Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • این 5 ہائی وے منصوبے کے لیے 320 ملین ڈالر قرض معاہدہ

    این 5 ہائی وے منصوبے کے لیے 320 ملین ڈالر قرض معاہدہ

    ‎پاکستان اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کے درمیان 320 ملین ڈالر کے قرض کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ یہ رقم ملک کے اہم این 5 ہائی وے بحالی منصوبے پر خرچ کی جائے گی، جس کا مقصد قومی شاہراہ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانا ہے۔
    معاہدے پر سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احد چیمہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
    ‎وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ این 5 ہائی وے پاکستان کی اہم ترین شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جو سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف اندرون ملک ٹرانسپورٹ رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ این 5 بحالی منصوبہ ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور مختلف صنعتی و تجارتی مراکز کے درمیان سفر اور مال برداری کو مزید آسان بنائے گا۔ اس سے کاروباری لاگت میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎احد چیمہ کے مطابق منصوبے میں جدید انجینئرنگ معیار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی ڈیزائن اختیار کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے شاہراہ کو مستقبل کے موسمی چیلنجز اور بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
    ‎وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ این 5 منصوبہ پاکستان کے پائیدار انفراسٹرکچر وژن کا اہم حصہ ہے۔ حکومت ملک کے مواصلاتی نظام کو جدید بنانے اور قومی شاہراہوں کی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکے۔

  • 
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

    
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

    ‎اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی اور سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہری فی الحال اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔ ان کے بیان نے جنگ بندی کے باوجود خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
    ‎جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی بفر زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق فوج ان علاقوں میں تعینات رہے گی جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
    ‎اسرائیل کاٹز نے خاص طور پر بیفورٹ کیسل کے علاقے کا ذکر کیا، جو تقریباً 900 سال قدیم تاریخی قلعہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں اس مقام پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور اب اسے سیکیورٹی بفر زون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان امن کو فروغ دینا ہے۔
    ‎جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے میں مختلف شرائط شامل ہیں، جن میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک سیکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، فوج اپنی پوزیشنز برقرار رکھے گی۔
    ‎دوسری جانب لبنان میں مختلف حلقے اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود زمینی کارروائیوں اور فوجی موجودگی کے اعلانات خطے میں امن کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے اس کی شرائط پر مکمل عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی پر ہوگا۔ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین پر تحمل اور مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دے رہی ہے۔

  • 
برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

    
برینٹ خام تیل 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

    ‎مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں سکیورٹی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران اور خلیجی خطے میں حالیہ واقعات نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر حملوں کی اطلاعات اور امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم کے جنوبی علاقوں میں کارروائیوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطہ عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی عسکری یا سیاسی کشیدگی فوری طور پر خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ مارکیٹ کے لیے کسی حد تک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید نہیں بڑھتی تو برینٹ خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑتا ہے، خصوصاً ان ممالک پر جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    ‎سرمایہ کار اور عالمی منڈیاں اب خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔

  • 
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کا امن اہلکار ہلاک

    
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کا امن اہلکار ہلاک

    ‎جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ ایک حملے میں دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد اقوامِ متحدہ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کی وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی لبنان میں واقع اقوامِ متحدہ کے ایک دفتر پر مارٹر گولے گرے، جس کے نتیجے میں سربیا سے تعلق رکھنے والا ایک امن فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
    ‎یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا اور اس کے بعد علاقے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشن نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکار کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کی ہے۔
    ‎اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے کی ذمہ داری کس فریق پر عائد ہوتی ہے۔ امن مشن نے نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم مکمل حقائق سامنے لانے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے، جہاں سرحدی کشیدگی اور مختلف فوجی کارروائیوں کے باعث اقوامِ متحدہ کے امن مشن کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
    ‎اقوامِ متحدہ کے امن اہلکار کئی دہائیوں سے لبنان کے جنوبی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے، جنگ بندی کی نگرانی اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف امن مشن کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں بلکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎عالمی برادری کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے آئیں گے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • 
پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں پر تشویش، تحمل کی اپیل

    
پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں پر تشویش، تحمل کی اپیل

    ‎پاکستان نے کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقوں سے تحمل، بردباری اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
    ‎جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تحمل اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہیں۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ امریکہ بھی خطے کی صورتحال اور امن کے قیام سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔
    ‎طاہر اندرابی نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سفارت کاری اور مذاکرات کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
    ‎دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان موجودہ صورتحال کے باوجود مفاہمت، مذاکرات اور امن کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور متعدد ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کا حالیہ مؤقف بھی اسی پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت اسلام آباد خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔

  • 
پی آئی اے کا اہم بین الاقوامی سیفٹی آڈٹ 8 جون سے شروع ہوگا

    
پی آئی اے کا اہم بین الاقوامی سیفٹی آڈٹ 8 جون سے شروع ہوگا

    ‎پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے سے قبل ایک نہایت اہم مرحلے کا سامنا ہے، جہاں قومی ایئرلائن کا بین الاقوامی آپریشنل اور سیفٹی آڈٹ 8 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ ماہرین اس آڈٹ کو پی آئی اے کے لیے ایک اہم امتحان قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے نتائج مستقبل میں ایئرلائن کی عالمی ساکھ اور نجکاری کے عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی خصوصی ٹیم سیفٹی آڈٹ کے لیے اتوار کو پاکستان پہنچے گی۔ یہ ٹیم مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور بین الاقوامی حفاظتی معیار کے مطابق ایئرلائن کی کارکردگی کا تجزیہ کرے گی۔
    ‎اس بار پی آئی اے کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا جائے گا، جسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور جامع قرار دیا جا رہا ہے۔ آڈٹ کے دوران ایئرلائن کے سیفٹی مینجمنٹ سسٹم، حفاظتی پالیسیوں، عمل درآمد کے طریقہ کار اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎آئی اے ٹی اے کی ٹیم فلائٹ آپریشنز، انجینئرنگ، گراؤنڈ ہینڈلنگ، تکنیکی شعبوں اور دیگر اہم محکموں کی جانچ پڑتال کرے گی۔ اس عمل کے ذریعے یہ تعین کیا جائے گا کہ پی آئی اے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر کس حد تک پورا اترتی ہے اور اس کی عالمی درجہ بندی کیا ہونی چاہیے۔
    ‎دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے آڈٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ سی ای او پی آئی اے نے تمام شعبہ جات کو ہائی الرٹ رہنے اور مطلوبہ دستاویزات و ریکارڈ مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    ‎انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کا ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھنے، حفاظتی پالیسیوں کے مینوئلز پر نظرثانی کرنے اور تمام ضروری دستاویزات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دینے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ آڈٹ نہ صرف پی آئی اے کی ساکھ کے لیے اہم ہے بلکہ نجکاری کے عمل میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ کامیاب آڈٹ قومی ایئرلائن کے لیے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

  • 
فاکسکان اور انٹیل کا اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے بڑا اشتراک

    
فاکسکان اور انٹیل کا اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے بڑا اشتراک

    ‎تائیوان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی فاکسکان اور امریکی چپ ساز ادارے انٹیل نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اہم شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں کمپنیاں مل کر نئی نسل کے اے آئی انفراسٹرکچر اور ذہین کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز تیار کریں گی۔
    ‎فاکسکان، جو دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کمپنی سمجھی جاتی ہے، نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ اس اشتراک کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپیوٹنگ سسٹمز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنا ہے۔
    ‎کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں انٹیل کی جدید چپ ٹیکنالوجی اور فاکسکان کی مینوفیکچرنگ، اسمبلی اور سسٹم انٹیگریشن کی مہارت کو یکجا کیا جائے گا۔ اس تعاون کے ذریعے دونوں ادارے ایسے جدید کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز تیار کرنے کی کوشش کریں گے جو اے آئی ایپلی کیشنز، ڈیٹا سینٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔
    ‎عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے باعث جدید سرورز، ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر اور طاقتور کمپیوٹنگ سسٹمز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی سے متعلق مصنوعات اور خدمات میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق فاکسکان اور انٹیل کے درمیان یہ شراکت داری عالمی اے آئی مارکیٹ میں مسابقت کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ انٹیل کو امید ہے کہ اس تعاون کے ذریعے وہ اے آئی چپس اور کمپیوٹنگ پلیٹ فارمز کے شعبے میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنا سکے گا، جبکہ فاکسکان کو جدید ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کی تیاری میں نئے کاروباری مواقع حاصل ہوں گے۔
    ‎ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہے اور اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری آنے والے برسوں میں مزید تیزی اختیار کر سکتی ہے۔ فاکسکان اور انٹیل کا نیا اشتراک اسی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

  • 
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    ‎گلگت بلتستان حکومت نے عام انتخابات کے انتظامات کے پیش نظر تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعہ اور ہفتہ کے روز صوبے بھر کے سرکاری اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
    ‎چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی عملے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق تعطیلات کے دوران انتخابی سامان کی ترسیل، پولنگ اسٹیشنز کی تیاری اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور بھی اسی عرصے میں مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب گلگت بلتستان میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، جبکہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہمات جاری ہیں۔
    ‎ادھر بعض سیاسی رہنماؤں نے انتخابات کے شفاف انعقاد پر زور دیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی رہنما حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کو مکمل طور پر غیر جانبدار، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے گی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل پرامن، شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو۔

  • 
میکسیکو نے ایرانی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ ویزے جاری کر دیے

    
میکسیکو نے ایرانی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ ویزے جاری کر دیے

    ‎فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل ایران کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شریک میزبان ملک میکسیکو نے ایرانی فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ویزے جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے بعد ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
    ‎ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق میکسیکو کے سفارت خانے نے ترکیے کے دارالحکومت انقرہ میں موجود ایرانی قومی ٹیم کے ارکان کو ویزے فراہم کیے۔ ایرانی ٹیم اس وقت ترکیے میں اپنے تربیتی کیمپ میں مصروف ہے اور ورلڈ کپ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایرانی اسکواڈ آج انتالیہ میں ایک دوستانہ میچ کھیلے گا، جس کے بعد ہفتے کے روز میکسیکو روانہ ہوگا۔ میکسیکو ورلڈ کپ کے دوران ایرانی ٹیم کا بیس کیمپ ہوگا جہاں کھلاڑی قیام اور تربیت حاصل کریں گے۔
    ‎فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کے گروپ مرحلے کے تینوں میچز امریکا میں کھیلے جائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ ویزوں اور سفری انتظامات کا معاملہ ایرانی فٹبال حکام کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باعث شائقین اور ماہرین کے درمیان خدشات پائے جا رہے تھے کہ کہیں ویزا مسائل ٹیم کی تیاریوں کو متاثر نہ کر دیں۔
    ‎تاہم میکسیکو کی جانب سے ویزوں کے اجرا نے ان تمام خدشات کو کافی حد تک دور کر دیا ہے اور اب ایرانی ٹیم مکمل توجہ کے ساتھ میگا ایونٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ فٹبال شائقین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ میں تمام ٹیموں کی بروقت شرکت کھیل کے فروغ اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔
    ‎فیفا ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا جس میں مختلف براعظموں کی بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے میدان میں اتریں گی۔ ایران بھی ایشیا کی نمایاں ٹیموں میں شمار ہوتا ہے اور اس بار بھی بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے پُرامید ہے۔

  • 
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    ‎لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں عید الاضحیٰ کے روز ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چوری کی واردات میں ملوث باپ اور بیٹے کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر گوشت مانگنے والوں کا روپ دھار کر گھروں کی ریکی کی اور موقع ملنے پر واردات انجام دی۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت جوزف مسیح عرف ساگر اور اس کے بیٹے جمشید ساگر کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کو ٹبہ گوہاوا اور بھٹہ چوک کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ ڈیفنس سی پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور شواہد کی مدد سے واردات کا سراغ لگایا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزمان عید کے روز مختلف بنگلوں کے دروازوں پر جا کر گوشت طلب کرنے کا بہانہ بناتے تھے۔ اس دوران وہ یہ معلوم کرتے کہ گھر کے مکین موجود ہیں یا نہیں۔ جن گھروں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا تھا، انہیں ممکنہ ہدف سمجھا جاتا تھا کیونکہ اکثر خاندان عید کے موقع پر رشتہ داروں سے ملنے یا تقریبات میں شرکت کے لیے باہر گئے ہوتے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت ملزمان نے ایک بنگلے کو نشانہ بنایا اور وہاں سے طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، غیر ملکی کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چوری کر لیا، جس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس ریکارڈ کے مطابق گرفتار ہونے والا جوزف مسیح ماضی میں بھی متعدد جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف چوری، ڈکیتی، نقب زنی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت 45 مختلف مقدمات درج ہیں، جس کے باعث اسے ایک ریکارڈ یافتہ ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات، قیمتی گھڑیاں اور غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی ہے۔ برآمد ہونے والے سامان کی شناخت اور مالکان کو واپسی کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ملزمان کسی بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ تھے یا نہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہری خصوصاً عیدین اور تعطیلات کے دوران گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں اور مشکوک افراد کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔