Baaghi TV

Author: +9251

  • پنجاب بھرسے نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی 30 ہزارکتابیں ضبط کر لی گئیں

    پنجاب بھرسے نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی 30 ہزارکتابیں ضبط کر لی گئیں

    درسی نصاب میں ردوبدل پرحکومتی اتحادی جماعت کااحتجاج رنگ لےآیا، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈنےنویں جماعت کی کتاب مطالعہ پاکستان ضبط کرناشروع کردی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مطالعہ پاکستان کی کتاب ختم نبوت کےمضمون میں ردوبدل کرکےشائع کی گئی تھی، نصاب میں قابل اعتراض ردوبدل پرچوہدری شجاعت حسین نےآوازبلندکی تھی، تعلیمی حلقوں‌ کا کہنا ہےکہ ٹیکسٹ بک بورڈکی افسرشاہی کتابوں کامواد چیک کرنابھی گوارانہیں کرتی، کسی درسی کتاب کی اشاعت کےبعداسےچیک کرنابھی ٹیکسٹ بک بورڈکی ذمہ داری ہے.

    ترجمان ٹیکسٹ بک بورڈ نے کہا ہے کہ پنجاب بھرسے30ہزارسےزائدکتابیں ضبط کی جاچکی ہیں، ترجمان کا کہنا ہے کہ پبلشرنے منظورشدہ مسودہ سےہٹ کرکتاب شائع کی، نظورشدہ مسودہ میں کوئی ردوبدل یاتحریف نہیں کی گئی تھی.

  • صادق سنجرانی استعفیٰ دے دیں،بلاول استعفیٰ نہیں‌دوں گا ،صادق سنجرانی

    صادق سنجرانی استعفیٰ دے دیں،بلاول استعفیٰ نہیں‌دوں گا ،صادق سنجرانی

    اسلام آباد:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تنازعات سے بچنے کے لیے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کو متفقہ اپوزیشن لائی تھی لیکن اب حالات مختلف ہیں اور وقت کا تقاضا یہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپیکر فوری طور پر قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے فیصلہ واپس لیں۔دوسری طرف چیئر مین سینٹ نے بلاول بھٹو کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کروں گا

    منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ملک چلانا کرکٹ میچ کھیلنا نہیں ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ پارلیمان کو تالہ لگانا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ کمزور سے کمزور جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ موجودہ فاشسٹ حکومت آمروں سے بھی آگے نکل گئی ہے لیکن ہم عوام کے حقوق کے لیے ہر محاذ پر لڑیں گے۔دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی یہ آخری چال بھی ناکام ہوجائےگی اور امید ہے کہ صادق سنجرانی ہی چیئر مین سینٹ رہیں‌گے

  • اب اسلام آباد کی ہو گی سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے مانیٹرنگ، سی ڈی اے اور سپارکو کے مابین معاہدہ

    اب اسلام آباد کی ہو گی سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے مانیٹرنگ، سی ڈی اے اور سپارکو کے مابین معاہدہ

    سی ڈی اے اور سپارکو کے درمیان منگل کے روز سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میں ایک مفا ہمتی یا داشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت اسلام آباد شہر کے مختلف حصوں کی سٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے ذریعے ما نیٹرنگ کی جا سکے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مفا ہمتی یا داشت پر چیئر مین سی ڈی اے عا مر علی احمد اور چیئر مین سپا رکو نے دستخط کئے۔اس موقع پر سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ کے سینئر افسران اور سپارکو کے ما ہرین و افسران بھی موجود تھے۔ اس مفا ہمتی یا داشت کے تحت سپا رکو سی ڈی اے کو اسلام آباد کی شہری آبادی کے پھیلاؤ، کچی آبا دیوں کی نشا ندہی، سر کاری ارا ضی پر ہونے وا لی تجا وزات کی موئثر ما نیٹرنگ کے لئے مدد فراہم کرے گا اور جدید ٹیکنا لوجی سے سی ڈی اے شہر کی بے ترتیب ہونے والی آ بادی کو کم وقت میں ما نیٹر کر سکے گا۔ اس مفا ہمتی یا داشت سے اسلام آبادکے گرین کریکٹر کے فروغ کے ساتھ ساتھ تحفظ میں مزید بہتری آئے گی۔

    سپا رکوکی طرف سے دی جانے والی سٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے با عث سی ڈی اے کو زمین استعمال میں لانے کے لئے کئے جا نے وا لے اقدا مات میں بھی مدد ملے گی۔ ابتدائی طور اس ٹیکنا لوجی سے سہ ما ہی بنیا دوں پر استفادہ کیا جائے گاتا ہم بعد ازاں نہ صرف براہ راست بلکہ روزانہ کی بنیا دوں پر ما نیٹرنگ کی جائے گی۔ مزید برآں سپار کو اس ضمن میں سی ڈی اے کی استعداد کار کو بڑھانے میں بھی مدد کرے گا۔ اس مفا ہمتی یا داشت کے تحت اسلام آباد کے مختلف علا قوں کی موئثر ما نیٹرنگ کے لئے با قا عدہ فریم ورک اور روڈ میپ تیار کیا جائے گا تا کہ اس ٹیکنا لوجی سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے۔ اس مفا ہمتی یا داشت پر عملدرآمد کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی جا ئے گی جس میں سی ڈی اے اور سپا رکو کے دو دو افسران شا مل ہوں گے۔ یہ کمیٹی اس ٹیکنا لوجی کے باعث ہونے والی موئثر ما نیٹرنگ اور مشترکہ مینجمنٹ کے کام کو دیکھے گی۔

    چئیر مین سی ڈی اے عا مر علی احمد نے سپا رکو کی طرف سے کی جانے وا لی کا وشوں کو سرا ہتے ہوئے کہا کہ سپارکو سی ڈی اے کو مختلف ایریاز میں تکنیکی معا ونت فراہم کر رہا ہے اس سے کامیاب نتا ئج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپارکو کے تعا ون سے سی ڈی اے میں جی آئی ایس (GIS)لیب کا قیام دونوں اداروں کے درمیان تعا ون کی بہترین مثا ل ہے۔ چیئر مین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کی آبادی میں روز افزوں اضا فہ ہوتا جا رہا ہے اور ٹیکنا لوجی کے بغیر تمام آبادی کی موئثر ما نیٹرنگ ممکن نہیں ہے اس لئے جدید ٹیکنا لوجی سے ما نیٹرنگ کرنا وقت کی اہم ضروت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ سیٹلائیٹ ٹیکنا لوجی کے استعمال کی مفا ہمتی یا داشت سے اسلام آباد کی بے ہنگم آبادی کو کنٹرول کرنے کے علا وہ سر کاری ارا ضی پر ہونے وا لی تجا وزات با لخصوص اسلام آباد کے گرین کریکٹر کو حقیقی معنوں میں تحفظ دینے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر سپا رکو کے چیئر مین نے کہا کہ سپا رکو سی ڈی اے کے ساتھ عوا می دلچسپی کے شعبوں میں تعا ون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفا ہمتی یا داشت ملک کے دیگر شہروں کے لئے رول ما ڈل کی حیثیت رکھے گا۔
    محمد اویس

  • مجھے احتساب عدالت میں پیش ہونا چاہیے یا نہیں؟ مریم نواز نے مانگی عوام سے رائے

    مجھے احتساب عدالت میں پیش ہونا چاہیے یا نہیں؟ مریم نواز نے مانگی عوام سے رائے

    پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ میری پریس کانفرنس میں تمام سازشیں بے نقاب ہونے کے بعد گھبراہٹ میں حکومت نے میرے خلاف ایک اور مقدمہ قائم کردیا ۔


    باٹی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ میں عوام سے پوچھتی ہوں کہ میرے سوالات کے جواب ملنے کی بجائے کیا مجھےاس NAB میں پیش ہونا چاہیئے جو آڈیو/ویڈیو کے زریعے یرغمال ہو؟


    انہوں نے لکھا ہے کہ آپ سے مشورہ چاہتی ہوں کہ مجھے ایک ثابت شدہ انتقام کے سامنے پیش ہونے کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے یا پیش ہو کر NAB عدالت میں کھڑے ہو کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینا چاہئے ؟ بلانا ہے تو اپنے رسک پر بلانا! میری باتیں نا سن سکو گے نہ سہ سکو گے! یہ نا ہو کہ پھر سر پیٹتے رہ جاؤ!

    واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر مریم نواز کو احتساب عدالت نے نوٹس جاری کر دیا گیا۔ احتساب عدالت نے مریم نواز کو 19 جولائی کو طلب کرلیا۔ نیب نے مریم نواز کیخلاف جعلی دستاویزات پر ٹرائل کیلئے درخواست دی۔ نیب کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوئی۔
    واضح رہے کہ 5 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 برس قید بامشقت، مریم نواز کو 7 برس قید جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ مریم نواز کو پارٹی میں عہدہ ملنے پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی نے دارخوست دائر کر رکھی ہے

  • پی آئی اے ایئر ہوسٹس ایک وقت میں کتنی سرکاری نوکریاں‌ کر رہی ہے؟ اہم خبر

    پی آئی اے ایئر ہوسٹس ایک وقت میں کتنی سرکاری نوکریاں‌ کر رہی ہے؟ اہم خبر

    پی آئی اے میں خاتون فضائی میزبان نے لوٹ مارمچادی، فضائی میزبان ناہید چنا نے سیاسی سفارش پر2 سرکاری ملازمتیں حاصل کرلیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ناہید چنا اندرون سندھ سیکنڈری اسکول میں سرکاری ٹیچربھی ہیں، محکمہ تعلیم نے2014میں ایچ ایس ٹی ٹیچرگریڈ15کی ملازمت دی، پی آئی اےمیں ناہیدچناپرسنل اسٹاف نمبر 65846 پر بطور ایئرہوسٹس ملازمت کررہی ہیں،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ ناہیدچنا کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یہ کہ محکمانہ کارروائی کےساتھ ملازمت سے بھی فارغ کیا جائے گا،

  • کرائے کے بجلی گھروں‌ کو 10 سال میں 955 ارب کی اضافی ادائیگیاں‌ کی گئیں، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

    کرائے کے بجلی گھروں‌ کو 10 سال میں 955 ارب کی اضافی ادائیگیاں‌ کی گئیں، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

    ک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کی ذیلی کمیٹی نے کنوینرنعمان وزیرنے انکشاف کیا ہے کہ آئی پی پیز کامعاملہ کمیٹی میں اٹھانے پر مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن میں‌ دھمکیوں سے نہیں ڈرتا پاکستان کے لیے یہ کام کروں گا،کمیٹی ارکان نے کہناتھاکہ کرائے کے بجلی گھرجتنا ناجائزمنافع کمارہے ہیں اتنا تو منشیات فروش نہیں کماتے ہیں، 2ہزار ارب اضافی ادائیگیاں ہوئی ہیں ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نعمان وزیرنے کہا کہ آئی پی پیز والے ملک کولوٹ رہے ہیں،دس سال میں40آئی پی پیز(تھرمل) کو955.7ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں، 31فیصد تک منافع دیاجارہاہے ،کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ آئی پی پیز کو 955.7ارب روپے واپس کرنے ہوں گے اگرکوئی واپس نہیں کرے گااس کونیشنلائز کیاجائے گا۔وزارت توانائی اورنیپراکو17سولات پر مشتمل سوال نامہ دے دیاگیا ہے اور 15جولائی تک جواب دینے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے چیف ایگزیکٹو نشاط چونیا پاور پلانٹ کواگلے اجلاس میں بلانے کافیصلہ کرلیاکہ وہ کمیٹی کوبتائیں کہ 3ارب سے کس طرح انہوں نے 18ارب روپے کمائے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں وزارت توانائی کے سیکرٹریز کی عدم شرکت پر ارکان نے شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کومعاملے سے آگاہ کرنے کافیصلہ کیاکہ وہ متعلقہ حکام کوخط لکھیں۔

    منگل کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر نعمان وزیرکی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس میںسینیٹر آغا شاہ زیب درانی اورسینیٹر محمد اکرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت توانائی کے نہ ہی وزیراور نہ ہی کسی سیکرٹری نے شرکت کی ۔ چیرمین نیپرا بہادرشاہ اور نیپرا کے دیگر حکام نے شرکت کی.وزیر اور سیکرٹری کی عدم شرکت پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کوتوانائی کی وجہ سے معاشی بحران کاسامناہے مگر وزارت کے حکام کی سنجیدگی کایہ عالم ہے کہ کوئی ایک بھی موجود نہیں ہے ارکان کی مشاورت کے بعد کنوئینرکمیٹی نعمان وزیرنے حکام کی عدم شرکت پرچیرمین سینیٹ کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا. تاکہ وہ متعلقہ حکام کو خط لکھیں۔

    کنوئینرنعمان وزیرنے کہاکہ اربوں روپے کا کا گردشی قرض بجلی کی وجہ سے ہے اور یہ مزید بڑے گا. بجلی کے پلانٹ چلے یانہ چلے ان کو پیسے ادا کرنے ہیںگردشی قرض دفاعی بجٹ سے بڑھ گیاہے اور ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہم ان آئی پی پیز کو ادا کررہے ہیں۔آئی پی پیز کو نیپرا دفاع کررہی ہے اس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے. نیپرا کو صحیح کام کرنا چاہیے انہوں نے سرکاری حکام کوانتباہ کیاکہ اگرکوئی کمیٹی کے سامنے غلط معلومات دے گا اس کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گاآئی پی پیزوالے پاکستان کی معاشی قتل کررہاہے 25روپے یونٹ میں کارخانہ کیا چیز بنائے گا۔

    حکومت نے کرائے کے 40بجلی گھروں کو دس سالوں میں 955ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئی ہے ۔ نعمان وزیر نے ایس ای سی پی اور نیپرا کے دستاویزات سے ایک بریفنگ بھی دی جس میں انہوں نے 8کرائے کے بجلی گھروں کے معائدوں ان کوہونے والی ادائیگیوں کاتفصیلی چارٹ نیپرا حکام کے سامنے رکھا۔کہ کس طرح آئی پی پیز کواضافی ادائیگیاں کی گئیں ۔تفصیلی بریفنگ دیکھ کر سرکاری حکام کے طوطے اڑگئے ۔دس سال میں آئی پی پیز کو 955ارب اضافی ادائیگی کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے 8آئی پی پیز کولیاہے اور ان کوڈیٹا آپ کے سامنے رکھ رہاہوں صرف ان8 آئی پی پیز کو102.7ارب روپے اضافی اداکئے گئے ہیں ۔2013سے 2018 کا ڈیٹے کے مطابق نشات پاورپلانٹ نے 3.5ارب روپے سرمایہ کاری کی 15%کمائے کا معائدہ کیا ان کو 3.717ارب ادا کئے جانے تھے،
    محمد اویس

  • فیصل آباد، اشیائے ضروریہ کے سرکاری طور پر مقررکردہ نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت

    فیصل آباد، ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی اشیائے ضروریہ کے سرکاری طور پر مقررکردہ نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کرایاجائے گا اس ضمن میں قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کے منفی رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے گی لہذا دکاندار صارفین سے طے شدہ قیمتیں ہی وصول کریں بصورت دیگر ناجائز منافع خوروں کو قانون شکنی پر سزا بھگتنا پڑے گی۔یہ بات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)طارق خاں نیازی نے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اسسٹنٹ کمشنرز شمائلہ منظور،نازیہ موہل،خرم شہزادبھٹی،فیصل سلطان،ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی مقدس رانی،ایکسٹرااسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی مارکیٹنگ عبدالرحمن،ڈی او انڈسٹریز خالد محمود،سیکرٹری مارکیٹ کمیٹیز،لائیوسٹاک،خوراک اور دیگر محکموں کے افسران کے علاوہ تاجر تنظیموں کے نمائندے راؤہاشم،شاہد ممتاز باجوہ اور صارفین کے نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران مختلف اشیائے ضروریہ کی موجودہ بازاری قیمتوں اور ان کی دستیابی کے نرخوں کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا گیا اور صدر اجلاس نے کہا کہ تھوک وپرچون فروشوں،دکانداروں وتاجروں اور صارفین کی مشاورت سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس کی خلاف ورزی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے دکانداروں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ تعاون کریں تاکہ کارروائی کی نوبت نہ آئے۔

  • فیصل آباد، گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کا قانون لانے کا اعلان

    فیصل آباد، صوبائی وزیر محنت وانسانی وسائل انصر مجید خاں نے کہا ہے کہ گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کا قانون موجود ہ پنجاب حکومت کا انقلابی قدم ہے جس کی بدولت نہ صرف گھروں میں کام کرنے والے کارکنوں کو سماجی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ گھروں کے مالکان کو تصدیق شدہ/ رجسٹرڈ افراد کو ملازم رکھنے میں آسانی و سہولت ہوگی۔انہوں یہ بات گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو جڑانوالہ روڈ پر ایک بینکوئٹ ہال میں منعقد ہوئی۔صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے لیبر شکیل شاہد،ارکان صوبائی اسمبلی لطیف نذر،میاں وارث عزیز،کمشنر سوشل سیکورٹی ثاقب منان،ڈویژنل کمشنر محمود جاویدبھٹی،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(فنانس)عاصمہ اعجاز چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر(جنرل)مصور نیازی،ایس پی طارق سکھیرا،صدر چیمبر آف کامرس سید ضیاء علمدار حسین،ڈائریکٹرز سوشل سیکورٹی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ محمد حسان،سردارشہزاد،احسان الحق،ڈائریکٹر لیبر ملک منور اعوان ودیگر افسران کے علاوہ مزدور رہنما بابا لطیف انصاری،محمد اسلم وفا ودیگر نمائندے اور مزدوروں و گھریلو ملازمین مرد و خواتین کی کثیر تعداد تقریب میں موجود تھی۔صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل نے کہا کہ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا قانون وزیر اعظم عمران خان کی غریب پروری اور کارکنوں کی فلاح وبہبود کے ویژن کی تکمیل ہے جسے ابتدائی طور پر فیصل آباد،لاہور،راولپنڈی اورملتان کے اضلاع سے شروع کیا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں اسکا دائرہ پورے صوبہ پنجاب تک پھیل جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ اس قانون کی بدولت گھریلو ملازمین کو دیگر ورکرز کی طرح صحت عامہ سمیت دیگرجملہ مراعات حاصل ہوں گی کیونکہ قبل ازیں یہ ورکرزگھروں کی چار دیواریوں کے اندر اپنی خواہشات کو دبا کر زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے اب انہیں بھی سماجی حقوق حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا یہ سفر جاری رہے گا اور انہیں تعلیمی سہولیات کے علاوہ ان کی صحت کی سکریننگ اور مختلف متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔انہوں نے صنعتکاروں،تاجروں،کاروباری افراد سے کہا کہ وہ اس قانون پر عملدرآمد کے لئے تعاون کریں اور شہری گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن ضرور کرائیں تاکہ آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں موجودہ حکومت مزدوروں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں آسودہ زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ ان ورکرز کے خون پسینے کی محنت سے ملک میں معیشت کا پہیہ چلتا ہے جنہیں کسی صورت نظر اندا زنہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لئے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں مزید اصلاحات لائیں گے جبکہ قانون سازی کے ذریعے کم سے کم اجرت کی ادائیگی کویقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی امور کو جدت سے ہمکنار کیاجائے گا تاکہ شفافیت اور اعلیٰ نظم ونسق کو برقرار رکھا جاسکے۔انہوں نے یقین دلایا کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد کویقینی بنائیں گے۔صوبائی وزیر محنت نے میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کی بدولت ملازمین پر تشدد کے واقعات پرقابو پایاجاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمین پر تشددیا چائلڈ لیبر کو برداشت نہیں کیا جاسکتا اس سلسلے میں ظلم و زیادتی کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔کمشنر سوشل سیکورٹی ثاقب منان نے گھریلوملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کے نمایاں پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس قانون کا اطلاق انتہائی سادہ اور آسان بنایا گیا ہے اورگھریلو ملازمین کی موبائل اپلیکیشن کے ذریعے رجسٹریشن کرائی جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق پنجاب میں پونے سات لاکھ گھریلو ملازمین کام کررہے ہیں جنکی رجسٹریشن سے انہیں سماجی تحفظ حاصل ہوگا جنہیں قانون کے تحت ماہانہ تنخواہ،اوقات کار،چھٹیوں کا حق حاصل ہوگا اور آجرواجیر کے مابین تنازعات حل ہوسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 1217گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے اور تیزی سے عملدرآمد کے نتیجہ میں آئندہ ماہ کے اندر یہ تعداد 50ہزارہوجائیگی۔انہوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں بتایا کہ اس قانون پر موثر انداز میں عملدرآمد کے لئے صوبائی ٹاسک فورس کام کرے گی جبکہ دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔صوبائی پارلیمانی سیکرٹری شکیل شاہد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خاں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مزدورں کی زندگی میں خوشحالی لانے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ یہی طبقہ معاشی وسماجی تبدیلی کے لئے انقلابی کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل کسی حکومت کو گھریلو کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کا خیال نہیں آیا۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا کہ مہذب معاشرے میں جبری مشقت کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کارکنوں کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد سے سماجی ترقی کی رفتاربہتر ہوگی۔انہوں نے بچوں کی تعلیم وتربیت اور بہترین پرورش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہبود آبادی کے پروگرام پر عمل کرکے بچوں کا مستقبل روشن بنایا جاسکتا ہے۔این جی او”پتن“کی نمائندہ پروین لطیف انصاری نے گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کے قانون کے نفاذ اور عملدرآمد کوقابل تحسین قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں آگاہی مہم کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے۔اس موقع پر گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے لئے خصوصی کیمپ لگایا گیا تھا جس پر ان کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی دی گئی۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • فیصل آباد ٹیکسٹائل پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، چیئرمین ایف بی آر

    فیصل آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، برآمدات کو پہلے بھی استثنیٰ تھا آج بھی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ زیرو ریٹنگ کی مراعات پہلی مرتبہ ختم نہیں ہوئیں۔ آج جو ٹیکسٹائل سیکٹر کی صورتحال ہے اس کے مدنظر فیصلہ کیا گیا، یہاں آنے کا مقصد ہے کہ زیرو ریٹنگ مراعات کے خاتمے پر بات کی جائے۔
    شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہوئی، جو بھی بہتر حل نکلے گا اس کی طرف جائیں گے۔ آگے بڑھنا ہے اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں، نیا ایف بی آر ان ہی افراد سے بنے گا جو آج موجود ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی شکایت ہے ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے، ایف بی آر والے کہتے ہیں ہم جائز ٹیکس کے لیے بات کرتے ہیں۔ جو بھی ہراساں کرنے میں ملوث ہوگا اسے ادارے میں نہیں رہنا چاہیئے، آہستہ آہستہ آٹو میشن پر جائیں گے، انسانی عمل دخل کم کریں گے۔ آتے ہی کہا تھا کسی کا بینک اکاؤنٹ بغیر وضاحت منجمد نہیں کیا جائے گا، سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے متعلق بہت شکایات تھیں اسے آٹو میٹ کر دیا۔
    شبر زیدی کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے ابھی بھی چند کیسز زیر التوا ہیں، پہلی والی ایمنسٹی اسکیم کراچی اسلام آباد کی بنیاد پر تھی۔ موجودہ ایمنسٹی اسکیم کی پذیرائی ملک بھر میں ہوئی ہے۔ کسی قسم کا نیا ٹیکس نہیں لگایا، لگایا ہے تو بتائیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی نیا ٹیکس لگایا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہمارا کام صرف وقتی طور پر چیزوں کو ٹھیک کرنا ہے، بڑا آسان طریقہ تھا کہ سیلز ٹیکس ریٹ بڑھا دیا جاتا مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، روپے کی قدر میں کمی کے باعث مہنگائی ہوئی۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات گورنر اسٹیٹ بینک بتا سکتے ہیں۔ پاکستان کو تاریخی جاری اور تجارتی خساروں کا سامنا ہے۔

  • وزیر اعظم ستمبر،اکتوبر میں کراچی منصوبوں کا  افتتاح کریں گے، گورنر سندھ عمران اسماعیل

    وزیر اعظم ستمبر،اکتوبر میں کراچی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، گورنر سندھ عمران اسماعیل

    کراچی:گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ستمبر اور اکتوبر میں‌کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کریں گے .عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی کو منشیات فری بنایا جائے گا .جس کے لیے ایک مہم شروع کی جائے گی.اس مقصد کے لیے پولیس،رینجرز ،سی پی ایل سی اور اے این ایف مل کر کوششیں کریں گے .گورنر پنجاب نے بھی سی پی ایل سی جیسے ادارے کی قیام کی خواہش کا اظہار کیا ہے.

    عمران اسماعیل نے سندھ کو وفاق سے ملنے والی رقم کے بارے میں کہا کہ پی پی والے جھوٹ سے کام نہ لیں اگر وفاق سے پیسے نہیں مل رہے تو پھر سندھ میں ترقیاتی کام کیسے ہورہے ہیں. وزیر اعظم کراچی کو بالخصوص اور سندھ کو بالعوم ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں.

    گورنر سندھ نے کہا کہ میں کراچی کی عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام ترقیاتی منصوبے وقت پر ہی مکمل ہوں گے.گورنر سندھ نے کہا کہ عمران خان کی خواہش ہے سندھ ترقی کرے اور وہاں خوشحالی آئے.