بسنت کے موقع پر لاہور کی مارکیٹس میں تین دن کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت ہوئیں۔
پرنگ فروش انجمن کے ترجمان کے مطابق تیسرے روز تقریباً 5 لاکھ سے زائد پتنگیں اور گڈے، اور 10 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔ مارکیٹ میں پتنگوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ڈیڑھ تاوا گڈا 650 روپے، ایک تاوا 450 روپے، اور پونا تاوا 250 روپے میں فروخت ہوا۔ دو پیس کا پنا 7 سے 8 ہزار روپے میں اور چار پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار روپے میں فروخت ہوا۔
تیسرے روز خریدو فروخت کی مالیت تقریباً 20 کروڑ روپے رہی، پہلے اور دوسرے روز بالترتیب 16 اور 18 کروڑ روپے کی خریداری ہوئی۔
Author: Aqsa Younas Rana

بسنت کے تین دنوں میں لاہور میں 54 کروڑ سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردوں کے زیر استعمال : امریکی نشریاتی ادارہ
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کے باعث دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
سی این این کے مطابق فتنہ الخوارج (FAK) اور فتنہ الہندوستان (FAH) سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی آسان دستیابی نے دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں واضح اضافہ کیا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
امریکی سرکاری نگرانی کے ادارے سیگار کے سربراہ جان سوپکو کے مطابق امریکی انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً تین لاکھ امریکی ہتھیار چھوڑے گئے تھے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے دوران یہی جدید امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور اس مسئلے نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان افغان حکام اور بین الاقوامی برادری کو متعدد بار شواہد فراہم کر چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔
لائبہ خان شادی کے بندھن میں بندھ گئی، رخصتی کی جذباتی تصاویر وائرل
پاکستانی ٹی وی کی معروف اداکارہ لائبہ خان نے حال ہی میں شادی کر کے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ شادی کے موقع پر ہونے والی رخصتی کی ایک جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں لائبہ خان کو اپنے شوہر کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں لائبہ خان اپنی والدہ سے گلے ملتی ہیں اور والدہ جذباتی ہو جاتی ہیں، جس پر لائبہ خان نے کہا: "ما ما، آپ کو پتہ ہے نہ کہ میں نہیں رونا، تو اب آپ بھی مت روئیں، سب اچھا ہوگا انشاء اللہ، یہ بندہ اچھا ہے۔” یہ لمحہ لائبہ خان اور ان کے خاندان کے جذبات کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔
لائبہ خان کے سوشل میڈیا پر چالیس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور انہوں نے شادی کی تقریب اور منگنی کی تصاویر مداحوں کے ساتھ شیئر کیں، جس سے خوشی اور جوش و خروش میں اضافہ ہوا۔
مداح اور سوشل میڈیا صارفین نے شادی کی خوشخبری پر ردعمل ظاہر کیا اور لائبہ خان اور ان کے شوہر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ یہ شادی پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں مداح ان کے نئے سفر کے لیے محبت بھرے پیغامات بھیج رہے ہیں۔
ڈاکٹر اکبر ناصر آئی جی گلگت بلتستان تعینات
گریڈ 20 کے پولیس افسر ڈاکٹر اکبر ناصر خان کو انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس گلگت بلتستان کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر اکبر ناصر خان پہلے آئی جی اسلام آباد کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔
ان کی تعیناتی کے بعد موجودہ آئی جی گلگت بلتستان افضل محمود بٹ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فیصلے سے گلگت بلتستان میں پولیس کے قیادت کے امور میں نئی سمت متوقع ہے۔
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے ساتھ 60 گھنٹے پر مشتمل پیٹرولنگ ایکسرسائز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقابلوں میں 19 دوست ممالک کی 24 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ متعدد ممالک کے عسکری مبصرین بھی مشق کا حصہ ہیں۔ بحرین، بنگلا دیش، بیلاروس اور مصر کی ٹیمیں مقابلوں میں شریک ہیں، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ اور مراکش کی ٹیمیں بھی مشق میں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 ملکی ٹیمیں جبکہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی اس بین الاقوامی مشق میں شامل ہیں۔
مشق کے دوران اعلیٰ جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور پیشہ ورانہ عسکری مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت، باہمی تعاون اور بنیادی عسکری صلاحیتوں کو نکھارنا اس مشق کا بنیادی مقصد ہے۔
تقریب کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔
ضلع کرم میں آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع کرم میں آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 30 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلی بے گھر افراد کے دوہرے پتے کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جو بے گھر افراد میزبان گھروں میں مقیم ہیں، انہیں بھی امدادی پیکیج فراہم کیا جائے گا تاکہ کوئی متاثرہ خاندان حکومتی معاونت سے محروم نہ رہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں مہذب قوموں کی طرح باہمی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر ترقی، امن اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ عوام کی بحالی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
اسپین کا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ
اسپین نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اثرات سے بچانا قرار دیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام لازمی ہوگا۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں اور دوسرے یورپی ممالک پر بھی ایسے قوانین نافذ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسپین نے سرحد پار ریگولیشن کو مربوط کرنے کے لیے پانچ دیگر ممالک کے ساتھ ‘Coalition of the Digital Willing’ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
گذشتہ سال دسمبر میں آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بنا تھا۔ اسپین کی جانب سے سوشل میڈیا ایگزیکٹوز کو غیر قانونی مواد کے لیے جوابدہ ٹھہرانے، الگورتھم میں ہیرا پھیری کو جرم قرار دینے اور عمر کی تصدیق کے مضبوط نظام کو لازمی کرنے کے لیے بھی بل پیش کیا جائے گا۔
ادھر، یونان نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی کا اعلان کرنے کے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ فرانس میں ایوان زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے، تاہم سینیٹ کی منظوری باقی ہے۔
یہ اقدامات دنیا بھر میں بچوں کی آن لائن حفاظت، ذہنی صحت اور منفی رجحانات کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔
نوشکی میں عوامی خدمت روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون
اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے کوشش کی کہ وہ نوشکی کے عوام کی خدمت نہ کر سکیں، تاہم انہیں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے متعلق بیان میں اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے بتایا کہ 31 جنوری کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی اور ان کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مقصد یہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمات انجام نہ دے سکے، مگر ان کی یہ کوشش ناکام رہی۔
ماریہ شمعون نے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں پاک فوج مسلسل ہمارے شانہ بشانہ رہی اور ہمیں بحفاظت گھروں تک پہنچایا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر نوشکی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، کور کمانڈر کوئٹہ اور آئی جی ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا خاندان ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تعاون کے معترف ہیں۔
انہوں نے نوشکی سمیت بلوچستان کے عوام کو پیغام دیا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قسم کے حالات میں عوام کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کبھی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم
قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام اہم علاقائی ممالک فعال ہو گئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ایران اور امریکا کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور عمان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطری وزیراعظم کا حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں خطے میں امن قائم کرنے اور تصادم کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام علاقائی طاقتیں خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مذاکرات مناسب ماحول میں اور خطرات سے پاک طریقے سے آگے بڑھیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ یہ مذاکرات امریکی صدر کی پیشکش کے بعد خطے کی دوست حکومتوں کی مشاورت سے شروع کیے جا رہے ہیں اور یہ مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے دائرہ کار میں ہوں گے۔
عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور قطر، ترکی اور مصر ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کریں گے۔
نیا وائرس سامنے آگیا، نیپاہ جیسی علامات اور انسانوں میں خاموشی سے پھیلنے کا خدشہ
انسانوں میں خاموشی سے پھیل رہا ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس ابتدائی طور پر نیپاہ وائرس جیسی علامات پیدا کرنے والے مریضوں میں پایا گیا، تاہم نیپاہ کے ٹیسٹ منفی آئے۔
ماہرین کے مطابق اس نئے وائرس کو طبی طور پر پٹروپائن اوریوریو وائرس (PRV) کہا گیا ہے، اور اس کی علامات نیپاہ وائرس سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بنگلہ دیش کے پانچ مریضوں میں پایا گیا، جنہوں نے حال ہی میں کھجور کے درخت سے حاصل کردہ کچا رس استعمال کیا تھا، جو نیپاہ، ریبیز اور ماربرگ جیسے وائرسز کے پھیلاؤ کا معروف ذریعہ ہے۔
مریضوں میں شدید سانس اور اعصابی علامات دیکھنے میں آئیں، جبکہ کچھ افراد میں بیماری کے مہینوں بعد بھی تھکن، سانس لینے اور چلنے میں مشکلات برقرار رہیں۔ ایک مریض کی موت بھی ہوئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ PRV وائرس کی وجہ سے ہوئی یا نہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ نیپاہ جیسی علامات والے مریضوں میں اس نئے وائرس کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر نشے مشرا نے کہا کہ کچی کھجور کے رس کے استعمال سے نیپاہ کے علاوہ دیگر خطرناک وائرسز بھی پھیل سکتے ہیں، اور اس لیے وسیع نگرانی کے نظام کی فوری ضرورت ہے۔
برطانیہ کے صحت حکام نے بھی بھارت کے مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ پھیلاؤ پر نظر رکھنے کی تصدیق کی ہے، جہاں تقریباً 200 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔









