Baaghi TV

Author: +9251

  • بریکنگ: قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ اور باؤلنگ کوچ کا فیصلہ کرلیا گیا

    بریکنگ: قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ اور باؤلنگ کوچ کا فیصلہ کرلیا گیا

    لاہور: پی سی بی نے پاکستان کے سابق کپتان مصباالحق کو ہیڈ کوچ جبکہ سابق فاسٹ باؤلر وقار یونس کو باؤلنگ کوچ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے.

    باغی ٹی وی 2 ستمبر کو اپنے ذرائع سے خبر بریک کر رہا ہے کہ مصباح الحق پاکستان کرکٹ‌ ٹیم کے ہیڈ کوچ جبکہ وقار یونس باؤلنگ کوچ ہوں گے. باغی ٹی وی کے ذرائع سے خبر موصول ہوئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباالحق کو ہیڈ کوچ جبکہ سابق فاسٹ باؤلر وقار یونس کو باؤلنگ کوچ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے. تاہم اس حوالے سے باقاعدہ اعلان 1 یا 2 دن تک متوقع ہے. ہیڈ کوچ کی سیٹ مکی آرتھر کے عہدے کے بعد خالی ہوئی تھی جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ اس سے قبل اظہر محمود تھے، پی سی بی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی پوری مینیجمنٹ کو ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد ہٹا دیا تھا اور نئے کوچز کیلئے اخبارات میں اشتہار دیئے تھے.

    دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کیلئے ڈین جونز نے بھی اپلائی کیا تھا، لیکن ذرائع سے خبر یہ موصول ہوئی ہے کہ پی سی بی نے مصباالحق کو قومی ٹیم کا کوچ بنانے کا فیصلہ کیا ہے.

  • یورپی اراکین پارلیمنٹ کا کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    یورپی اراکین پارلیمنٹ کا کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    بھارت کی تمام تر کوششیں ناکام گئیں، یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں کشمیر کی صورتحال پر بحث ہوئی،اراکین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی مذمت کی اور موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں مقبوضہ جموں کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر اِن کیمرہ اجلاس منعقد کیا گیا ،اجلاس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور ایک ماہ سے جاری کرفیو اور ذرائع ابلاغ پر لگی بندشوں کی مذمت کی گئی۔ تمام اراکین نے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی مسئلہ کشمیر کے ایشو کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    دوسری جانب بھارتی نژاد برطانوی رکن یورپی پارلیمنٹ نینا گِل ساری کارروائی کی مخالفت کرتی نظر آئی لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔

    یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے یورپی یونین اجلاس کا پہلا سیشن تھا۔ یورپی یونین کا یہ اجلاس بہت بڑی کامیابی ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ یورپی پارلیمنٹ نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ تشویش اور اجلاس ہماری بڑی کامیابی ہے

     

    کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف پاکستانی قوم سڑکوں پر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    مودی نے آخری پتہ کھیل لیا، اب کشمیر آزاد ہو گا، پاک فوج تیار،وزیراعظم عمران خان

    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی

    واجح رہے کہ یورپی یونین کے امور خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی کی ترجمان، ماجا کوکیجنک نے برسلز میں ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ یورپی یونین بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر کے دوطرفہ سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے ، جو ہمارے خیال میں تنازعہ حل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔

    مودی سری نگر میں مسلمانوں کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا، قریشی کا ہندو برادری کے جلسے سے خطاب

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ ، فیڈریکا موگھرینی نے ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کو بلا کر ان پر زور دیا تھا کہ وہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 29 روزسے کرفیو نافذ ہے، بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کی نسل کشی کے نئے انتظامات کرلئے ہیں۔ سرینگر میں دو درجن سے زائد نئے بنکرز اور مورچے قائم کر کے مزید شارپ شوٹرز تعینات کر دئیے گئے۔پوری وادی چھاونی کا منظر پیش کر رہی ہے، ہر گلی، سڑک، شاہراہ پرقابض فوجیوں کی موجودگی باوجود کشمیری شہریوں نے زبردست احتجاج کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔

  • دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    ہم جس سمت یا نظر سے دنیا دیکھ رہے یا ہمیں دیکھائی جا رہی ہے دنیا اس سے یکسر مختلف ہے
    ہمیں اقوام متحدہ پڑھائی جا رہی ہے
    انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں۔
    ایڈ کے نام پہ ایسی ایسی فاؤنڈیشنز اور تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہے۔
    ہمیں یورپ کا لبرل طبقہ دکھا کے براڈ مائنڈڈ بننے کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں۔
    ہمیں سیکولر لوگوں سے سنگتیں  بنانے کا درس دیا جاتا رہا ہے۔
    جبکہ اگر ہم بڑی بالغ نظری سے دنیا کو دیکھیں تو یہی لوگ جو ہمیں ان سب چیزوں کی اقتدا کا درس دیتے نظر آ رہے ہیں یہ اپنی مذہبی جنونیت سے بھرے ہوئے اسلام مخالف درندے ملیں گے۔
    چند ایک نہیں یہ سارے کے سارے ہی ایسے ہیں۔
    دیکھا نہیں کبھی یہودیوں نے ہٹلر کو قاتل یا درندہ کہنے نہیں دیا جبکہ اس کے قتل جیسا قتل بھی کسی نے کیا ؟؟؟
    اور آ جائیں دیکھیں عیسائیوں کو وہ یاد ہے نا نیوزی لینڈ والا واقعہ دکھائیں کسی یورپی ملک کے ٹیلی ویژن نے اسے دہشتگرد گردانا ہو۔
    سفید فام نسل پرست بس اس سے آگے اس پہ کوئی لیبل لگایا ہو ؟؟
    ان کی اداکارائیں ہوں یا کوئی اور سلیبریٹیز۔۔۔ کتنی دفعہ ایسا سامنے آیا کہ وہ ان کی ایجنسیز کے کام کرتی ہوئی پکڑی گئیں۔
    یہی ہے نا جن کو تم لبرل سیکولر کہہ کے اپنے اصل اپنے دماغوں کو کرید رہے ہو ؟
    اور دوسری طرف ہم نابالغ سے مسلمان۔۔۔!!
    اقوام متحدہ
    اس کے اگر کام دیکھو تو وہ ہمیں محض ایک خول نظر آئے گا ہم نے اس کے ظاہری خول کو ایکسپٹ کیا جبکہ اس کے نیچے چھپا وہ یورپ زدہ انسانیت مخالف چہرہ کبھی دیکھنےکی جرات نہ کی۔
    کوئی کرے بھی کیسے ؟؟؟
    ایسا کہنے والے کو جذباتی مولوی، ملاں کہہ کے ٹھکرانا تو ہمارے معاشرے کا بہت سستا سا جملہ ہے جو انہوں نے ہمیں سستے داموں دیا اور ہم نے اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔

    لبرل ازم:-

    لبرل ازم کی اصل تعریف اور اس کی اصلیت سے ناواقف مگر اس میں پورے کے پورے ڈوبنے کے لیے تیار…
    دیکھو نا سامنے ہی ہے ہماری وہ دو ٹکے کی صباء قمر کی شکل میں نابلد سی سلیبریٹی، جو کبھی تو ”چیخ“ ڈارمے کو سامنے لے آتی ہے تو کبھی ”باغی”۔
    تم کیا سمجھتے ہو یہ محض ڈرامہ ہی ہے ؟؟؟
    نئی بھائی یہ ڈرامہ نہیں ہے کون ایسی سکرپٹس پہ پیسا پانی کی طرح بہاتا ہے؟؟؟
    پورے کا پورا ایک ایسا خاندانی نظام سامنے رکھنے کی کوشش کی جاتی کہ جس میں لفظ ”اسلامی معاشرے“ کی بالکل مخالفت کی جاتی ہے۔
    اور ہمارے معاشرے کی عورت انہی کی انسٹا سٹوریز کو فالو کر رہی ہوتی ہیں جن میں ان کا جسم پردے اور ستر سے ترستا دیکھائی دیتا ہے۔
    اعتراض کرنے پہ سیدھا مولوی ملاں کا لیبل سامنے کھڑا پایا جاتا۔
    تمہیں بتاوں لبرل ازم کیا ہے ؟؟
    مہیش بھٹ کا اپنی بیٹی عالیہ بھٹ کو اپنی ران پہ بیٹھا کے برہنہ فوٹو شاپ کروانا
    یہ ہے لبرل ازم۔۔۔۔
    تم کہتے ہو کے یار ہم اس حد تک تو نہیں گئے۔
    تو بھائی ان جیسی اداکاراؤں سے پوچھیں کہ ان کے گرو کون ہیں ؟؟
    جھٹ جواب آئے گا دی لیجنڈ مہیش بٹ، امیتابھ بچن سر۔
    باقی خود اندازہ لگا لیں۔
    اور سیکولرزم
    مذہبی قیود سے دور ایک آزاد معاشرہ
    کیا حرام کیا حلال کون جانتا ان چیزوں کو بھائی ؟؟
    یہ آج کل کی دنیا ہے مذہب، مسجد کی حد تک اچھا لگتا ہے یہ سیاستیں یہ ریاستیں یہ مذہب سے آزاد اچھی لگتی ہیں۔
    ہوا وہی جو ان کی توقعات تھیں
    انکا یہ منجن بھی مسلم دنیا نے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔ کیونکہ بھائی ہم آج کی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں
    یہ مذہب چودہ سو سال پہلے کی غاروں میں چھپی چیزیں ہیں۔
    ہمیں دکھایا یہ جاتا کہ کے بھئی مسلمانوں کا مسئلہ ہی دو وقت کی روٹی ہے۔
    کیا دین، کیا جہاد یہ سب تو نفلی سی چیزیں تھیں جو ادا ہو گئیں اب آؤ ادھر خوراک کی طرف دنیا بھوکی مر رہی ہے اور تم ہو کے اسلام اور جہاد کے نعرے لگاتے بس نہیں کرتے۔
    دیکھ لو پاکستان میں چلنے والی فاؤنڈیشنز پہ پابندیاں لگا کے تھر اور بلوچستان میں قادیانیت اور عیسائیت کے علمبرداروں کو کھلی فضا مہیا کر دی گئی کہ آؤ ہم نے اب اس قوم کا مسئلہ روٹی کپڑا اور مکان بنا دیا ہے ایک پلیٹ دو اپنا نظریہ چسپاں کرو اور ان کا نظریہ جس پہ پہلے ای ڈگمگاتے پھر رہے ہیں وہ ان کے اندر سے کریدو اور وہ یہ سب کام کر رہے ہیں۔
    جبکہ اگر یہی کام اس ملک کے اندرونی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کریں تو جھٹ چند سیاسی اور لبرل گرگٹ اپنے گھروں سے پینٹ کوٹ پہن کے میڈیا کے نمائندوں کو بلا کے ہیپی ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے الزام عائد کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ
    جی ان کو زبردستی کلمہ پڑھایا جا رہا ہے
    یہ تو ظلم ہے
    یہ تو ان کے حق پہ ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے
    نہیں سر۔۔!! ہم تو یہ نہیں ہونے دیں گے
    ہم ٹھہرے ان کے ٹھیکے دار۔۔۔
    جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس جگہ ان لوگوں کو برادشت ہی نئی کرنا چاہتے جو وہاں فقط رضائے الٰہی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس قوم کو ان کا نظریہ دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
    اس موقع پہ ایک شعر یاد آیا

    مغربی تہذیب نے جادو کچھ ایسا کر دیا

    ماں تو پردے میں رہی بیٹی کو ننگا کر دیا

    ایک ثانئے رکیں اور سوچیں

    کیا دیا ہمیں ان چیزوں نے ؟؟؟

    رسوائی، ذلالت۔۔۔
    دنیا میں محکومیت۔۔۔
    یہاں تک کہ آج ہم اپنے حق کی خاطر بھی لڑنے سے پہلے دنیا کی طرف دیکھتے ہیں کہ مائی لارڈ اقوام متحدہ غصہ نہ کر جائے وہ کیا سمجھیں گے کے آپ تو سیکولر تھے، آپ تو لبرل تھے صاحب آپ کن چکروں میں پڑ گئے؟؟؟
    ہم نے ان سب نعروں کی چمک میں جو چیز کھوئی وہ اپنی اصل تھی۔
    زندگی کا ہر شعبہ ہماری ثقافت سے جڑا ہوا ہے جیسے روح اور جسم کا ساتھ آج ہم اس لیے مجموعی طور پہ زوال کا شکار ہیں۔
    ہماری ثقافت سے ہی ہماری اقدار و روایات جڑی ہوئی ہیں افسوس صد افسوس…!!
    کہ لوگوں نے ناچ گانے کو ہی ثقافت سمجھ لیا اسی کو فروغ دے کے وہ مغربی تہذیب کا حصہ بننے میں فخر محسوس کررہے ہیں اگر ہماری ثقافت ہمارے پاس ہوتی تو ہم یوں اقوام عالم میں ذلیل نہ ہوتے
    اگر کوئی ایسے نظام کے خلاف دو بول بول دے تو ان کی کیسے کیسے جڑیں ہلانے کی کوششیں کی گئیں۔
    سامنے ہے محمد مرسی رحمۃ اللّٰہ علیہ فوجی بغاوت کروا کے کہاں کا کہاں پہنچا دیا گیا۔
    اور دوسری مثال ترکی وہ تو شکر یہ کے وہ قوم اپنی قیادت سے مطمئن تھی اور نظریے پہ کھڑی تھی سو بچ گئے۔
    اور پاکستان میں چند لوگ جنہوں نے یہ باتیں کیں یا تو ان پہ زبان بندی، پابندی، یا وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

    عزیزو!!
    اب یہ تحریر پڑھ کے کچھ لوگ فنڈامنٹلسٹ، بنیاد پرست جذباتی اور پتہ نئی کیا کیا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کریں گے مگر اس کےالفاظ میں چھپا درد کاش ہر دل کا در کھٹکٹا کے دکھا سکتا اور سمجھا سکتا کے ہم کون تھے۔۔؟؟
    کیا تھے۔۔۔؟؟ ہمیں کہاں ہونا چاہیے…؟؟
    اور آج ہم کہاں ہیں۔۔۔؟؟
    اور کس وجہ سے ہیں…؟؟

  • وزیراعظم آزاد کشمیر کی قیادت میں لندن میں ہو گا کشمیر فری مارچ

    وزیراعظم آزاد کشمیر کی قیادت میں لندن میں ہو گا کشمیر فری مارچ

    ساؤتھ آل لندن ویسٹرن ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس زیر صدارت راجہ شکیل حیدر منعقد ہوا۔ جس میں بروز منگل 3 ، ستمبرلندن میں ہونے والے تاریخی کشمیر مارچ کو حتمی شکل دی گئی جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس تاریخی “ کشمیر فری مارچ “ کا آغاز پارلیمنٹ سکوائیر لندن سے ہو گا اور یہ مارچ لندن کی مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا انڈین ہائی کمشن آل ڈچ پر اختتام پذیر ہوگا ،کشمیرفری مارچ کی قیادت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کریں گے۔ مارچ میں مقبوضہ کشمیر کے رہنماوں کے علاوہ پاکستان اور کشمیری سیاسی پارٹیوں کے مرکزی قائدین بھی شامل ہوں گے اس کشمیر فری مارچ کی آواز دنیا بھر کے ایوانوں تک جائے گی ۔

    راجہ شکیل حیدر نے کہا کہ بھارت اپنی دہشت گرد فوج کی مددسے نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ، کشمیری اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں جن کے پاس خوراک اور ادویات ختم ہو چکی ہیں ۔کشمیری مسلمان مساجد تک نہیں جا سکتے اس وقت عالمی طاقتوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو جھنجھوڑ نے کی ضرورت ہے ۔

    اجلاس میں چوہدری طارق، بوبی کشمیری، چوہدری مظہر ، راجہ سکندر ، چوہدری سعید ،اقبال منور سندھو ،شمع احرام، حنا ءملک ،راجہ قیوم ،شیخ سربلند ، گوگی پہلوان ،کونسلر وحید اکبر، کونسلر راجہ اسلم اور کونسلر سرفراز حسین شریک ہوئے۔ میٹنگ میں کشمیر فری مارچ کے شرکاءسے اپیل کی گئی کہ وہ صرف اور صرف کشمیری اور سیاہ جھنڈوں کے ساتھ شریک ہوں ۔ کشمیرفری مارچ کے اختتام پر کشمیر کی آزادی کیلئے اجتماعی دعا کی جائے گی۔

  • کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کا چارج سنبھال لیا

    کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کا چارج سنبھال لیا

    حکومتِ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کا چارج سنبھال لیاہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 24 اگست کوپنجاب حکومت کے نوٹیفیکیشن کے تحت کیپٹن (ر) محمد عثمان کو سیکرٹری ہیلتھ تعینات کیا گیا تھا۔کیپٹن (ر) محمد عثمان نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کا چارج سنبھالتے ہوئے مختلف ونگز کے سربراہان سے ملاقات کی ہے۔ ونگز سربراہان نے سیکرٹری ہیلتھ کو محکمانہ معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

    یاد رہے کہ کیپٹن (ر) محمد عثمان ستائیسویں کامن کے پی اے ایس آفیسر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صحت کا محکمہ انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں صحت کی معیاری سہولیات کی یقینی فراہمی واحدمشن ہے۔ محکمہ کی تمام ترجیحات کا جائزہ لے کر عوامی مسائل کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا.

    سیکرٹری پرائمر ی اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیپٹن(ر) محمد عثمان نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی تمام ونگزسربراہان سے ملاقات کی۔ادارے کی پالیسی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی.

    سیکرٹری پرائمر ی اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے اجلاس میں پولیو پروگرام کے اگلے مرحلے کی تیاری کے آغاز کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔پراچیکٹ ڈائریکٹر پولیو پروگرام نے سیکرٹری ہیلتھ کو پولیو کے اگلے مرحلے کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ کے دوران تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔کیپٹن (ر) محمد عثمان نے پولیو پروگرام کو بہتر طریقے سے چلانے میں ہیلتھ ورکرزکے کردار کی تعریف کی۔انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ترقی کے حوالے سے پرپوز ل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیو پروگرام سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز صحت کے حوالے سے بہت سے اہم فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

    سیکرٹری پرائمر ی اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے پولیو پروگرام کا اگلا مرحلہ شروع ہونے سے قبل ہی تمام تیاریاں مکمل کرنے اورپنجاب کو پولیو فری بنانے کیلئے تمام تر انرجی بروئے کار لانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارے کی بہتر کارکردگی کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے

  • وزیراعظم سے چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم عمران خان سے جاوید آفریدی کی سربراہی میں شندونگ شہر سے تعلق رکھنے والی معروف چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے وفد نے گورنر ہاوس لاہور میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے معیشت کے مختلف شعبوں خصوصاً گولڈن ٹرائینگل (گجرات، گوجرانوالا اور سیالکوٹ) میں واقع صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا.

    کرتارپورراہداری کا ہر صورت افتتاح کیا جائے گا، وزیر مذہبی امور

    انٹرنیشنل سکھ کنونشن کا آغاز، سکھ برادری پاکستان کا امن پسند چہرہ دنیا کو دکھائے،فردوس عاشق

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صنعتی ترقی کے فروغ کے لئے زونز کے قیام، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، سیوریج کے مسائل، خلاف ضابطہ تعمیرات اور متعلقہ مسائل کے حل کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں لاہور کے موجودہ ماسٹر پلان میں صنعتوں کے خلاف ضابطہ پھیلاو کے حوالے سے کچھ سقم تھے جن کو نئے ماسٹر پلان میں مناسب ادراک اور مربوط ضابطہ کار کے تحت نئے سرے سے جائزہ لے کر ضابطہ کار کے تحت لایا جائے گا۔

    کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف پاکستانی قوم سڑکوں پر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    مودی نے آخری پتہ کھیل لیا، اب کشمیر آزاد ہو گا، پاک فوج تیار،وزیراعظم عمران خان

    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق نئے صنعتی زونز اور گرین ایریا ز کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرزکی مشاورت سے ایک جامع اور قابل عمل ایکشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور موجودہ ماسٹر پلان میں ترامیم پر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام ہو رہا ہے۔

    پاکستان کبھی بھی کسی بھی طرف سے پہل نہیں کرے گا،وزیراعظم، سکھوں کو سنائی خوشخبری

    کمشنر لاہور نے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم، درختوں میں اضافے کے حوالے سے، اوقاف کی زمینوں کی نشاندہی کے حوالے سے پیشرفت، اور سول سوسائٹی میں آگاہی مہم کے حوالے سے اقدامات اور مستقبل کے لائح عمل پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی

  • سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

    پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

    یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

    مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

    یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

    یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

    جگر کی صفائی
    ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

    جسمانی ورم کم کرے
    ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

    بیکٹریا سے لڑتا ہے
    اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

    کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے
    ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    جسمانی چربی گھلائے
    ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

    دل کو صحت مند بنائے
    ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    دماغ کے لیے بھی بہترین
    ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

    مضبوط مدافعتی نظام
    ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

    ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
    ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

    بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے
    ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

    اچھی نیند میں مددگار
    اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

  • سابق بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پر برس پڑے

    سابق بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پر برس پڑے

    نئی دہلی (اے پی پی) سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، ان کی غلط پالیسیوں کے باعث ملکی معاشی صورتحال بہت خراب ہے.

    تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق وزیراعظم اور اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، ماضی قریب میں تیزی سے ترقی کرتی بھارتی معیشت نریندر مودی کی غلط پالیسیوں اور اقتصادی بدانتظامی کے باعث بہت خراب ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک بیان میں کیا۔ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سہ ماہی کے دوران ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5 فیصد رہی حکومت اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انتقامی سیاست کے بجائے اقتصادی ماہرین اور دانشوروں کی مشاورت سے اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں روزگار کا بحران ہے، حکومتی غلط پالیسیسوں سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، صرف آٹو موبائل سیکٹر سے ساڑھے تین لاکھ افراد کو نکال دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پیداواری شعبے کی شرح نمو صرف 0.6 فیصد، گھریلو سطح پر اشیاء کی طلب کم ہوکر 18 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی جبکہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 15 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ ٹیکس کے سلسلے میں تاجروں سے زبردستی ہورہی ہے جبکہ ٹیکس وصولی کی شرح بھی انتہائی کم ہے، کاشتکاروں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا جس سے ان کی آمدنی کم ہوئی ہے۔

  • ہانگ کانگ میں کتنے طالب علم احتجاج میں شریک ہوئے؟ خبر آ گئی

    ہانگ کانگ میں کتنے طالب علم احتجاج میں شریک ہوئے؟ خبر آ گئی

    ہانگ کانگ کے اسکولوں کے ایک ہزار سے زائد طلباء ریلی میں شریک ہوئے ۔
    ہانگ کانگ: ہزاروں شہریوں کا پولیس کے بدترین تشدد کیخلاف احتجاج
    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 16سالہ پرل وونگ نے بتایا کہ میں آج کے لئے ہوم ورک چھوڑ سکتا ہوں ، لیکن اگر میں ہانگ کانگ سے ہار گیا تو میرے لئے کیا بچا ہے؟یہی وجہ ہے کہ میرے لئے جمہوریت کی حمایت میں آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    اسٹیج پر ، چینی زبان میں ایک سیاہ بینر آویزاں تھا جس پر تحریر تھی،”مستقبل کے بغیر ، اسکول جانے کی زحمت کیوں؟“
    15
    سالہ تھامس سانگ کے بقول ، "ہانگ کانگ اب بھی آزاد ہے ، لیکن اگر میں اب اپنی آزادیوں کے لئے کھڑا نہیں ہوا تو مجھے اس سے کسی دن افسوس ہوسکتا ہے۔ پھر بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ ”

    گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد پیر کے روز یونیورسٹیاں کلاسوں کا دوبارہ آغاز ہونا تھا ، لیکن طلباءجو کہ احتجاجی تحریک کے روح رواں رہے ہیں ، دو ہفتوں کے بائیکاٹ کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں چین کے خلاف احتجاج کا سلسلہ کئی ماہ سے مسلسل جاری ہے۔