Baaghi TV

Author: +9251

  • شہر قائد میں با اثر خاتون کے بھائی کی شادی میں ہوائی فائرنگ، گرفتار افراد کو چھڑوانے کے لیے تھانے پر حملہ کر دیا

    شہر قائد میں با اثر خاتون کے بھائی کی شادی میں ہوائی فائرنگ، گرفتار افراد کو چھڑوانے کے لیے تھانے پر حملہ کر دیا

    شہر قائد میں با اثر خاتون کے بھائی کی شادی میں ہوائی فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں پولیس نے کچھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے اس اقدام پر خاتون نے سمیت کئی مشتعل افراد نے تھانے پر ہی دھاوا بول دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایس پی ملیر دفتر کے نزدیک با اثر خاتون شکیلہ کے بھائی کی شادی تھی جوکہ خود کو پاکستان پیپلز پارٹی کا علاقائی رہنما ظاہر کرتی ہیں۔
    شادی میں ہوائی فائرنگ کی گئی جس پر پولیس 5 افراد کو حراست میں لے کر ایس پی ملیر آفس لے آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ کی اطلاع پرپولیس پارٹی وقوعہ پر پہنچی توباراتی اس سے الجھ پڑے تھے، ایک شخص نے اہلکارپرپستول تانی، جسے حراست میں لے لیا گیا۔
    زیر حراست افراد کو چھڑوانے کے لیے بارات میں شریک 50/60 مشتعل افراد نے ایس پی آفس پر ہلہ بول دیا۔

    ملزمان کو حراست میں لینے پرباراتیوں نے ایس پی ملیر کے دفتر پر احتجاج بھی کیا ۔ ہنگامہ آرائی کے دوران دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اہلکاروں کو زدوکوب بھی کیا گیا۔ حملہ آور 2 افراد کو پولیس کی حراست سے لے جانے میں کامیاب بھی ہوگئے ۔ مشتعل افراد نے تھانے میں گھس کر زیر حراست شخص کوچھڑا لیا، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ دوبارہ کارروائی کی گئی، جس میں تین ملزمان گرفتار ہوئے۔ ملزمان کی گرفتاری پربھی مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد لینڈ گریبنگ میں بھی ملوث ہیں۔ ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

  • پاک بحریہ اور کسٹمز کا سمندر میں مشترکہ آپریشن

    پاک بحریہ اور کسٹمز کا سمندر میں مشترکہ آپریشن

    کراچی میں پاک بحریہ اور کسٹمز نے سمندر میں مشترکہ انسداد منشیات آپریشن کیا ہے، آپریشن اورماڑہ کے قریب کنڈملیر کے سمندر میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، آپریشن کے دوران شراب کی 5400 بوتلیں ضبط کی گئیں ہیں، ضبط کی جانے والی منشیات کی قیمت عالمی مارکیٹ میں تقریبا 70.5 ملین روپے ہے، منشیات سمگلنگ کے خلاف کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی سمندر میں مؤثر نگرانی کا نتیجہ ہے.

    پاکستان میں بحری راستے سے بڑی تعداد میں منشیات منتقل کی جاتی ہیں، سمگلر بحری راستے سے بیرون ملک سے منشیات لاتے ہیں، جس کو پاکستان میں بیچا جاتا ہے، کسٹمز حکام اور پاکستان نیوی کے اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن کر کے بھاری تعداد میں منشیات کو قبضہ میں لے لیا ہے، ضبط کی گئی اشیاء میں شراب بھی شامل ہے.

  • اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    چیئرمین نیب کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم تو تردید کرتے ہیں کہ جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کاکوئی مسودہ تیار نہیں کیا۔۔ پر سماء ٹی وی دعوی کر رہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکاہے ۔ جس کی منظوری منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودے کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا جائے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا نفاذہو جائے گا۔ لگتا بھی یوں ہی ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مل بیٹھنا موجودہ حالات میں تو دور دور تک نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ بیٹھ بھی جائیں تو نہیں لگتا کہ کسی ایک نام پر ان دونوں کو کم ازکم اتفاق ہوگا ۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں قانون جو بھی ہو ۔ وہ شہباز شریف کو گھاس نہیں ڈالیں گے ۔ یوں یہ معاملہ بھی کھٹائی میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اور صرف ایکسٹینشن ہی آپشن باقی بچتی ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات میں مدت میں توسیع کے دورانیے سے متعلق اختلاف تھا جسے دور کرنے کیلئے مسودے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوگی تب تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

    ۔ پر ایسا تھوڑی ہے کہ اپوزیشن حکومتی پلاننگ سے بالکل ہی بے خبر ہو ۔ انھوں نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہونے کی صورت میں عدالت جائیں گے ۔ یوں آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کی تقرری والا معاملہ میڈیا اور عوام کا اچھا خاصا entertain کرنے والا ہے ۔ پھر سائیں بزدار سرکار کی بات جائے تو اب عمران خاں بھی مان چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پنجاب میں سخت ہوگا۔ ویسے میں تو اس کو وسیم اکرام پلس کی سخت بری کارکردگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔ کیونکہ جتنی تبدیلیاں ان تین سالوں میں پنجاب میں ہوئی ہیں اتنی تبدیلیاں شاید گزشتہ ستر سالوں میں پنجاب میں نہیں ہوئی ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ ایک دفعہ پھر پنجاب حکومت نے سیکرٹریز سمیت اعلی عہدے کے چودہ افسران کے تقرر تبادلے کردئیے ہیں۔ میں تو یہ ہی دعا کروں گا کہ اللہ کرے یہ نئی ٹیم مطلوبہ نتائج دے دے ورنہ ابھی اس حکومت کے دوسال باقی ہیں پتہ نہیں پنجاب کا یہ کیا حال کریں گے ۔ اگر آپکو یاد ہو تو یہی پنجاب تھا جس نے تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب کی حکمرانی دلائی تھی اور اب یہی پنجاب ہے جس میں تحریک انصاف کو انتخابی دنگلوں میں چاروں شانے چت گرنا پڑا ہے۔ دراصل یہ عثمان بزدار کی حکومت کی کارکردگی پر طمانچہ ہے جو عوام نے رسید کر دیا ہے ۔

    ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ الیکڑانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی اجازت دینے کے معاملات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر غبار کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگلے انتخابات کو ہر صورت میں“ فتح“ کرنا سب سے بڑا مشن ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان صرف مالی مشکلات کا شکار ہی نہیں۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر بھی مسائل ہی مسائل ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود حکومت کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ اگلے عام انتخابات کو کیسے اڑانا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں چیف جسٹس کی سرابرہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ کب کا بلدیاتی ادارے بحال کرچکا ہے۔ ادھر حکومت اسے ماننے سے صاف انکاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ ہی حکومت عوام کو نچلی سطح تک حقوق مہیا کرنے کی سب سے بڑی داعی تھی ۔ پھر عمران خان نے عوام کو یہ خبر تو دیدی ہے اگلے دو سال بھی مشکل ہیں تاہم ساتھ یہ نہیں کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے ابھی اچھے دن نہیں آئے اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں آنے والے ہیں عوام کا تو اب ایک ایک دن مشکل سے گزر رہا ہے۔ اس پر اگر کپتان نے یہ خبر بھی سنا دی ہے اگلے دو برس بھی مشکل ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے عوام پر کیا گزری ہو گی۔ لیکن وزیر اعظم کے وزیر و ترجمان ان کی اس بات کو بھی گوٹہ کناری اور سرخی پاوڈر لگا کے بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ملک کا وزیر اعظم کتنا سچا ہے جو حقیقت ہے بیان کر دیتا ہے۔ویسے ایسا سچا اور کھرا وزیراعظم پہلے کبھی عوام نے دیکھا ہی نہیں جو مشکل حالات کی خبر بھی ایسے دیتا ہے جیسے خوشخبری سنا رہا ہو۔ پانچ سال کے لئے حکومت منتخب ہوئی ہے، اس کے پانچوں برس اگر مشکلات میں گزر جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں وہ عوام کو اپنی آئینی مدت کے دوران کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام۔ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ ویسے کپتان نے تو ہار نہیں مانی ان کی حکومت تو چل رہی ہے اور اب چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے تاہم عوام اب ہار گئے ہیں، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ انہیں زندگی کی دوڑ برقرار رکھنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں وہ ایک امید کے سہارے زندہ تھے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت کے دوران ریلیف نہیں دیتی تو کم از کم مہنگائی کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گی، مگر کپتان نے اگلے دو برسوں میں بھی مشکلات کی گھنٹی بجا کر انہیں مایوس کر دیا ہے۔

    ۔ اس وقت کوئی چیز نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی ہے ہر چیز اوپر ہی اوپر جائے جا رہی ہے ۔ ڈالر ہو ، پیڑول ہو ، بجلی ہو ، گیس ہو ، آٹا ہو ، چینی ہو ، حکومتی دعوے ہوں یا پھر عوام ہوں ۔ کیونکہ ان حالات میں زندہ رہنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ کیونکہ جس حساب سے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات مان رہی ہے۔ بہتری دیوانے کا خواب ہے ۔ ڈالر آج پھر بلندیوں پر پہنچ چکا ہے ۔ آپ دیکھیں پچھلے تین ماہ میں ڈالر کواپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کے لیے حکومت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز مارکیٹ میں ڈال چکی ہے۔ تحریک انصاف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی ناقد رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اب خود بھی اسی طریقہ کار سے نظام چلاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا سارا زور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سچے اعدادوشمار پیش کرنے پر ہے۔ وزرا جب عوام اور میڈیا کو قائل نہیں کر پاتے تو انہیں کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ آج کل کئی وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر پٹرول ایک پاؤنڈ تیس پینس کا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین سو روپے بنتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 123 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں پٹرول دستیاب ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ برطانیہ میں ایک گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً سات پاؤنڈ ہے۔ اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کیا جائے تو 56 پاؤنڈز کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 12936 روپے بنتے ہیں۔ اس سے تقریباً 43 لیٹر پٹرول خریدا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن کی کم از کم اجرت تقریباً چھ سو روپے ہے جس سے ساڑھے چار لیٹر پٹرول ہی خریدا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ مانگے تانگے کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر تشہیری مہم تو چلا سکتے ہیں ۔ لیکن انفارمیشن کے اس دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

    ۔ پر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عمران خان ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اب کوئی اندازہ لگانے لگے کہ وہ کس کارکردگی کی بات کر رہے ہیں تو سرپکڑ کر بیٹھ جائے۔ کیا مشکلات برقرار رکھنے کی کارکردگی، کیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچانے کی کارکردگی، یا پھر گڈ گورننس میں عروج حاصل کرنے کی کارکردگی، کون سی کارکردگی ؟؟؟ کہاں کی کارکردگی ؟؟؟ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، ان کی حکومت میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود ہیں، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ ۔ اسی لیے ان چہروں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آتا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو نئے خواب دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

  • شکایات ومسائل کے فوری حل کے لئے محکمانہ کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر علی شہزاد

    شکایات ومسائل کے فوری حل کے لئے محکمانہ کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر علی شہزاد

    فیصل آباد (عثمان صادق) ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ شکایت کنندگان کی اطمینان بخش طریقے سے دادرسی کی جائے اور عوامی مسائل سے پہلو تہی،بے جااور بلاجواز تاخیر سے درخواست گزاروں کو خوار کرنے کی روش ترک کردیں۔انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں شہریوں کے مسائل سنتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی مسائل پر کان نہ دھرنے والے افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا لہذا وہ عوامی ریلیف کے سلسلے میں محکمانہ کارکردگی کے معیار میں اضافہ کریں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز سے کہا کی وہ مقامی سطح پر لوگوں کی شکایات اور مسائل ذمہ داری کے ساتھ حل کریں اور تحصیل دفاتر کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں تاکہ لوگوں کو اپنے معاملات کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سائلین کی بات خندہ پیشانی سے سنتے ہوئے فوری حل طلب امور کے سلسلے میں تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے شہریوں کے واسا،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی،ریونیو ودیگر محکموں کے بارے میں مسائل سنتے ہوئے ان کے حل کے لئے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی فون کالز کرکے ہدایات جاری کیں۔انہوں نے بزرگوں،مردوخواتین کے مسائل سنتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ان کی شکایات ومسائل کے فوری حل کے لئے محکمانہ کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی۔

  • امریکی ریاست میں‌ حملہ، معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار. مودی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا. امریکہ کا منہ کالا، سکھوں نے خالصتان کے پرچم لہرا دیئے

    امریکی ریاست میں‌ حملہ، معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار. مودی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا. امریکہ کا منہ کالا، سکھوں نے خالصتان کے پرچم لہرا دیئے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی ریاست ٹیناسی میں خوفناک واقعہ پیش آیا ہے، ایک شخص نے شاپنگ مال میں‌ گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی ہے، جائے وقوعہ پر دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، بارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں، چار کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی حالت تشویشناک ہے، ٹیناسی پرامن جگہ ہے، لیکن امریکہ میں کچھ سالوں سے بہت سیریس ایشو شروع ہوگئے ہیں، وہاں کے مسلمانوں پر بہت ظلم شروع ہوگئے ہیں، جو کالے ہیں ان پربھی ظلم شروع ہوگئے ہیں، ریڈنیکس وہاں پر مضبوط ہوگئے ہیں، کیرولائنا اور ٹیناسی میں کافی زیادہ ہیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ دوسری طرف ویت نام میں امریکہ نے اٹھارہ سال گزارے ہیں، افغانستان میں امریکہ نے بیس سال گزارے ہیں، ویت نام سے واپسی پر امریکہ میں بہت سے مسائل ہوگئے تھے، افواج کی کثیر تعداد سائیکو ہوگئی تھی، اتنی قتل و غارت دیکھی تھی، جس کی وجہ سے طلاقیں دیں تھیں، بچوں کو مارنا شروع کردیا تھا، افغانستان سے واپسی کے بعد بھی امریکہ میں وہی صورتحال ہورہی ہے، مجھے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی فوجی ہے جو ذہنی بیمار ہے، خدانخواستہ اگر یہ مسلمان ہوتا تو ابھی اس پر بمباری کا منصوبہ بھی بن گیا ہوتا، امریکہ میں ایک شراب کی بوتل خریدنے کیلئے اپنا شناختی کارڈ دیکھانا پڑتا ہے، مگر ایک پستول اور بندوق نو سال کا بچہ بھی خرید سکتا ہے، اس پر ویڈیوز بھی بن چکی ہیں، کوئی بھی امریکہ کی حکومت اسلحہ کی خرید و فروخت پر کنٹرول نہیں کرتی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا ہے کہ اب یہ کاروبار ان کے گلے پڑ رہا ہے، ہر جگہ یہ واقعات ہورہے ہیں، وہاں کے سیاست دانوں نے ان واقعات کی تائید کی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلم کھلا ان لوگوں کی سائیڈ لی تھی، جنہوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا، جو توڑ پھوڑ کرنے والوں کی حمایت کرے گا تو معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار تو ہوگا، امریکہ دو چیزوں کی وجہ سے بہت مشہور تھا.

  • وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب، وفاقی وزراء کا ردعمل سامنے آگیا

    وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب، وفاقی وزراء کا ردعمل سامنے آگیا

    وفاقی وزیراسد عمر نے وزیراعظم کے جنرل اسمبلی میں ہونے والے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کشمیریوں پرظلم، پرامن افغانستان کےموضوع پربھی روشنی ڈالی ہے، بھارت میں ہندوتوا کی انتہاپسندی سے متعلق بات کی ہے، اسلاموفوبیا، منی لانڈرنگ، موسمیاتی تبدیلی پراظہارخیال کیا گیا ہے، عالمی اورعلاقائی چیلنجزکے بارےمیں بات کی ہے.

    وفاقی وزیر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم کے جنرل اسمبلی کے خطاب پر کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک دفع پھرثابت کردیا ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف مضبوط آواز بنے ہیں، پنے خطاب میں انہوں نے پاکستان اور کشمیر کے جذبات کی عکاسی کی ہے، افغانستان کے مسئلہ پر انہوں نے اقوام عالم سے کہا ہے کہ افغانی عوام کے مزید انسانیت سوز رویہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، پاکستان میںن ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیوں پر پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا ہے.

    وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے دنیا کوبتایا ہے کہ افغان جنگ کا زیادہ جانی و مالی نقصان پاکستان کو ہوا ہے، دنیا کو چاہیے کہ ماضی کی غلطی کو نہ دہرایا جائے، افغانستان میں دیر پا امن کے لیے کوشش کرے، دلیرانہ انداز سے مودی کے ظالمانہ نظریہ آر ایس ایس کو بےنقاب کیا ہے، بھرپور دلائل سے کشمیریوں کے وکیل اور نڈر سفیر ہونے کا کردار کیا ہے، سید علی گیلانی کی میت کو شہدا کے قبرستان میں دفنانے کے مطالبہ پر زوردیا ہے، اقوام متحدہ میں انتہائی مدلل اور پراعتمادی سے حقائق سامنے رکھے ہیں، بہت ساروں کو آئینہ بھی دکھایا ہے.

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جرات اور استدلال سے اقوام عالم کو آئینہ دکھایا ہے، دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی اورسماجی بے چینی کے اسباب احاطہ کیا ہے، افغان مسئلے کو درست سیاق وسباق میں دنیا کے سامنے رکھا ہے، دنیا کو بتایا کہ کس طرح سپر پاورز نے افغانستان میں کھیل کھیلے ہیں، مجاہدین اور طالبان کے اقتدار میں آنے تک کی داستان سامنے رکھی ہے، دنیاکو بتایا افغانستان میں حالات کا ذمہ دار امریکہ اور دیگرممالک ہیں، امریکہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے رحم وکرم پراکیلا چھوڑ دیا ہے.

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا عوام سے فراڈ

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا عوام سے فراڈ

    میاں چنوں مشرقی بائی باس پر واقع ہاؤسنگ سوسائٹی جنگل کا منظر پیش کرنے لگی۔کئی کئی فٹ لمبی جھاڑیاں اور سیوریج سسٹم بھی نا ہونے کے برابر ھے.سوسائٹی میں آوارہ کتوں کی بھی بھرمارہے۔ جس کی وجہ سے سوسائٹی کے بچے ان آوارہ کتوں کے کاٹنے کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔

    گلشن رحیم ٹاون جو کہ ایک جنگل کا منظر پیش کررہا ہے۔وہاں رہنے والے لوگوں نے گلشن رحیم ٹاون کے مالک شیخ عتیق اور اس کے بیٹا شیخ عمیر عتیق کے پاس کئی بار درخوست لے کر گئے ہیں۔ ہمارے مسل کو حل کیا جائے ٹاون میں صفائی ستھرائی اور سیوریج کے نظام کو بہتر کیا جاۓ۔مگر ان کی باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بلکہ ان کو دھمکیاں دے کر آفس سے نکال دیتا ہے۔

    جب باغی ٹیم کی ٹاون کے لوگوں سے بات ہوئی تو ان کا یہ کہنا تھا کہ جب ہم نے پلاٹ خریدے تو ٹاون مالک شیخ عتیق نے ہم سے بیس ہزار روپے ٹاون کی ضفائی ستھرائی اور سکیورٹی کے لیے الگ سے لیے تھے اور ابھی تک لے رہا ہے مگر ٹاون میں صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے اور بوقت فروخت یہ وعدہ کرتا ہے کہ سیورج کا باقاعدہ نظام چلا کر دوں گا مگر بعد میں اس بات سے انکار کردیتا ہے. اس کے علاوہ ہمارے لیے سکیورٹی کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ٹاؤن کی چار دیواری نہی کی گئی جس کا بوقت فروخت وعدہ کیا گیا ٹاون شہر کے مشرقی بائی پاس پر واقع ہے۔ تو ہمیں چوروں لٹیروں سے خطرہ رہتا تھا۔اور ان کا کہنا تھا کے کہ ہماری متعلقہ محکموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے مسائل کو جلد از جلد حل کرائیں

  • جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    اسلام آباد : جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ، وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ نئی دہلی جموں وکشمیرتنازعہ کےمعاملے پرخودساختہ آخری حل کی طرف بڑھ رہاہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی شہیدکی نمازجنازہ میں شرکت کے لیے اہل خانہ کو روکا گیا جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا اور کئی سینئر رہنماؤں کو قید کیا ہوا ہے ۔

    انہوں نےکہا کہ بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنیوا کنونشن کے خلاف ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کا خواہشمند ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 11ستمبر کے بعد کچھ حلقو ں نے اسلام کودہشت گردی سے جوڑ ا جس کی وجہ سے دائیں بازو کی انتہاہ پسندی بڑھی جبکہ اسلامو فوبیا جیسے رجحان کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

    اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا افغانستان کے معاملے پرامریکا اور یورپ کے کچھ رہنماؤں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جبکہ افغان جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں۔

    جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے’

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کانقصان ہوا جبکہ 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں اور افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے کہا کہ دنیا کو اس وقت کورونا، معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کاسامنا ہے جبکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے۔

    عمران خان نے مزیدکہا کہ قابل تجدید توانائی کا حصول اور جنگلات کا تحفظ ہماری ترجیحات ہیں اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ پاکستان اب تک کورونا پر بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہا اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف ہماری منصوبہ بندی کا محور رہے

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ وزیراعظم
    وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں آپ کو اقوامِ متحدہ کے چھہترویں اجلاس کیلئے منصبِ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دیتا ہوں
    میں آپ کے پیشرووالکن باسکر کو بھی ان کی کامیابیوں پر خراجِ تحسین پیش کروں گا جنہوں نے مہارت ساتھ کووڈ انیس کی عالمی وباکی وجہ سے درپیش مشکل حالات کے دوران راہنمائی فراہم کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کا کہ دنیا کو کووڈ انیس کے ساتھ ساتھ معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے کی وجہ سے درپیش خطرات جیسےتین طرفہ چیلنج کا سامنا ہے۔ وائرس اقوام اور لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کرتا۔نہ ہی غیر یقینی موسمیاتی رویوں کی وجہ سے آنے والی تباہیاں یہ تفریق کرتی ہیںہمیں درپیش مشترکہ خطرات نہ صرف بین الاقوامی نظام کی نزاکتوں کو آشکار کررہے ہیں بلکہ وہ انسانیت کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے اب تک پاکستان کووڈ کی وبا کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔باہمی تعاون کی ہماری منصوبہ بندی جس کا محور سمارٹ لاک ڈاؤن تھے کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہاہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام ’احساس‘ کی بدولت ڈیڑھ کروڑخاندان کورونا بندشوں کی سختیوں سے عہدہ برآہونے میں کامیاب رہے۔جنابِ صدر! موسمیاتی تبدیلی ہماری بقا کو درپیش خطرات میں سے ایک ہے جن کا ہمارے سیارے کو سامنا ہےمضر گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہےاس کے باوجود ہم ان دس ممالک میں سے ایک ہیں جو دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہوئے ہم نےاس بابت ایک انقلابی ماحولیاتی پروگراموں کا آغاز کیا ہے دس ارب درخت لگانے کی سونامی مہم کے توسط سے پاکستان میں نئے سرے سے جنگلات اگا رہے ہیں قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہے ہیں،قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں ،اپنے شہروں سے آلودگی کا خاتمہ کر رہے ہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار کر رہے ہیں کووڈ کی عالمی وبا،اس کے سبب معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کے تین طرفہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئےہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں پہلے نمبر پرویکسین کی یکساں دستیابی یعنی ہر جگہ، ہر شخص کوکووڈ کے خلاف ویکسین لگنی چاہیےاور جتنا جلدی ممکن ہو لگنی چاہیے۔دوسرا، ترقی پذیر ملکوں کو مناسب فنانسنگ کی سہولت لازماً ملنی چاہیے جسےقرضوں کی جامع ترتیبِ نو، او ڈی اے کا حجم بڑھانے اورغیر استعمال شدہ ایس ڈی آر کی دوبارہ تقسیم اور ایس ڈی آرز کا بڑا حصہ ترقی پذیر ملکوں کو الاٹ کرکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کی سہولت فراہم کر کےیقینی بنایا جا سکتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کی واضح منصوبہ بندیوں کو اختیار کرنا چاہیے جو غربت کے خاتمے، روزگار پیدا کرنے، پائیدارانفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈجیٹل تقسیم کاخلا کم کرنےمیں مدد گا ر ہوں میں تجویز دوں گا کہ سیکرٹری جنرل دو ہزار پچیس میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کیلئے سربراہ اجلاس بلائیں جس میں پائیدار ترقی کے اہداف کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ان پر عملدرآمدکیلئےکام کی رفتار تیز کی جائے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کی بدعنوان حاکم اشرافیہ کی لوٹ مار کی وجہ سے امیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق خطرناک رفتارسے بڑھ رہا ہے میں اس پلیٹ فارم سے دنیا کی توجہ دولت کی ترقی پذیر ملکوں سے ناجائز اڑان کی جانب مبذول کرواتا آیا ہوں سیکرٹری جنرل کے اعلیٰ سطحی پینل برائے مالیاتی احتساب،شفافیت اورمکمل دیانتداری جسے فیکٹ آئی کہا جاتا ہے نے حساب لگایا ہے کہ سات ہزار ارب ڈالر کے خطیر چوری شدہ اثاثے محفوظ مالیاتی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں اس منظم چوری اور اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی کے ترقی پذیر ملکوں پر دور رس منفی اثرات پڑے ہیں اس عمل سے ان کو دستیاب معمولی وسائل کی حالت مزید پتلی ہوتی جاتی ہے غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ،بطورِ خاص جب منی لانڈرنگ کے ذریعے مال ملک سے باہر لے جایا جاتا ہے اس کے نتیجے میں ان ملکوں کی کرنسی پر دباؤ پڑتا ہے اوراس کی قدر میں کمی ہوتی ہے موجودہ رفتار سے جب کہ فیکٹ آئی پینل نے اندازہ لگایا ہے کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ملکوں سے نکال لئے جاتے ہیں نتیجتاً تلاش معاش کیلئے امیر ملکوں کی جانب ہجرت کرنے والوں کا ایک بہت بڑاسیلاب آئےگا جو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت کے ساتھ کیا وہی کچھ ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے وہ دولت لوٹ رہے ہیں اور اسے امیرملکوں کے دارلحکومتوں اور ٹیکس جنتوں میں منتقل کر رہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ملکوں سے چوری شدہ اثاثوں کی واپسی غریب قوموں کیلئےناممکن ہے امیر ملکوں کے لیے نہ کوئی کشش ہے اور نہ ہی کوئی مجبوری
    کہ وہ یہ غیر قانونی طور پر کمائی ہوئی دولت واپس لوٹائیں یاد رہے کہ غیر قانونی طور پر حاصل شدہ یہ دولت ترقی پذیر ملکوں کے عام عوام کی ملکیت ہے میں دیکھ سکتا ہوں کہ مستقبل قریب میں ایک وقت آئے گا جب امیر ملکوں کو ان غریب ملکوں سے معاش کے لیے بری تعداد میں ہجرت کرنے والوں کو روکنے کیلئے دیواریں تعمیر کرنا پڑ جائیں گی مجھے خوف ہے کہ غربت کے سمندر میں چند امیر جزیرےویسے ہی ایک عالمی آفت کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی نے کی ہے جنرل اسمبلی کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پریشانی اور اخلاقی تضادات کا باعث بننے والی اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہوا جاسکے غیر قانونی دولت کیلئے موجود ان جنتوں کا نام لے کر انہیں شرمندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ایک جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے اس انتہائی بڑی معاشی نا انصافی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہےکم سے کم سیکرٹری جنرل کے فیکٹ آئی پینل کی سفارشات پر پوری طرح عمل کیا جانا چاہیے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا ک اسلامو فوبیا ایک اور ایسا خوفناک رجحان ہے جس کا ہم سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہے نائن الیون کے دہشت گردی کے حملے کے بعد سے کچھ حلقوں کیجانب سےدہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے اس سے دائیں بازو کےخوفناک اور پرتشدد قومیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ،جس کے سبب انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں جنزل اسمبلی کی عالمی دہشت گردی کے خلاف پیش بندی نے ان اُبھرتے خطرات کو تسلیم کیا ہے ہمیں امید ہے کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ان اسلام مخالف رجحانات اور دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے لاحق کردہ دہشت گردی کے نئے خطرات کا احاطہ کرے گی میں سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسلامو فوبیا کا تدارک کرنے کےلئے بین الاقوامی مکالمہ شروع کروائیں ساتھ ہی ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے متوازی کوششیں جاری رکھنی چاہیں اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑھے ہوئے ہے فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئےنفرت سے بھرے ہندوتوا نظریات نے بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کےخلاف خوف اور تشدد کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے گاؤ ماتا کے جیالوں نے جتھوں کی صورت میں مسلماںوں کو قتل کرناجاری رکھا ہوا ہے وقفے وقفے سے منظم قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ نئی دہلی میں گزشتہ برس ہوا شہریت کے امتیازی قوانین جن کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے اور بھارت بھر میں مساجد کو شہید کرنے کی مہم اور اس کی اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں نئی دہلی کی جانب سے ایک ایسے راستے پر چڑھنا جسے وہ بد قسمتی سے جموں کشمیر کے قضیے کا حتمی حل قرار دیتا ہے بھارت نے پانچ اگست دو ہزار انیس سےمسلسل یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں اس نے نو لاکھ قابض فوج کے ذریعےخوف کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندی لگا رکھی ہے پُرامن مظاہروں کو پر تشدد کارروائیوں سے دبارکھا ہے تیرہ ہزارہ کشمیریوں کو اغوا کررکھا ہے جن میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس نے جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کر رکھا ہے اس نے اجتماعی سزائیں دینے کی روش اپنائی ہوئی ہے جس میں پورے پورے گاؤں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دئیے جاتے ہیں حال ہی میں ہم نے ایک تفصیلی ڈوزئیز جاری کیا ہے جس میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانے سے غیر قانونی قبضے میں رکھے گئے جموں و کشمیر میں ہوئی منظم اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں کوشش کی جارہی ہے کہ اسے مسلم اکثریتی علاقے سے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے بھارتی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کی جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں قراردادوں میں صاف وضاحت موجود ہے کہ اس قضیے کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کروائے گئے ایک شفافاور آزادانہ استصوابِ رائے میں خطے کے عوام کو کرنا ہے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی کارروائیاں بین الاقوانی قوانین برائے انسانی حقوق اور انسان دوست قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کے اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں یہ بدقسمتی ہے کہ دنیا کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رویہ مساویانہ نہیں ہے اور اکثر بڑی طاقتوں کو علاقائی سیاسی معاملات اورکاروباری مفادات مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اپنے دوست ممالک کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کرجاتے ہیں ایسے دوہرے معیارات اور بھارت کی صورت میں سب سے نمایاں یہ کہ جہاں آر ایس ایس ،بی جے پی کی حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیر رہنما سید علی شاہ گیلانی کی میت کو ان کے خاندان سےزبردستی چھین لینا ہے انہیں ان کی خواہش کے مطابق ،اسلامی طریقہ کار کے مطابق تدفین کے حق سے محروم رکھا گیا بھارت ظلم و جبر کی حالیہ مثال عظیم کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی لاش کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا ہے
    ان کی خواہش اور اسلامی روایات کے مطابق باقاعدہ نماز جنازہ اور تدفین نہیں ہونے دی گئی۔ یہ کارروائی جس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہ تھا بنیادی انسانی حقوق کی شائستگی کے خلاف تھا۔ میں اس جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ سید علی شاہ گیلانی کی باقیات کی باقاعدہ اسلامی روایات کے مطابق شہداء کے قبرستان میں تدفین کا مطالبہ کرے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسائیوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ گذشتہ فروری میں ہم نے کنٹرول لائن پرجنگ بندی کے 2003 کے معاہدے کا اعادہ کیا۔ امید یہ تھی کہ اس سے دہلی میں حکمت عملی پر دوبارہ غوروخوض ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے وہ اس بربریت سے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے اور اس کے لیے بھارت کو لازماً یہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نمبر ایک، 5 اگست 2019 سے کیے گئے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو منسوخ کرے، نمبر دو،کشمیر کے عوام کے خلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر تین، مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں کی جانے والی تبدیلیوں کو روکے اور منسوخ کرے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔ بھارت کی فوجی تیاری، جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور عدم استحکام پیدا کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ملکوں کے درمیان موجود ڈیٹیرنسس کو بے معنی کر سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں افغانستان کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کسی وجہ سے افغانستان کی موجودہ صورتحال یعنی وہاں ہونے والی تبدیلی کے حوالے سے
    امریکہ اور یورپ میں بعض سیستدان پاکستان پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے میں چاہتا ہوں کہ سب جان لیں کہ جس ملک نے افغانستان کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے وہ پاکستان ہے جب ہم 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ 80 ہزار پاکستانی مارے گئے اور ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور یہ کیوں ہوا؟ اسی کی دہائی میں افغانستان پر غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول میں تھا۔ پاکستان اور امریکہ نے افغانستان کی آزادی کے لیے مجاہدین کو تربیت دی۔ دنیا بھر سے مجاہدین گروپوں، اٖفغان مجاہدین اور القائدہ کو ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ صدر رونلڈ ریگن نے 1983 میں ان کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دی ایک نیوز رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان کا موازنہ امریکہ کے بانیوں کے ساتھ کیا۔ 1989 میں سوویت یونین افغانستان سے چلا گیا اور اسی طرح امریکی بھی افغانستان کو چھوڑ کر گئے۔ پاکستان کو 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ہمارے ہاں مذہبی فرقہ پرستی پھیلانے والے عسکری گروپس آگئے جن کا پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ بدترین صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک سال بعد امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ آگے بڑھتے ہیں، ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اب امریکہ کی زیر قیادت اتحاد اٖفغانستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے پاکستان کی طرف سے لوجسٹیکل سپورٹ کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ وہی مجاہدین جن کو ہم نے غیر مللکی قبضے کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا تھا کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ ایک مقدس فریضہ ہے، ایک مقدس جنگ اور جہاد وہ ہمارے مخالف ہوگئے۔ ہمیں شریک کار گردانا گیا انہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ پھر افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے قبائلی علاقے میں جو پاکستان کا جزوی طور پر خود مختار علاقہ ہے اور جہاں ہماری آزادی کے وقت سے کوئی فوج تعینات نہیں کی گئی تھی ان کی افغان طالبان کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی تھی اس لیے نہیں کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک ہے بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے جو کہ بہت مضبوط تعلق ہے۔ پھر 30 لاکھ افغان پناہ گزین اب بھی پاکستان میں تھے، وہ سب پشتون ہیں جو کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ 5 لاکھ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ اور ایک لاکھ افراد پر مشتمل کیمپس ان سب کی افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی تھی، کیا ہوا؟ وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ پہلی بار پاکستان میں عسکریت پسند طالبان سامنے آئے انہوں نے بھی پاکستانی حکومت پر حملے کیے۔ ہماری تاریخ میں جب پہلی بار ہماری فوج قبائلی علاقوں میں گئی جب بھی فوج شہری علاقوں میں جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں اور بلا تخصیص نقصان ہوتا ہے۔ اس سے بلا تخصیص نقصان ہوا جس کے نتیجے میں بدلہ لینے کیلئے عسکریت پسندوں کی تعداد دوگنی اور تگنی ہوگئی۔ صرف یہی نہیں، دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ نے پاکستان میں 480 ڈرون حملے کیے ہم سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے ہدف کو درست نشانہ نہیں لگا سکتے۔
    وہ ان عسکریت پسندوں کے مقابلے میں جن کو وہ نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں زیادہ نقصان کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے پیارے مارے گئے انہوں نے پاکستان سے بدلہ لیا۔ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپ پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے۔ ایک وقت تھا جب میرے جیسے لوگ پریشان تھے کہ کیا ہم اس صورتحال کا کامیابی سے مقابلہ کر لیں گے۔ پاکستان میں ہر طرف بمب دھماکے ہو رہے تھے۔ہمارا دارالحکومت ایک قلعے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ اگر ہماری فوج نہ ہوتی جو کہ دنیا کہ انتہائی منظم افواج میں سے ایک ہے اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی بھی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان نیچے چلا جاتا۔ جب ہم اس طرح کی باتیں سنتے ہیں جب امریکہ میں انٹرپریٹرز وغیرہ اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اس کی مدد کی پریشانی ظاہر کی جاتی ہے تو ہمارے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہم نے جو اس قدر مشکلات کا سامنا کیا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے ہم افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کے ساتھ تھے جہاں افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جارہے تھے۔ ہمارے لیے کم از کم تعریف کا ایک لفظ ہی کہا جاتا لیکن سراہنے کی بجائے تصور کریں
    ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب ہم پر افغانستان کے واقعات کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے۔ 2006 کے بعد یہ بات ہر اس کے لیے واضح تھی جو افغانستان کو سمجھتا ہے جو افغانستان کی تاریخ سے آگاہ ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہوگا۔ میں امریکہ گیا، میں نے تھنک ٹینکس کے ساتھ بات کی میں نے اس وقت سینیٹر بائیڈن، سینیٹر جان کیری اور سینیٹر جان ریڈ سے ملاقات کی میں نے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی اگر آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو اسے ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں تین لاکھ نفوس پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے اور اس نے مقابلہ نہیں کیا۔ جس لمحے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آئے ہیں اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا ک اس وقت ساری عالمی برادری کو یہ سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے۔ ہمارے پاس دوراستے ہیں اگر اس وقت ہم اٖفغانستان کو پس پشت ڈال دیں گے تو افغانستان کے آدھے عوام جن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اگلے سال تک افغانستان کے نوے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ ہمیں آگے ایک بہت بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے جس کے سنگین اثرات افغانستان کے ہمسائیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہوں گے اگر غیر مستحکم اور بحران سے دوچار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں آیا تھا؟ اس لیے آگے جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم افغان عوام کی خاطر لازمی طور پر موجودہ حکومت کو مستحکم کریں ۔ طالبان نے کیا وعدہ کیا تھا، وہ انسانی حقوق کا احترام کریں گے، وہ ایک مخلوط حکومت بنائیں گے، وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کو استعمال کرنے نہیں دیں گے اور انہوں نے معافی کا اعلان کیا ہے۔ اگر اب عالمی برادری ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی، کیونکہ یہ وہ چار چیزیں تھیں جب دوحہ میں امریکہ کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے اور بات چیت کا محور یہی باتیں تھیں۔ اگر دنیا اس سمت میں آگے بڑھنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو امریکہ اتحاد کی افغانستان میں 20 سال کے دوران کی جانے والی کوششیں ضائع نہیں ہوں گی کیونکہ افغانستان کی سرزمین بین الاقوامی دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے سب پر زور دوں گا کہ یہ افغانستان کے لیے نازک وقت ہے۔ آپ وقت ضائع نہیں کر سکتے، وہاں امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو اس مقصد کیلئے متحرک کریں، شکریہ۔

  • وزیراعظم پاکستان  جناب عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب

    نیویارک :وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں‌،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج رات جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کرنے والےہیں‌، جس کے لیے تیاری کی جارہی ہے

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم دنیا سے اپنے خطاب میں‌ افغانستان اورمسئلہ کشمیرپربات کریں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم افغانستان سےمتعلق پاکستانی پالیسی واضح کریں گے

    وزیراعظم مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھائیں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج وزیراعظم کوروناکےخلاف پاکستانی اقدامات سےبھی آگاہ کریں گے