Baaghi TV

Tag: baaghi

  • لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری کی وفات ۔۔!!
    معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار۔ اصل نام سفیر اللہ صدیقی،2 جنورری 1929 میں پیدا ہوئے۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
    منور ظریف، نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لیے فلم انڈسٹری میں اپنے لیے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین مزاحیہ اداکار کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا-
    وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لیے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔
    کیرئر کا آغاز
    لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں ایک فنکشن میں ‘مریض عشق’ کے نام ایک ڈرامے میں پرفامنس دے کر کیا جس میں ان کو بے انتہا پزیرائی ملی اپنی اس شاندار کارگردگی سفیر اللہ ہو گئے خوش فہمی کا شکار اور پہنچ گئے ریڈیو پاکستان پر ریڈیو پاکستان کے پہلے آڈیشن میں فیل قرار دے دیا گیا لیکن باہمت اور محنتی انسان نے ہمت نہیں ہاری اور انتھک محنت کے بعد آخر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی ۔ 1955ء میں لچھو سیٹھ (شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے) نے ایک فلم ‘انوکھی’ بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہٴ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
    عروج

    ان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ 1956 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ 1986 میں بنی تھی۔ ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 220 فلموں میں کام کیا جن میں تین پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔ سفیر اللہ لہری کو سنہ 1964 سے 1986 تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    کا رہائے نمایاں
    فلمیں

    انوکھی (1956)
    انسان بدلتا ہے ,
    رات کے راہی،
    فیصلہ، جوکر،
    کون کسی کا، آگ،
    توبہ،
    پیغام، (1964 ایوارڈ یافتہ)
    کنیز، (1965 ایوارڈ یافتہ)
    جیسے جانتے نہیں،
    دوسری ماں،
    اِک نگینہ،
    اِک مسافراِک حسینہ،
    چھوٹی امی،
    میں وہ نہیں(1967 ایوارڈ یافتہ)
    تم ملے پیار ملا،
    صاعقہ (1968 ایوارڈ یافتہ)
    بہادر،
    نوکری،
    بہاریں پھر بھی آئیں گی،
    افشاں،
    رم جھم،
    بالم،
    جلتے سورج کے نیچے،
    پھول میرے گلشن کا،
    انجان،
    پرنس،
    ضمیر،
    آنچ،
    صائمہ، (1985 ایوارڈ یافتہ)
    دل لگی، (1972 ایوارڈ یافتہ)
    آگ کا دریا،
    ہمراز،
    دیور بھابھی،
    داغ،
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969 ایوارڈ یافتہ)
    بندھن،
    آج اور کل (1976 ایوارڈ یافتہ)
    تہذیب،
    دلہن رانی،
    زبیدہ،
    زنجیر،
    نیا انداز، (1979 ایوارڈ یافتہ)
    موم کی گڑیا،
    جلے نہ کیوں پروانہ،
    گھرہستی،
    رسوائی،
    بدل گیا انسان،
    انجمن (1970 ایوارڈ یافتہ)
    اپنا پرایا،
    دو باغی،
    سوسائٹی،
    انہونی،
    ننھا فرشتہ،
    ایثار،
    دامن،
    آنچل،
    بیوی ہو تو ایسی (1986 ایوارڈ یافتہ)
    دھنک 1986

    مزید فہرست مظہر میگزین۔ لہری
    ڈرامے

    آنگن ٹیڑھا
    یس سر نو سر (اسٹیج پلے)

    اعزازات

    وہ واحد مزاحیہ اداکار تھے جہنوں نے 12 مرتبہ اپنی منفرد اداکاری پر نگار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت پاکستان نے ان کی اس خدمات پر 1996 میں حسین کارگردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔[3] ان کے نگار ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں درج ذیل ہيں :

    پیغام، (1964)
    کنیز، (1965)
    میں وہ نہیں(1967)
    صاعقہ (1968)
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969)
    انجمن (1970)
    دل لگی، (1972)
    آج اور کل (1976)
    نیا انداز، (1979)
    صائمہ، (1985)
    بیوی ہو تو ایسی (1986)

    تاثرات وتبصرے

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔
    خوبی

    لہری کی خاص بات ان کے ڈائیلاگز تھے۔ جس انداز سے وہ بولتے وہی ان کی پہچان بنا۔۔ ان کی بذلہ سنجی کا کمال دیکھیے کہ بیمار ہوں یاپریشان کبھی شکن نہ آئی ماتھے پر۔۔ لہری نے ہمیشہ ایسی کامیڈی کی جس پر شائقین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔۔۔۔ لیکن ان کے جملوں پر کوئی ناراض نہیں ہوا۔۔۔ لہری کو بارہ نگار ایوارڈز اور فلم انڈسٹری کی جانب سے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔۔

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا۔
    ہم عصروں کی نظر میں
    شبنم اور رابن گھوش

    اداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔ ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘
    نئے فنکاروں کی نظر میں
    شکیل صدیقی

    اداکار شکیل صدیقی نے کہا کہ اداکار لہری ہمارے طنز و مزاح کے شعبے کے وہ درخشاں ستارے تھے جس کی روشنی میں مجھ سمیت دیگر فنکاروں نے اپنا فنی سفر شروع کیا، وہ ہمارے لیے درخشاں مثال تھے۔
    کاشف خان

    اداکار کاشف خان نے کہا کہ میں تو ان ہی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہوں، میں نے کامیڈی کا انداز لہری سے سیکھا اور ان ہی کی طرز پر میں ملک اور بیرون ملک پرفار م کرتاہوں، لہری پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجینڈ کامیڈین تھے، خدا ان پر رحمتیں نچھاور کرے۔
    بذلہ سنجی

    خود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ کراچی میں آخری ایام میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔ جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔ یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے۔ اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا”۔
    آخری ایام

    ان کا آخری ایوارڈ نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں ان کی فلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بنکاک میں فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کر دیا ہے۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔ انتقال سے پہلے عید الفطر کے دوسرے روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انہیں پھیپھڑ وں میں پانی بھر جانے کے باعث لایا گیا تھا تاہم ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    13 ستمبر 2012 میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔۔!!!

  • 5 ڈاکو گرفتار

    5 ڈاکو گرفتار

    قصور
    کوٹ رادہاکشن میں بھٹہ خشت سے پانچ ڈاکو گرفتار
    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ کوٹ رادہاکشن ملک کفایت حسین کھوکھر نے ہنڈال روڈ پر واقع بھٹہ خشت جو کہ کافی عرصے سے بند پڑا ہے پر مخبر کی اطلاع پر کاروائی کی تو پانچ ڈاکو اسلحہ سمیت گرفتار دھر لیئے
    یہ ڈاکو پہلے سے اشتہاری تھے اور قصور پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب تھے
    گزشتہ کئی دنوں سے کوٹ رادہاکشن اور گردونواح میں وارداتیں ہو رہی تھیں جو کہ یہی گینگ کر رہا تھا
    لوگوں نے پولیس کا خطرناک مجرمان پکڑنے پر شکریہ ادا کیا

  • یکجہتی کشمیر

    یکجہتی کشمیر

    قصور میں یکجہتی کشمیر کے پوسٹرز آویزاں
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح کے دیہات میں ہر دیوار پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پوسٹرز آویزاں ہیں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے ہندوستان کی بربریت کے خلاف اپنے اپنے انداز میں پوسٹرز، پینا فلیکس چھپوا کر آویزاں کئیے ہیں
    نیز سیاسی ،سماجی حلقوں نے گورنمنٹ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انڈیا سے ہر سطح پر تعلقات خرم کیئے جائیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے
    آج بروز جمعہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جگہ جگہ ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ انڈیا کے ظلم و بربریت پر احتجاج کرینگے

  • خطرناک ترین پل

    خطرناک ترین پل

    قصور
    پتوکی اور چھانگا مانگا کو ملانے والے پل پستہ حالی کا شکار
    تفصیلات کے مطابق پتوکی اور چھانگا مانگا دونوں شہروں کو ملانے والے پل کی حالت انتہائی خراب ہے عرصہ دراز سے نہر پر بنا پل جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے آج دن تک انتظامیہ نے معمولی مرمت کے علاوہ اس پل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ اس پل کے چند ہی گز کے فاصلے پر ریل گاڑی کا ٹریک بھی گزرتا ہے جس کی بدولت اس پل کو جلد نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے مذید یہ کہ پل انتہائی کم چوڑا ہے جس کے باعث ایک وقت میں ایک ہی بس ،کوسٹر گزر سکتی ہے
    واضع رہے کہ اسی پل سے چند سال قبل وین بے قابو ہو کر نیچے نہر میں جا گری تھی جس کی بدولت 18 افراد جانبحق ہوئے تھے

  • واردات والا موبائل

    واردات والا موبائل

    قصور
    4 دن پہلے ہونے والی واردات میں چھینا گیا موبائل تا حال چلتا رہا جس کی لوکیشن معلوم کرنے سے پولیس قاصر
    تفصیلات کے مطابق 8 تاریخ کو تھانہ راجہ جھنگ پولیس چوکی اوراڑہ کی حدود میں سر شام 7 بجے ہوئی واردات میں عامر انصاری ولد نزیر انصاری کا چھینا گیا موبائل چل رہا تھا جس پر عامر انصاری نے چوکی اوراڑہ کے انچارج سے کہا کہ میرے نمبر پر کال جا رہی ہے مگر کوئی ریسیو نہیں کرتا لہذہ لوکیشن معلوم کرکے میرا موبائل ڈھونڈا جائے جس پر چوکی انچارج نے کہا ابھی دس محرم کی بدولت چھٹیاں ہیں لہذہ چھٹیاں ختم ہوتے ہی لوکیشن معلوم کرکے موبائل ڈھونڈ لینگے مگر تاحال پولیس نے موبائل کی لوکیشن معلوم نہیں کی جبکہ مسلسل کالیں ہونے کی بدولت کل رات موبائل بیٹری ختم ہونے یاں کسی کے ہتھے چڑھنے پر بند ہو گیا
    پولیس کی اس غفلت کی بدولت ایک شہری کا قیمتی موبائل تو بے کار ہوا ہی مگر اس کے ساتھ ابتدائی تفتیش کا موقع بھی ضائع ہوا تاہم ابھی تک پولیس نے صرف درخواست دائر کی ہے پرچہ نہیں کاٹا عامر انصاری نے کہا ہے کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اوپر سے پولیس پرچہ بھی نہیں کاٹ رہی لہذہ اس واقعہ کا نوٹس ڈی پی او قصور لیں اور مجھے انصاف مہیا کریں

  • پانی چوری

    پانی چوری

    قصور شہر میں منرل واٹر کے نام پر گندے پانی کی فروخت
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردو نواح میں میں چند ایک جگہوں پر پانی کے نکلوں اور راجباہوں کا پانی کسی حد تک کم نمکین ہے جس کا فائدہ اٹھا کر چند ضمیر فروش اس پانی کو معمولی صاف کرکے منرل واٹر کی بوتلوں میں پیکنگ کرکے بیچ کر بھاری منافع کما رہے ہیں جس سے عوام میں بیماریاں پھیل رہی ہیں
    لوگوں نے متعلقہ محکمہ سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • واٹر فلٹریشن پلانٹس بیماریوں کے موجب

    واٹر فلٹریشن پلانٹس بیماریوں کے موجب

    قصور
    واٹر فلٹریشن پلانٹس مضر صحت پانی فراہم کرنے لگے
    تفصیلات کے مطابق قصور میں گزشتہ دور حکومت میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے تھے جو کہ اکثر بند پڑے ہیں اور جو چند ایک چل رہے ہیں ان کےفلٹرز انتظامیہ نے کبھی تبدیل نا کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اتنے عرصے سے ان پلانٹس کی کوئی صفائی نہیں ہوئی اور نا ہی ان کے فلٹرز بدلے گئے جس سے لاکھوں روپے کی لاگت سے لگائے گئے واٹرفلٹریشن پلانٹ صحت کی بجائے بیماریا ں بانٹنے لگے ہیں
    لوگوں نے انتظامیہ سے استدعا کی ہے کہ جو پلانٹ بند پڑے ہیں انہیں چالو کیا جائے اور دوسرے پلانٹوں کی صفائی بھی کی جائے

  • سگے بھائی اور بھابھی پر ظلم

    سگے بھائی اور بھابھی پر ظلم

    قصور
    چھانگا مانگا کوٹ اودھم سنگھ میں سگے بھائیوں کا بھائی اور بھابھی پر تشدد
    تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا کے گاؤں اودھم سنگھ کا رہائشی محمد علی قوم راجپوت اپنے وراثتی مکان میں رہتا تھا جسے اس کے سگے بھائی کاشف اور تاج دین ڈراتے دھمکاتے تھے کہ ہم تمہیں حصہ لینے نہیں دینگے جس کی بناء پر روز جھگڑا رہتا تھا جس کی بدولت محمد علی اپنی بیوی رضیہ بی بی اور بچوں کو لے کر اپنے سسرال گجرانوالا رہنے لگا جبکہ اپنی زوجہ کا جہیز کا سامان اپنے وراثتی مکان میں ہی رہنے دیا کل دونوں میاں بیوی گجرانوالا سے اپنے گھر پہنچے تو انہیں گھر میں دیکھتے ہی کاشف اور تاج دین نے گالیاں دینی شروع کر دیں جس پر اہل محلہ نے خاموش کروایا مگر 5 منٹ بعد ہی دونوں بھائیوں نے اپنی بھابھی رضیہ بی بی اور بھائی محمد علی کو مارنا شروع کر دیا جس سے رضیہ بی بی بے ہوش ہو گئی رضیہ بی بی کے گال پر نشان پڑ گئے 15 منٹ بعد رضیہ بی بی ہوش میں آئی تو ہمراہ اپنے شوہر تھانہ چھانگا مانگا پہنچی جہاں اس نے اپنے حقیقی دیوروں کے خلاف درخواست دی جس پولیس درج کرکے جلد کاروائی کا وعدہ کیا ہے
    رضیہ بی بی کی ڈی پی او قصور اور ایس ایچ اور چھانگا مانگا سے استدعا ہے کہ مجھے اور میرے خاوند کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہے لہذہ ملزمان کو پکڑ کر قانونی کاروائی کی جائے

  • ڈاکو راج برقرار

    ڈاکو راج برقرار

    قصور
    کنگن پور کے نواح میں ڈاکو راج

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات تین ڈاکو رات آٹھ بجے پھاٹک بھاگو کے آرائیاں پر شہریوں کو لوٹتے رہے
    ڈاکو ناکہ بندی کر کے شہریوں سے موبائل اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے
    مزاحمت کرنے پر یونس نامی شخص اور اس کے ملازم یسین کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا
    دونوں زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں طبعی امداد کے لئے ریفر کر دیا گیا
    دونوں زخمیوں کی عمریں 35سے 55 سال ہے
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس گشت کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتیوں کا سلسلہ جاری

  • قصور میں موبائل سروس بند سخت سیکیورٹی

    قصور میں موبائل سروس بند سخت سیکیورٹی

    قصور
    پورا سرکلر روڈ بند جگہ جگہ پولیس تعینات
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کو رات ہی جگہ جگہ بیریئر اور کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے ذوالجناح کے جلوس کی سیکیورٹی کیلئے پورے اندرون شہر کو بند کر دیا گیا ہے موبائل و انٹرنیٹ سروس بند ہے اندرون شہر کے رہائشیوں کو پولیس کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ اپنی چھتوں پر نا جائیں جبکہ روڈ پر واقع گھروں اور دکانوں کی چھتوں پر پولیس اور رضا کار فورس تعینات کی گئی ہے اندرون شہر کے رہائشییوں کیلئے آنے جانے کیلئے پیدل راستے کھلے ہیں جبکہ ہر قسم کی سواریوں کی ممانعت ہے جو کہ شام تک برقرار رہے گی جبکہ کسی بھی حادثے سے نمٹنے کیلئے ریسکیو 1122 ،فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی الرٹ ہیں موبائل فون کی بندش کی بدولت لوگوں کو رابطے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ذوالجناح کے روٹ کی رات سے مکمل نگرانی کی جا رہی ہے اس سارے سیکیورٹی پلان کی نگرانی ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی خود کر رہے ہیں جبکہ میڈیا پرسنز کو کوریج کیلئے پولیس کی جانب سے خصوصی کارڈ جاری کیئے گئے ہیں