Baaghi TV

Author: +9251

  • چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو کیا مشورہ دے دیا

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو کیا مشورہ دے دیا

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں پراعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں، طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،جس کیس پر وزیراعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اجازت انہوں نے خود دی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایک وزیراعظم کو سزادی ایک کو نااہل کیا،ایک سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ جس کیس پر وزیراعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اجازت انہوں نے خوددی،ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں،عدلیہ میں خاموش انقلاب آگیاہے،ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کرکرتے ہیں،ججزپراعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں۔

    چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی موبائل ایپ اور ہیلپ لائن کا باضابطہ افتتاح کردیا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عمران خان نے 2 دن پہلے خوش آئند اعلان کیا،وزیراعظم نے کہا کہ تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں ،اس وقت وسائل کی ضرورت تھی،وزیراعظم کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
    جسٹس آصف سعید کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہیں اور ہمارے منتخب نمائندے ہیں، وزیراعظم کو اس طرح کے بیانات دینے سے خیال کرنا چاہیے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدلیہ اپنا کام پوری دیانت داری اور فرض سمجھ کررہی ہے، ججز اور عدلیہ کی حوصلہ افزائی کریں، ہم بغیر وسائل کے کام کر رہے ہیں، جب وسائل فراہم کیے گئے تو مزید بہتر کام ہوگا۔

  • یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)،تحریر:جویریہ چوہدری

    یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)۔
    تحریر:جویریہ چوہدری

    بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔۔۔
    ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے۔۔۔
    کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔ !!!
    بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کے اسباب مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں۔۔۔
    مگر افسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی معاشرے میں اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تو
    اسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ !!!
    ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔۔۔
    ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔۔۔
    یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے۔۔۔ !!!!
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
    (صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ !!!!
    پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ !!!
    ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔۔۔ !!!!
    والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔۔۔۔شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔۔۔ !!!
    پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ !!!
    عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔۔۔
    لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔
    فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔۔۔
    اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا کیئے جاتے ہیں۔۔۔
    ان کی تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔۔۔۔
    جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔۔۔ !!!!
    لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔۔۔
    اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔۔۔
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔۔۔
    نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
    ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟
    ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟؟؟
    (رواہ البخاری۔۔۔کتاب الادب۔
    مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
    آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
    تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
    خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔۔۔ !!!!
    ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔۔ !!!!
    ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔۔۔
    ان کی روشن آنکھوں میں کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں۔۔۔ !!!
    کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔۔۔ !!!!
    ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔۔۔۔ !!!
    یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان
    پھولوں کو ہنساؤ سب__
    ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔۔۔ !!!
    ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔۔۔
    کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔۔۔ !!!!

  • مرغیاں پالوتےکٹے بچاؤ پروگرام کیلئے32 کروڑ جاری

    لاہور:ملک میں گوشت کی کمی کوپورے کرنے اورگھرکی سطح پرروزگارحاصل کرنے کے وزیراعظم عمران خان کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے وزیر اعظم مرغی پال اور کٹا بچاؤ پروگرام کیلئے 32 کروڑ جاری کردیئے گئے، محکمہ خزانہ پنجاب نے لائیوسٹاک پنجاب کو 32 کروڑ روپے کے فنڈز کا اجرا کیا۔فنڈز سے شہریوں میں سکیم کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم مرغی پال سکیم کے تحت دیسی مرغیاں تقسیم ہوں گی۔

    شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری پر تنقید: فراق گورکھ پوری نے جوش ملیح آبادی کو آئینہ دکھا دیا

    ذرائع کے مطابق گوشت کی کمی کوپورا کرنے کے لیے پنجاب بھر میں معیشت کی بہتری کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے احکامات پر مرغی پال منصوبہ شروع کیا گیا جبکہ گوشت کی پیداوار بڑھانے کیلئے کٹا بچاؤ اور کٹا فربہ پروگرام شروع کردیا گیا، جس کے تحت کٹا فربہ پروگرام کے تحت شہریوں کو کٹے پالنے کے عوض اعزازیہ انعام بھی دیا جائے گا اور محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے زیر اہتمام شہریوں کو دیسی مرغیوں کی فراہمی ہورہی ہے۔

    ’لفافے یا ڈیل ‘ اسد عمر نے حقیقت بتادی

    دوسرے مرحلے میں مزید یونٹس کی تقسیم کیلئے مرغیوں کی پرورش مذکورہ فنڈز کے استعمال سے کی جائےگی ۔جس کیلئے محکمہ خزانہ پنجاب نے 32 کروڑ روپے کے فنڈز کا اجرا کیا۔حکام کے مطابق اس پلان میں نہ صرف پنجاب حکومت فنڈنگ کرے گی بلکہ وفاقی حکومت بھی اپنے شیئرز دے گی

    بھارتی لابی کامیاب ، انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے پاکستانی اپیل مسترد کردی

  • سرکاری ملازمین فیس بک، یو ٹیوب اورواٹس ایپ میں مصروف رہیں یا نوکری کریں‌،ایک ہی کام ہوگا،

    اسلام آباد :سرکاری ملازمین فیس بک، یو ٹیوب اورواٹس ایپ میں مصروف رہیں یا نوکری کریں‌،ایک ہی کام ہوگا، نیشنل آئی ٹی بورڈ نے سرکاری اداروں میں فیس بک، یو ٹیوب کے استعمال پر پابندی کی تجویز دے دی، حکام کا کہنا ہے کہ ملازمین مستقبل میں واٹس ایپ کا استعمال بھی نہیں کر سکیں گے، سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ طرز پر سروس متعارف کرائی جائے گی۔

    شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری پر تنقید: فراق گورکھ پوری نے جوش ملیح آبادی کو آئینہ دکھا دیا

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی آئی ٹی کمیٹی کا اجلاس علی جدون کی زیرصدارت ہوا ، جس میں سرکاری اداروں میں فیس بک، یو ٹیوب اور یوایس بی کے استعمال پر پابندی کی تجویز دی گئی۔

    ’لفافے یا ڈیل ‘ اسد عمر نے حقیقت بتادی

    نیشنل آئی ٹی بورڈ حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دفاتر میں بیٹھے لوگ یو ٹیوب چلا رہے ہیں ، فیس بک بھی چلائی جا رہی ہیں اور یو ایس بی سے ڈیٹا گھر بھی لے جاتے ہیں، ڈیٹا کو سینٹرلائزڈ کرکے تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں گے۔

    این آئی ٹی بی سینٹرلائزڈ ڈیٹا سسٹم کو ہوسٹ کرے گا، ملازمین مستقبل میں واٹس ایپ کا استعمال بھی نہیں کرسکیں گے، سرکاری ملازمین کے لئے واٹس ایپ طرز پرسروس متعارف کرائی جائے گی، حکومت پاکستان واٹس ایپ طرز کا سروربنائے گی ،سرکاری ملازمین دستاویز ذاتی وٹس ایپ پر شیئر نہیں کریں گے ، واٹس ایپ طرز سروس پروائس میسج، ویڈیوز اور دستاویزات بھیج سکیں گے۔

    بھارتی لابی کامیاب ، انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے پاکستانی اپیل مسترد کردی

    یاد رہے چند روز قبل اسرائیلی کمپنی کاپاکستان کےسرکاری افسران کےموبائل فون ڈیٹاتک رسائی کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد وزارت آئی ٹی ہدایت جاری کی ہے کہ 10مئی 2019سے پہلے خریدے گئے موبائل فوری طور پر تبدیل کریں اور حساس معلومات کسی بھی ایپ کے ذریعے شیئر نہ کریں۔

  • مولانا کس پلان کے تحت اسلام آباد سے گئے، فردوس عاشق اعوان نے بتایا

    مولانا کس پلان کے تحت اسلام آباد سے گئے، فردوس عاشق اعوان نے بتایا

    مولانا کس پلان کے تحت اسلام آباد سے گئے، فردوس عاشق اعوان نے بتایا

    وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ جس طرح خالی ہاتھ اسلام آباد آئے تھے، ویسے ہی خالی ہاتھ لوٹ گئے۔مولانا کو پلان ’ایگزٹ‘ کا سہارا لینا پڑا.

    اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ آپ کی سیاسی جڑیں عوام نے کاٹیں لیکن آپ جمہوریت سے بدلہ لینے پر تل گئے تاہم قوم نے دیکھ لیا کہ کون اسلام آباد سے چلتا بنا اور ہل کر باہر جا گرا۔

    فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوام نے آپ کو مسترد کرکے ثابت کیا کہ وہ انتہا پسندی کے ساتھ نہیں۔
    دوسری طرف فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اسد عمر وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں، ان کی پارٹی کیلئے خدمات ہیں، اسد عمر گڈ گورننس کے لئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہے ہیں۔

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اسدعمرکوکابینہ میں دیکھناچاہتے تھے، ان کی حکومتی امورمیں ہمیشہ مشاورت رہی ہے، اسد عمر کی کابینہ میں شمولیت سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

  • غلام مصطفی خان جتوئی وفات پاگئے،تاریخ لوٹ آئی

    کراچی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج بھی تاریخ نےوہ دن دوبارہ دہرادیا اورباورکرادیا جس دن پاکستان کے سابق وزیراعظم اپنے خالق حقیقی سے جاملے،اسی سابق وزیراعظم کی تاریخ‌پیدائش بھی بہت مشہوردن کی ہے،اسی دن چودہ اگست 1931ء کوپاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کی سرزمین میں‌پیدا ہوئے۔

    غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔ 1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔

    1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔

    مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ 1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔

    6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں

  • تھانہ سٹی جلالپور جٹاں پولیس کی کاروائی،40کُپی شراب برآمد کر لی،دو شراب فروش گرفتار۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)
    تھانہ سٹی جلالپور جٹاں پولیس کی کاروائی،40کُپی شراب برآمد کر لی،دو شراب فروش گرفتار،مقدمہ درج .تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر کی سربراہی میں گجرات پولیس کی ضلع بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ایس ایچ اوسٹی جلالپور جٹاں SIعدنان احمد نے اپنی پولیس ٹیم کے ہمراہ علاقہ میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دوشراب فروشوں جن میں 1۔ علی مرتضیٰ ولد کرامت اللہ سکنہ محلہ کلرک پورہ جلالپورجٹاں 2۔محمد تنویر ولد محمد انور سکنہ محلہ کارخانہ تان سین جلالپورجٹاں شامل ہیں کے قبضہ سے 40کپی شراب برآمد کر کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا،ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • رہبر کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے کیا مطالبہ کر دیا

    رہبر کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے کیا مطالبہ کر دیا

    تفصیلات اپوزیشن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
    پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں اکرم خان درانی ،احسن اقبال، طاہر بزنجو، نیئر بخاری، میاں افتخار، عثمان کاکڑ اور فرحت اللہ بابر شریک ہوئے۔

    کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کرانے کیلئے دباؤ بڑھانے اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا جبکہ فارن فنڈنگ کیس پر اعلی عدلیہ سے رجوع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

    اجلاس کے بعد رہبر کمیٹی کے ارکان پارلیمنٹ ہائوس سے پیدل ہی احتجاج کے لیے الیکشن کمیشن پہنچے۔ ارکان اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روانہ کی بنیاد پر سماعت کا مطالبہ کیا۔

    اکرم درانی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو رہبر کمیٹی کی طرف سے یادداشت پیش کریں گے جس میں ان سے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ پر کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں تاخیر ملک قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والوں نے عوام کے چندے کے ساتھ کھلواڑ کیا، پی ٹی آئی بےقصور ہے تو وہ کیوں درخواست دے رہی ہے کہ مقدمے کی کارروائی خفیہ رکھی جائے۔فارن فنڈنگ کیس کرپشن کی تاریخ کا میگا اسکینڈل ہے:

  • طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مارگرایا

    طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مارگرایا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے میں دو حاضر سروس فوجی مارے گئے ہیں۔

    امریکی فوج کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم اسکی وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔فوج نے کہا ہے کہ واقعہ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر ان کے جنگجوؤں نے کابل کے جنوبی علاقے لوگر میں گرایا۔واضح رہے کہ چنوک ہیل کاپٹر انتہائی جدید اور جنگی صلاحیت کا حامل سمجھا جا تا ہے .

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ گزشتہ شب مجاہدین کیخلاف کارروائی میں شامل امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جو مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

  • قانون صرف غریبوں کیلئے، پولیس آفیسرزظالم کے ساتھی ہوتے ہیں، خوف خداہی ختم ہوگیا ،لاہورہائی کورٹ

    لاہور:قانون صرف غریبوں کیلئے، پولیس آفیسرزظالم کے ساتھی ہوتے ہیں، خوف خداہی ختم ہوگیا ،لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد قاسم خان نے شوکت علی درخواست ضمانت پر دوران سماعت ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس افسروں کو یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں، ان میں خوف خدا ختم ہوگیا ہے کہ اللہ تعالی کو جواب دینا ہے، کیا قانون صرف غریبوں کیلئے رہ گیا، پولیس کے سینئر آفیسرز آنکھیں بند کر کے بیٹھے اور ظالم کے ساتھی بنے ہوئے ہیں۔

    جسٹس محمد قاسم خان نے ڈکیتی مزاحمت،پولیس مقابلے میں ملوث ملزم شوکت علی کی درخواست ضمانت پرسماعت کی، سیکرٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان اور پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے میڈیکل بورڈز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے مطابق از سرنو جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا تصور علی نے ملزم کے مقدمہ کا ریکارڈ پیش کیا، جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ ایف آئی آر اور میڈیکل رپورٹ میں واضح ہے کہ جعلی پولیس مقابلہ تھا، عدالت نے نوٹس لیا تو ملزم کو کسی اور کیس میں ملوث کر دیا گیا۔

    جسٹس محمد قاسم خان نے مزید کہاکہ مدعی کا موقف ہے کہ اسے پولیس نے ناکہ پر روکا، رشوت طلب کی، نہ دینے پر بھگا کر فائر مار دیا، پولیس کہتی ہے ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا، اگر مقابلہ ہوا تو گولیوں کا ریکارڈ کہاں ہے؟، لگتا ہے اس طرح کی وارداتوں کے لیے پولیس نے پرائیویٹ اسلحہ رکھا ہوا ہے

    جسٹس محمد قاسم خان نے مزید کہاکہاگر کسی پراڈو والے کیساتھ پولیس مقابلہ ہوتا تو آئی جی کے حکم پر افسران کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہوتا، غریبوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

    وکیل صفائی نے کہا کہ ڈکیتی مزاحمت، پولیس مقابلے کے الزام پر بھی گوجرانوالہ میں مقدمہ درج ہوا، ملزم بے قصور ہے، استدعا ہے ضمانت منظور کی جائے۔عدالت نے ناقص تفتیش پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔