Baaghi TV

Author: +9251

  • خواتین احتجاجا بلوچستان کے پارلیمان ہاوس کے باہر

    کوئٹہ: بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ کے گرلز ہاسٹل پر پولیس نے دھاوا بول کر خواتین ہاوس آفیسرز کو زبردستی ہاسٹل سے باہر گھسیٹ پھینکا ہے۔ خواتین کے متبادل ہاسٹل کے مطالبے کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے۔
    خواتین احتجاجا بلوچستان کے پارلیمان ہاوس کے باہر دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہیکہ متبادل رہائش کی فراہمی تک دھرنا جاری رہیگا ہم پولیس اور BUMHS انتظامیہ کی بدمعاشی اور خواتین کی بےحرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مظاہرین سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں دوبارہ فوری ہاسٹل کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  • یمن: حوثی باغیوں کے حملے میں کتنے سوڈانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے؟

    یمن: حوثی باغیوں کے حملے میں کتنے سوڈانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے؟

    یمن کے حوثی باغیوں نے جنوب مغربی شہر تائز میں تعینات سوڈانی فوجیوں پر راکٹ حملہ کیا ۔ باغیوں نے اس حملے میں بڑی تعداد میں سوڈانی فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعوی کیا ہے۔

    حوثی باغیوں کا ہزاروں سعودی فوجیوں کی گرفتاری کا دعویٰ جھوٹ نکلا، یمنی وزیر نے بھانڈا پھوڑ دیا

    حوثیوں کے ترجمان ٹیلی ویژن چینل المسیرہ نے خبر دی ہے کہ یہ حملہ تائز شہر میں کیا ۔المسیرہ نے حملے میں بڑی تعداد میں سوڈانی فوجیوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کا دعوی بھی کیا تاہم اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئی

    یاد رہے کہ حوثی باغیوں کے پاس ستمبر 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعاءاور بعض دیگر علاقوں کا کنٹرول ہے۔

    حوثی باغیوں نے یمن کے سکولوں میں بچوں سے اپنے ساتھ لڑنے کا حلف لینا شروع کر دیا.

    حوثی باغیوں نے یمن کے سکولوں میں بچوں سے اپنے ساتھ لڑنے اور ساتھ دینے کا حلف لینا شروع کر دیا.اس بات کا نکشاف یمن میں اساتذہ تنظیم نے نئے سال کے آغاز پر کلاسوں کے شروع ہونے پر کیا ہے.

    حوثی باغیوں نے 23 ہزار بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کر لیا، رپورٹ

    حوثی ملک کے شمالی صعدہ صوبے میں 2014 سے اسکولوں میں طلبہ صبح کی اسمبلی کے اختتام پر قومی ترانے کے بجائے حوثیوں کے سربراہ "عبدالملک بدر الدين الحوثی” کی وفاداری کی عبارتوں پر مشتمل حلف دہراتے ہیں۔صعدہ حوثیوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہےی.

  • اکرم درانی کے خلاف تحقیقات، نیب نے اب کس کو طلب کر لیا؟ اہم خبر

    اکرم درانی کے خلاف تحقیقات، نیب نے اب کس کو طلب کر لیا؟ اہم خبر

    نیب نے اکرم درانی کے خلاف تحیقات کے سلسلہ میں کس کو طلب کر لیا؟ اکرم درانی خود پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروا چکے مگر نیب نے پھر ایسی شخصیت کو طلب کیا کہ اکرم درانی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب اسلام آباد نے اکرم درانی کے پرسنل سیکرٹری طاہرخان کو8 اکتوبرکوطلب کرلیا.سابق وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈورکس اکرم درانی کے خلاف نیب تحقیقات جاری ہیں،اکرم خان درانی کے خلاف غیرقانونی اثاثے بنانے اورمبینہ کرپشن کاالزام ہے ،کیس میں اکرم درانی،سابق ایم پی اےعرفان درانی،ریاض خان سمیت دیگرپیش ہوچکے ہیں.

     

    نیب تحقیقات کے بعد اکرم درانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب آفس میں اثاثوں کے بارے میں تفتیش کی گئی ،نیب کودوبارہ بھی تفصیلات فراہم کر دوں گا ،ایسا کوئی سوال نہیں ہوا جو مزاج کے خلاف ہو،دونوں ہاوَسنگ منصوبوں سے وزارت کا کوئی تعلق نہیں ،

    اکرم درانی نے کہا کہ 3،2دن میں رہبر کمیٹی کا اجلاس بلا لیا جائے گا،اسفند یار ولی سے تفصیلی ملاقات ہوئی،آزادی مارچ ہو گا ،باقی فیصلے وقت آنے پر ہوں گی،آزادی مارچ کا دورانیہ کتنا ہو گا یہ وقت پر پتہ چلے گا،

    حلوہ کھانے والے اسلام آباد بند نہیں کرسکتے، ایسا کس نے کہہ دیا؟

    واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی کے خلاف نیب تحقیقات کے سلسلہ میں اکرم درانی کے داماد وسابق ایم پی اے عرفان درانی نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے ہیں

    آپ صحافی رہیں، قصائی نہ بنیں، شیخ رشید نے ایسا کیوں کہا؟

    عمران خان یہ کام کریں تو آزادی مارچ ختم ہو سکتا ہے، شیخ رشید

    مولانا فضل الرحمان کے لئے جیل تیار،کہاں رکھا جائے گا؟ خبر نے کھلبلی مچا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے عرفان درانی سے اکرم درانی کےساتھ کاروباری تعلقات سےمتعلق سوالات کیے،عرفان درانی سے اکرم درانی کے کاروباری تفصیلات پربھی سوالات کیے گئے،

    جے یو آئی کے تین رہنما بھی جائیں گے جیل، خبر نے کھلبلی مچا دی

    نیب کے مطابق اکرم خان درانی پر2ہاؤسنگ پروجیکٹ میں کرپشن کاالزام ہے،

    عدالت مولانا کے آزادی مارچ کو روکے، درخواست دائر

  • شجاع آباد گن پوائنٹ پر گھر میں ڈکیتی کی واردات

    شجاع آباد گن پوائنٹ پر گھر میں ڈکیتی کی واردات

    شجاع آباد (نمائندہ باغی ٹی وی ) لال باغ کے علاقے میں گن پوائنٹ پر گھر میں ڈکیتی کی واردات ڈاکو گن پوائنٹ پر 40 تولے سونا اور 42 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار 4 افراد گھر میں اچانک داخل ہوئے اور کہا کہ گھر میں سرچ آپریشن کے لئے اے ہیں
    اہل خانہ کو کمرے میں بند کر کے گھر کا صفایا کر گئے اہل خانہ کے بیان کے مطابق ایک شخص کے ہاتھ میں فائل تھی ہم سمجھے کوئی سرچ آپریشن والے آئے ہیں، اس واقعہ کی اطلاح ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کرقانونی کاروائی شروع کردی ہے گھر کے باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈاکو گھر میں داخل ہوتے ہوے اور گھر سے باہر جاتے دکھائی دے رہے ہیں رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد

  • مقبوضہ کشمیر، سیاسی لیڈروں کی گرفتاری، بھارتی وزارت داخلہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    مقبوضہ کشمیر، سیاسی لیڈروں کی گرفتاری، بھارتی وزارت داخلہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5اگست کو موبائل اور انٹرنیٹ کی سروس بند کرنے، ریڈیو اور سیٹلائٹ ٹی وی پر بھی پابندی، سیاحوں کو ریاست سے باہر جانے اور سیاسی لیڈروں کو گرفتار یا نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ کس نے دیا، بھارتی وزارت داخلہ کے پاس اس حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں کتنے ہزار اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں؟ اہم خبر

    بھارتی میڈیا نے وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے پاس گرفتار کئے گئے لیڈروں کے نہ تو نام ہیں اور نہ ہی ان کی جیل کے بارے کوئی خبر ہے کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ باتیں ایک آر ٹی آئی میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں، اور ساتھ ہی اس سلسلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ سے رابطہ قائم کرنے کا مشورہ بھی دے دیا۔

    ایک آر ٹی آئی کارکن نے وزارت کو درخواست دی تھی اور اس بارے میں جاری ہدایات و احکامات یا صلاح و مشورے کی کاپی طلب کی تھی۔ وزارت داخلہ کے مقبوضہ جموں و کشمیر ڈویژن کے دو مرکزی پی آئی او نے کہا کہ ان کے پاس ان سب کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟

    دوسری طرف بھارت کے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ تمام اطلاعات جموں و کشمیر حکومت کے پاس ہو سکتی ہیں۔آر ٹی آئی درخواست کو جموں و کشمیر حکومت کے پاس بھیجا نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں یہ ایکٹ 2005 ابھی تک نافذ العمل ہی نہیں ہے۔ جواب کے مطابق صرف جموں و کشمیر کے باشندے ہی آر آئی ٹی قانون کے مطابق درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ظالمانہ لاک ڈاؤن تیسرے ماہ میں داخل

    آر ٹی آئی درخواست دائر کرنے والے ونکٹیش نائیک نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سال 19 دسمبر سے صدر راج نافذ ہے، ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس ان سب پابندیوں کے بارے میں کوئی اطلاع ہی نہ ہو۔

    واضح رہے کہ نائیک نے یہ درخواست 30 اگست کو دائر کی تھی۔نائیک نے جموں و کشمیر کے بارے میں احکامات کی کاپیوں کے علاوہ ان لیڈروں اور سیاسی کارکنان کے نام بھی پوچھے تھے جنھیں آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انھیں جس جگہ بھی رکھا گیا ہے اس جگہ کے نام بھی پوچھے گئے تھے۔

  • وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر روانہ

    وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر روانہ

    وزیراعظم عمران خان چین کے دورے پر روانہ ہو گئے، وزیراعظم چین کے صدر کی دعوت پر دورہ چین روانہ ہوئے ہیں

    اسلام آباد ۔ 7 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ کی دعوت پر 8 سے 9 اکتوبر تک چین میں قیام کریں گت۔ وزیراعظم عمران خان دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی کیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ وہ چین کے صدر اور وزیراعظم کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی گئی الگ الگ ضیافتوں میں بھی شرکت کریں گے۔

    دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین اس موقع پر بہت سے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار، مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبدالرزاق داﺅد، پٹرولیم کے لئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین اور سینئر حکام سمیت اعلیٰ سطحی وفد ہو گا۔

    پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ چین کے وزیراعظم اور صدر کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کی ملاقاتوں میں شریک ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین دونوں ممالک کی قیادت کے مابین طویل عرصہ سے قائم اس روایت کا تسلسل ہے جس کے تحت دونوں ممالک کی قیادت باہمی دلچسپی، کے دوطرفہ علاقائی و بین الاقوامی امور پر باقاعدگی کے ساتھ مشاورت کرتی ہے۔

    ٹرانسپورٹرز کے بعد تاجر برادری کی بھی وزیراعظم نے سن لی، بڑا حکم دے دیا

    وزیراعظم کے خلاف حکومتی جماعت کے رہنما جاوید بدر نے سٹیزن پورٹل میں‌شکایت درج کروا دی

    وزیراعظم عمران خان 5 اگست 2019ءسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پائی جانے والی صورتحال سے جنوبی ایشیاءکے امن اور سلامتی کو درپیش خطرات سمیت علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں اور پیش رفت کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ، چین کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی سرمایہ کاری اور تذویراتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دیگر امور کے علاوہ وزیراعظم عمران خان چینی قیادت کو پاکستان میں سی پیک کے جاری منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے موجودہ حکومت کے حالیہ اہم تاریخی فیصلوں اور بی آر آئی کے ہائی کوالٹی ڈیمانسٹریشن پراجیکٹ کے طور پر سی پیک کو آگے بڑھانے کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے دوطرفہ تجارتی و سرمایہ کاری اشتراک کار کو مضبوط بنانے کے لئے کارپوریٹ اور چین کے کاروباری شعبے کے اعلیٰ نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوں گی۔

    چین کی 70 ویں سالگرہ، وزیراعظم عمران خان نے دیا چین کو اہم پیغام

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم عمران خان بیجنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہارٹیکلچر ایکسپو کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں گے جبکہ چین کے وزیراعظم لی کی کیانگ میزبانی کریں گے۔ پاکستان اور چین نہ صرف گہرے دوست بلکہ ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے مابین تاریخی تعلقات استوار ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یہ آزمودہ دوستانہ تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پرعزم اور کوشاں ہے ۔

    آرمی چیف سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے، کن شخصیات سے ہوں‌ گی اہم ملاقاتیں؟ خبر آ گئی

  • ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان انعام خداوندی ہے اور صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ اس میں کمال یقیناً اس ایقان و یقین کا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسی جذبہ ایمانی کی بدولت پاکستانی قوم دنیا میں اپنا ایک خاص تعارف رکھتی ہے۔ اور یہی قوت ہماری صلاحیتوں کو چار چاند لگاتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان کے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری نظریات پنپتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ہر کوئی اپنی دوکان چمکاتا نظر آتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار جمہوریت کا منتخب ہونے کا دعویدار ہے اور ہر مخالف منتخب حکومت میں سقم ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے۔

     

     

    اپنے مختصر عرصہ حیات میں میں نے ایک بھی ایسی حکومت نہیں دیکھی جس کو اپوزیشن نے جائز حکومت تسلیم کیا ہو۔ دھاندلی، سلیکٹڈ حکومت، پری پلان حکومت وغیرہ کے نعرے ہی بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں، ان نعروں اور اعتراضات میں بھی جدت آئی ہے۔ انہی جدتوں میں ایک مخالف پارٹی پر مذہب کے نام پر الزام تراشی اور بہتان بازی بھی ہے۔

    میری گزارشات کا مطمع نظر بعض ناپسندیدہ پہلوؤں کی نشاندہی اور اصلاح احوال کی کوشش ہے۔ اس امید پر کہ

    شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

    سابقہ تاریخ کو دہرانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہم موجودہ حکومت اور اس کے مخالفین کے طرز عمل سے چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے گئے وہیں ایک اعتراض "یہودی ایجنٹ” اور "قادیانی نواز” بھی ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے 22 سال بعد وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک انھیں یہ وزارت نہ ملی تھی یا ان کی پارٹی ایک مضبوط عوامی طاقت کے طور پر سامنے نہ آئی تھی، یہ الزامی سیاست کہاں تھی؟

    بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کا مقصد محض کسی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنا اور شخصیت کو متنازع و داغدار بنانا ہے۔ اور اس کی ضرورت تب ہی ہو گی جب کوئی کسی اہم منصب پر پہنچ جائے۔ ورنہ سابقہ 22 برس کی سیاست میں یہ الزامات لگے ہوتے تو یہ شخص اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی عوامی حلقوں میں تنقید کا شکار ہوتا۔ پھر وزیراعظم کی کارکردگی اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو ایک شخص کو محض قادیانی ہونے کی بنا پر علی الاعلان مالی مشیر مقرر نہ کرے اور بین الاقوامی فورم پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کرے اس کے ایمان اور اسلام سے وفاداری پر حرف اٹھانا بعید از قیاس ہے۔

    دین اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں سے حسن ظن رکھا جائے تو یہ کیسا کمال ہے کہ ہم زبردستی خود ساختہ گستاخی کے فتوے اور اسلام دشمنی کے منصوبے کسی سے منسوب کر دیں۔ اسی دورہ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی تبدیلی سامنے آئی تو ایک بار پھر پورے زور سے منیر احمد شیخ کو قادیانی اور حکومت کو قادیانی نواز قرار دینے کی بھرپور کیمپین چلی مگر موثر ثابت نہ ہو سکی۔

    آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں دھرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ دھرنے کے مقاصد کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کو دھرنے سے روکنے کی کوششوں میں جن طریقوں توہین مذہب کو روا رکھا جا رہا ہے شاید وہ خان صاحب کے جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا منہ چڑا رہے ہیں۔

     

     

    سیاسی مقاصد یا کسی بھی طرح کے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال قابل مذمت ہے تو سیاسی مخاصمت کی آڑ میں مذہب دشمنی اور توہین مذہب بھی قابل مذمت ہے۔ جس طرح سے مولانا کے دھرنے کے حوالے سے مبینہ ہدایت نامہ، شرائط نامہ اور پھر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر دکھا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور دھرنے کے ممکنہ غیر اخلاقی مضمرات بیان کیے جا رہے ہیں کیا حکومتی جماعت کو ان مضمرات سے آگاہی اب حاصل ہوئی ہے؟

    بہرحال کوشش کی جائے کہ معاملات کو باہم افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور اگر فریق مخالف پر تنقید و تنقیح کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو بہر صورت اخلاقی حدود قیود کا خیال رکھا جائے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو رجحان دیا جائے۔ الزامی سیاست، مذہب کارڈ اور مذہب مخالف سوچ سے گریز کیا جائے اور اپنی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے نہ کہ دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو صاف ستھرا دکھانے کی کوشش کی جائے۔

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری

    از–محمد نعیم شہزاد

  • مولانا کو سختی سے روکیں گے، حکومت کا دبنگ اعلان، مولانا ہوئے پریشان

    مولانا کو سختی سے روکیں گے، حکومت کا دبنگ اعلان، مولانا ہوئے پریشان

    مولانا فضل الرحمان کو سختی سے روکیں گے، کس نے دبنگ اعلان کیا کہ ہر طرف کھلبلی مچ گئی، جمعیت علماء اسلام بھی آزادی مارچ کے حوالہ سے پریشان ہو گئی

    اسلام آباد ۔ 7 اکتوبر (اے پی پی) خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ بے مقصد ہے اور یہ پوری قوم بھی جانتی ہے۔ نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا خود چیئر مین کشمیر کمیٹی رہ چکے ہیں ، اس کے باوجود 27 اکتوبر کو مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا کشمیریوں کے یوم سیاہ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سیاسی طور پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں ہم ان کو کچھ نہیں کہیں گے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ مدرسوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لاکر انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور دھرنا دینا چاہتے ہیں جس کی انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر کوئی مذہبی ایشو نہیں چل رہا ، گستاخی رسول ۖ کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، ہم ہر مسلے کے حل کے لئے ہم خود حاضر ہیں ۔

    وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے اہل مغرب کو ان کی زبان میں سمجھایا ہے کہ اسلام کتنا پرامن مذہب ہے اور ہم اپنے پیغمبر حضرت محمد ۖ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنا احتجاج کریں تاہم اگر انہوں نے مدرسوں کے بچوں کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی تو ہم انہیں سختی سے روکیں گے۔

    آپ صحافی رہیں، قصائی نہ بنیں، شیخ رشید نے ایسا کیوں کہا؟

    عمران خان یہ کام کریں تو آزادی مارچ ختم ہو سکتا ہے، شیخ رشید

    مولانا فضل الرحمان کے لئے جیل تیار،کہاں رکھا جائے گا؟ خبر نے کھلبلی مچا دی

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحما ن نے گزشتہ روز 27 اکتوبر کو حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا، پیپلز پارٹی نے اس کے بعد اجلاس بلا لیا ہے، ن لیگ بھی ممکنہ حمایت کرے گی تاہم ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مولانا سے تاریخ بدلنے کی اپیل کی جسے مسترد کر دیا گیا

    حکومت کی اپیل مسترد،جے یو آئی ڈٹ گئی، کہا ایسا نہیں ہو سکتا

  • اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مسائل کاحل نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں کا محاذ کھولا ہواہے کبھی کہا جارہاہے کہ نومبر اہم ہے۔ جب نواز شریف کی حکومت تھی اس وقت بھی یہی باتیں ہوتی تھیں کہ یہ مہینہ اہم ہے اور وہ مہینہ اہم ہے۔یہ بات درست ہے کہ ملکی حالات درست نہیں ہیں۔

    اس وقت سیاسی محاذ پرمولانافضل الرحمان کا دھرنا اور جلسہ چھایا ہواہے اگر حکومت ڈلیور کررہی ہوتی تو لوگ اس پر قطعاً توجہ نہ دیتے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطہ موجود ہے وہ دھرنے میں شامل ہوں یا نہ ہوں لیکن جلسہ میں شامل ہوتے ضرور دیکھائی دے رہے ہیں۔ اکتوبر کے بعد اپوزیشن اپنی نئی حکمت عملی بھی بناسکتی ہے اس لئے نومبر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اہم ہے۔

    تحریک انصاف کی حکومت سے لوگوں کوبڑی امیدیں تھیں لیکن ابھی تک کچھ ایسا نہیں ہوا۔جس سے یہ کہا جا ئے کہ حکومت۔۔ سیف۔۔پوزیشن میں ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی فضل الرحمان کے ساتھ جاناچاہتی ہیں لیکن وہ نظام کو بھی غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتیں۔اس وقت ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کا لائحہ عمل نہ حکومت کے پاس ہے اور نہ اپوزیشن کے پاس ہے دونوں اپنے اپنے اندا ز میں بیوقوفیاں کررہے ہیں۔

    ۔ مولانا فضل الرحمان کو احتجاج کاحق ہے لیکن اس سے کسی کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کہنا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے بھی تو دھرنا دیا تھا۔ تواس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر انھوں نے غلط کیا تھا تو

    آپ بھی غلط کریں۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی الگ قسم کی ہے اور اپوزیشن بھی الگ قسم کی ہے حکومت کو چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان کومنائے۔یہ عجیب سا منظر نظر آرہاہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو روک رہی ہے دھرنے کو اکتوبر سے آگے لے جائیں جبکہ حکومت بھی مدارس کے علماسے کہہ رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہوں۔یہ بات درست ہے کہ اپوزیشن کو ایک کے بعد ایک دھچکا لگاہے اور ایک سال بعد حکومت اگر گرتی ہے تو اس سے معیشت درست نہیں ہوگی۔ حکومت کومختلف اداروں کی حمایت حاصل ہے اس لئے اس وقت احتجاج کرنا اپوزیشن کے فائدے میں نظر نہیں آتا ہے۔

    ۔ چند دن پہلے تک تو حکومت کا خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کسی نہ کسی بہانے اپنا آزادی مارچ ملتوی کر دیں گے۔حالانکہ آزاد ذرائع کی اطلاعات یہی تھیں کہ وہ اپنے پروگرام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی حلیف یا حریف کی بات اس سلسلے میں ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔اب حکومت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ دھرنا کے اثرات آخر کیا ہوں گے۔ اب حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ جبکہ پہلے سب ہر چیز کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ اب جب سر پر پڑی ہے تو حکومت سر ڈھر کی بازی لگاتی دیکھائی دے رہی ہے۔اب حکومتی وزیر مولانا کو لیگل نوٹس بھجوارہے ہیں۔ تو کسی عدالت میں مارچ کو روکنے کی استداعا کی جا رہی ہے۔

    ۔ حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ مولانافضل الرحمان مدرسہ ریفارم نہیں چاہتے۔فضل الرحمان مذہب کوسیاست میں استعمال کررہے ہیں۔مولانافضل الرحمان نے مذہب کے نام پرچندہ اکٹھاکیا۔ جبکہ ہم

    نے دھرنے میں مذہب کواستعمال نہیں کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان الزاما ت لگا کر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ وہ پہلے دن سے ہی بلیک میلنگ کی سیاست کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان الیکشن میں شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کے کروڑوں روپے کا بجٹ استعمال کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بچوں کو ڈوبتی سیاست بچانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں مولانا جس ایجنڈے پر ہیں اس سے صر ف مودی کو فائدہ ہور ہاہے۔

    ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں۔کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اتفاق رائے ہوگیا ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ کے تین اہم نکات ہیں جس میں حکومت کے استعفے۔صاف شفاف منصفانہ عبوری انتخابات کے انعقاد اور الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی اور ادارے کی انتخابی عمل میں مداخلت نہ ہونے۔اسلامی آئینی ترامیم و قوانین کا تحفظ شامل ہیں۔ رہبر کمیٹی نے تمام جماعتوں کی متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے تجاویز تحریری طورپر متحدہ حزب اختلاف کے قائدین محمد شہباز شریف۔ بلاول بھٹو زرداری۔مولانا فضل الرحمن۔اسفندیارولی خان۔محمود خان اچکزئی۔آفتاب احمد شیرپاو۔علامہ اویس نورانی۔ سینیٹرپروفیسر ساجد میر کو آگاہ کردیا تھا۔کسی بھی مذاکراتی ٹیم سے چارٹرآف ڈیمانڈ سے ہٹ کربات نہیں کی جائے گی۔

    ۔ اس ملک کے لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور ریاست کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ دھرنوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سفارتخانے اپنے اپنے ملکوں کو لکھ کر بھیجتے ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت محفوظ نہیں ہے۔اور جب ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔اسٹاک ایکسینج بیٹھ جاتی ہے۔ کاروبار اور زندگی

    متاثر ہو جاتی ہے۔جس کا اس وقت پاکستان اس کمزور معیشت کے ساتھ کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ ڈی چوک میں ہونیوالی یہ سرگرمی دارالحکومت سمیت پورے ملک کومتاثر کرتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو انگیج کرسکتی ہے۔مگر اس کے لیے سیاسی بصیریت کی ضرورت ہے۔جو اس وقت حکومت میں بیٹھے لوگوں میں دیکھائی نہیں دے رہی۔

    ۔ مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حکومت خود ہی مستعفی ہو جائے گی۔لیکن اگر اس دعوے میں مبالغہ ہے تو بھی اتنا ضرور ہے کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی حکومت کے وجود میں ایک بڑا ڈینٹ پڑ جائے گا۔ عین ممکن ہے جو وزیر اس وقت بیان بازی کے مزے لے رہے ہیں کل کو اپنی سیاسی بصیرت پر افسوس کررہے ہوں۔

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے

    تحریر ِ عبداللہ باغی

    Muhammad Abdullah
  • مولانا فضل الرحمن کیخلاف قوت کا استعمال، عبدالغفور حیدری نے کیا سینئر سیاستدان پر سنگین الزام عائد

    مولانا فضل الرحمن کیخلاف قوت کا استعمال، عبدالغفور حیدری نے کیا سینئر سیاستدان پر سنگین الزام عائد

    جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ اور احتجاجی دھرنے میں لاکھوں لوگ شریک ہوں گے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان بھی موجود ہوں‌ گے،

    باغی ٹی وی کی رپور‌ٹ کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے والے ہمارے قافلوں کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے میں وقت لگے گا تاہم جب یہ قافلے شہر کے قریب پہنچیں گے تو پھر قریبی علاقوں کے قافلے بھی اسلام آباد کی جانب چل پڑیں گے، انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور حکومت کے ساتھ مل کر جے یو آئی ف سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف پوری قوت استعمال کررہے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان ماضی کی طرح اب بھی سرخرو ہوں گے،

    آرمی چیف کی امریکی سینیٹرز سے ملاقات، پاک امریکہ تعلقات سے متعلق انتہائی اہم بات کہہ دی

    ہمیں کشمیریوں سے محبت ہے اور کشمیر ہماری روح کا حصہ ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    آرمی چیف سے سعودی بری فوج کے سربراہ کی ملاقات، علاقائی سکیورٹی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال

    واضح‌ رہے کہ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ایجنڈا پروموٹ کر رہے ہیں، انہیں مسئلہ کشمیر کا ہونے والا وہ نقصان کیوں‌ یاد نہیں ہے جب وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے؟ وہ پچھلی کئی حکومتوں میں‌ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں، اس وقت جو سازشیں کی جارہی ہیں اس سلسلہ میں ان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں جنہیں‌ پیش کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کیخلاف ان کے پاس اتنے شواہد موجود ہیں کہ انہیں‌ سزا ہو جائے گی، انہوں‌ نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں اگر مولانا فضل الرحمان دھرنا دیتے ہیں‌ تو یہ مودی کے ایجنڈے پر چلنے کے مترادف ہے، ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ اسلام کی تبلیغ اس وقت وزیراعظم عمران خان سب سے زیادہ کر رہے ہیں، دوسری طرف مولانا فضل الرحمان تو انتخابات ہارنے پر ملک بھر میں گمراہ کن تقاریر اور بیانات سے نریندر مودی کے ایجنڈے کو پرموٹ کر رہے ہیں لہٰذا انہیں 15 دن کا نوٹس بھیجا جارہا ہے اگر اس کا جواب نہ آیا تو پھر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی،