Baaghi TV

Tag: baaghi

  • چونیاں واقعہ میں اہم پیش رفت

    چونیاں واقعہ میں اہم پیش رفت

    قصور
    چونیاں میں بچوں کے اغواء اور بعد از زیادتی قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا، وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلی عثمان بزدار کی پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کے بعد لوگوں نے پنجاب گورنمنت، پنجاب پولیس اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس ظالم درندے کو جلد سے جلد اس کے انجام تک پہنچایا جائیگا
    IG پنجاب نے بتایا کہ ملزم سہیل شہزاد کی عمر 27 سال ہے، وہ غیرشادی شدہ ہے اور لاہور میں تندور پر روٹیاں لگاتا ہے

    یاد رہے کہ قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران 4 بچوں کو اغواء کیا گیا جن میں سے تین بچوں فیضان، علی حسنین اور سلمان کی لاشیں گزشتہ روز جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ 12 سالہ عمران اب بھی لاپتا ہے جس کی بازیابی کیلئے پولیس اور دیگر ادارے کوشش کر رہے ہیں

  • بجلی چور پریشان

    بجلی چور پریشان

    قصور
    بجلی چوروں کے گرد گھیرا تنگ
    تفصیلات کے مطابق لیسکو سب ڈویژن کھڈیاں خاص نے ایس ڈی او محمد آفتاب کے زیر قیادت چھاپہ مار کاروائی کرتے ہوئے 32 بجلی چوروں کو رنگے ہاتھوں بجلی چوری کرتے ہوئے دھر لیا یہ کاروائی چاہ فتح والا، ویرم ہٹھاڑ، جودھ سنگھ والا میں کی گئی پولیس نے ایس ڈی او کی مدعیت میں بجلی چوروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی

  • زنابالجبر کی کوشش

    زنابالجبر کی کوشش

    قصور
    الہ آباد میں لڑکی سے زنا بالجبر کی کوشش
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد کے نواحی گاؤں گہلن میں غریب محنت کش محمد بوٹا کی جواں سالہ لڑکی کو کو ملزموں محمد باسط اور ایک فرد نامعلوم نے رات کی تاریکی میں زبردستی لڑکی کو بزور اسلحہ کھیتوں میں لے جا کر زنا بالجبر کی کوشش کی لڑکی کے شور مچانے پر اہلیان دیہہ اور لڑکی کے ورثاء پہنچ گئے جنہیں دیکھتے ہی ملزمان بھاگ گئے
    محمد بوٹا نے محمد باسط اور ایک نامعلوم فرد کے خلاف اپنی بیٹی سے زنا بالجبر کی کوشش کی درخواست دی مگر پولیس نے ملزمان سے پیسے لے کر درخواست تھانہ سے ہی غائب کر دی اور 11 روز گزرنے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی
    محمد بوٹا نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سے نوٹس لے کر محمد باسط اور فرد نامعلوم کے ساتھ تھانہ الہ آباد کے اہلکاران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • اہم دوائی کی قلت

    اہم دوائی کی قلت

    قصور
    دمہ و الرجی کے مریض سخت پریشان
    تفصیلات کے مطابق موسم کی تبدیلی ہوتے ہی الرجی و دمہ کے دائمی مریضوں کی مرض میں شدید شدت ہو جاتی ہے جس کے پیش نظر ڈاکٹرز حضرات ان مریضوں کیلئے Triamcinolon Acetonate تجویز کرتے ہیں جس سے دمہ کے مریضوں کی سانس کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور بلغم کا اخراج ہوتا ہے جس سے مریض نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے ایسے ہی الرجی میں یہ نسخہ بہت بہتر ہے پاکستان میں اس سالٹ کے انجیکشن Lonacort,kenacort A,او K kort کے نام سے ملتے ہیں مگر بدقستمی سے جب بھی موسم کی تبدیلی ہوتی ہے یہ انجیکشن مارکیٹ سے غائب کر دیئے جاتے ہیں اور بلیک میں فروخت کیئے جاتے ہیں ان کی اصل قیمت 50 سے 90 روپیہ ہے جبکہ یہی انجیکشن مجبور مریضوں کو 300 سے 350 روپیہ میں مہیا کیئے جاتے ہیں چونکہ قصور کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں اس نسخہ کے انجیکشن مہیا نہیں ہوتے اس لئے مریض مجبور ہو کر میڈیکل سٹوروں سے مہنگوں داموں خریدنے پر مجبور ہیں اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے
    مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزارت صحت،ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور ڈی سی قصور سے کاروائی کا مطالبہ کرنے کیساتھ سرکاری ہسپتالوں میں بھی اس نسخہ کو مہیا کرنے کی استدعا کی ہے

  • پیٹرول مقدار میں کمی

    پیٹرول مقدار میں کمی

    قصور
    الہ آباد کے نواح تلونڈی میں پیٹرول پمپ پر کم مقدار میں تیل ڈالنا معمول بن گیا
    تفصیلات کے مطابق دیپال پور روڈ پر واقع تلونڈی سٹاپ پر اٹک کمپنی کا پیٹرول پمپ ہے جس سے لوگ پیٹرول ڈلواتے ہیں کئی لوگوں نے شکایت کی کہ پمپ سے تیل کم مقدار میں ڈالا جاتا ہے راشد علی نامی شہری بھی اسی پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلواتا رہا جس پر اسے شبہ ہوا کہ پیٹرول کم ڈالا جاتا ہے اور پیسے پورے وصول کیئے جاتے ہیں اس بابت راشد علی نے پیٹرول پمپ کے عملہ سے بات کی تو بجائے کہ کوئی تسلی بخش جواب دیتے الٹا پمپ عملہ نے راشد علی کو دھمکانا شروع کر دیا اور کہا کہ جاءو جو مرضی کر لو ہم اپنی مرضی سے ہی پیٹرول ڈالیں گے اگر تمہیں زیادہ تکلیف ہے تو پولیس میں رپورٹ کرو پھر ہم دیکھتے ہیں کون ہمارے پمپ کی چیکنگ کرتا ہے
    شہری راشد علی نے ڈی سی قصور سے پیٹرول پمپ انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • خطرناک روڈ پر آئل ٹینکر کا ایک اور حادثہ

    خطرناک روڈ پر آئل ٹینکر کا ایک اور حادثہ

    تلہ گنگ : میانوالی روڈ پر دندہ شاہ بلاول کے قریب آئل ٹینکر سامنے سے آنے والے ٹریلر سے ٹکراگیا، ٹریفک کی آمد و رفت معطل، پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لیکر امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔
    اس سے پہلے بھی کئی بار اس روڈ پر آئل ٹینکر الٹ بھی چکے ہیں۔

  • چونیاں ملزم کی آمد

    چونیاں ملزم کی آمد

    رحیم یار خان سے گرفتار مبینہ ملزم شہزاد / سجاد احمد نے ابتدائی تفتیش میں بچوں سے زیادتی کا اقرار کرلیا ، 36 سالہ شہزاد / سجاد احمد 4 بچوں کا باپ ہے اور ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور ہے
    یاد رہے بچے کی لاش اور باقیات کی اطلاع بھی ایک اور ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور نے دی تھی
    قاتل شہزاد / سجاد احمد بچوں کو قتل کرنے کے بعد 22 ستمبر سے گھر سے غائب مفرور تھا ملزم کے گھر والوں نے اس کے اغوا کی FIR بھی درج کروائی ہوئی ہے ملزم کے بارے میں ملنے والی مزید اطلاعات کے مطابق اس کا نام شہزاد / سجاد احمد ولد محمد حسین قوم جٹ ساکن محلہ رسول نگر چونیاں ہے
    گزشتہ شب خفیہ اطلاع پر اے ایس پی صدر سرکل رحیم یار خان سید سلیم شاہ اور اے ایس پی صادق آباد سرکل ڈاکٹر حفیظ الرحمن بگٹی نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ تھانہ کوٹ سمابہ کی حدود امین آباد کے علاقہ میں مقامی زمیندار محمد حنیف کے گھر پر چھاپہ مار کر چونیاں میں کمسن بچوں کو اغواء کر کے قتل کرنے والا مبینہ ملزم شہزاد / سجاد احمد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جبکہ مقامی زمیندار محمد حنیف کو حراست میں لیکر تھانہ منتقل کر دیا تھا ملزم کو پولیس کی بھاری نفری کیساتھ آج قصور لائے جانے کا امکان ہے

  • بی ڈی کی بدمعاشی

    بی ڈی کی بدمعاشی

    قصور
    محکمہ واپڈا کا عملہ کام چوری میں سب سے آگے
    تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن بہادر پورہ کا عملہ انتہائی کام چور ہے کئی سالوں سے بل ڈسٹری بیوٹر لوگوں کے گھروں میں بل پہنچانے کی بجائے لوگوں کی دکانوں پر بل پھینک کر بھاگ جاتا ہے
    بل جمع کروانے کی آخری تاریخ 27 ستمبر ہے جبکہ 26 ستمبر کو صرف ایک دن پہلے بل پہنچائے جا رہے ہیں
    مذید یہ کہ بی ڈی صاحب لوگوں کے نام بھی صحیح نہیں لکھتے کچھ بلوں پر اردو نام کچھ اور لکھا ہوا ہے جبکہ بل پر محکمہ کی طرف سے پرنٹ نام کچھ اور ہے جس سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم تو ان پڑھ ہیں ہی مگر واپڈا ملازمین زیادہ ان پڑھ ہیں سب ڈویژن بہادر پورہ کے بجلی صارفین نے ایس ای لیسکو قصور اور ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ بی ڈی حضرات کو پابند کیا جائے کہ بل ہمارے گھروں میں دے کر جائیں کیونکہ وہ سرکار سے اسی کام کی تنخواہ لے رہے ہیں

  • الہ آباد میں کشمیر ریلی

    الہ آباد میں کشمیر ریلی

    قصور
    الہ آباد میں یکجہتی کشمیر ریلی
    قصور کے شہر الہ آباد میں کشمیر کمیٹی ضلع قصور کے زیر اہتمام مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آج بروز جمعہ یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے ریلی کا آغاز 12:20 منٹ پر جامع مسجد قدس اہلحدیث الہ آباد سے ہوگا جس میں تمام مسالک اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی شرکت کرینگے اور لوگوں کو کشمیر میں ہونے والے ہندوءوں کے ظلم کی منظر کشی کرینگے