Baaghi TV

Tag: baaghi

  • قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    جب تک امن و امان قائم نا ہو قومیں ملک اور معاشرے ترقی نہیں کر سکتے

    انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے کئی طرح کی خطائیں ہوتی رہتی ہیں جن کی اصلاح کیلئے احتسابی نظام بنایا جاتا ہے تاکہ خطاء پر سزا دے کر اصلاح کی جاسکے اور آگے سے دوبارہ خظا نا ہو

    ہمارے معاشرے میں ہر فرد کے احتساب کا قانون موجود ہے جس کے تحت سزائیں و جرمانے کئے جاتے ہیں

    جیسا کہ سویلین کے لئے کئی طرح کی عدالتیں قائم ہیں جن میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سب سے مشکل اور کٹھن احتساب فوج کا ہے جسے کورٹ مارشل ( عسکری عدالت) کہتے ہیں جو کہ 1951 کو شروع کیا گیا اور آج بھی موجود ہے اور اسی کے ذریعے فوجی ججوں پر مشتمل عدالت میں مسلح فوج کے افسروں و جوانوں پر جنگی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سویلین پر بھی کورٹ مارشل لاگو ہے کیونکہ فوج کے اندر بہت زیادہ سویلین بھی کام کرتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز ،پیرا میدیکل سٹاف اور دیگر شعبوں میں سویلین تعینات ہیں اس لئے ان کا بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے جیسا کہ 2018 میں آرمی ہسپتال میں تعینات سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی اسی طرح بریگیڈیئر راجہ رضوان کو ملک دشمن ایجنسی را سے معاونت پر آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی

    کورٹ مارشل کا ٹرائل زیادہ تر دو سے چھ دن میں کر دیا جاتا ہے اور دوران ٹرائل ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے

    عسکری عدالت سے سزا یافتہ فوجی دوبارہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا اور اس کو مراعات بھی نہیں دی جاتیں اور کریمنل ریکارڈ بنا کر پوری زندگی کسی بھی سرکاری محکمے میں نوکری کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی سزا کو مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاتا

    سول اور عسکری احتساب میں کافی فرق ہے جیسا کہ سویلین مقدمے میں سزا پانے والے قیدی کو اپنی سزا پر التجاء کرنے کا حق ہوتا ہے جیسا کہ سزائے موت کا قیدی اپنی سزا کو عمر قید میں یا صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں کم کروا سکتا ہے جبکہ عسکری عدالت سے سزا پانے والا قیدی ایسے طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتا

    سول گورنمنٹ ملازمین پر کرپشن و بدعنوانی کے مقدمات سول کورٹس و محکموں کی کمیٹیوں میں نمٹائے جاتے ہیں جن کا دائرہ کار بہت لمبا ہوتا ہے بعض دفعہ سالوں سال لگ جاتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا دی جاتی ہے مگر جبکہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں بنایا جاتا زیادہ تر تو معطل ملازمین کو چند ماہ بعد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور ساری رکی ہوئی مراعات بھی دی جاتی ہیں جس سے ان کرپٹ عناصر کو مذید شہہ ملتی ہے

    اس وقت پاکستان کے محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے خاص طور پر محکمہ پولیس میں بغیر رشوت کے کام ایک معجزہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قانون شکنی بھی محکمہ پولیس میں ہوتی ہے حالانکہ آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 کے تحت پولیس کا کام امن و امان کی بحالی ہے مگر پاکستان کی کل ساڑھے 4 لاکھ پولیس رشوت کا گڑھ اور لوگوں کے لئے خوف کی علامت ہے جبکہ آئے روز پولیس ملازمین کی طرف سے لوگوں سے پیسے لے کر مخالفین کا ماورائے آئین و عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قرار دیا جاتا ہے

    پولیس کے خلاف مقدمات سول عدالت میں چلتے ہیں کمزور عدالتی نظام اور گواہوں کو ڈرا دھمکا کر یہ صاف بچ نکلتے ہیں زیادہ تر عدالتوں سے مقدمات میں سے بچ نکلنے والے پولیس اہلکاران و افسران مذید دہشت و خوف کی علامت بن جاتے ہیں جیسا کہ سندھ پولیس کا راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں کے باعث خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور اسی کمزور نظام کے باعث ہر بار صاف بچ جاتا ہے حالانکہ نقیب اللہ معسود کے قتل کے کافی شوائد بھی اسے سزا نا دلوا سکے

    اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ سول محکموں خاص طور پر پولیس اصلاحات کیلئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 ،(3) میں ترمیم کی جائے اور پولیس اہلکاران کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ معطل ملازم دوبارہ بحال نا ہو اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں

    جس دن پولیس نظام ٹھیک ہو گیا اسی دن ملک پاکستان سنورنا شروع ہو جائے گا کیونکہ جب کسی کی چوری ہوتی ہے تو اسے اپنی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو مذید رشوت دینی پڑتی ہے سو مجبوراً وہ بندہ رشوت دیتا ہے اس کی چوری چاہے ملے نا ملے رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا سو وہ بندہ اپنی چوری و رشوت کی کمی پوری کرنے کیلئے کسی دوسرے کو مالی نقصان پہنچاتا ہے اگر وہ تاجر ہے تو اپنے دام تیز کر دے گا اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو لوگوں سے جائز کام کے عیوض رشوت لے گا اور اسی طرح آگے سارا نظام خراب ہوتا جائے گا

    موجود حالات کا تقاضہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی پیش کردہ سمری کے مطابق قیام امن کے لیے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے

  • حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا،سیکشن 153 اے کے تحت مقدمہ درج ہو گا

    حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا،سیکشن 153 اے کے تحت مقدمہ درج ہو گا

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے ترامیم کی منظوری لے لی گئی، بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر مقدمہ درج کرنے کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو تفویض کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا، صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کراسکے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ عدالت سیکرٹری داخلہ کی منظوری کے بغیر درج ہونیوالے مقدمے کا ٹرائل نہیں کرے گی۔ سیکشن 153 اے سمیت 5 سیکشن کے تحت مقدمہ سیکرٹری داخلہ کی منظوری سے ہو گا، سیکرٹری داخلہ کے علاوہ صوبائی حکومتوں کی منظوری سےبھی مقدمہ کا اندراج ہوسکے گا

  • سوئی سدرن گیس یونین کے انتحابات،کامیابی کس کو ملی؟

    سوئی سدرن گیس یونین کے انتحابات،کامیابی کس کو ملی؟

    مزدور اور محنت کش طبقے کی تحریک انصاف کی حکومت سے ناراضگی کا حزب اختلاف کا جھوٹا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،سوئی سدرن گیس کی یونین کے انتخابات میں "انصاف جفاکش لیبر یونین” واضح اکثریت سے کامیاب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جماعتِ اسلامی سمیت 5 جماعتوں کا حمایت یافتہ پینل شکست سے دوچار ، کامیابی پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد کی "انصاف جفاکش لیبر یونین” کو مبارکباد

    مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف احمد جواد نے اپنے بیان میں کہا کہ چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کی قیادت میں تحریک انصاف کی تنظیمِ نو کے ثمرات نمایاں ہونا شروع ہوچکے ہیں، محنت کش طبقے کو منظم کرنے کے حوالے سے انصاف لیبر ونگ کے صدر بریگیڈئر سیمسن سائمن شرف کی کاوشیں رنگ لارہی ہیں،
    "انصاف جفاکش لیبر یونین” کی واضح کامیابی تحریک انصاف کی پالیسیوں پر محنت کشوں کے اعتماد کی مظہر ہے،

    وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت مزدور اور محنت کش کے حقوق کی نگہبان ہے، وباء کے دنوں میں وزیراعظم نے غریب اور محنت کش طبقے کی دیکھ بھال کیلئے خصوصی محنت کی، احساس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں بلاتخصیص نہایت شفاف طریقے سے غریبوں کو مالی امداد فراہم کی گئی، غربت کے خاتمے کیلئے تحریک انصاف کی حکومت کے اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے، تحریک انصاف کے منشور کی روشنی میں محنت کشوں کی بہبود کے حوالے سے اہداف حاصل کریں گے،

  • صدر مملکت کس بات پر خوش ،شیخ رشید کو ایوان صدر کیوں بلایا؟

    صدر مملکت کس بات پر خوش ،شیخ رشید کو ایوان صدر کیوں بلایا؟

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ بنائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ایوان صدر اسلام آباد میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت کی نئے وزیر داخلہ سے ملاقات میں وزارت داخلہ سے متعلقہ امور پر بات چیت کی گئی۔

    دوران گفتگو صدر مملکت نے کہا کہ آپ کے وزیر داخلہ بننے پر بہت خوش ہوں، پرامید ہوں کہ آپ وزارت داخلہ احسن طریقے سے چلائیں گے۔ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ آپ ایک دور اندیش سیاستدان ہیں، امید ہے کہ آپ کی بطور وزیر داخلہ تقرری سے معاملات بہتر ہوں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ ملک میں آئین کی پاسداری اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بناؤں گا، پسے اور غریب طبقے کی داد رسی کے لیے ترجیحی کوشش کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اووو سیز پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ، نادرا اور امیگریشن میں سہولیات پیدا کریں گے۔

  • پی پی اور ن کی بلاول ہاؤس میں بیٹھک،آخر وجہ کیا ہے؟

    پی پی اور ن کی بلاول ہاؤس میں بیٹھک،آخر وجہ کیا ہے؟

    لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے درمیان بلاول ہاؤس میں اہم ملاقات
    پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد میں شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف، نیربخاری، قمرزمان کائرہ اور لطیف کھوسہ شامل

    پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد میں شاہد خاقان عباسی، پرویز رشید، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ،ملاقات میں مستقبل کی احتجاجی سیاست کی حکمت عملی ترتیب دے دی گئی

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پارٹی رہنماوں کے گھرپرچھاپے ماررہی ہے،پی ڈی ایم جماعتوں کے رہنما لاہورپہنچ چکے،مریم نوازکی لاہوریوں کوجلسے میں شامل ہونے کی دعوت دی ،جلسے کے انتظامات جلدمکمل کر لیے جائیں گے۔

    مینار پاکستان انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاھور میں پی ڈی ایم ن ےرات گئے گیٹ کا تالا توڑا،مینار پاکستان جلسہ گاہ کے گیٹ کو تالا لگادیا گیا تھا،پی ایچ اے نے سکیورٹی حکام کو گیٹ کو ت احکم ثانی بند رکھنے کا حکم دیا،جلسے کے سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کاجلسہ گاہ میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا تا ہم ن لیگی کارکنان نے تالے توڑ دیئے
    ن لیگی کارکنوں نے گریٹراقبال پارک کے 5 نمبرگیٹ کا تالا توڑ دیا ،ن لیگی کارکنان اسٹیج بنانے کا سامان لے کر گریٹراقبال پارک میں داخل ہو گئے،مینار پاکستان کے احاطےمیں اسٹیج بنانے کا کام جاری ہے

  • کابینہ کی سب کمیٹی کا اجلاس۔پی ڈی ایم جلسے کیلیے حکمت عملی ترتیب دیدی

    کابینہ کی سب کمیٹی کا اجلاس۔پی ڈی ایم جلسے کیلیے حکمت عملی ترتیب دیدی

    لاھور : وزیرقانون پنجاب راجا بشارت نے کہا کہ پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پی ڈی ایم کیلئے کورونا اور سیکیورٹی خدشات ہیں،قانون ہاتھ میں لینے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق وزیرقانون پنجاب راجا بشارت کی زیرصدارت کابینہ کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

    جس میں کورونا کی صورتحال اور پی ڈی ایم جلسے کے حوالے سے سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ راجا بشارت نے کہا کہ این سی اوسی کی ہدایت کی روشنی میں پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہیں دی گئی۔کورونا اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پی ڈی ایم کو جلسہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی‌ ٍڈی ایم جلسے سے قبل حکومت نے گرفتاریوں کا منصوبہ تیار کرلیا
    حکومت پنجاب نے پولیس کو لیگی رہنماوَں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیلئے گرین سگنل دے دیا ،پولیس آج رات ن لیگی رہنماوَں کے خلاف کریک ڈاوَن کرے گی، لاہورکے داخلی و خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ن لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سرگرم رہنماوَں و کارکنوں کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں

  • کرونا وائرس ، فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا

    کرونا وائرس ، فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا

    خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے ایک اور لیڈی ڈاکٹر جاں بحق ہوگئیں۔ ڈاکٹر زیب النساء کورونا کے باعث نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ کبیر میڈیکل کالج میں پتھالوجی کی سربراہ تھیں۔

    خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے باعث ایک اور لیڈی ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئیں۔ پروفیسر ڈاکٹرزیب النساء نجی ہسپتال میں گزشتہ ایک ہفتے سے زیر علاج تھیں، حالت بگڑنے پر انہیں آئی سی یو منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    ڈاکٹر زیب النساء خیبر میڈیکل کالج پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سابقہ سربراہ تھیں جہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کبیر میڈیکل کالج میں پتھالوجی کی سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ میں کورونا وائرس سے جاں بحق ڈاکٹروں کی تعداد 28 ہوگئی، صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کسی شہید ڈاکٹر یا شہید ہیلتھ ملازمین کو شہدا پیکیج نہیں دیا گیا۔

  • مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے ذمہ داری اٹھا لی

    مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے ذمہ داری اٹھا لی

    پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ

    میزبان جماعت مسلم لیگ(ن) میڈیا کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرئے گی،میڈیا کو اوبی کنکشن فراہم کیا جائے گا، میڈیا کےلیے دو الگ کنٹینرز تیار کرلیے ہیں ،میڈیا کےلیے کنٹینرز جلسہ کے دونوں سائیڈ پر لگائے جائیں گے

    میڈیا کے نمائندوں کی جلسہ گاہ میں انٹری لیڈی ویلنگٹن ہسپتال گیٹ سے ہوگی ،صبح دس بجے کے بعد میڈیا وین اور نمائندے اپنی پوزیشن لے سکتے ہیں،جلسہ گاہ کے دواطراف کے کنٹینرز میڈیا کےلیےسینٹر میں مین سٹیج پی ڈی ایم قائدین کےلیے ہوگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم جلسہ سے ایک روز قبل حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا

    پنجاب حکومت نے ہفتے کی دوپہرمینار پاکستان کے اطراف 13 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ان علاقوں کی گلیاں آج رات 12 بجے سے بند کردی جائیں گی۔ لاہورمیں رنگ محل،شیراں والا گیٹ،موچی گیٹ،بھاٹی گیٹ میں سمارٹ لاک ڈاون ہوگا

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے واضح کیا ہے کہ لاک ڈاون والے علاقوں میں شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ اوردفاتربندرہیں گے ۔ علاقہ مکینوں کی نقل وحمل محدود ہوگی جبکہ انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد کو نکلنے کی اجازت ہوگی۔ سمارٹ لاک ڈاون کے دوران ہر قسم کے اجتماعات پرمکمل پابندی ہوگی۔

  • پوری پاکستانی قوم گناہ کبیرہ کی مرتکب،دنیا و آخرت دونوں تباہ ؟؟؟

    پوری پاکستانی قوم گناہ کبیرہ کی مرتکب،دنیا و آخرت دونوں تباہ ؟؟؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سودی نظام پر باقاعدہ سیریز کا آغاز کر دیا ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ جو شخص سود کا کام کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت جنگ میں ہے،
    دنیا سوال کرتی ہے کہ سود اگر ختم کر دیں تو نظام کیسے چلے گا

    اس سلسلے میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں مرحوم پروفیسر ڈاکٹر اسرار احمد کے بیٹے خافظ عاطف وحید مذہبی سکالر اور ماہر معاشیات کو خصوصی دعوت دی

    مذہبی سکالر و ماہر معاشیات نے اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں کہا کہ سود نہ صرف حرام ہے بلکہ کبیرہ گناہوں میں ہے ربا اور سود ایک ہی چیز ہے یہ دونوں مختلف نہیں ہیں سوائے اس کے یہ دو مختلف الفاظ ہیں اور قرض کے اوپر منافع لینا ربا کے زمرے میں ہی آتا ہے

    اس پر سینئر اینکر پرسن سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سب حرام ہے تو کیا ہم اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہیں ؟؟؟اس پر مزہبی سکالر خافظ عاطف وحید نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں لیکن وہ اللہ عزو جل کی جانب سے سخت ترین سزا کا مرتکب ہوتا ہے اور بعض معاملات میں یہ سزا وہی ہوتی ہے جو کسی غیر مسلم کی ہوتی ہے

    اس پر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہہ سکتے ہیں مذہبی سکالر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے آئین میں کچھ شقیں اسلام کے مطابق ہیں مگر کچھ ایسی بھی ہیں جو اسلام سے بالکل متضاد ہیں چنانچہ اسے منافقت کا پلندہ کہا جا سکتا ہے

  • تھانے کے اندر منشیات فروشی جاری

    تھانے کے اندر منشیات فروشی جاری

    قصور
    تھانہ الہ آبادکو منشیات فروشوں نے گڑھ بنا لیا ،تھانے میں افسران و اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے منشیات فروشی جاری
    متعلقہ ا فسران منشیات فروشوں کی گاڑیاں ذاتی و سرکاری کاموں میں استعمال کرنے لگے عوامی سماجی فلاحی و تاجر تنظیموں نے آر پی او شیخوپورہ ریجن سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا
    تفصیلات کے مطابق تھانہ الہ آباد میں منشیات فروشوں نے ڈیرے جمالئے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منشیات فروش مقامی پولیس افسران سے مبینہ طورپر سازباز ہو کر تھانے کے اندر ہی منشیات فروخت کر رہے ہیں جبکہ پولیس افسران دن رات منشیات فروشوں کی ذاتی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں علاقہ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو نوجوان نسل کی اکثریت نشے کی لت میں مبتلاء ہو چکی ہے جس کی وجہ سے چوری وڈکیتی کی وارداتوں کی صورت میں کرائم کی شرح کافی حدتک بڑھ رہی ہے خصوصاََ بھاگیوال ٹبہ،گہلن ہٹھاڑ،کوڑے سیال،تلونڈی،بگھیانہ اور سید پور منشیات کا گڑھ ہیں جبکہ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مقامی پولیس فرضی مقدمات درج کر کے کارکردگی بہتر دکھانے میں مصروف ہے عوامی سماجی فلاحی و تاجر تنظیموں نے آرپی او شیخوپورہ ریجن سے تحقیقات کر کے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے