افواج پاکستان کے ادارہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے ایک بھارتی صحافی کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ہندوتوا کا پرچار کرنے والے بھارتی عوام کو احساس ہو گا کہ انہوں نے کس حکومت کا انتحاب کیا ہے ،
بھارتی صحافی اشوک سوائن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاک فضائیہ کی ایک تقریب کی فوٹیج شئر کی جس میں بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا گیا تھا اور اشوک نے ساتھ لکھا کہ اگر افواج پاکستان کو اس چیز کا علم پہلے سے تھا کہ نریندر مودی الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان کارڈ استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے ایف سولہ کو گرانے کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے تو بھارتی الیکشن سے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا ،
https://twitter.com/ashoswai/status/1173149984633565184
جس کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے 5 اپریل 2019 کی اپنی ٹویٹ شیر کی اور کہا کہ ہم نے کئی مواقع پر اس بات کو بھارتی عوام تک پہنچانے کی کوشش کی کہ مودی پاکستان کارڈ کھیل رہا ہے لیکن بھارتی سائڈ پر آپ جیسے سمجھدار لوگ بہت کم تھے جو حالات کو بھانپ لیتے ، بہرحال وقت بتائے گا کہ ہندوتوا کے پیروکاروں نے اپنے ملک کیلئے کن لوگوں کا انتحاب کیا ہے ، ہم پہلے بھی سچ اور حق پر تھے اور آئندہ بھی سچ کے ساتھ رہیں گے ، اور مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے یہ اس کے زوال کا آغاز ہے ،
https://twitter.com/peaceforchange/status/1173281583522025473?s=08
Tag: baaghi
-

مقبوضہ کشمیر میں مودی کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے ، آصف غفور
-

قائداعظم ٹرافی: سندھ کے عابد علی نے 249 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی
یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں جاری میچ کے دوسرے روز سندھ نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 237 رنز سے اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو عابد علی بلوچستان کی باؤلنگ کے سامنے ڈٹ گئے۔ انہوں نے میچ کے دوسرے روز 129رنز کا اضافہ کیا اور 249 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
ان کی اننگزمیں 26 چوکے شامل تھے۔ میزبان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے 473 رنز 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر اننگز ڈکلیئر کردی۔ بلوچستان کی جانب سے یاسر شاہ نے 3 جبکہ عمران فرحت اور خرم شہزاد نے 1،1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ جواب میں بلوچستان کی جانب سے امام الحق اور عظیم گھمن نے اننگز کا آغاز کیا۔ دن کے اختتام تک مہمان ٹیم نے بغیر کوئی وکٹ گنوائے 16 رنز بنائے ۔میچ کے تیسرے روز امام الحق 9 اور عظیم گھمن 6 رنز سے اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ -

بجلی چوروں کی شامت
قصور الہ آباد
لیسکو ٹاسک فورس کا بجلی چوروں کے خلاف آپریشن درجنوں بجلی چور رنگے ہاتھوں گرفتار
تھانہ الہ آباد میں بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے
تفصیلات کے مطابق الہ آباد، تلونڈی،پکھوکی،ججل،بھیڑ سوہڈیاں،کوٹ سردار فیض گنجہ،دیو کھارا،فارو ق آباد و دیگر علاقوں میں لیسکو ٹاسک فورس نے ایس ڈی اوز محمد طارق اور عبدالرشید وٹو کی سربراہی میں بجلی چوروں کے خلاف سخت آپریشن کیا جس کے دوران درجنوں بجلی چور رنگے ہاتھوں بجلی چوری کرتے موقع پر ہی دھر لئے گئے نائٹ چیکنگ کے دوران صارفین کی بڑی تعداد بجلی چوری کرتی پائی گئی جنکے خلاف مقامی تھانے میں مقدمات درج کر لئے گئے اور انہیں ڈی بل کی صورت میں ہزاروں یونٹ ڈال دیے گئے ہیں
ایس ڈی اوز نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایس ای قصور ناصر ایاز گورمانی کی ہدایت پر آخری بجلی چور کے پکڑے جانے تک یہ آپریشن دن رات جاری رہے گا -

سبزیاں آسمان پر
قصور
انتظامیہ سے مبینہ ملی بھگت سبزیوں کی من مرضی کی قیمتوں پر فروخت جاری شہری چلا اٹھے ڈی سی قصور سے سرکاری قیمتوں پر سبزیوں کی فروخت یقینی بنانے کا مطالبہ کر دیا
تفصیلات کے مطابق قصور راءوں خان والا راجہ جھنگ الہ آباد،تلونڈی،شامکوٹ،ارزانی پور و گردونواح میں دکاندار سبزیاں سرکاری ریٹ لسٹ کیمطابق فروخت کرنے کی بجائے من مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جن میں گوبھی 60 روپے کلو کی بجائے 100لیموں 160کی بجائے 400 روپے ،آلو 70روپے کی بجائے 90روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کئے جا رہے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے شہریوں وقاص ،بلال ،وسیم ،عبداللہ ،ابوبکر و دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ دکاندار گراں فروشی کی انتہا کئے ہوئے ہیں انتظامیہ کو تحریری طور پر شکایات کرنے کے باوجود گراں فروشوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی ہے یہاں تک کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی ریٹس ایپ بھی بے معنی ثابت ہو رہی ہے جبکہ دکانداروں کے گاہکوں سے جھگڑنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ڈی سی قصور سرکاری ریٹ لسٹ کیمطابق سبزیوں کی فروخت کو یقینی بنائیں تاکہ مہنگائی کے مارے لوگ سکھ لے سکیں -

قصور ہسپتال میں مرضی کے ریٹ
قصور کا ڈی ایچ کیو ہسپتال ملازمین کے قبضے میں
تفصیلات کے مطابق قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایکسرے وارڈ میں بیٹھے سرکاری ملازمین نے محمد طفیل منڈی عثمان والا کے رہائشی سے منیر اور عاطف ملازمین ہسپتال نے MLC رپورٹ دینے کیلئے مبلغ 92 ہزار رقم وصول کی اور اسی طرح احسان علی جو کہ رحمان ٹاؤن کا رہائشی ہے نے بتایا کہ منیر ایکسرے انچارج اور عاطف نے مجھ سے MLC رپورٹ کیلئے 20 ہزار روپے مانگے جس کی رپورٹ میں نے میڈیا نمائندگان کو کی جب میڈیا کی ٹیم ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں پہنچہی تو منیر ایکسرے انچارج اور اس کے بیٹے نے میڈیا کا کیمرہ چھیننے کی کوشش کی ایکسرے ٹیکنیشن منیر احمد نے اپنے بیٹے عاطف اور رشتہ دار علی نامی نوجوان کو سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ طور پر افسران کی ملی بھگت سے رکھوا رکھا ہے جو کہ غیر قانونی طور پر ہسپتال میں سرکاری ملازم بن بیٹھے ہیں جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتال میں ایکسرے فیس 60 روپے کے قریب ہے جب کہ سرکاری فیس کی مد میں ایکسرے فیس 250 روپے کے قریب وصول کی جاتی ہے مریضوں کو جعلی ایکسرے رپورٹ بنانے کی فیس 20 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک وصول کی جاتی ہے جس سے ایکسرے ٹیکنیشن لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگا کر اربوں کی جائیداد بنانے کے ساتھ ساتھ لگژری لائف سٹائل میں مصروف ہے اس ہسپتال میں آئے مریضوں کے لواحقین اور قصور کی سماجی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈی سی قصور اور ای ڈی او ہیلتھ ایکسرے ٹیکنیشن منیر احمد کے خلاف کرپشن کرنے پر سخت سے سخت کاروائی کریں آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے اور لاکھوں روپے روزانہ کی کرپشن کرنے کے جرم میں ایکسرے ٹیکنیشن کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ لوگوں کو سرکاری ہسپتال سے ریلیف مل سکے -

ٹیلی نار کمپنی لٹ گئی
قصور
کوٹ رادہاکشن میں نجی موبائل کمپنی کے دفتر پر ڈاکہ
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادہاکشن میں کل دن ایک بجے اعظم پلازہ میں ٹیلی نار فرنچائز پر دن دیہاڑے تین نامعلوم افراد نے فرنچائز میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کر دی فائرنگ کی زد میں آکر عبدالغفار نامی سیل مین گولی لگنے سے زخمی ہو گیا
واردات سے اعظم پلازہ میں بھگدڑ مچ گئی ڈاکوءوں نے تقریبا چار لاکھ روپے نقدی لوٹی اور نکل جانے میں کامیاب ہو گئے زخمی عبدالغفار کو ٹی ایچ کیو ہسپتال لیجایا گیا جہاں اسے لاھور ریفر کر دیا گیا
آئے روز کی ڈکیتیوں کی وجہ سے شہر میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے شہریوں نے اعلی حکام سے امن و امان کو بحال رکھنے کی اپیل کی ہے -

لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار
لہری کی وفات ۔۔!!
معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار۔ اصل نام سفیر اللہ صدیقی،2 جنورری 1929 میں پیدا ہوئے۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
منور ظریف، نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لیے فلم انڈسٹری میں اپنے لیے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین مزاحیہ اداکار کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا-
وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لیے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔
کیرئر کا آغاز
لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں ایک فنکشن میں ‘مریض عشق’ کے نام ایک ڈرامے میں پرفامنس دے کر کیا جس میں ان کو بے انتہا پزیرائی ملی اپنی اس شاندار کارگردگی سفیر اللہ ہو گئے خوش فہمی کا شکار اور پہنچ گئے ریڈیو پاکستان پر ریڈیو پاکستان کے پہلے آڈیشن میں فیل قرار دے دیا گیا لیکن باہمت اور محنتی انسان نے ہمت نہیں ہاری اور انتھک محنت کے بعد آخر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی ۔ 1955ء میں لچھو سیٹھ (شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے) نے ایک فلم ‘انوکھی’ بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہٴ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
عروجان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ 1956 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ 1986 میں بنی تھی۔ ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 220 فلموں میں کام کیا جن میں تین پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔ سفیر اللہ لہری کو سنہ 1964 سے 1986 تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
کا رہائے نمایاں
فلمیںانوکھی (1956)
انسان بدلتا ہے ,
رات کے راہی،
فیصلہ، جوکر،
کون کسی کا، آگ،
توبہ،
پیغام، (1964 ایوارڈ یافتہ)
کنیز، (1965 ایوارڈ یافتہ)
جیسے جانتے نہیں،
دوسری ماں،
اِک نگینہ،
اِک مسافراِک حسینہ،
چھوٹی امی،
میں وہ نہیں(1967 ایوارڈ یافتہ)
تم ملے پیار ملا،
صاعقہ (1968 ایوارڈ یافتہ)
بہادر،
نوکری،
بہاریں پھر بھی آئیں گی،
افشاں،
رم جھم،
بالم،
جلتے سورج کے نیچے،
پھول میرے گلشن کا،
انجان،
پرنس،
ضمیر،
آنچ،
صائمہ، (1985 ایوارڈ یافتہ)
دل لگی، (1972 ایوارڈ یافتہ)
آگ کا دریا،
ہمراز،
دیور بھابھی،
داغ،
نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969 ایوارڈ یافتہ)
بندھن،
آج اور کل (1976 ایوارڈ یافتہ)
تہذیب،
دلہن رانی،
زبیدہ،
زنجیر،
نیا انداز، (1979 ایوارڈ یافتہ)
موم کی گڑیا،
جلے نہ کیوں پروانہ،
گھرہستی،
رسوائی،
بدل گیا انسان،
انجمن (1970 ایوارڈ یافتہ)
اپنا پرایا،
دو باغی،
سوسائٹی،
انہونی،
ننھا فرشتہ،
ایثار،
دامن،
آنچل،
بیوی ہو تو ایسی (1986 ایوارڈ یافتہ)
دھنک 1986مزید فہرست مظہر میگزین۔ لہری
ڈرامےآنگن ٹیڑھا
یس سر نو سر (اسٹیج پلے)اعزازات
وہ واحد مزاحیہ اداکار تھے جہنوں نے 12 مرتبہ اپنی منفرد اداکاری پر نگار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت پاکستان نے ان کی اس خدمات پر 1996 میں حسین کارگردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔[3] ان کے نگار ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں درج ذیل ہيں :
پیغام، (1964)
کنیز، (1965)
میں وہ نہیں(1967)
صاعقہ (1968)
نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969)
انجمن (1970)
دل لگی، (1972)
آج اور کل (1976)
نیا انداز، (1979)
صائمہ، (1985)
بیوی ہو تو ایسی (1986)تاثرات وتبصرے
لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔
خوبیلہری کی خاص بات ان کے ڈائیلاگز تھے۔ جس انداز سے وہ بولتے وہی ان کی پہچان بنا۔۔ ان کی بذلہ سنجی کا کمال دیکھیے کہ بیمار ہوں یاپریشان کبھی شکن نہ آئی ماتھے پر۔۔ لہری نے ہمیشہ ایسی کامیڈی کی جس پر شائقین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔۔۔۔ لیکن ان کے جملوں پر کوئی ناراض نہیں ہوا۔۔۔ لہری کو بارہ نگار ایوارڈز اور فلم انڈسٹری کی جانب سے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔۔
لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا۔
ہم عصروں کی نظر میں
شبنم اور رابن گھوشاداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔ ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘
نئے فنکاروں کی نظر میں
شکیل صدیقیاداکار شکیل صدیقی نے کہا کہ اداکار لہری ہمارے طنز و مزاح کے شعبے کے وہ درخشاں ستارے تھے جس کی روشنی میں مجھ سمیت دیگر فنکاروں نے اپنا فنی سفر شروع کیا، وہ ہمارے لیے درخشاں مثال تھے۔
کاشف خاناداکار کاشف خان نے کہا کہ میں تو ان ہی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہوں، میں نے کامیڈی کا انداز لہری سے سیکھا اور ان ہی کی طرز پر میں ملک اور بیرون ملک پرفار م کرتاہوں، لہری پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجینڈ کامیڈین تھے، خدا ان پر رحمتیں نچھاور کرے۔
بذلہ سنجیخود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ کراچی میں آخری ایام میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔ جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔ یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے۔ اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا”۔
آخری ایامان کا آخری ایوارڈ نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں ان کی فلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بنکاک میں فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کر دیا ہے۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔ انتقال سے پہلے عید الفطر کے دوسرے روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انہیں پھیپھڑ وں میں پانی بھر جانے کے باعث لایا گیا تھا تاہم ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
13 ستمبر 2012 میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔۔!!!
-

5 ڈاکو گرفتار
قصور
کوٹ رادہاکشن میں بھٹہ خشت سے پانچ ڈاکو گرفتار
تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ کوٹ رادہاکشن ملک کفایت حسین کھوکھر نے ہنڈال روڈ پر واقع بھٹہ خشت جو کہ کافی عرصے سے بند پڑا ہے پر مخبر کی اطلاع پر کاروائی کی تو پانچ ڈاکو اسلحہ سمیت گرفتار دھر لیئے
یہ ڈاکو پہلے سے اشتہاری تھے اور قصور پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب تھے
گزشتہ کئی دنوں سے کوٹ رادہاکشن اور گردونواح میں وارداتیں ہو رہی تھیں جو کہ یہی گینگ کر رہا تھا
لوگوں نے پولیس کا خطرناک مجرمان پکڑنے پر شکریہ ادا کیا -

یکجہتی کشمیر
قصور میں یکجہتی کشمیر کے پوسٹرز آویزاں
تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح کے دیہات میں ہر دیوار پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پوسٹرز آویزاں ہیں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے ہندوستان کی بربریت کے خلاف اپنے اپنے انداز میں پوسٹرز، پینا فلیکس چھپوا کر آویزاں کئیے ہیں
نیز سیاسی ،سماجی حلقوں نے گورنمنٹ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انڈیا سے ہر سطح پر تعلقات خرم کیئے جائیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے
آج بروز جمعہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جگہ جگہ ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ انڈیا کے ظلم و بربریت پر احتجاج کرینگے -

خطرناک ترین پل
قصور
پتوکی اور چھانگا مانگا کو ملانے والے پل پستہ حالی کا شکار
تفصیلات کے مطابق پتوکی اور چھانگا مانگا دونوں شہروں کو ملانے والے پل کی حالت انتہائی خراب ہے عرصہ دراز سے نہر پر بنا پل جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے آج دن تک انتظامیہ نے معمولی مرمت کے علاوہ اس پل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ اس پل کے چند ہی گز کے فاصلے پر ریل گاڑی کا ٹریک بھی گزرتا ہے جس کی بدولت اس پل کو جلد نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے مذید یہ کہ پل انتہائی کم چوڑا ہے جس کے باعث ایک وقت میں ایک ہی بس ،کوسٹر گزر سکتی ہے
واضع رہے کہ اسی پل سے چند سال قبل وین بے قابو ہو کر نیچے نہر میں جا گری تھی جس کی بدولت 18 افراد جانبحق ہوئے تھے