سرگودھا۔06اگست(اے پی پی) سیکرٹری ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھار ٹی نے حکومت کی ہد ایت کے مطابق ضلع بھر میں مسافر گاڑیوں اور سکول وینز میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے یہ حکم اوگرا کی طرف سے جاری نوٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے نافذ کیا۔ انہوں نے اس حوالہ سے پولیس اور ٹریفک کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ مسافر گاڑیوں کی شہری وقومی شاہراہوں پر چیکنگ کو سخت بنائیں۔ایل پی جی او رسی این جی سلنڈر استعمال کرنے والی گاڑیوں کو تھانوں میں بند کر دیا جائے اور انہیں بھاری جرمانے کیے جائیں اور ان کے سلنڈر بحق سرکار ضبط کر لیے جائیں۔ انہوں نے ٹرانسپوٹروں کو خبر دار کیا کہ وہ پابندی پر سختی سے عمل د رآمد کریں تاکہ انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی خسارہ سے محفوظ رکھا جاسکے۔
Tag: baaghi
مظفرگڑھ میں پولیس کا سرچ آپریشن،9افراد گرفتار اسلحہ برآمد
مظفرگڑھ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران پولیس نے 9 افراد کو گرفتار کرکے ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا گیا.مظفرگڑھ کے علاقے چوک سرور شہید اور اطراف کے علاقوں میں گرینڈ سرچ آپریشن جاری ہے.پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق آپریشن میں پولیس اور ایلیٹ فورس کے 200 سے زائد افسران اور اہلکار شریک ہیں.گھروں کی چیکنگ اور بائیومیٹرک تصدیق کے بعد 9 ملزمان گرفتار.پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق گرفتار کیے گئے ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے.
دہم کے امتحانات میں ضلع مظفرگڑھ کا نام روشن کرنے والوں کے اعزاز میان تقریب
دہم کلاس کے امتحانات میں صوبہ بھر میں ضلع کا نام روشن کرنے والے طلباء وطالبات کے اعزاز میں مظفرگڑھ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا،بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءوطالبات میں ایوارڈ،انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے.دسویں کلاس میں صوبہ بھر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گورنمنٹ ہائی سکول خورشید آباد میں طلباءوطالبات اور اساتذہ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور سمیت ممبران اسمبلی،اساتذہ اور طلباءوطالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور ودیگر کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے بہترین نتائج حاصل ہوئے.ان کا کہنا تھا کہ دسویں کلاس میں ضلع مظفرگڑھ نے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور امتحانات میں ضلع کا نتیجہ شاندار 91.43 فیصد رہا.اس موقع پر ممبران اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر نے امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءوطالبات اور اساتذہ میں ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے.

ماضی کی معروف ہدایت کارہ،فلم پروڈیوسر اور اداکارہ شمیم آراء
اداکارہ شمیم آرا ۔۔!!
پیدائش
22 مارچ 1938 علی گڑھ
وفات
5 اگست 2016 (78 سال)
وفات لندن
شمیم آرا پاکستانی اداکارہ، فلمی ہدایت کار، فلم پروڈیوسر تھیں۔ وہ 1950ء کی دہائی سے 1970ء کی دہائی تک پاکستان کی مقبول عام اور صفِ اول کی اداکارہ تھیںابتدائی حالات
شمیم آرا 22 مارچ 1938ء کو علی گڑھ موجودہ بھارت میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا پیدائشی نام پتلی بائی تھا مگر فلمی دنیا میں وہ شمیم آرا کے نام سے مشہور ہوئیں۔
فلمی دور
1956ء میں شمیم آرا جب اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو آئیں تو یہاں ایک فلمی ہدایت کار نجم نقوی نے اُنہیں ایک آئندہ فلم کے لیے کاسٹ کر لیا۔ نجم نقوی اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کسی نئے چہرے کی تلاش میں تھے اور وہ شمیم آرا کی خوبصورت نرم آواز، معصومانہ انداز سے بہت متاثر ہوئے اور اُنہیں اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کاسٹ کر لیا جو 1956ء میں ریلیز ہوئی۔ وہ شمیم آرا کی پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں شمیم آرا کو متعارف کروانے والے نجم نقوی ہی تھے۔ نجم نقوی نے اُنہیں شمیم آرا کے فلمی نام سے متعارف کروایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ فلم پردے پر ناکام ثابت ہوئی۔ مگر کنواری بیوہ نے اپنے ناظرین کے دلوں میں کچھ زیادہ اثر تو نہ چھوڑا مگر شمیم آرا کی معصومانہ اندازِ بیاں اور خوبصورتی نے ناظرین و شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ اِس طرح پاکستانی فلمی دنیا میں ایک نئی اداکارہ کی جھلک ساٹھ کی دہائی ختم ہونے سے قبل ہی دکھائی دینے لگی تھی۔1958ء میں نور جہاں (گلوکارہ) کی ایک فلم انارکلی میں شمیم آرا نے مختصر سی اداکاری کی۔ اِس فلم میں وہ انارکلی کی چھوٹی بہن ثریا کے رول میں منظرعام پر آئیں۔ 1958ء سے 1960ء تک شمیم آرا نے متعدد فلموں میں اداکاری کی مگر وہ نمایاں ستارہ بن کر جگمگانے میں کامیاب نہ ہو رہی تھیں کہ 1960ء میں اُن کی فلم سہیلی (فلم) نے اُنہیں فلمی دنیا پر چمکنے کا قیمتی موقع فراہم کر دیا۔ سہیلی کی کامیاب نمائش پر وہ صفِ اول کی اداکاراوں میں شمار ہونے لگی تھیں۔ 1962ء میں اُن کی فلم قیدی کی نمائش ہوئی جس میں فیض احمد فیض کی غزل مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ شمیم آرا پر فلمائی گئی اور یہ فلم 1962ء میں کامیاب ترین فلم تھی۔ 1962ء میں شمیم آرا کی کئی کامیاب فلموں کی نمائش ہوئی جو یہ ہیں: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور، قیدی، اِنقلاب ۔1963ء میں بھی وہ پاکستانی فلمی دنیا کی کامیاب ترین فلمیں دینے والی صفِ اول کی اداکارہ تھیں، 1963ء کی مشہور فلمیں یہ تھیں: دلہن، اِک تیرا سہارا، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں اُن کی پہلی رنگین فلم سنگم کی نمائش 23 اپریل 1964ء کو ہوئی۔ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) میں 29 اکتوبر 1965ء کو شمیم آرا کی مقبولِ عام رنگین فلم نائیلہ کی نمائش ہوئی جس سے ناظرین شمیم آرا کی خوبصورتی سے واقف ہوئے اور اُن کی اداکاری کے چرچے عام ہو گئے۔1960ء کی دہائی کی وہ صفِ اول کی اداکارہ تھیں۔ 1970ء کی دہائی میں وہ فلمی کیرئیر سے پیچھے ہٹتی گئیں اور بطور فلمی ہدایت کارہ اور فلم پروڈیوسر کئی فلمیں بنائیں۔
بحیثیت فلمی ہدایت کار
بحیثیتِ فلمی ہدایت کار 1976ء میں شمیم آرا کی پہلی فلم جیو اور جینے دو تھی۔ 1978ء میں ایک اور فلم پلے بوائے کے نام سے پیش کی۔ 1979ء میں مس ہانگ کانگ نامی فلم پیش کی۔ 1984ء میں مس کولمبو کی نمائش ہوئی۔ 1985ء میں مس سنگاہور کی نمائش ہوئی۔ 1987ء میں لیڈی اسمگلر کی نمائش ہوئی۔ 1989ء میں لیڈی کمانڈو، 1993ء میں ہاتھی میرا ساتھی، 1994ء میں آخری مجرا، 1995ء میں منڈا بگڑا جائے، 1996ء میں ہم تو چلے سرال، 1996ء میں مس استنبول، 1996ء میں لو 95، 1997ء میں ہم کسی سے کم نہیں، جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی۔ 1995ء میں منڈا بگڑا جائے کامیاب ترین فلم تھی۔ بحیثیت فلمی ہدایت کار، پل دو پل اُن کی آخری فلم تھی جس کی نمائش 1999ء میں ہوئی۔
علالت اور وفات
2004ء میں شمیم آرا اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن مقیم ہوگئیں۔ اِس دوران میں وہ پاکستان دو بار آئیں۔ 2011ء کے ابتدائی دنوں میں جب وہ لاہور میں مقیم تھیں۔ اِنہی دنوں جنوری 2011ء میں اُنہیں دماغی شریان پھٹ جانے کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا جہاں اکتوبر 2011ء میں اُن کے دماغ کا آپریشن کیا گیا مگر وہ ہوش میں آنے کی بجائے کوما میں چلی گئیں۔دسمبر 2011ء میں علاج کے لیے اُنہیں اُن کا بیٹا سلمان کریم مجید لندن لے گیا جہاں وہ تقریباً 6 سال علالت میں مبتلا رہنے کے بعد بروز جمعہ 5 اگست 2016ء کو 78 سال 4 ماہ 14 دِن کی عمر میں لندن، برطانیہ میں فوت ہوگئیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے شمیم آرا کی وفات کی خبر صبح 11 بجکر 40 منٹ پر ٹیلی ویژن سے نشر کی۔ بروز ہفتہ 6 اگست 2016ء کو نمازِ جنازہ بوقتِ ظہر اداء کی گئی اور تدفین لندن، برطانیہ میں کی گئی۔ شمیم آرا نے وارثوں میں ایک بیٹا، بہو اور دو پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔
فلمیں
1956ء: کنواری بیوہ، مس56۔
1958ء: انارکلی، واہ رے زمانے۔
1959ء، عالم آراء، اپنا پرایا، فیصلہ، سویرا، مظلوم، راز، جائداد (پہلی پنجابی فلم)۔
1960ء: بھابھی، دو اُستاد، عزت، رات کے راہی، روپ متی باز بہادر، سہیلی۔
1961ء: انسان بدلتا ہے، زمانہ کیا کہے گا؟، زمین کے چاند۔
1962ء: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور؟، قیدی، اِنقلاب۔
1963ء: دلہن، اِک تیرا سایہ، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔
1964ء: باپ کا باپ، چنگاری، فرنگی، حویلی، مے خانہ، پیار کی سزا، تنہا۔
1965ء: دیوداس، دل کے ٹکڑے، فیشن، نائیلہ (شمیم آرا کی پہلی رنگین فلم)۔
1966ء: آگ کا دریاء، جلوہ، مجبور، میرے محبوب، پردہ، قبیلہ۔
1967ء: دو راہا (نمائش: 25 اگست 1967ء)، ہم راز، لاکھوں میں ایک۔
1968ء: صاعقہ بطور فلم پروڈیوسر۔
1968ء: دل میرا دھڑکن تیری۔
1969ء: آنچ، دلِ بے تاب، سالگرہ۔
1970ء: آنسو بن گئے موتی، بے وفاء، مشر کماری (پہلی بنگالی فلم)۔
1971ء: پرائی آگ، سہاگ، وحشی، خاک اور خون۔
1972ء: انگارے۔
1973ء: خواب اور زندگی۔
1974ء: بھول (بطور فلم پروڈیوسر)۔
1978ء: پلے بوائے (بطور فلم پروڈیوسر اور ہدایت کارہ)۔
1981ء: میرے اپنے (بطور اداکارہ و ہدایت کارہ)۔
1989ء: تیس مار خان (دوسری اور آخری پنجابی فلم)۔
1999ء: پل دو پل۔ (آخری فلم بطور ہدایت کارہ)۔
آج مشہور اداکار کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش ہے
کمال ایرانی کی پیدائش
پاکستان کے مشہور کریکٹر ایکٹر کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش 5 اگست 1932ءہے۔
کمال ایرانی کا اصل نام سید کمال الدین صفوی تھا اور وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا اور مجموعی طور پر 244 فلموں میں کام کیا۔ ک
مال ایرانی کی یادگار فلموں میں جاگ اٹھا انسان، جھک گیا آسمان، زرقا، مٹھی بھر چاول اور امرائوجان ادا کے نام سرفہرست ہیں۔
ان کی آخری فلم سندھی زبان میں بننے والی فلم ’’میران جمالی‘‘ تھی جو ان کی وفات کے چند ماہ بعد 9 مارچ 1990ء کو ریلیز ہوئی تھی۔
12 ستمبر 1989ء کو کمال ایرانی وفات پاگئے۔۔!!!
محمود صدیقی کون تھے اور فن کی دنیا میں ان کا کیامقام ہے
محمود صدیقی کی وفات*
4 اگست 2000ء کو ٹیلی وژن اور ریڈیو کے معروف فن کار محمود صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی 1944ء میں سکھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔
ان کے والد انہیں عالم دین بنانا چاہتے تھے لیکن وہ سیاست کی جانب مائل تھے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔
اس سلسلہ میں انہوں نے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔
انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور شیخ ایاز کے جونیئر کے طور پر وکالت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
انہوں نے کچھ وقت ریڈیو پاکستان میں انائونسمنٹ بھی کی اور کچھ عرصہ کے لئے روزنامہ ’’ہلال پاکستان‘‘ میں بھی کام کیا۔
1973ء میں محمود صدیقی نے پاکستان ٹیلی وژن کے سندھی ڈرامہ بدمعاش سے اپنی ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز کیا اور زینت، گلن وار چوکری، تلاش اور رانی جی کہانی میں کام کرکے مقبولیت حاصل کی۔
رانی جی کہانی کو بعد میں ’’دیواریں‘‘ کے نام سے اردو میں بھی پیش کیا گیا جس کے بعدمحمود صدیقی نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔
بعدازاں اردو ڈرامہ سیریل جنگل ، قربتوں کی تلاش، دنیا دیوانی اور کارواں نے ان کی شہرت کو مزید استحکام بخشا۔ کارواں میں انہوں نے بہترین اداکار کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے نہلے پہ دہلا کے نام سے ایک سیریل بھی بنائی تھی جسے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے تین مرتبہ نشر کیا مگر محمود صدیقی کو اس سیریل کے بدلے میں طے شدہ رقم کا صرف دس فیصد حصہ ادا کیا۔
محمود صدیقی نے یہ سیریل قرض لے کر بنایا تھا چنانچہ وہ ان مالی مشکلات سے بے حد دلبرداشتہ ہوئے اور اسی غم میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی کراچی میں ڈالمیا کے نزدیک واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔.!!
ماضی کے معروف گلوکار اخلاق احمد نے کب وفات پائی اور کتنا عرصہ وہ بیماری سے لڑتے رہے
اخلاق احمد کی وفات
4 اگست 1999ء کو پاکستان کے نامور گلوکار اخلاق احمد لندن میں وفات پاگئے۔ اخلاق احمد 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے کراچی کے اسٹیج پروگراموں میں شوقیہ گلوکاری کا آغاز کیا۔
1971ء میں انہیں کراچی میں بننے والی فلم ’’تم سا نہیں دیکھا‘‘ میں گلوکاری کا موقع ملا۔ اس فلم کے موسیقار امیر احمد خان اور نغمہ نگار یونس ہمدم تھے۔
اس کے بعد فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ اور ’’پازیب‘‘ میں بھی اخلاق احمد کے گیت شامل ہوئے مگر وہ بھی زیادہ مقبول نہ ہوسکے۔
1974ء میں اداکار ندیم نے اپنی ذاتی فلم ’’مٹی کے پتلے‘‘ میں اخلاق احمد کے آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم ’’چاہت‘‘ کا ایک نغمہ ’’ساون آئے، ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ اختر یوسف نے تحریر کیا تھا۔
یہ نغمہ اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔
اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔ اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔
ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔ شرافت، دو ساتھی، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر، آئینہ، سنگم، آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا، لازوال ایسی فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔
اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 نغمات گائے۔
ان کے 90 فیصد گانے سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔
1985ء میں انہیں خون کے سرطان کا موذی مرض تشخیص ہوا۔
انہیں علاج کے لئے لندن لے جایا گیا۔ وہ 14 برس تک اپنی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے مگر 4 اگست 1999ء کو اس بیماری کے ہاتھوں شکست کھاگئے۔
وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!
امجد اسلام امجد کب پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیمی مراحل کہاں مکمل کیے
امجد اسلام امجد کی پیدائش
امجد اسلام امجداگست 1944ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیمی مراحل لاہور میں طے کیے۔ ایک انٹرویو مین اپنے بچپن کے واقعات کو یاد کرتے ہوۓ انھوں نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان دستکاروں کا ایک خاندان تھا، جس میں ادب پڑھنا تو دور کی بات ہے، سرے سے پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا:’’سوائے اس کے کہ یہ جسے آپ پڑھنے کی عادت کہتے ہیں، یہ مجھے اپنے والد صاحب سے ملی، جو ابنِ صفی کے جاسوسی ناول یا پھر تیرتھ رام فیروز پوری کے ترجمے اور شفیق الرحمان کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے تو یہ کتابیں مَیں نے بچپن ہی میں پڑھ لی تھیں، جس سے پڑھنے کا شوق تو مجھے ہو گیا تھا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے گھر سے کوئی مزید مدد نہ مل پائی۔‘‘
ادبی ذوق کو نکھارنے میں بنیادی کردار اُن کے اساتذہ نے انجام دیا:’’شاید میرے اساتذہ نے محسوس کیا کہ میرے لکھنے اور بولنے میں کوئی ایسی اضافی چیز ہے، جو مجھے باقی طالب علموں سے شاید ممتاز کرتی ہے، چنانچہ مجھے نویں جماعت میں سکول کے رسالے کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔‘‘
امجد اسلام نے گریجوایشن گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں کالج کے ابتدائی برسوں میں آیا تو اُس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ مَیں لکھ سکتا ہوں، شاعری یا نثر کی زبان میں‘۔
اُس دور میں وہ بنیادی طور پر کرکٹر بننا چاہتے تھے:’’مَیں اچھی کرکٹ کھیلتا تھا اور مَیں نے یونیورسٹی کی سطح تک کرکٹ کھیلی۔ ادب کا رجحان ایک ذیلی رَو تھی اور کرکٹ کے بعد یہ میری دوسری چوائس تھی۔‘‘
امجد اسلام امجد کے مطابق جب کرکٹ کے کھیل میں اُنہیں یکے بعد دیگرے کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف کالج میں گریجوایشن میں اردو میں زیادہ نمبر حاصل کرنے پر اسکالر شپ مل گئی تو کرکٹ کی بجائے اُن کی مکمل توجہ شعر و ادب کی طرف ہو گئی:’’ہمارے ایک محلّے دار تھے، آقا بیدار بخت، جو بچپن سے میری بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ تم لکھا کرو، پڑھا کرو، مَیں اپنی ابتدائی شاعری بھی اُنہی کو دکھاتا تھا۔ پھر چلتے چلتے جب مَیں یونیورسٹی میں آیا تو مَیں نے سنجیدگی سے شعر و ادب پر توجہ دینا شروع کر دی اور پرانے کلاسیکی شاعروں کو خاص طور پر پڑھا، جن پر بعد میں مَیں نے ’نئے پرانے‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی۔‘‘
امجد اسلام امجد کا کہنا تھا کہ کلاسیکی شعراء کو پڑھنے کے بعد ہی آپ موجودہ دور کی شاعری کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اُنہوں نے میر تقی میر کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو چیز بعد ازاں کارل مارکس نے طویل تحقیق کے بعد پیش کی، وہ اُن کی پیدائش سے بھی پہلے میر اپنے اس شعر میں بیان کر گئے تھے کہ
امیر زادوں سے دلّی کے مَت مِلا کر میر
کہ ہم غریب ہوئے ہیں، اُنہی کی دولت سے
پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے ایک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کا آغاز لاہور ہی کے ایم اے او کالج سے کیا۔ 1975ء سے لے کر 1979ء تک وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بطور ڈائریکٹر وابستہ رہے۔ وہ ’اردو سائنس بورڈ‘ اور ’چلڈرن لائبریری کمپلیکس‘ سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمے داریاں نبھاتے رہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان سے بطور ڈرامہ نگار چند سال وابستہ رہنے کے بعد امجد اسلام امجد نے پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی وژن) کے لیے کئی سیریلز لکھیں، جن میں ’وارث‘ کے ساتھ ساتھ ’دہلیز‘، ’سمندر‘، ’رات‘، ’وقت‘ اور ’اپنے لوگ‘ بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں صحیح معنوں میں شہرت 1979ء میں دکھائی جانے والی سیریل’وارث‘ سے ملی کیونکہ ’جہاں شاعری کی رسائی محض ایک محدود طبقے تک ہی ہوا کرتی ہے، وہاں اُس زمانے میں بھی، جب ملک میں پی ٹی وی کی صورت میں محض ایک چینل ہوا کرتا تھا، ناظرین کی تعداد سات آٹھ کروڑ ہوا کرتی تھی‘۔
اُنہوں نے شعر و ادب کی کئی جہات میں کام کیا ہے اور کئی تراجم کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے ہیں۔ وہ ’چشمِ تماشا‘ کے نام سے باقاعدگی کے ساتھ ایک کالم بھی لکھتے ہیں۔ نظم و نثر میں اُن کی چالیس سے زیادہ کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں جبکہ وہ اپنی ادبی خدمات کے بدلے میں ’صدارتی تمغہء حسن کارکردگی‘ اور ’ستارہء امتیاز‘ سمیت متعدد اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔۔!!
اس رپورٹ میں عبداستار ہاکي اسٹيڈيم ميں قومی ہاکی چیمپین شپ میں ہونے والے دلچسپ واقعات جانیے
ایئرمارشل نورخان قومی ہاکی چیمپین شپ نیشنل بینک نے سوئی سدرن گیس کو پینلٹی شوٹ آؤٹس کی بنیاد پر 5-6 گول سے ہرا کرجیت لیا۔
عبداستار ہاکي اسٹيڈيم ميں ہونے والے اس میچ کا آغاز تیز کھیل سے ہوا ، دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کی گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیئے. پہلے کواٹرکے اختتام تک سکور برابر رہا، کھیل کے دوسرے کواٹر میں سوئی سدرن گیس کے مبشر علی نے پینلٹی کارنر پر تیزرفتار ڈریگ فلک کے ذریعہ گول سکور کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلادی.
کھیل کے آخری کواٹر میں نیشنل بینک کے کھلاڑی ارسلان قادر نے گول سکور کرکے اس برتری کا خاتمہ کردیا جو میچ کے اختتام تک 1-1 گول سے برابر رہی. میچ کے اختتام پر پینلٹی شوٹ آؤٹس کی بنیاد پر نیشنل بینک نے پانچ پینلٹی شوٹ آؤٹس کامیابی سے لگائے جبکہ سوئی سدرن گیس نے ایک پینلٹی شوٹ آؤٹ خسارے کے ساتھ 4 شوٹ آؤٹس میں کامیابی حاصل کرسکی.
تیسری پوزیشن کے…
پاکستانی تمام سیاسی جماعتوں کے کٹھ سے قابض بھارتی فوج پریشانی کا شکار
عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی من مانی اور ظلم و بربریت کا نوٹس لے: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی
اقوام متحدہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں کی دھجیاں اڑانے پر بھارت کے خلاف خاموش تماشائی نہ رہے چودھری شجاعت حسین. یٰسین ملک کو فوری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور تمام کشمیری حریت پسند رہنماؤں کو رہا کیا جائے. مقبوضہ کشمیر انشاء اللہ بھارت کا قبرستان بن کر رہے گا. پاکستان مسلم لیگ بھارتی جارحیت کے خلاف حکومت اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: چودھری شجاعت حسین، پرویزالٰہی
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اپنی تمام سیاسی مصروفیات فی الفور ترک کرکے لاڑکانہ سے اسلام آباد پہنچ گئے. چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کشمیر پر حالیہ بھارتی جارحیت کے تناظر میں مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں شریک ہوں گے. چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا
کشمیریوں پر بھارت کے مظالم ناقابل برداشت ہیں،انتہاپسند بھارتی حکومت کے عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ٹویٹر پیغام







