Baaghi TV

Author: +9251

  • بلدیاتی الیکشن کے لیے انتخابی فہرستوں کی تیاری شروع

    لاہور :پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کےلیے ابتدائی انتخابی فہرستوں کی اشاعت.صوبائی الیکشن کمشنرز اور نادرا کو ضروری ہدایات جاری کردی ہیں، اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کی ابتدائی اشاعت کے لیے تمام انتظامی امور جلد از جلد مکمل کیے جائیں.

    بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

    تفصیلات کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے درکار انتخابی فہرستوں کی اشاعت دسمبر کے پہلے ہفتہ میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام صوبائی الیکشن کمشنرز , ضلعی الیکشن کمشنرز / رجسٹریشن آفسران, نادرا اور متعلقہ دفاتر کو ضروری ہدایات جاری کی ہیں.

    بابری مسجد قیام سے انہدام تک، بھارتی حکومت، عدالت ہندوتوانظریے کے پیروکاربن کر سامنے آئے

    ابتدائی انتخابی فہرستوں کے معائنہ کے لیے ملک بھر میں 20000 سے زائد ڈسپلے سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں. جہاں ووٹ کے اندراج/ منتقلی کے لیے فارم جمع کروانے کی سہولت بھی ہوگی. اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن نے تمام متعلقہ دفاتر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ضلعی سطح پر ووٹرز آگاہی مہم بھی شروع کی جائے تاکہ رائے دہندگان کو ابتدائی انتخابی فہرستوں کی اشاعت اور اضلاع میں قائم ڈسپلے سینٹرز کے حوالے سے تمام ضروری معلومات فراہم کی جاسکیں.

    پاکستان میں‌ ذیابطس بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے،آگاہی بہت ضروری ہے، ماہرین طب

     

  • بھارتی سپریم کورٹ نے آر ایس ایس ٹولے کے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی کی، سراج الحق

    لاہور : بھارتی سپریم کورٹ نے آر ایس ایس ٹولے کے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی کی،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے متعصب آر ایس ایس ٹولے کے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی کی ہے، فیصلہ انصاف کے چہرے پر ایک بدترین داغ ہے۔

    بھارتیو!کرتارپورراہداری پاکستانیوں کے کشادہ دل ہونے کی نشانی ہے‘مہوش حیات پھربول اٹھیں‌

    منصورہ میں ایک مجلس میں سراج الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت کی متعصب مودی حکومت ہندوتوا کے نظریے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام اقلیتوں کے حقوق غصب کرنا چاہتی ہے۔

    بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

    انہوں نے کہاکہ بابری مسجد صدیوں پہلے سے قائم تھی لیکن تعصب سے اندھے آر ایس ایس ٹولے نے اسے شہید کردیا آج سپریم کورٹ کے تین عشروں کے انتظار کے بعد جاری ہونے والے تباہ کن فیصلے ناپاک ارادوں کی حوصلہ افزائی ہے۔

    عمران خان نے کرتارپورراہداری مکمل کرکے سکھوں کے دل جیت لیے،مودی

    سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری، امت مسلمہ، انسانی حقو ق اور مذہبی رواداری کا اعلان کرنے والی عالمی تنظیمیں اس کھلی بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لیں۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس ظلم اور بھارتی تعصب کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

  • بابری مسجد کا عدالتی فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، دفتر خارجہ

    اسلام آباد: بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے ، جہاں بھارتی حکومت ہندوتوا نظریے کو پروموٹ کررہی ہے وہاں بھارت سپریم کورٹ بھی ہندوتوا نظریے کا تحفظ کررہی ہے، پاکستان بھارت سرپم کورٹ کے امتیازی فیصلے کو مسلمانوں سے زیادتی سمجھتا ہے پاکستان نے تاریخی بابری مسجد کے فیصلے پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھرانصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کے فیصلے پر پاکستان کا باضابطہ ردعمل آگیا، ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہاہے کہ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ بھارتی عدالتیں فیصلوں میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھیں جب کہ مقبوضہ کشمیر کےحوالے سے بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں سست روی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں میں بھارت میں اقلیتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا، بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں اور آج عدالتی فیصلے سے بھی بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اورعبادت گاہوں میں خطرہ ہے،بھارت ہندوتوا کیلئے نظریئے کی پیروی اورہندو راشٹر کی تاریخ پر عمل پیرا ہےایسے فیصلوں سے بھارت کے بڑے ادارے بھی متاثرہورہے ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہاپسندانہ نظریہ، ہندوؤں کی بالادستی اعتکاد پر مبنی ہے،بھارت کا طرز عمل علاقائی امن واستحکام کیلئے خطرہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے جان و مال حقوق اور املاک کا تحفظ یقینی بنائے جب کہ اقوام متحدہ بھارت میں انتہاپسند نظریئے کے خاتمے اوراقلیتوں کے مساوی حقوق یقینی بنائے۔

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم سناتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے ۔

  • وائس چانسلر سرگودہا یونیورسٹی پر مالی بد عنوانی ثابت، عہدے سے ہٹانے کا حکم

    سرگودھا( نمائندہ باغی ٹی وی ) جامعہ سرگودھا کے موجودہ وائس چانسلر پر غیر قانونی بھرتیوں سمیت مالی بدعنوانی و بد انتظامی ثابت ہو گئی، وزیر اعلی انسپیکشن ٹیم نے فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر معاملات کی چانچ پڑتال قومی احتساب بیورو کے حوالے کرنے کی سفارشات وزیر اعلی سیکرٹیریٹ، وزیر برائے پنجاب ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیں۔
    تفصیلات کے مطابق سرگودھا یونیورسٹی میں گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والا مالیاتی و انتظامی سکینڈل کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب وزیر اعلی پنجاب کی انسپیکشن ٹیم نے اپنی انکوائری رپورٹ میں موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی بطور وائس چانسلر تقرری سمیت ان کو اس عہدے کے لئے نااہل قرار دیااور گزشتہ دو سال کے دوران کیے جانے والے اقدامات کو بھی مالی و انتظامی کرپشن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی سفارشات دیں۔سی ایم آئی ٹی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب، وزیر برائے ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی ہے جس میں وائس چانسلر اشتیاق احمد کے بارے تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق پر اپنی تقرری سمیت اقربا پروری کی بنیاد پر کی جانے والی بے شمار غیر قانونی تقرریاں ثابت ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اشتیاق احمدنے ذاتی دوست جاوید اقبال جیدی، ڈاکٹر فضل الرحمان سمیت لیگل ٹیم، ویب اور میڈیا ٹیم کی بغیر اشتہار تقرریوں کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کو نظر انداز کر تے ہوئے غیر قانونی بھرتی شدہ افراد کو تحفظ بھی فراہم کیا۔ وی سی سرگودھا نے غیر ضروری تعمیرات کی مد کروڑوں کے گھپلے کیے اوریونیورسٹی کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔ رپورٹ میں وی سی کو عہدے سے ہٹا کر سپیشل آڈٹ کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ وی سی کے پاس انتظامی تجربہ نہ ہونے کے باعث متعدد منافع بخش منصوبہ جات بند کروادیئے گئے جیسا کہ یونیورسٹی کا ہسپتال کھنڈر بن کر رہ گیا۔ 35 کروڑ کا سامان اور بلڈنگ پر لگے 20 کروڑ ضائع کر دیے گئے۔ شہر کے ہسپتال مافیہ کی ایما پر بغیر فنانشل آڈٹ کروائے ہسپتال اور دوسرے پراجیکٹ بند کئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر اشتیاق احمد کو واپس قائد اعظم یونیورسٹی بھیجا جائے اور معاملہ مزید تحقیقات کے لئے نیب کے حوالے کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام غیر قانونی بھرتیوں کو ڈی نوٹیفائی کیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے نیب کے ترجمان اعجاز اصغر بھٹی اور محمد انوارکو نیب اور سی ایم آئی ٹی کو غلط اعدادوشمار فراہم کرنے پران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے نمائندے کے زریعے اصل حقائق نیب تک پہنچائےجبکہ اعجاز اصغر نے اپنی اور دوسرے دوستوں کی غیر قانونی تقرری و ترقی کے متعلق حقائق نیب سے مخفی رکھے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موجودہ وی سی کوفوری عہدے سے برطرف کرکے کیس کو نیب کے پاس چلنے والی انکوائری سے منسلک کیا جائے۔

  • ہسپتالوں میں مریضوں کا داخلہ بند کردیاگیا

    بیروت :ہسپتال ایسوسی ایشن نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہسپتال ادویات اور طبی سامان کی درآمد کرنے والوں کا واجبات ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ہسپتال ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ لبنان کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے احتیاطی اقدام کے تحت ڈائلائسز اور کینسر کے مریضوں کے علاوہ اگلے ہفتے دیگر امراض کے مریضوں کا داخلہ بند رہے گا۔

    نیلم منیرنے سفید چادراوڑھ لی

    ذرائع کے مطابق لبنانی ہسپتال ایسوسی ایشن کے سربراہ سلیمان ھارون نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں صحت کا شعبہ ایک بڑی تباہی کے دہانے پر ہے۔لبنان میں ہسپتال مالکان کی تنظیم کے صدر نے انکشاف کیا کہ ادویات کا موجودہ ذخیرہ ایک ماہ سے زائد عرصے کے لیے ناکافی ہے۔

    محمد آصف نے عالمی چیمپئن کا ٹائٹل کشمیریوں کے نام کردیا

    سلیمان ہارون نے عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ بینکوں سے طبی سامان خریدنے اور انہیں ہسپتالوں میں محفوظ بنانے کے لیے امریکی ڈالر میں رقوم کی منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں اسپتالوں میں مریضوں کی اموات کا اندیشہ ہے، پچھلے اگست سے لبنانی بینکوں نے آہستہ آہستہ ڈالر کی فروخت میں کمی کر دی ہے۔

    بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

  • بھارتیو!کرتارپورراہداری پاکستانیوں کے کشادہ دل ہونے کی نشانی ہے‘مہوش حیات پھربول اٹھیں‌

    لاہور:بھارتیو!کرتارپورراہداری پاکستانیوں کے کشادہ دل ہونے کی نشانی ہے‘مہوش حیات پھربول اٹھیں‌،اطلاعات کے مطابق تمغہ امتیازکا اعزازحاصل کرنے والی پاکستانی ناموراداکارہ مہوش حیات نے کرتارپورراہداری کے افتتاح پرمسرت کا اظہار کیا۔

    پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات ٹوئٹ میں لکھتی ہیں کہ’امن کے لیے بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کا افتتاح کرنا ایک حقیقی سنگ میل ہے، یہ سچی مذہبی ہم آہنگی اور پاکستانیوں کی کشادہ دلی ہونے کی نشانی ہے‘۔

    نیلم منیرنے سفید چادراوڑھ لی

    کرتارپور راہداری افتتاح کے موقع پر اداکارہ نے مزید لکھا کہ اکثر افراد لوگوں کے درمیان نفرتوں کو ختم کرنے کے لیے پل کے بجائے دیواریں کھڑی کردیتے ہیں۔آخر میں اداکارہ نے کرتارپور 2 خالصتان 2020 کو ہیش ٹیگ میں واضح بھی کیا۔

    محمد آصف نے عالمی چیمپئن کا ٹائٹل کشمیریوں کے نام کردیا

    یاد رہےکہ

  • نیلم منیرنے سفید چادراوڑھ لی

    پشاور: پاکستان کی خوبرواداکارہ نیلم منیر نے سفید چادراوڑھ کر سب کو حیران کردیا ہے ، نیلم منیر ان دنوں صوبہ خیبر پختونخواہ کے دورے پرہیں اور وہاں سے اپنے چاہنے والوں کے لیے پیاری پیاری تصاویر بھیج کرمسحورکررہی ہیں، نیلم منیر بتاتی ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کے نئے تعلیمی نظام سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔

    بابری مسجد قیام سے انہدام تک، بھارتی حکومت، عدالت ہندوتوانظریے کے پیروکاربن کر سامنے آئے

    اداکارہ نیلم منیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے آبائی صوبے خیبر پختونخوا میں ایک تصویر اور ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیلم منیر روایتی لباس میں ملبوس ہیں اور انہوں نے سفید رنگ کی چادر بھی اوڑھ رکھی ہے۔نیلم منیر کی ان تصاویر کو سوشل میڈیاپربہت زیادہ پزیرائی حاصل ہے

    بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

    نیلم منیر نے اس تصویر اور ویڈیو کے ساتھ ایک کیپشن بھی لکھا جس میں انہوں نے خیبرپختونخواہ کے تعلیمی نظام کی تعریف کی۔اداکارہ نے کیپشن میں لکھا کہ ’پشاور میں مجھے گھر جیسا محسوس ہوتا ہے، میں خیبر پختونخوا کے نئے تعلیمی نطام سے بے حد متاثر ہوئی ہوں‘۔

    عمران خان نے کرتارپورراہداری مکمل کرکے سکھوں کے دل جیت لیے،مودی

    انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا محسوس ہورہا ہے کہ یہاں کہ بچے مفت میں بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کہ ان سکول کے اساتذہ بھی خیبر پختونخوا کو بہتر طور پر تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں‘۔

    https://www.instagram.com/p/B4kg3PklPS6/

  • محمد آصف نے عالمی چیمپئن کا ٹائٹل کشمیریوں کے نام کردیا

    انتالیہ:ہرپاکستانی کشمیریوں کے محبت کرتا ہے اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوشاں بھی ہے، ایک عام پاکستانی سے لے کرخاص پاکستانی تک ہرکوئی کشمیراورکشمیریوں کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیاربیٹھا ہے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اسنوکر کا عالمی چیمپئن بنانے والے اسنوکرکے عالمی چمپئن محمد آصف نے اپنا ٹائٹل کشمیریوں کے نام کردیا۔، قومی کیوسٹ نے فائنل میں فلپائنی حریف کو مات دے کر ٹرفی پر قبضہ جمایا تھا۔

    ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمدآصف نے کہا کہ کامیابی پراللہ کا شکر ادا کرتاہوں، یہ جیت میرےاکیلےکی نہیں پورے پاکستان کی جیت ہے۔ محمد آصف نے کہا کہ دوسری بار چیمپئن شپ جتنا میرے لئے بہت بڑی بات ہے، یہ ٹورنامنٹ کافی مشکل تھا ، جیتنے کیلئے بہت محنت کی ، اپنا ٹائٹل اپنی قوم اور کشمیریوں کے نام کرتاہوں۔

    بابری مسجد قیام سے انہدام تک، بھارتی حکومت، عدالت ہندوتوانظریے کے پیروکاربن کر سامنے آئے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ورلڈ اسنوکرچیمپئن شپ جیتنےپرمحمدآصف کومبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی کھلاڑی نے بہترین صلاحیتوں کامظاہرہ کر کےملک کانام روشن کیا ہے۔واضح رہے کہ ترکی کے شہر انتالیہ میں کھیلے گئے ایونٹ میں محمد آصف نے فلپائنی حریف جیفری کو5 کے مقابلے میں 8 فریم سے شکست دے کر ٹرافی پر قبضہ جمایا تھا۔

    بھارت کامسلمانوں پردہراوار، پہلے کشمیراب بابری مسجد مندرمیں تبدیل، شدید ہندومسلم فسادات کاخدشہ

  • بابری مسجد قیام سے انہدام تک، بھارتی حکومت، عدالت ہندوتوانظریے کے پیروکاربن کر سامنے آئے

    بابری مسجد مغل سلطنت کے پہلے بادشاہ محمد ظہیرالدین بابرؒ کی طرف سے منسوب ہے۔ انھوں نے 1528 میں صوبہ اترپردیش کے فیض آباد ضلع میں ایودھیا کے مقام پر وہاں کے گورنر میر باقی اصفہانی ؒ کی نگرانی میں سرکاری خزانہ سےیہ مسجد تعمیر کروائی، پوری مسجد کو پتھروں اور چھوٹی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ،جس میں صحن بھی شامل تھا۔ چھت کے ساتھ تین گنبد بنائے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کےدائیں بائیں دو چھوٹے گنبد تھے۔

    گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ مسجد کے مسقف حصہ میں تین صفیں تھیں اور ہر صف میں ایک سو بیس نمازی کھڑے ہوسکتے تھے، صحن میں چار صفوں کی وسعت تھی، اس طرح بیک وقت ساڑھے آٹھ سو نمازی نماز ادا کرسکتے تھے۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ تعمیر مسجد کے بعد سے بلاناغہ مسلسل اذان اور نماز ہوتی رہی، امام و مؤذن بھی مقرر ہوتے رہے۔

    ساڑھے تین سو سال کے بعد1855 میں جب ہندوستان پر انگریز قابض ہورہے تھے اور ان کے خلاف ہندو مسلم متحد ہورہے تھے تو انھوں ایک بدھسٹ نجومی کے ذریعہ ایک کہانی گھڑوائی کہ شری رام چندر جی کی جنم استھان (جائے پیدائش) اور شرمتی سیتا کی رسوئی (باورچی خانہ) بابری مسجد کے احاطہ میں ہے۔ اس لیے ہندؤوں نے اس مقام پر پوجا کرنا چاہا، یہیں سے اختلاف شروع ہوا

    1857 کےحالات کی وجہ سے علاقہ کے مسلم رہنما جناب امیرعلی اور ہندو رہنما بابا چرن داس صاحبان نے ایک معاہدہ کیا، جس کے مطابق دونوں نے مسجد اورپوجا کی جگہ کو تقسیم کرلیا، مگر انگریز کو یہ پسند نہیں آیا اور فیض آباد پر قابض ہوتے ہی انھوں نے ان دونوں کو ایک ساتھ املی کے پیڑ پر ٹکاکر پھانسی دیدی، اور ان کی طرف سے کئے گئے معاہدہ کو کالعدم قرار دیدیا۔ مگر محض دو سال کے بعد ہی1859 میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کو جنگلہ لگاکرتقسیم کر دیا گیا۔ اس طرح کے اختلافات کی وجہ سے 1860 بابری مسجد کا باضابطہ طور پر رجسٹریشن کرایا گیا۔

    15جنوری 1885کو سب جج فیض آباد کی عدالت میں مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر رگھوبر داس نامی شخص نے مندر تعمیر کرانے کی اجازت مانگی جو رد ہوگئی۔اسی طرح1934میں ایودھیا کے قریب ایک گاؤں میں گاؤ ذبیحہ کی بنیاد پر ہندو مسلم فساد ہوگیا، ہندؤوں نے مسجد کو نقصان ہہنچایا مگرانگریزحکومت نے سرکاری خزانہ سے اس کی مرمت کرادی۔1946 میں وقف کمشنر کی جانب سے مسجد کو ” سنی مسجد” قرار دیا گیا۔

    ہندوستان کی آزادی کےمحض دو سال کے بعد ہی یعنی22 اور 23دسمبر 1949 روز جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات میں ایودھیا کے ہنومان گڑھی مندر کے مہنت ” ابھے رام داس ” نے اپنے کچھ چیلوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر عین محراب کے اندر ایک مورتی رکھ دی۔ صبح جب مؤذن صاحب اذان دینے کے لیے آئے تو محراب کے پاس مورتی دیکھ کر حیران ہوگئے، پھر دھیرے بات پھیلتی گئی،

    ہندؤوں سے پوچھنے پر انھوں نے جھوٹ کا سہارا لیا اور کہا کہ مورتی اچانک نمودار ہو گئی ہے، لیکن بااثر لوگوں کے کہنے پر مورتی ہٹادی گئی اور مسلمانوں نے فجر کی نماز جیسے تیسے ادا کرلی۔ دن کے چڑھنے کے ساتھ یہ بات پورے ملک میں پھیل گئی۔ فیض آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے وزیر اعلیٰ اترپردیش پنڈت گووند ولبھ پنت چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے نام اس مضمون کا تار روانہ کیا۔

    23 دسمبر کی رات میں جب مسجد میں سناٹا تھا اچانک کچھ ہندو وہاں گھس گئے اور غیر قانونی طور سے ایک مورتی وہاں نصب کردی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کے نائر اور سپرنٹنڈنٹ نے فوراً ہی جائے واردات پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔ ” یہ بیان ایک کانسٹبل ماتا دین کی عینی شہادت پر مبنی تھا۔ مگرساتھ ہی نقض امن کے خطرہ کے پیش نظرمورتی کو دوبارہ وہیں پر رکھوادیا اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جمعہ کی نماز دوسری جگہ پڑھ لیں۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے وزیر اعلیٰ پنڈت گووند ولبھ پنت کو سخت ہدایت دی کہ مسجد کے ساتھ ناانصافی کو ختم کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیا۔

    29 دسمبر1949کو سٹی مجسٹریٹ مارکنڈے سنگھ نے حالات کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے اس عمارت کو سرکاری تحویل میں لے لینے کا حکم دیا ۔ نیز نقض امن کا بہانہ بنا کر دفعہ 140 کے تحت مسجد میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی عائد کردی، اور مسجد میں تالا لگوادیا، مورتی اندر رہ گئی، دوسری طرف پوجا کے لئے چار پجاری مقرر کردئے اور فیض آباد ایودھیا میونسپل بورڈ کے چئرمین بابو پریا دت رام کو رسیور مقرر کردیا، اور انھیں اختیار دیا کہ وہ دیکھ بھال کریں اورنظم و نسق کے لیے اسکیم بناکر منظوری لیں۔ چنانچہ حکم کے مطابق باہر ہی سے مورتی کی پوجا ہوتی رہی، اور مسلمان نماز پڑھنے سے محروم ہوگئے۔

    16 جنوری 1950 کو گوپال سنگھ وکیل نے فیض آباد عدالت میں ایک اپیل دائر کر کے رام للا کی پوجا کی خصوصی اجازت مانگی۔ انہوں نے وہاں سے مورتی ہٹانے پر عدالتی روک کی بھی کوشش کی، سول جج این این چادھا نے وہاں حسبِ سابق مورتیاں رکھی رہنے اور پوجا کے عمل کو جاری رہنے کا عارضی حکم دیا۔ پھر19جنوری1950 کو باضابطہ طور پرحکم دیدیا۔اسی دوران مزید تین درخواستیں فیض آبادعدالت میں آئیں،

    5دسمبر1950 کو مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے پوجا جاری رکھنے اور بابری مسجد میں رام مورتی رکھنے کے لئے عرضی داخل کی۔ انھوں نے مسجد کو ڈھانچہ کا نام دیا گیا۔17 دسمبر1959 کو نرموہی اکھاڑا نے بابری مسجد کی منتقلی کا مقدمہ دائر کیا۔ 18 دسمبر1962 کو اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ دائر کیا۔1964 کو یہ چاروں مقدمات کو ایک ساتھ کردیا گیا۔ 1986ک یہ مقدمارت زیر ِالتواء رہے۔

    اسی دوران1984 کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بابری مسجد کا تالا کھولنے اور مندر کی تعمیر کے لئے مہم شروع کی۔ رام جنم بھومی ایکشن کمیٹی بھی قائم کیا۔

    یکم فروری1986 کو مسٹر کے، ایم، پانڈے ڈسٹرکٹ جج نے رمیش پانڈے نامی شخص کی درخواست پر سرسری سماعت کے بعد یہ کہتے ہوئے کہ مورتی باہر سے بھی نظر آرہی ہے، اس لیے مسجد کو تالا بند رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، نیز اس سے مسلمانوں کو کوئی نقصان پہونچنے والانہیں ہے،35سال سے تالا بند مسجدکو ہندوؤں کے لیے کھول دیا،

    اس طرح مسجد میں موجود رام للا کی مورتی کی پوجا کی عام اجازت دے دی۔ اس فیصلے کے فوراً بعد بغیر کسی تاخیر کے 5 بجکر19منٹ پر بابری مسجد کا تالا پوجاکے لیے کھول دیا گیا۔ ہندوؤں نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں میں صف ماتم بچھ گیا۔ مسلمانوں کی جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا،1989 میں وشو ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر اس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی کی اجازت سے رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔

    25ستمبر1990 کو بی جے پی صدر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اتر پردیش کے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی۔ جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ ایل کے اڈوانی کو بہار کے سمستی پور میں گرفتار کر لیا گیا۔ 30اکتوبر اور 2 نومبر 1990کو ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو منہدم کرنے کی کوشش کی، مگر اس وقت کے یوپی کے وزیراعلیٰ ملائم سنگھ کے حکم پر شرپسندوں کو روکنے کیلئے سی آر پی ایف نے گولی چلائی کچھ شرپسند ہلاک ہوئے ۔ مسجد کو کچھ نقصان بھی پہنچایا، مگر منہدم نہیں کرسکے، مگر اس کا اثر یہ ہوا کہ اترپردیش سے ملائم سنگھ کی حکومت ختم ہوگئی۔

    1991 میں بی جے پی کی حکومت بنی اور کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ مقرر ہوگئے، ہندؤوں نے اس موقعہ کا خوب فائدہ اٹھایا اور پورے ہندوستان میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیوسینا کے کارکنان نے جلسے جلوس نکالے، ایڈوانی، سنگھل، ونے کٹیار اور اوما بھارتی وغیرہ نے ہندومسلم منافرت خوب خوب پھیلایا۔رام کے نام پر2 لاکھ ہندؤوں کو لے کر ایودھیا پہنچ گئے۔

    بظاہر ان کا مقصد احتجاج اورمظاہرہ کرنا تھا، اور انھوں نے اس کا یقین بھی دلایا تھا کہ مسجد کو نقصان نہیں پہونچایا جائے گا۔ مرکز سے اچھی خاصی تعداد میں فوج بھی اجودھیا پہنچ گئی، مگر اسے نامعلوم مصالح کی بنیاد پر بابری مسجد سے دو ڈھائی کلو میٹر دور رکھا گیا، صوبہ اور مرکز کے نیم فوجی دستے مسجد کی حفاظت کے لئے اس کے چاروں سمت میں متعین کئے گئے، مگر انھیں وزیراعظم کی سخت ہدایت تھی کہ ہندؤوں پرکسی حال میں بھی گولی نہ چلائی جائے۔

    چنانچہ 6 دسمبر 1992کو ایڈوانی، اوما بھارتی وغیرہ کی قیادت میں ہندو دہشت گردوں نے گیارہ بج کر پچپن منٹ پر بابری مسجد پر دھاوا بول دیا ، تباہ کن ہتھیار سےمسجد کی دیوارکو توڑنا شروع کردیا، چند انتہا درجہ کے بدقسمت لوگ چھت پر چڑھ گئے اور گنبدوں کو بھی تیز اور مضبوط آلہ سے توڑنا شروع کردیا۔ اس طرح وہ بغیر کسی مزاحمت کےشام چار بجے تک پوری مسجد کو مسمار کردیا۔ یوں 464سالہ قدیم تاریخی بابری مسجد زمین بوس ہوگئی، تمام مسلح فوج کے دستے تماشہ دیکھتے رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان فوجیوں کو مسجد کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ مسجد کو مسمار کرنے والوں کی حفاظت کے لیے متعین کیا گیا تھا۔ یوں ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کا اضافہ ہوا۔

    بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان میں کئی مقامات پر ہندو -مسلم فسادات رونما ہوئے۔ جن میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔ مگر ابھی تک یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا۔ اسی طرح اُس وقت کے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے ۔ 27سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ملزم کوسزا نہیں ہو سکی ہے۔

    فیض آباد ضلع عدالت میں حق ملکیت کا مقدمہ الٰہ آباد ہائی کی لکھنؤ بنچ میں منتقل کیا گیا۔ 1994میں بابری مسجد شہادت کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا، یکم اپریل 2002 میں ایودھیا کے متنازع مقام پر مالکانہ حق کو لیکر الہ آبادہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سماعت شروع کی۔ 5 مارچ 2003 کو کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کا حکم دیا، 22اگست 2003 کو محکمہ آثارِ قدیمہ نے رپورٹ پیش کی، جس سے مسلمان مطمئن نہیں ہوئے، اور انھوں نے اس کورد کرنے مطالبہ کیا۔

    بابری مسجدکی شہادت کے بعد 16 دسمبر1992 کو یونین ہوم منسٹری نے لبراہن کمیشن بنایا تھا تاکہ مسجد کی شہادت کی تفتیش کی جا سکے۔ اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لبراہن کو سونپی گئی۔ کمیشن نے سترہ سال کے بعد 30 جون 2009 کو من موھن حکومت کواپنی رپورٹ پیش کی۔

    30 ستمبر2010کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا جس میں متنازعہ مقام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایک حصہ نرموہی اکھاڑا کو، ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو اور ایک حصہ ہندؤوں کی تنظیموں کو دیا گیا، گویا کہ زیادہ تر زمین ہندوؤں کے دو فریقوں کو دیا گیا، تاہم کل زمین کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی تعمیر کی گنجائش رکھی گئی۔ مگر اس فیصلہ سے ہندو مسلم کوئی بھی فریق مطمئن نہیں ہوا، اس لیے دونوں فریق نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔

    چنانچہ 9مئی 2011 کو سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگادی، 21مارچ 2017 سپریم کورٹ معاملہ کو آپسی رضا مندی سے حل کرنے کی صلاح دی، مگر صلح کی کافی کوششوں کے باوجود سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ اس لیے فی الحال یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ملک کی متحدہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور دیگر مسلم تنظیمیں مقدمہ کی پیروی کر رہی تھیں

    یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔

    جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔

    ایودھیا کے اس مقام پر کیا تعمیر ہونا چاہیے، اس حوالے مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے افراد نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ اپنی اپنی درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروا رکھی تھیں جس نے اس معاملے پر 8 مارچ کو ثالثی کمیشن تشکیل دیا تھا۔اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمانوں اقلیت اور ہندوؤں اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔

    خیال رہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کا موقف ہے کہ یہ سال 1528 سے موجود مذکوہ مقام پر قائم ہے، مسجد کی موجودگی کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے خلاف 1855، 1934 اور 1949 میں کیس کیے گئے تھے۔برطانوی راج نے بابر کی جانب سے دی گئی امداد کو منظور کر لیا تھا جس کے بعد اس امداد کا سلسلہ نوابوں کی جانب سے جاری رہا۔

    1885 کے مقدمے کی دستاویزات سے مسجد کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہے، مسلمانوں کے پاس اس جگہ کی ملکیت تھی اور وہ 22، 23 دسمبر 1949 تک یہاں عید کی نماز پڑھتے رہے۔مسلمانوں کا اصرار ہے کہ مسجد کی موجودگی کے حوالے سے تاریخ دانوں کے متنازع دلائل انتہائی کمزور ہیں اور ان کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ان کے دلائل کے مطابق اے ایس آئی کی رپورٹ میں مسجد کے نیچے مندر کی بات ‘محض ایک دعویٰ’ ہے جس کے سائنسی حقائق موجود نہیں۔

    ہندوؤں کا موقف ہے کہ یہ مندر صدیوں پہلے بنایا گیا جسے ممکنہ طور پر راجہ وکراما دتیا نے بنایا ہوگا اور پھر 11ویں صدی میں اسے دوبارہ بنایا گیا، اس مندر کو 1526 میں بابر نے یا پھر 17ویں صدی میں ممکنہ طور پر اورنگزیب نے گرا دیا تھا۔تاریخی دستاویزات جیسے سکاندو پرانا یا اس کے بعد میں آنے والے ایڈیشنز، سفرناموں اور دیگر کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔

    عینی شاہدین کے ثبوتوں کے مطابق لوگوں کا صدیوں سے ماننا ہے کہ ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔اے ایس آئی کی رپورٹ سے مندر کی موجودگی اور اسے ڈھائے جانے کا ثبوت ملتا ہے۔واضح رہے کہ رواں برس بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بابری مسجد اور رام مندر کی زمین کا تنازع حل کرنے کے لیے ثالثی ٹیم تشکیل دی تھی۔

    یہاں یہ بات یاد رہے کہ 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
    بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔

    یاد رہے کہ دسمبر 1992 میں ایودھیا – بابری مسجد کا تنازع اس وقت پرتشدد صورت اختیار کرگیا تھا جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، وشوا ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایت یافتہ مشتعل ہجوم نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔

    گزشتہ 3 دہائیوں میں کشمیر میں بھارت کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ہزاروں کشمیری جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ایودھیا میں 500 سال قدیم مسجد کو شہید کرنے کی وجہ سے ہونے والے فسادات میں 2 ہزار افراد قتل کردیے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

    انتہا پسند ہندوؤں کے مطابق وہ اس مقام پر ہندو دیوتا ‘رام’ کا نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جو ان کی جائے پیدائش ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ 16ویں صدی کی بابری مسجد، مسلم بادشاہوں نے ہندو دیوتا کا مندر گرانے کے بعد قائم کی تھی۔یاد رہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 اور 2019 میں انتخابات سے قبل اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ انتہا پسند ہندوؤں کے بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

    بھارت کی ہندوتوا نظریے کی پیروکار بھارتی سپریم کورٹ نے آج بابری مسجد کو ہندووں کے حوالے کرکے مسلمانوں پانچ سو سالہ تاریخ کا قتل کردیا ہے، بھارت میں اس وقت شدید اضطراب پایا جارہاہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےکہ بڑے پیمانے پر مسلم کشن فسادات پھوٹ سکتے ہیں