Baaghi TV

Author: +9251

  • آپ پاکستان واپس جائیں آپ کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں ہیں برطانوی حکام کا پیغام نوازشریف پربجلی بن کرگرا،صوبائی وزیرکا دعویٰ‌

    آپ پاکستان واپس جائیں آپ کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں ہیں برطانوی حکام کا پیغام نوازشریف پربجلی بن کرگرا،صوبائی وزیرکا دعویٰ‌

    لاہور: آپ اپنے ملک واپس جائیں آپ کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں پڑے ہوئے برطانوی حکام کا پیغام نوازشریف پربجلی بن کرگرا ، صوبائی وزیرکا دعویٰ‌، صوبائی وزیرکا دعویٰ‌،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ایک معروف صوبائی وزیرنے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی اہلکاروں نے نواز شریف کو وطن واپسی کا کہا ہے۔برطانوی حکام نے کہا ہےکہ آپ اپنے ملک جائیں آپ کی وجہ سے ہم بھی مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں‌

    ذرائع کےمطابق یہ بات صوبائی وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے ایک اہم تقریب میں‌ اس بات کا انکشاف کیا ہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ اسلام دشمن طاقتیں اور بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔

    انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو ایک سازش کے تحت بھارت کا وزیراعظم بنایا گیا، نواز شریف مودی قصائی کی سازش کو نہیں سمجھ سکے، بھارت میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔عورت مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو آزادی اظہار کے نام نہاد نعرے لگانے کی اجازت نہیں دے گی۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بلاول زرداری بچے اور من کے کچے ہیں۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ عدالت نے کیا، حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ برطانوی اہلکاروں نے نواز شریف سے ایک مجرم کی حیثیت سے ملاقات کی، برطانوی اہلکاروں نے نواز شریف کو وطن واپس جانے کا کہا ہے۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف گزشتہ برس نومبر میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے جہاں انھیں 3 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔پنجاب حکومت نے نواز شریف کی بیرون ملک رہنے کے معاملے پر توسیع کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ وفاقی حکومت نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت برطانیہ کو خط بھی لکھ دیا ہے۔

  • شرجیل میمن کو ملا عدالت کی طرف سے ریلیف

    شرجیل میمن کو ملا عدالت کی طرف سے ریلیف

    شرجیل میمن کو ملا عدالت کی طرف سے ریلیف

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شرجیل میمن کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    شرجیل میمن کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس غلام اعظم قمبرانی نے کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ جب ملزم تفتیش میں تعاون کر رہا ہے تو گرفتاری کیوں چاہیے؟ نیب ملزم کی تضحیک کیوں کرنا چاہتا ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ بہت سے کیسز میں سامنے آیا ہے کہ تفتیشی افسر جا کر تفتیش نہیں کرتا، نیب مکمل تفتیش کرے اور ملزم کو عدالت سے سزا دلوائے.انہوں نے استفسار کیا کہ اب تک نیب کے کتنے کیسز میں ملزمان کو 14 سال سزا ہوئی ہے؟

    وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ شرجیل میمن اکتوبر 2017 میں گرفتار ہوئے اور جون 2019 میں رہا ہوئے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ شرجیل میمن کے خلاف اس کیس کی تفتیش کب شروع ہوئی؟ یہ نہ بتائیں کہ نیب اسلام آباد یا نیب کراچی، نیب کراچی یا اسلام آباد نہیں بلکہ نیب ہے۔پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ 2016 میں شرجیل میمن کے خلاف انکوائری کا حکم ہوا پھر 2017 میں تحقیقات میں تبدیل ہوئی۔

    عدالت نے اس پر سوال کیا کہ جب دوسرے کیس کی انوسٹی گیشن 2017 میں ہو رہی تھی تو اس کیس کی تفتیش کیوں نہیں کی گئی۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا تفتیشی افسر نااہل ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے؟ کسی کو تو ذمہ لینا ہے نیب ہیڈکوارٹرز کو نااہل تفتیشی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے.

    واضح رہے کہ شرجیل میمن کے خلاف دائر ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے وزرت اطلاعات و نشریات میں بطور وزیر محکمے کے افسران اور اشتہاری کمپنیوں کے گٹھ جوڑ سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات کی مد میں رقوم جاری کر کے بد عنوانی کی۔ جولائی 2013 سے جون 2015 تک ٹی وی اور ایف ایم چینلوں پر عوام میں آگہی کے لیے مہم چلائی گئی جس کی مد میں قومی خزانے کو تین ارب 27 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا۔

  • پاکستان میں مجموعی تعداد 20 ہوگئی،گلگت بلتستان میں 14 سالہ بچے کو کورونا وائرس

    پاکستان میں مجموعی تعداد 20 ہوگئی،گلگت بلتستان میں 14 سالہ بچے کو کورونا وائرس

    اسلام آباد :پاکستان میں مجموعی تعداد 20 ہوگئی،گلگت بلتستان میں 14 سالہ بچے کو کورونا وائرس ،اطلاعات کےمطابق گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے آگیا جس کے بعد پاکستان میں مجموعی کیسز کی تعداد 20 ہوگئی۔

    پاکستان میں جوں جوں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے بے چینی بڑھتی جارہی ہے، دوسری طرف اس حوالے سے گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر شاہ زمان نے اسکردو کے 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثر لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری کو ایران سے پاکستان پہنچا تھا۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکا 4 اور 5 مارچ کی شب اہل خانہ کے ہمراہ اسکردو پہنچا تھا، جہاں 6 مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی اور انہیں آئسولیش وارڈ منتقل کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 6 مارچ کو بھیجی گئی رپورٹ پر اسلام آباد کی لیبارٹری نے 7 مارچ کو تصدیق کی کہ متاثرہ فرد کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ زین علی کے تمام خاندان کے نمونے حاصل کرکے تصدیق کے لیے لیب بھجوادیے گئے ہیں۔انہوں نے متاثرہ فرد کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ زیارت کے لیے ایران گیا تھا۔

  • کرونا وائرس نے سب فرق مٹا دیئے عام شخص سے لیکربادشاہوں تک سب  لپیٹ میں ،اب برطانوی نائب وزیرصحت زد میں آگئیں‌

    کرونا وائرس نے سب فرق مٹا دیئے عام شخص سے لیکربادشاہوں تک سب لپیٹ میں ،اب برطانوی نائب وزیرصحت زد میں آگئیں‌

    لندن :کرونا وائرس نے سب فرق مٹا دیئے عام شخص سے لیکربادشاہوں تک سب لپیٹ میں ،اب برطانوی نائب وزیرصحت زد میں آگئیں‌ ، ذرائع کےمطابق برطانوی نائب وزیر صحت 62 سالہ نیڈن ڈورس نے تصدیق کی ہے کہ وہ بھی ’کورونا وائرس‘ میں مبتلا ہوگئی ہیں جب کہ ان کی والدہ میں بھی مذکورہ وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

    برطانیہ میں 11 مارچ کی صبح تک 382 افراد میں کورونا کی تصدیق ہو چکی تھی جن میں سے 6 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔برطانوی حکومت کے مطابق 11 مارچ تک ’کورونا وائرس‘ میں مبتلا ہونے والے 382 افراد میں سے 18 مریض صحت یاب ہو چکے تھے۔

    نائب وزیر صحت 62 سالہ نیڈن ڈورس نے 11 مارچ کو اپنی ایک ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ وہ ’کورونا وائرس‘ میں مبتلا ہوچکی ہیں اور یہ انتہائی پریشانی کی بات ہے تاہم انہیں امید ہے کہ سب کچھ خیریت اور بہتری سے گزر جائے گا۔
    نائب وزیر صحت نے اپنی ٹوئٹ میں اپنی 84 سالہ والدہ کی طبیعت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کی والدہ کو بھی کھانسی شروع ہوگئی ہے، جس وجہ سے اب ان کا بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔

     

    برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نائب وزیر صحت اور پہلی رکن پارلیمنٹ میں ’کورونا وائرس‘ کی تصدیق کے بعد دیگر ارکان پارلیمنٹ اور سیاستدانوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ممکنہ طور پر اب ان تمام سیاستدانوں اور ارکان پارلیمنٹ کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ کچھ ایام کے دوران متاثرہ نائب وزیر صحت سے ملاقات کی۔

    ’کورونا وائرس‘ میں مبتلا ہونے والی نائب وزیر صحت نیڈن ڈورس نے 3 دن قبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، ان کی حاملہ گرل فرینڈ اور دیگر ارکان پارلیمنٹ سے بھی 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیر اعظم ہاؤس) میں ہونے والی ایک تقریب میں ملاقات کی تھی۔

    علاوہ ازیں نائب وزیر صحت پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں بھی شریک ہوئیں اور وہاں انہوں نے متعدد ارکان سے ملاقاتیں کیں اور اب ان تمام ارکان، سیاستدانوں اور افراد کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے، جنہوں نے نائب وزیر صحت سے ملاقات کی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ تمام ارکان پارلیمنٹ، سیاستدان اور افراد کورونا کا ٹیسٹ کروائیں گے جنہوں نے حال ہی میں نائب وزیر صحت نیڈن ڈورس سے ملاقات کی، تاہم وزیر اعظم بورس جانسن کی میڈیا ٹیم کی جانب سے فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم بھی ٹیسٹ کروائیں گے یا نہیں۔

  • قومی اسمبلی میں  زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کثرت رائے سے منظور

    باغی ٹیی وی . ایک عرصے بعد آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے زینب الرٹ بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے بل پر ترمیم پیش کی جس پر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ آپ کی ترمیم تاخیر سے موصول ہوئی ہیں، اس لیے اسے شامل نہیں کر سکتے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ بل کی نیت پرمجھے کوئی شک نہیں ، پہلے سڑکوں پر سے بھیک مانگتے، سگنلز پر کھڑے بچوں کو وہاں سے ہٹائیں۔انہوں نے کہا کہ زینب الرٹ بل کے مقاصد پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہر سگنل پر آپ کو زینب نظر آئے گی، جو گاڑی کے شیشے صاف کرتی ہے اور بھیک مانگتی ہے۔

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی میں جان ہونی چاہیے ، اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ایم ایم اے کے مولانا اکبر چترالی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں سے زیادتی کرنے والے افراد کو بچایا جا رہا ہے.
    اس سے پہلے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں بولنا چاہیے اور اچھی بات کہنی چاہیے،ہم آئی ایم ایف اور جعلی شہزادوں کے غلام بن گئے ہیں،سب نے دیکھ لیا، امریکا نے افغانستان میں شکست کھائی،

    سراج الحق نے مزید کہا کہ جوبچوں سے زیادتی کرے یا قتل کرے،اس کوقرآن کے مطابق سزا دی جائے،عوام نے بے رحم لوگوں کومنتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجا،زینب الرٹ بل کونہیں مانتے،ہرفورم پرمخالفت کریں گے، فرشتہ،نوراورزینب کے ساتھ جو ہوا مجرموں کو پھانسی ہونی چاہیے. بچوں کے قتل کی سزا کو صرف جیل تک محدود کردیا ہے، قتل کی سزاتو پہلے ہی قصاص ہے،اس بل میں دفعہ 201 اور302 کو شامل کیا جائے،

  • جنوبی پنجاب صوبے کی طرف اہم پیش رفت، بہاولپور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ

    جنوبی پنجاب صوبے کی طرف اہم پیش رفت، بہاولپور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ

    جنوبی پنجاب صوبے کی طرف اہم پیش رفت، بہاولپور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی :جنوبی پنجاب صوبے کی طرف اہم پیش رفت ،وزیراعظم عمران خان سے آج جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی نے ملاقات کی جس کے دوران بہاولپور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‌ کیلئے ساڑھے 3ارب روپے کے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔

    اہم فیصلے کے بعد معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیر خارجہ شاہ محمود نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ معاون خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہاولپور میں وزیراعلی سیکرٹریٹ کا قیام تحریک انصاف حکومت کا جنوبی پنجاب صوبہ کی طرف پہلا قدم ہے۔ بہاولپور کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اورایڈیشنل آئی جی تعینات کیے جائیں گے۔

    فردوس عاشق نے مزید کہا کہ وزیراعظم جنوبی پنجاب کےعوام کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں، جس پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم نے جنوبی پنجاب کی لیڈرشپ سے آج طویل مشاورت کی اور عوام سے وعدوں کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔جنوبی پنجاب کی لیڈر شپ نے اپنی رائے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جس کے بعد بہاولپور میں سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے سابق وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کے گھر پر جنوبی پنجاب محاذ کے رہنماوں سردار نصراللہ خان دریشک ، سردار علی دریشک، سمیع اللہ چودھری، طاہر بشیر چیمہ سے ملاقاتیں کیں۔ملاقات میں جنوبی پنجاب صوبے کا سیکرٹریٹ کس شہر میں بنایا جائے پر غور وخوض کیا گیا ۔ ملاقات میں معاملے کو اسمبلی سے منظور کروانے کی حکمت پر بھی غور کیا گیا۔

    واضح‌ رہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی 100دن میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جنوبی پنجاب صوبہ تو کجا تاحال سیکرٹریٹ قیام پر اتفاق رائے بھی نہیں پایا جاسکا۔

    واضح رہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی ہے،ملاقات کرنیوالوں میں نشاط احمد ڈاھا، غیاث الدین، چوہدری اشرف علی، فیصل خان نیازی، غضنفر علی خان، محمد ارشد، اظہر عباس اور اشرف علی انصاری بھی شامل تھے جبکہ یونس انصاری اور چوہدری طاہر بشیر چیمہ بھی موجود تھے

  • گلف نیوز نے مودی کی حمایت میں بے شرمی کی تمام  حدیں عبور کردیں

    گلف نیوز نے مودی کی حمایت میں بے شرمی کی تمام حدیں عبور کردیں

    گلف نیوز نے مودی کی حمایت میں بے شرمی کی حدیں عبور کردیں

    باغی ٹی وی :گلف نیوز نے مودی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ مودی کو دہلی میں مسلم کش فسادات کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ، جبکہ بھارت سمیت پوری دنیا مودی کو اس کے اقدام پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے.
    جریدے نے لکھتے ہوئے کہ دنیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والے قوم کے قومی دارالحکومت میں فرقہ وارانہ فسادات میں 50 سے زیادہ جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ، تب ظاہر ہے کہ یہ حق پرست لوگوں کے ضمیر کی آواز ہے کہ وہ اٹھیں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اجاگر کریں ، امن کا مطالبہ یہ ہے کہ مذہبی تقسیم کے دونوں طرف سے غلط کام کرنے والوں کے ساتھ قانون کی پوری طاقت سے نمٹا جائے۔ تاہم ، اگر آپ ایک سیکنڈ کے لئے بھی سوچتے ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی اس خونریزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو پھر سوچیے کہ چیزوں کو تناظر میں رکھنا ، سب سے پہلے ، آئیے ہم اس سوشل میڈیا پر چلنے والی ہارر کہانی پر یقین نہیں کریں گے جو دہلی کے فسادات کو حالیہ یادوں میں بدترین پیش کرنا چاہتا ہے۔ کوئی غلطی نہ کریں – یہ نہ تو حقیقت کا پانی پلایا ہوا ورژن پیش کرنے کی کوشش ہے اور نہ ہی فرشتہ کی طرح کوئی برائی پیش کرنا۔

    اخبار نے دہلی کے مسلم کش فسادات کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں جو ہوا ہے وہ در حقیقت بدقسمتی اور تہذیب کا دھبہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ دہلی میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک اتنی کہیں نہیں تھی ، جو ہم نے دہلی میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات ، مالی دارالحکومت ممبئی میں 1993 کے ایودھیا فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کے دوران دیکھی تھی۔
    واضح رہے کہ دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

  • سلو اوور ریٹ کے باعث پشاور زلمی کو ہوا جرمانہ

    سلو اوور ریٹ کے باعث پشاور زلمی کو ہوا جرمانہ

    سلو اوور ریٹ کے باعث پشاور زلمی کو ہوا جرمانہ

    باغی ‌ٹی وی :منگل کے روز لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے مابین کھیلے گئے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے 24ویں میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر لاہور قلندرز کے دلبر حسین پر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔

    دلبر حسین کو ضابطہ اخلاق کی شق 2.5 کی خلاف ورزی کرنے پر میچ فیس کا 5 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ضابطہ اخلاق میں شامل یہ شق بلے باز کو آؤٹ کرنے کے بعد نامناسب زبان، اشارے یا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے اشتعال دلانے سے متعلق ہے۔

    یہ واقعہ میچ کے دوران پہلی اننگز کے 18ویں اوور میں اس وقت پیش آیا جب لاہور قلندرز کے دلبر حسین نے پشاور زلمی کے حیدر علی کو آؤٹ کرنے کے بعد ایسے ردعمل کا اظہار کیا جو بیٹسمین کو اشتعال دلا سکتا تھا۔

    اس دوران سلو اوور ریٹ کے باعث پشاور زلمی پر جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ پہلی بار اس جرم کا ارتکاب کرنے کے باعث پشاور زلمی کی پلیئنگ الیون میں شامل تمام کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ سلو اوور ریٹ کے باعث پشاور زلمی کے خلاف کارروائی پی سی بی کے ضابطہ اخلاق برائے کھلاڑی اور اسپورٹ اسٹاف کی شق 2.22 کے تحت کی گئی ہے۔

    اگر پشاور زلمی کی ٹیم ایونٹ میں دوسری مرتبہ سلو اوور ریٹ کے جرم کی مرتکب پائی جاتی ہے تو پلیئنگ الیون میں شامل تمام کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    آن فیلڈ امپائرز علیم ڈار اور مائیکل گف ، تھرڈ امپائر آصف یعقوب اور فورتھ امپائرناصر حسین نے دلبر حسین اور پشاور زلمی کی ٹیم پر چارجز عائد کیے۔جس پر میچ ریفری محمد انیس نے کاروائی کرتے ہوئے جرمانے کی سزائیں سنائیں

  • مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی

    مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی

    سرینگر :مقبوضہ کشمیر: پلوامہ دستی بم حملے میں سی آر پی ایف اہلکارزخمی ,اطلاعات کےمطابق کی شام جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں پولیس اسٹیشن کاک پورہ پر مشتبہ افراد نے دستی بم پھینکا جس سے نیم فوجی دستے کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا

    ساوتھ ایشین وائر کوایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار سونو کمار زخمی ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ زخمی کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق مین گیٹ پر مامور پولیس اہلکاروں نے کچھ ہوائی فائر کئے۔ اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے فورا بعد ہی پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے علاقے میں تلاشی کا کام شروع کیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پلوامہ میں 2000سے اب تک 136مختلف واقعات میں 181سیکورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

  • سرگودھا پولیس کی ناجاٸز اور بے بنیاد ایف آئی آر کاٹنے کی ایک اور داستان

    سرگودھا پولیس کی ناجاٸز اور بے بنیاد ایف آئی آر کاٹنے کی ایک اور داستان

    سرگودھا ( ادریس نواز سے ) تھانہ فیکٹری ایریا میں کاٹی گٸ ایف آٸ آر نمبر 113/20 اور 114/20 ناجاٸز ، بے بنیاد اور حقاٸق سے ہٹ کر ھے ۔ متاثرہ خاندان کی ضلعی اعلیٰ افسران ، منتخب عوامی نماٸندگان ، آٸ جی پنجاب ، چیف سیکٹری پنجاب ، وزیراعلیٰ پنجاب ، اور وزیراعظم عمران خان سے انصاف کی اپیل ۔
    تفصیلات کے مطابق :
    سرگودھا چک نمبر 54 شمالی کے رہاٸشی عمر حیات اور محمد اظہر 9 مارچ 2020 کو اپنی گاڑی مرمت کروانے سرگودھا شہر آۓ ۔ رات 12 بجے کے بعد ان دونوں کا نمبر بند ہو گیا ۔ 10 تاریخ کو اھل خانہ کو پتہ چلا کہ ان کے بیٹے عمر حیات اور محمد اظہر کو تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے پکڑ لیا ھے ۔ اھل خانہ تھانہ پہنچے تو سب انسپکٹر مجاھد شاہ نے بتایا کہ میں عمر حیات اور اظہر پہ 30 لیٹر شراب و ناجاٸز اسلحہ رکھنے کی دفعات کے تحت ایف آٸ کاٹ رہا ہوں ۔ اھل خانہ ڈی پی او سرگودھا عمارہ اطہر کو پیش ہو کر ساری حقیقت سے آگاہ کیا ۔ اور پھر ایس ڈی پی او سٹی احمد شاہ کو پیش ہو کر ساری حقیقت سے آگاہ کیا ۔ تو اے ایس پی احمد شاہ نے تفتیشی افسر سب انسپکٹر مجاھد شاہ کو طلب کیا اور رپورٹ طلب کی ۔ اس کے بعد اے ایس پی احمد شاہ نے بتایا کہ آپ کے لڑکوں نے رات کو شراب پی ہوٸ تھی ۔ اور انکے پاس سے ناجاٸز پسٹل اور تین بوتلیں شراب بھی برآمد ہوٸ ھیں ۔ جبکہ ایف آٸ آر میں ناجاٸز اسلحہ کی کوٸ بھی دفعات شامل نہیں ھے ۔ اس کے علاوہ عمر حیات اور اظہر کے اھل خانہ کو پورا دن ملاقات بھی کرنے کی اجازت نہیں دی گٸ ۔
    عمر حیات اور محمد اظہر کو تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے 9 مارچ 2020 کو رات کو گرفتار کیا ۔ جبکہ ایف آٸ آر میں وقوعہ 10 مارچ کا بتایا گیا ھے ۔ اس کے علاوہ عمر اور اظہر دونوں ایکساتھ پکڑے گۓ تھے جبکہ پولیس نے ایف آٸ آر الگ الگ جگہ سے پکڑنے کی کاٹی ۔ کیا ان پولیس افسران سے کوٸ پوچھنے والا نہیں ۔ کہ جو بتایا گیا اس کے مطابق ایف آٸ کیوں نہیں کاٹی گٸ ۔ کیا پولیس افسران بے گناہ کو گناہگار بنا دیں ۔ تو ان سے کوٸ جواب طلب نہیں کرے گا۔
    کیا یہ ھے تبدیلی جو وزیراعظم عمران خان لانا چاہتے تھے ۔ کہ پولیس گردی اتنی زیادہ بڑھ چکی ھے ۔ کہ بے گناہ انسان کو پکڑ کر بھی اس پہ منشیات فروشی اور چوری و ڈکیتی کی ایف آٸ آر کاٹ دی جاتی ھیں ۔ اور جب لواحقین ڈی پی او یا آر پی او کے پاس اپنے بیٹے کی بے گناہی کےلیۓ پیش ہوتے ھیں تو کہا جاتا ھے کہ ایف آٸ آر ہو چکی ھے ۔ اور ایک بے گناہ کو منشیات فروش اور چور و ڈکیت کا خطاب مل جاتا ھے ۔ جسکی وجہ سے اسکی پوری زندگی تباہ ہو جاتی ھے ۔
    اور اگر متاثرہ خاندان اپنےمنتخب عوامی نماٸندگان کے پاس جاتے ھیں تو کہا جاتا ھے کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق پولیس میں سیاسی مداخلت ہم نہیں کر سکتے ۔
    اگر دفتر ٹاٸم کے علاوہ کسی کیساتھ پولیس ظلم و زیادتی کر رہی ہو ۔ اور وہ متاثرہ شخص ڈی پی او ، آر پی او ، اور آٸ جی پنجاب کے ریزیڈنس نمبر پہ کال کر کے اپنا مسٸلہ بتاۓ ۔ تو نہ تو آپریٹر متعلقہ افسر سے بات کرواتے ھیں اور نہ ہی خود متعلقہ تھانہ کو کال کرتے ھیں ۔
    اگر پولیس والوں کیخلاف اعلیٰ افسران کو درخواست دی جاۓ ۔ تو سنواٸ نہیں ہوتی ۔ اور وہ تھانہ پولیس خلاف ہو جاتی ھے ۔ اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسا دیتی ھے۔
    اگر کسی منسٹر کو کال کر کے اپنا مسٸلہ بتایا جاۓ تو وہ بھی نہ تو بات سنتے ھیں ۔ اور کہتے ھیں اپنے متعلقہ ایم پی اے اور ایم این اے سے بات کرو ۔ اور نہ تو وہ بات سنتے ھیں ۔
    عمران خان صاحب بڑے پیمانے پر پولیس افسران کی تبدیلیاں تو کر دیتے ھیں ۔ لیکن تھانہ کلچر میں پھر بھی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔
    اگر ایک مجبور انسان کی داد درسی کےلیۓ پولیس کے اعلیٰ افسران ، اور منتخب عوامی نماٸندگان تھانہ کلچر میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تو غریب انسان کہاں جاۓ اور کس سے انصاف کی اپیل کرے ۔
    میری آٸ جی پنجاب ، چیف سیکٹری پنجاب ، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل ھے ۔ کہ ایک منسٹر سے لیکر ایک سپاہی تک کو یہ احکامات صادر کیۓ جاٸیں ۔ کہ جب بھی کوٸ مجبور اپنی داد درسی کےلیۓ رابطہ کرے تو اسکی فوری داد درسی کی جاۓ ۔ تاکہ حقیقی معنوں میں پنجاب پولیس میں تبدیلی آ سکے ۔