Baaghi TV


انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 4 تارکین وطن ہلاک

‎برطانیہ پہنچنے کے لیے انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کے دوران چار غیر قانونی تارکین وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ہی روز میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے 752 افراد کی آمد نے رواں سال کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے اپنی نئی حکمت عملی پر زور دے رہی ہے۔
‎برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم اینڈی برنہم نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کا چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی آمد کو روکنے کا منصوبہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی ریکارڈ تعداد میں تارکین وطن انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچ گئے۔
‎برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز مجموعی طور پر 752 افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچے، جو جون میں ریکارڈ ہونے والے 710 افراد کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
‎اسی دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انگلش چینل کو دنیا کے خطرناک سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں خراب موسم، تیز لہریں اور غیر محفوظ کشتیاں انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی ہیں۔
‎اپوزیشن کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی چینل کراسنگ انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ ہی مزید قیمتی جانیں بچانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والوں کو یہ یقین ہو کہ انہیں رہائش، سہولیات اور پناہ کی درخواست کا موقع ملے گا تو وہ خطرناک سفر اختیار کرنے کا خطرہ مول لیتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ایسی حوصلہ شکنی ضروری ہے جس سے لوگ سمندر کے ذریعے غیر قانونی سفر سے باز رہیں۔
‎ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بحران کے انسانی پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ، غربت اور عدم استحکام سے فرار ہونے والے افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں، اس لیے مسئلے کا مستقل حل بین الاقوامی تعاون اور محفوظ قانونی ہجرت کے راستوں میں مضمر ہے۔

More posts