کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار نے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں روزانہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 150 سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث خواتین، بزرگوں اور خصوصاً بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں کتوں کے غول دن اور رات کے اوقات میں آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
حال ہی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ گلی میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے والی ایک کمسن بچی پر آوارہ کتوں کے ایک غول نے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں بچی کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم آئے۔ اہل خانہ نے فوری طور پر بچی کو اسپتال منتقل کیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات کورنگی، لانڈھی اور حب چوکی کے علاقوں سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں کے بعد فوری علاج اور ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین انتہائی ضروری ہوتی ہے، کیونکہ تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دستاویزات اور طبی ریکارڈ کے مطابق رواں سال اب تک آوارہ کتوں کے حملوں کے نتیجے میں 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 40 ہزار سے زائد شہری زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں علاج کروا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے
-

موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے اور ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام گیا ہے اور اب ایسے واقعات پر متاثرہ خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موٹروے پر خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس کیس نے ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان پیدا کر دیا تھا، تاہم تمام متعلقہ اداروں نے مل کر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک شہری کی ون فائیو کال موصول ہوئی جس پر پولیس اور دیگر ادارے متحرک ہوئے۔ متاثرہ خاتون کی فراہم کردہ معلومات اور مشتبہ افراد کے حلیوں کی بنیاد پر فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے اور جدید سائنسی طریقوں سے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
فرہاد علی شاہ کے مطابق مرکزی ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے مطابقت رکھتا تھا، جس نے کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔
پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پراسکیوشن ٹیم نے دن رات محنت کر کے مضبوط شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں سائنسی شواہد، فرانزک تجزیے اور مؤثر قانونی پیروی انصاف کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جرم کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی جائے۔ ان کے مطابق اس کیس میں بھی ایک عام شہری کی بروقت اطلاع نے تحقیقات کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا اور یہی ذمہ داری معاشرے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ -

ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق
برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ انسانی جسم میں ہزاروں جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق ای سیگریٹ کا مستقل استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتا ہے جو جینز کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق متعدد سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں کینسر، دل کے امراض اور نظامِ تنفس کے مسائل شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف ویپنگ کی مقدار ہی اہم نہیں بلکہ استعمال کیے جانے والے ای سیگریٹ کی قسم اور اس میں شامل ذائقے بھی جینز پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برانڈز اور فلیورز جسم میں الگ الگ نوعیت کی تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے ہیں۔
تحقیق میں ویپنگ استعمال کرنے والوں کے ساتھ ساتھ روایتی سگریٹ نوش افراد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق پھلوں کے ذائقوں والے ای سیگریٹس تقریباً 31 فیصد متاثرہ جینز میں تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے۔ اسی طرح متعدد ذائقوں کے امتزاج والے ویپنگ مصنوعات 64.3 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے تعلق رکھتی تھیں۔
تحقیق کے مطابق میٹھے ذائقوں کا تعلق 2.9 فیصد جبکہ پودینہ یا مینتھول فلیورز کا تعلق 0.9 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف فلیورز کے صحت پر اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
سائنسدانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویپنگ ایک نسبتاً نئی ایجاد ہے، اس لیے اس کے طویل المدتی اثرات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ تاہم موجودہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ای سیگریٹس میں موجود بعض کیمیکل ایسے حیاتیاتی عوامل کو متحرک کر سکتے ہیں جو جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا اور اس کے ممکنہ صحت کے خطرات پر مزید تحقیق اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔ -

نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا
نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے صدرِ مملکت سے اپیل کی ہے کہ نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی ممکنہ رحم کی اپیل مسترد کی جائے اور عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ وہ صدرِ مملکت سے درخواست کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل قبول نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت خود بھی بیٹیوں کے والد ہیں اور انہیں اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔
شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک انصاف کے حصول کی جدوجہد میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل توجہ اور رپورٹنگ کی وجہ سے یہ مقدمہ عوام کی نظروں میں رہا۔
انہوں نے ملک بھر کی خواتین اور بچیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے سزا میں نرمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا تھا اور انہی وجوہات کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی دی گئی تھی۔
تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلے اخباری خبروں یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں بلکہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ نہ بنائے جانے کے فیصلے کو ماضی میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ معاملہ قانونی طور پر طے ہو چکا ہے۔
نور مقدم قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔ -

بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے بھرپور حمایت اور بھاری مینڈیٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ اسلام آباد جا کر گلگت بلتستان کے حقوق اور مطالبات کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں۔
غذر کے علاقے گاہکوچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھاری اکثریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کئی نشستیں چھین لی گئی تھیں، تاہم اس بار عوام پارٹی پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے غذر کو ضلع کا درجہ دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی مضبوط رہے گا۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں حق ملکیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں کے مکمل مالکانہ حقوق ملیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حق ملکیت سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قابل کاشت زمین کو عوام میں تقسیم کرنے اور مقامی لوگوں کو زمین کا مالک بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں عوامی فلاح، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے روزگار، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی متعدد وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مفت علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گلگت بلتستان کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ -

این 5 ہائی وے منصوبے کے لیے 320 ملین ڈالر قرض معاہدہ
پاکستان اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کے درمیان 320 ملین ڈالر کے قرض کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ یہ رقم ملک کے اہم این 5 ہائی وے بحالی منصوبے پر خرچ کی جائے گی، جس کا مقصد قومی شاہراہ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانا ہے۔
معاہدے پر سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احد چیمہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ این 5 ہائی وے پاکستان کی اہم ترین شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جو سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف اندرون ملک ٹرانسپورٹ رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ این 5 بحالی منصوبہ ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور مختلف صنعتی و تجارتی مراکز کے درمیان سفر اور مال برداری کو مزید آسان بنائے گا۔ اس سے کاروباری لاگت میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
احد چیمہ کے مطابق منصوبے میں جدید انجینئرنگ معیار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی ڈیزائن اختیار کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے شاہراہ کو مستقبل کے موسمی چیلنجز اور بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ این 5 منصوبہ پاکستان کے پائیدار انفراسٹرکچر وژن کا اہم حصہ ہے۔ حکومت ملک کے مواصلاتی نظام کو جدید بنانے اور قومی شاہراہوں کی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکے۔ -

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی اور سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہری فی الحال اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔ ان کے بیان نے جنگ بندی کے باوجود خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی بفر زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق فوج ان علاقوں میں تعینات رہے گی جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
اسرائیل کاٹز نے خاص طور پر بیفورٹ کیسل کے علاقے کا ذکر کیا، جو تقریباً 900 سال قدیم تاریخی قلعہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں اس مقام پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور اب اسے سیکیورٹی بفر زون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان امن کو فروغ دینا ہے۔
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے میں مختلف شرائط شامل ہیں، جن میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک سیکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، فوج اپنی پوزیشنز برقرار رکھے گی۔
دوسری جانب لبنان میں مختلف حلقے اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود زمینی کارروائیوں اور فوجی موجودگی کے اعلانات خطے میں امن کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے اس کی شرائط پر مکمل عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی پر ہوگا۔ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین پر تحمل اور مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دے رہی ہے۔ -

برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں سکیورٹی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور خلیجی خطے میں حالیہ واقعات نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر حملوں کی اطلاعات اور امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم کے جنوبی علاقوں میں کارروائیوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطہ عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی عسکری یا سیاسی کشیدگی فوری طور پر خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ مارکیٹ کے لیے کسی حد تک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید نہیں بڑھتی تو برینٹ خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑتا ہے، خصوصاً ان ممالک پر جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ -

جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کا امن اہلکار ہلاک
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ ایک حملے میں دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد اقوامِ متحدہ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی لبنان میں واقع اقوامِ متحدہ کے ایک دفتر پر مارٹر گولے گرے، جس کے نتیجے میں سربیا سے تعلق رکھنے والا ایک امن فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا اور اس کے بعد علاقے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشن نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکار کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے کی ذمہ داری کس فریق پر عائد ہوتی ہے۔ امن مشن نے نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم مکمل حقائق سامنے لانے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے، جہاں سرحدی کشیدگی اور مختلف فوجی کارروائیوں کے باعث اقوامِ متحدہ کے امن مشن کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے امن اہلکار کئی دہائیوں سے لبنان کے جنوبی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے، جنگ بندی کی نگرانی اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف امن مشن کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں بلکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے آئیں گے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ -

پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں پر تشویش، تحمل کی اپیل
پاکستان نے کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقوں سے تحمل، بردباری اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تحمل اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ امریکہ بھی خطے کی صورتحال اور امن کے قیام سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔
طاہر اندرابی نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سفارت کاری اور مذاکرات کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان موجودہ صورتحال کے باوجود مفاہمت، مذاکرات اور امن کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور متعدد ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کا حالیہ مؤقف بھی اسی پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت اسلام آباد خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔