور ممالک جیسے یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ خوراک کی کمی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

    امریکہ میں، جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کا اثر ان صنعتوں پر پڑا ہے جو سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ موڈی اینالٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زانڈی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کی افراط زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے (مئی 2021 سے مئی 2022 تک)۔ اس صورتحال کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، جو اب بھی بلند سطح پر ہے اور امریکی کاروباروں اور صارفین پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    یوکرین کی جنگ کا عالمی سطح پر اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید معیشتیں آپس میں کس قدر جڑی ہوئی ہیں اور عالمی سپلائی چینز کی نزاکت کتنی اہم ہے۔ آج کے دور میں مقامی جنگوں کے بھی عالمی سطح پر دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، جو کئی ممالک کی استحکام کے لیے ضروری وسائل جیسے بنیادی اشیاء اور ہائی ٹیک اجزاء کو متاثر کرتے ہیں۔ امریکہ کے لیے، مہنگائی، سیمی کنڈکٹر کی کمی اور عالمی سطح پر خوراک کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی، خصوصاً روس پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور متاثرہ علاقوں کو اقتصادی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے، دنیا بھر میں اس بحران کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے بہت دھیان سے دیکھی جائے گی،ٹرمپ کے دوسری بار انتخابات جیتنے کے بعد اس وقت پوری دنیا کی نظریں امریکہ اور اس کے عالمی کردار پر مرکوز ہیں۔

  • ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    ٹرمپ کے عہدہ سنبھالے سے پہلے وائٹ ہاؤس کا یوکرین کو امداد بھیجنے کافیصلہ

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نےنو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے یوکرین کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین "کے مطابق انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس جنوری میں صدر جو بائیڈن کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے یوکرین کو 6 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے،آئندہ سال جنوری میں منتخب ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب ہوگی اور اس سے قبل وائٹ ہاؤس انتظامیہ یوکرین کو ممکنہ مضبوط ترین پوزیشن میں لانے کا امید رکھتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پت یوکرین کیلئے 9 بلین کی امداد باقی ہے وائٹ ہاؤس اب ان فنڈز کو جلد از جلد تعینات کرنے کے لیے کام کررہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یوکرین کے پاس روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہتھیار موجود ہوں، چاہے ٹرمپ امداد بھیجنے سے انکار کر دیں امریکا کے یوکرین کو مختص کردہ ہتھیار بھیجنے میں عام طور پر مہینوں لگتے ہیں، اس لیے آنے والے ہفتوں میں اعلان کردہ کسی بھی پیکج کے جنوری 2025 کے اختتام سے پہلے مکمل طور پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔

  • روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے جنگی طیاروں کو چھپا دیا

    روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے جنگی طیاروں کو چھپا دیا

    ماسکو: روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنی جنگی طیاروں کو چھپا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روس نے اس بات کا انتظار کیے بغیر یہ فیصلہ کیا کہ یوکرین کے اتحادی کب اسے روس کے خلاف میزائل استعمال کرنے کی اجازت دیں اور پھر وہ روس کے اہم اہداف کو نشانہ بنا سکے یہی وجہ ہے کہ روس نے پہلے سے ہی اپنے طیاروں کو غائب کر دیا ہے۔

    آخر روس اپنے جنگی طیاروں کو کہاں لے گیا؟علاوہ ازیں کچھ وقتوں پہلے روس نے بحیرہ اسود میں اپنے بحری جنگی جہازوں کو سیواستوپول سے نووروسیسک منتقل کیا تھا، تاہم ایک ہفتے میں دوسری بار وہ اپنے ایک اور اڈے کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر رہا ہے۔

    ایک فوجی نامہ نگار نے پاولو اکسیونوف نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ یوکرین کو روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے اب روس نے بھی اپنے جنگی جہاز محاذ سے کئی فاصلے دور کرلیے ہیں روس ان جہازوں کو کئی سو کلومیٹر دور لے جا رہا ہے، اگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی گفتگو کو پرکھا جائے تو اس سے یہ لگتا ہے کہ ’ایئرفیلڈز‘ یعنی فضائی اڈ ے بہت اہم اہداف ہیں جنھیں یوکرین ہدف بنانے جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین پر روس کے خلاف یہ میزائل جنھیں سٹارم شیڈو یا سکیلپ کہا جاتا ہے، استعمال کرنے پر مغربی ممالک کی طرف سے پابندی عائد ہے اور یوں یہ پابندی روس کے خلاف کسی بھی ایسے حملے میں رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔

    دوسری جانب روس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے یوکرین کے 6 نیپچون میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے روس نے 177 ڈرون، 3 فرانسیسی گائیڈڈ بم، 10امریکی ہائی موبیلیٹی آرٹیلری راکٹ سسٹم تباہ کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ روس کی جانب سے چرکاسی علاقے میں یوکرینی فوجی عمارت اور اسلحہ کے گودام پر بھی بمباری کی گئی،روس نے یوکرینی شہر خارکیف کے ایک اپارٹمنٹ پرحملہ کیا جس کے نتیجے میں 12افراد زخمی ہوگئے،خارکیف کے گورنر نے اس حوالے سے دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ روس نے اپارٹمنٹ پرگائیڈڈ بم سےحملہ کیا جس سے عمارت اور لوگوں کو نقصان پہنچا۔