Baaghi TV

Author: +9251

  • سابق وزیراعظم کورات کے اندھیرے میں اڈیالہ جیل سے کیوں نکال لیاگیا؟اہم خبرآگئی

    لاہور:سابق وزیراعظم کورات کے اندھیرے میں اڈیالہ جیل سے کیوں نکال لیاگیا؟اہم خبرآگئی اطلاعات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ناساز طبیعت کی وجہ سے اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنےکی ہدایت کردی۔

    گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں شاہد خاقان عباسی کی طبعیت ناساز ہونے پر جیل حکام انہیں معائنےکے لیے پمز لیکر آئے تھے جہاں ان کا کارڈیک سینٹر میں چیک اپ کیا گیا تھا۔شاہد خاقان عباسی کے دل،گردے اور ہرنیا کا چیک اپ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ جیل روانہ ہوئے تھے۔

    تاہم اب ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے آئی جی جیل خانہ جات اور دیگرحکام کو نوٹیفکیشن بھجوادیا جس میں کہا گیا ہے کہ شاہدخاقان عباسی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

    نوٹفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم کوہسپتال منتقل کرنے اور ہسپتال میں رہنے کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے۔سابق وزیراعظم کو ہرنیا اورپتے کی تکلیف کے باعث ہسپتال متقل کیا جارہا ہے۔

  • یہ زوال بھی کمال ہے: نغمئہ بےصدا ..از .. زیمشاسید

    :یوری برمنوف KGB روس (Russia) کا ایک تربیت یافتہ جاسوس تھا جس نے 1963-1986 کے عرصے کے دوران روس، بھارت، امریکا اور کینیڈا میں بطور "جرنلسٹ” خدمات سرانجام دی۔ Yuri Alexandrovich Bezmenov نے 1983 میں ایڈورڈ گریفن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں "نظریاتی براندازی” ideological subversion کو تفصیل سے بیان کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ نظریاتی براندازی کے چار مختلف مراحل ہیں۔
    اخلاقی ابتری demoralization،
    عدم استحکام destabilization،
    بحران crisis
    اور معمول پر آنا normalization
    نظریاتی براندازی ففتھ جنریشن وار کے مہلک ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کی جارہی ہے جسکے تحت دشمن ایجنٹس یا ہٹ مین کسی بھی ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتحال میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے اس کے نوجوانوں کی برین واشنگ کرتے ہیں۔

    پندرہ سے بیس سال کے عرصے میں اخلاقی انحطاط کا شکار ایک نسل پروان چڑھائی جاتی ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری، جنسی فرسٹریشن کا شکار اور منفی رحجانات سے بھرپور ہوتی ہے اور اس میں مغربی طرز کے تعلیمی نظام سے لے کر میڈیا (اور آج کل سوشل میڈیا بھی) بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔

    تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جنسی رحجانات نہ صرف اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں بلکہ کئی جسمانی اور نفسیاتی عوارض کا root cause بھی یہی ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا جتھا تیار ہوتا ہے جو فکری و عملی لحاظ سے معذور ثابت ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کے سامنے آپ دلائل کے انبار، ثبوتوں کے ڈھیر پیش کردیں وہ پھر بھی غلط کو غلط سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

    روس (Russia) نے ہرمن کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے اپنی عملداری قائم کی اور پھر یہی ہتھیار برٹش ایمپائر کے بعد امریکیوں کے ہاتھ لگا۔ پھر کیا عجب کہ کیسے اور کیوں یہاں ایوانوں میں اکلیم اختر٬ طاہرہ سید اور حریم شاہ جیسے لاتعداد رنگین رنگوں سے سیاست کی سیاہ داستانیں لکھی جاتی ہیں۔

    صلیںبی جنگوں سے نچوڑا جانے والا اخلاقی انحطاط کا سبق آنے والے میں دور میں کتنا تباہ کن ثابت ہوگا اس کا اندازہ اور کسی کو ہو نہ ہو اس ڈاکٹرائن کے خالق جرمن نژاد صلیبی انٹیلیجنس کے سربراہ ہرمن کو اچھی طرح ہوگیا تھا۔ تبھی اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو بہت یقین سے کہا تھا:

    "ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت، دولت ، لذت اور عورت کا نشہ بھر دیا ہے، آپ کے جانشین اِس نشے کو اتار نہیں سکیں گے اور میرے جانشین اِس نشے کو تیز کرتے رہیں گے۔ سلطان معظم ! یہ جنگ جو ہم لڑرہے ہیں ، یہ میری اور آپ کی ، یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں، یہ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے، جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی،

    اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے، ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے، ہم مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے، ہم مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا محاصرہ کریں گے، ہماری لڑکیاں ، ہماری دولت، ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں، اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی، پھر مسلمان اپنی تہذیب سے نفرت اور یورپ کے طور طریقوں سے محبت کریں گے، سلطان معظم! وہ وقت آپ نہیں دیکھیں گے ،میں نہیں دیکھوں گا ،ہماری روحیں دیکھیں گی۔”

    اور اسی لیے پھر سلطان صلاح الدین ایوبی نے وہ مشہور زمانہ الفاظ کہے کہ

    "اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو، اُس قوم کے جوانوں میں بے حیائی پھیلا دو!!”

    Ideologic subversion
    برین واشنگ کے ذریعے پوری دنیا میں قابل عمل بنایا گیا لیکن اس کا اصل شکار مسلمان تھے۔ آج نوجوانوں کی "ترجیحات” انکا لب ولہجہ اخلاقی زوال کا مظہر ہے تو اسکی بنیادی وجہ یہی ideological subversion ہے جس نے صحیح غلط جائز و ناجائز کی تفریق ختم کردی۔ ہمارے ہاتھوں میں موجود یہ سمارٹ فونز دراصل ہمارے کردار کی تعفن زدہ لاش اپنے اندر چھپائے، عزتوں کے جنازے اٹھائے پھرتے ہیں.

    ایسے میں کوئی لاش منظر عام پر آجائے تو کہرام بپا ہوجاتا ہے اور سب گدھ اسے نوچنے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نکاح کا جائز رستہ موجود ہوتے ہوئے بھی لوگ آن لائن ایسی اخلاق باختہ حرکتیں کیوں کرتے ہیں۔ جواز یہ بھی نہیں کہ کسی کی مرضی کے بغیر اس کی "ذاتی مصروفیات” پر مبنی مواد وائرل ہونا غلط ہے۔

    بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم کیوں ہر غلاظت کو پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں؟

    کسی نے کچھ غلط کیا وہ اس کا عمل ہے جس کے لیے وہ خود جوابدہ ہوگا لیکن اس کے اس عمل کو آگے بڑھانے والے بھی برابر قصور وار ہیں۔

    یاد رکھنے کی بات یہ کہ پرائیویسی نام کے عفریت کا وجود کبھی تھا ہی نہیں۔ انسان کے ہر عمل پر نہ صرف گواہ موجود ہیں بلکہ فائلز میں رجسٹر بھی کیا جارہا ہے۔

    چلیں اسلامی تعلیمات کو سائیڈ لائن بھی کر دیں تو بھی موبائلز میں جو ایپلیکیشنز انسٹالڈ ہوتی ہیں ان کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی کوئی مشکل نہیں اور اب تو Deep Fake ٹیکنالوجی میں ایسے algorithms تیار کرلیے گئے ہیں کہ جنکی مدد سے جعلی ویڈیوز اتنی accuracy کے ساتھ بنائی جاتی ہیں کہ انسانی آنکھ سے اصل اور نقل میں تفریق کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

    روز محشر جب ہوگا تب ہوگا۔۔۔ اب تو یہاں کبھی بھی آپ کے لیے میدان حشر سجایا جاسکتا ہے۔ نام نہاد سیلبریٹیز کو ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بدنام ہو کر نام کمانا سب سے آسان طریقہ ہے لیکن عزت دار گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں ایسے میں خودکشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب کہا جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اس پر غور کرنا چاہیے کہ کیونکر ہے۔

    اخلاقی زوال سے نکلنے کے لیے نکاح کو فروغ دینا ہوگا اور ایک سے زیادہ شادیوں کو taboo نہ بنایا جائے تو ہی اس بے راہ روی کا تدارک ممکن ہے بصورت دیگر یہ عریانی و فحاشی کا طوفان ہماری نسلوں کو بہا لے جائے گا اور اشرف المخلوقات کو جانوروں سے بدتر بنادے گا جسکی ابتدا ہوچکی ہے !!!

    یہ زوال بھی کمال ہے۔نغمئہ بےصدا

    تحریر: زیمشا سید

  • مولاناسمیع الحق رحمتہ اللہ علیہ..از.. عداللہ گل

    مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ علیہ ایک شخص نہیں بلکہ شخصیت ہے جنھوں نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کو اپنی تقاریر کا موضوع بنایا۔مولانا سمیع الحق صاحب 18 دسمبر 1937ء میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولانا عبد الحق تھا۔

    انہوں نے 1366 ھ بمطابق سال 1946 ء میں دار العلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ وہاں انہوں نے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق (logic)، عربی صرف و نحو (گرائمر)، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ ان کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے تھے۔

    مولاناسمیع الحق صاحب کے بیان کے مطابق پاکستان کے امریکی سفیر ان سے جولائی 2013 میں ملاقات کے لیے آئے تھے تاکہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکے۔ وہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا ’انکو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دیں گے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا، ایک بار امریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندر ہو گا، جب تک وہ وہاں ہیں، افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہو گا‘، انہوں نے کہا، ’یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔

    مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ علیہ نے پاکستان سے مذہبی اختلاف مٹانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔جیسا کہ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیرمین بھی تھے۔انھوں نے سیاست بھی کی وہ کئی سال تک سنیٹر بھی رہے۔وہ جہاد فی سبیل اللہ کی بھرپور حمایت کرتے تھے جیسا کہ ان کا کہنا تھا
    "کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہو گا یہ مسلہ کشمیر بات چیت سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ایک وقت آئے گا جب ہر مسجد میں ایک جنرل جائے گا اور لوگوں کی منتیں کرے گا جہاد کے لیے۔اس لیے آج ہی اسے غنیمت جانو”

    اس کے علاوہ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔کیا عجب بات ہے ؛82 سالہ بوڑھا شخص جس سے پورا انڈین میڈیا تنگ تھا۔جب ان کو ظالموں نے شہید کیا تو انڈین میڈیا کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔

    جیسا کہ مولانا ظفر علی خان کہتے ہیں
    "ہم کیا ہمارے جیسے کئی مصور اس آزادی کے لیے قربان ”
    اسی طرح یہ ہی ماننا تھا مولانا سمیع الحق کا ،مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ علیہ کو دشمن طاقتوں نے قتل ملک پاکستان کو ایک عظیم عالم سے محروم کرنے کے لیے کیا۔

    "عالم کی موت عالم کی موت ہے”
    اللہ تعالی ہمیں ان کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

    مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ علیہ
    تحریر: محمد عبداللہ گِل

  • اسلام آباد کاتھیٹر،مولانا کی اداکاری ،بہتان لگانا،پرانی بیماری، ڈاکٹرنے تشخیص کرلی

    اسلام آباد:اسلام آباد کاتھیٹر،مولانا کی اداکاری ،بہتان لگانا،پرانی بیماری، ڈاکٹرنے تشخیص کرلی، اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔

    یااللہ خیر:ملک میں سیاسی طوفان تھما نہیں ایک اورطوفان نے سراٹھالیا

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد میں تھیٹر چل رہا ہے، مولانا فضل الرحمان نے بہترین اداکاری کی۔ کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسلام آباد آئے۔

    کدھرجائیں؟کیاکریں؟ کوئی سمجھ نہیں آرہی،جے یوآئی ف کا اجلاس بے نتیجہ ختم

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کی اجازت دی، جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے آ رہا تھا ہم نے اسے آئین کے مطابق اسلام آباد آنے دیا لیکن خود کو عالم دین کہنے والا الزام تراشی اور بہتان لگا رہا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مولانا کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کو یہ پرانی بیماری ہےکہ وہ اپنے مخالفین پر اقتدار کے لالچ میں بڑے بڑے بہتان لگا دیتے ہیں‌

    کدھرجائیں؟کیاکریں؟ کوئی سمجھ نہیں آرہی،جے یوآئی ف کا اجلاس بے نتیجہ ختم

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مارچ کے شرکا کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے، مارچ کے شرکا سے تو بچوں کے جھولے بھی محفوظ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کو پڑھا ہے لیکن مولانا فضل الرحمان نے مذہب کا کارڈ استعمال کیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

  • یااللہ خیر:ملک میں سیاسی طوفان تھما نہیں ایک اورطوفان نے سراٹھالیا

    کراچی:یااللہ خیر:ملک میں سیاسی طوفان تھما نہیں ایک اورطوفان نے سراٹھالیا ، جہاں ایک طرف اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسی آزادی مارچ کے ہاتھوں غلام بن کررہ گئے ہیں وہاں دوسرے طوفان نے ملک کے بڑے شہر کراچی کے نواح میں ساحلی علاقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے،

    آزادی مارچ یا تباہی مارچ ، ن لیگ کا اہم اجلاس کل طلب

    ذرائع کے مطابق بحیرہ عرب میں ایک اور طوفان سر اٹھانے لگا جو کراچی سے جنوب سے 794 کلو میٹر دور ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان ماہا شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ طوفان کے گرد چلنے والی ہواؤں کی رفتار 120 سے 140 کلو میٹر ہے۔

    مولانانے واپسی کا اشارہ دے دیا ، آزادی مارچ اپنے انجام کے قریب

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے کے دوران طوفان مزید شمال مغرب کی جانب جائے گا اور پھر ہندوستانی گجرات کی طرف شمال مشرق کی سمت واپس آ جائے۔پاکستان میں بہت جلد موسمیاتی تبدیلیوں کی اطلاعات ہیں‌ ، مگر کیا یہ موسمی تبدیلیاں مولانا فضل الرحمن پر بھی اثر کرسکیں گی فی الحال اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا

    بھٹوزندہ مگر تھرکے 84 بچے جان کی بازی ہارگئے

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہےکہ طوفان ماہا سے کراچی کی ساحلی پٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

    کیا پرویز الہٰی مولانا کو منالیں گے ؟ قیاس آرائیاں شروع

    گزشتہ ماہ بھی بحیرہ عرب میں طوفان کیار پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے بحیرہ عرب میں کئی کئی فٹ اونچی لہریں پیدا ہوئیں اور کراچی کے ساحل پر بھی لہروں میں شدت آ گئی تھی تاہم طوفان کسی ساحل سے ٹکرائے بغیر ہی سمندر میں ختم ہو گیا تھا۔

  • کدھرجائیں؟کیاکریں؟ کوئی سمجھ نہیں آرہی،جے یوآئی ف کا اجلاس بے نتیجہ ختم

    اسلام آباد: کدھرجائیں؟کیاکریں؟ کوئی سمجھ نہیں آرہی،جے یوآئی ف کا اجلاس بے نتیجہ ختم ، مولانا فضل الرحمن کے فیصلے نے جمعیت علمائے اسلام کو تقسیم کردیا ، اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے اجلاس میں کوئی اہم فیصلہ نہیں ہو سکا

    معروف اینکرمبشرلقمان نے دھرنا ختم ہونے کی پشین گوئی کردی

    بے نتیجہ اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب اس مشکل صورت حال سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے جس کے مطابق تمام حزب اختلاف کی مرکزی قیادت سے رابطہ کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈ لائن میں بھی ایک دن کا اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ کل پیر کو جے یو آئی کا اہم اجلاس دوبارہ طلب کر لیا گیا۔

    آزادی مارچ ، شہباز شریف کا سی وی اوربلاول کی معصومیت کے تذکرے

    مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کے طویل مشاورتی اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے رویے پر مشکل کا شکار ہوگئے۔یہ بھی معلوم ہو ا کہ اس اجلاس میں بتایا کہ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کی تجاویز اور کارکنوں کے جذبات کی کشمکش میں پھنس گئے ہیں۔

    آزادی مارچ یا تباہی مارچ ، ن لیگ کا اہم اجلاس کل طلب

    ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سینیٹر طلحہ محمود نے دیگر سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی تنطیموں سے رابطوں پر بریفنگ دی۔دلچسپی والی بات یہ ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے کاروباری طبقے نے مولانا کے مارچ اور دھرنے کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا

  • ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر 12 میڈیکل سٹورز کے کیسز ڈرگ کورٹ منتقل

    فیصل آباد (محمد اویس) ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ نے ڈرگ ایکٹ کی مختلف خلاف ورزیوں کے مرتکب 12 میڈیکل سٹورز کے کیسز ڈرگ کورٹ کو بھجوانے جبکہ دو میڈیکل سٹور کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر محمد علی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) میاں آفتاب احمد بھی موجود تھے جبکہ اجلاس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر سجیلہ نذیر، محکمہ صحت کے ڈاکٹر بلال احمد، سیکرٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ عارف شہزاد، دیگر ارکان کیپٹن ڈاکٹر محمد صدیق، غلام صابر انصاری، ڈرگ انسپکٹر خالد مصطفی، محسن اصغر، شہباز احمد و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران میڈیکل سٹوروں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق 28 کیسز زیر سماعت تھے جن میں ڈرگ لائسنس کے بغیر ادویات کی فروخت، مطلوبہ ریکارڈ نہ رکھنے اور مقررہ شرائط کی پابندی نہ کرنے والے 12 میڈیکل سٹورز کے مالکان کے کیسز ڈرگ گورٹ کو بھجوائے۔ رحمان میڈیکل سٹور غلام محمد آباد، الشفیع پنسار سٹور نہر بازار سمندری کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ جبکہ تسلی بخش دستاویزی ثبوت پیش کرنے پر پانچ میڈیکل سٹورز کے مالکان کو وارننگ دی گئی اس موقع پر 9 میڈیکل سٹورز کے خلاف سماعت آئندہ جلاس تک ملتوی کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈرگ انسپکٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے جعلی و غیر معیاری ادویات کی تیاری و فروخت کے گھناؤنے دھندے کا یکسر خاتمہ کے لئے انہیں دیانتداری اور محنت سے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اور نشہ آور ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل سٹورز کو فی الفور سیل کیا جائے۔ انہوں نے ڈرگ کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کی موثر انداز میں پیروی کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ انسانی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ کسی قسم کی کرپشن یا بددیانتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ انسپکٹرز کی کارکردگی کی سخت مانیٹرنگ ہو گی اور پرفارمنس کا تقابلی جائزہ لیا جائے گالہذا ان سے اچھے محکمانہ نتائج کی توقع ہے۔
    —–////—-
    فیصل آباد( )ڈپٹی کمشنر محمد علی نے ہدایت کی ہے کہ حکومت پنجاب کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں کو 15دسمبر تک سو فیصد مکمل کیا جائے اس سلسلے میں اضافی افرادی قوت لگا کر اہداف حاصل کئے جائیں تاکہ شہری جلد ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔انہوں نے یہ ہدایت ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں حکومت پنجاب کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام پرعملدرآمد کی پیشرفت کاجائزہ لیا گیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ڈاکٹرنوید کے علاوہ دیگرمتعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع میں ایک ارب روپے کی لاگت سے لوکل گورنمنٹ،واسا،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور روڈز کنسٹرکشن کی سکیموں کا مجموعی طور پر 65فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام پر عملدرآمد کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ سکیموں کی پیشرفت کو خود مانیٹر کریں گے اور اگر سست روی سامنے آئی تو سخت محکمانہ کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو مختلف شعبوں میں مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہذا متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور ٹارگٹس کے حصول میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں اگر کسی جگہ رکاوٹ درپیش ہو تو فوری ان کے نوٹس میں لائیں تاکہ بروقت اقدامات کئے جاسکیں.

  • وزیراعظم سٹیزن پورٹل کی درخواستوں کے حل میں سنجیدگی کامظاہرہ کیا جائے

    فیصل آباد( محمد اویس )ڈپٹی کمشنر محمد علی نے ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیراعظم پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصولہ درخواستوں کے حل میں سنجیدگی کامظاہرہ کریں اور درخواستوں کی خود پڑتال کرکے میرٹ کے مطابق انہیں بلاتاخیر نمٹایا جائے۔انہوں نے یہ ہدایت وزیراعظم پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی درخواستوں کے ازالہ کے حوالے سے محکمانہ پیشرفت کاجائزہ لیتے ہوئے جاری کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) میاں آفتاب احمد،اسسٹنٹ کمشنرززوہا شاکر،نازیہ موہل،عمر درازگوندل،ایم ڈی واسا فقیر محمد چوہدری،سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کاشف رضا اعوان،سی ای اوز ایجوکیشن وہیلتھ علی احمد سیان،ڈاکٹر مشتاق سپرا،سیکرٹری آرٹی اے ضمیر حسین کے علاوہ سوشل ویلفیئر،لیبر،پاپولیشن ویلفیئر،زراعت،ٹریفک پولیس،ضلع کونسل،میونسپل کارپوریشن،کو آپریٹو،انہار،سول ڈیفنس اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے محکموں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے اجلاس سے بعض محکموں کے افسران کی غیر حاضری پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصولہ عوامی شکایات کے ازالہ میں غیر ذمہ داری دکھانے والے محکموں کے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام محکمے حل شدہ درخواستوں /شکایات سے فوری ایس این اے ڈی سی آفس کو آگاہ کریں تاکہ انہیں بروقت اپ لوڈ کیا جائے اورکارکردگی کا گراف متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ فرضی وجعلی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی اور عدم توجہی کی صورت میں متعلقہ افسران جوابدہ ہونگے۔ڈپٹی کمشنر نے بعض محکموں کو آئندہ اجلاس سے قبل کارکردگی مزید بہتر بنانے کی تاکید کی۔اس موقع پر افسران نے موصولہ شکایات کے ازالہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی51مختلف محکموں واداروں کی طرف سے اب تک 24ہزار961درخواستوں کو نمٹادیاگیا ہے جبکہ دیگر پرمحکمانہ عمل جاری ہے۔

  • بابائے سیاست چوہدری شجاعت حسین نے کارڈ کھیل دیا، اگلے 12 گھنٹے اہم

    اسلام آباد:بابائے سیاست چوہدری شجاعت حسین نے کارڈ کھیل دیا، اگلے 12 گھنٹے اہم ، اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے رہنما چوہدری شجاعت حسین نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرکے انہیں مفاہمت سے معاملہ حل کرنے کی کوشش پر زور دیا ہے۔

    مولانانے واپسی کا اشارہ دے دیا ، آزادی مارچ اپنے انجام کے قریب

    چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ آپ کی بات سے فوج کے خلاف جو غلط تاثرگیا ہے، اسے مٹانے کی کوشش کریں، آپ ایسے باپ کے بیٹے ہیں جو سیاسی شعور رکھتے تھے اور ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر افہام وتفہیم سے معاملات کے حل پریقین رکھتے تھے۔

    بھٹوزندہ مگر تھرکے 84 بچے جان کی بازی ہارگئے

    ذمہ دار ذرائع کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان پر زور دیا کہ مفاہمت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں، آپ اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے سربراہ جے یو آئی کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے، اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے آپ کو اپنا لیڈرتسلیم کر لیا ہے۔

    پولو کپ ٹورنامنٹ بریسٹ کینسر کے نام ، آگاہی کا بہترین انداز

    سربراہ ق لیگ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا دھرنے میں کوئی کردار نہیں، وہ تو حادثاتی اور واقعاتی طورپر اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں، اصل اپوزیشن لیڈر تو فضل الرحمان ہیں جنہوں نے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔

    پولو کپ ٹورنامنٹ بریسٹ کینسر کے نام ، آگاہی کا بہترین انداز

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کل اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ مولانافضل الرحمان سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق سربراہ جے یو آئی نے بھی چودھری شجاعت سے ملاقات کی حامی بھرلی ہے۔

    معروف اینکرمبشرلقمان نے دھرنا ختم ہونے کی پشین گوئی کردی

    یادرہے کہ پاکستان کے ایک معروف اینکر پہلے ہی پشین گوئی کرچکے ہیں کہ دھرنا اپنے انجام کو پہنچے والا ہے ، دوسری طرف اس پیشن گوئی کی تائید کچھ اس طرح محسوس ہورہی ہے کہ ذرائع جے یو آئی ف کے مطابق کورکمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ 2 روز میں اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے گی جس میں حزب اختلاف کی قیادت کو مدعو کیا جائے گا۔

  • مولانانے واپسی کا اشارہ دے دیا ، آزادی مارچ اپنے انجام کے قریب

    لاہور:اورپھروہی ہوا جس کی پشین گوئیاں کی جاچکی ہیں ، مولانا فضل الرحمن نے دھرنے کو ختم کرنے اورواپسی کا اشارہ دے دیا ہے، مولانا کی واپسی کی پشین گوئی پاکستان کے ممتاز صحافی اورمعروف اینکر پہلے ہی کرچکے ہیں ، دوسری طرف اطلاعات کےمطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ 5 سال میں الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہ کرسکا تو دھاندلی کا کیا فیصلہ کرے گا۔

    ذرائع کےمطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا الیکشن کمیشن جائیں اور وہاں اپنی شکایت درج کرائیں، الیکشن کمیشن بیچارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے، اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو قوم کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

    مولانافضل الرحمن نے کہا کہ اس قومی اسمبلی میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی الیکشن کمیشن میں نہیں جانا، کسی عدالت میں نہیں جانا اور دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کرے گی،کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کی نہ میٹنگ ہوئی اور نہ رولز بنیں ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن نے اسی الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا کیس زیر سماعت ہے اور وہ 5 سال سے اس کیس کا فیصلہ نہیں کرسکے تو دھاندلی کا کیسے فیصلہ کرے گا؟ تم لوگوں سے احتساب مانگتے ہو لیکن خود احتساب دینے کو تیار نہیں، یہ پوری پارٹی و ٹبر چور ہے، قابل احتساب پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، یہاں اجتماع کرنے کے بعد یہ مطلب نہیں کہ ہمارا سفر رک گیا،ہم یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کے ساتھ جائیں گے، آج اسلام آباد بند ہے تو پورا پاکستان بندکرکے دکھائیں گے اور جنگ جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ تنگ پڑ گئی ہے، ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے، عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی اور ہمیں عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا لیکن اس پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔